ہندوستان کے سلاطین، علما اور مشائخ کے تعلقات پر ایک نظر

ہندوستان کے سلاطین، علما اور مشائخ کے تعلقات پر ایک نظر
سید صباح الدین عبدالرحمٰن
MORE BYسید صباح الدین عبدالرحمٰن
دلچسپ معلومات
یہ مقالہ جامعہ ملیہ اسلامیہ (دہلی) میں پڑھا گیا۔ ماہنامہ معارف (اعظم گڑھ)
ہندوستان کے مسلمان فرماں رواؤں کی حکومت کی نوعیت:- ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے دورِ حکومت میں عام مسلمانوں کی سیاسی، مذہبی اور روحانی طاقتوں کی نشو و نما سلاطین، علما اور صوفیہ کرام کے ذریعہ سے ہوئی اگر عربوں اور غزنویوں کے عہدِ حکومت سے قطع نظر کرلی جائے تو ہندوستان کے باضابطہ مسلمان فرماں رواؤں کا عہد تیرہویں صدی عیسوی سے شروع ہوکر انیسویں صدی کے وسط میں ختم ہوتا ہے، اس ساڑھے چھ سو برس میں تقریبا 48 بادشاہ ہوئے، ان میں بعض تو یقیناً رند، بدمست اور بوالہوس تھے جو الام کا نام لے کر حکومت کرتے رہے مگر ان کی سیرت کسی لحاظ سے بھی اسلامی نہیں تھی لیکن انہی حکمرانوں میں بعض خدا ترس بلکہ زاہد و عابد بھی ہوئے بعض ایسے فاتح بھی تھے جن کی شجاعت اور نبردآزمائی پر خود فن سپہ گری کو ناز ہو سکتا ہے بعض علوم و فنون کے ایسے سرپرست ہوئے کہ ان کی قدردانی سے علم و ادب تعمیرات اور فنونِ لطیفہ کو بڑا فروغ ہوا بعض کی کوششوں سے تہذیب و تمدن میں ایسے جلوہ ہائے صد رنگ پیدا ہوئے کہ ان سے آج تک ہندوستانی زندگی معمور ہے، ان حکمرانوں کا سب سے بڑا اور عمومی وصف یہ تھا کہ وہ عدل پرور اور انصاف پسند رہے اور برا سے برا حکمراں بھی یہ پسند نہ کرتا تھا کہ عوام اس کی عدل پروری اور انصاف پسندی سے بدظن ہوں۔
اسلام کا نعرہ:- ممکن ہے دورۂ خیبر اور دورۂ گومل سے آنے والوں کا اندرونی مقصد محض فتح و تسخیر اور حصول دولت ہی رہا ہو لیکن وہ اسلام کا نعرہ بلند کرتے ہوئے آئے اور گو انہوں نے اسلامی اور دینی حکومتیں قائم کرنے کے بجائے اپنی قبائلی اور خاندانی سلطنتیں بنائیں لیکن ان ہی کی وجہ سے یہاں علماء، صلحاء اور مشائخ کو قدم جمانے کا موقع ملا، اور گو ان کے درباروں کی فضا اسلامی نہیں رہی لیکن ان ہی کے سہارے اس سرزمین میں اسلام پھل پھول سکا اور گو انہوں نے تبلیغِ اسلام کی کوئی کوشش نہیں کی لیکن ان ہی کی بدولت مبلغینِ اسلام کی کوششیں بار آور ہوتی گئیں اور مسلمانوں کی آبادی بڑھتی گئی۔
یہ عجیب بات ہے کہ اچھے اور برے دونوں حکمرانوں نے جو کچھ کیا اسلام ہی کا نام لے کر کیا اور وہ اسلامی تعلیمات کے خلاف جانشینی کے لئے جنگ کرتے لیکن جب تخت پر بیٹھتے تو اسلامی روایات کے مطابق امراء سے بیعت لیتے اور دینِ مبین کے حامی بننے کے لئے اس کے مناسب کوئی لقب اختیار کرنا ضروری سمجھتے، اسی لئے کوئی دین کا قطب، کوئی شمس، کوئی رکن، کوئی غیاث کوئی جلال، کوئی نور اور کوئی شہاب بن جاتا، مؤرخین بھی ان میں سے کسی کو کہف الاسلام و المسلمین، کسی کو رکن الاسلام والمسلمین، کسی کو ظہیرالامت، کسی کو راعی شرائط شریعتِ محمدی اور کسی کو غمخوار دین وغیرہ کے لقب سے یاد کرتے اور ان میں بعض فرماں روا ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی بادشاہت اور حکومت کی مذہبی توثیق کے لئے خلفائے بغداد سے سندیں بھی حاصل کیں اور اپنے نام کے ساتھ یمین الخلافت ناصر امیرالمؤمنین اور نائب امیرالمؤمنین لکھتے، گو ان کی نجی زندگی خالص اسلامی نہیں رہی پھر بھی شاید ہی کوئی ایسا حکمراں گذرا ہو جس نے کسی شیخ وقت کے سایۂ عاطفت میں پناہ لی ہو یا ان سے فیوض و برکات حاصل نہ کئے ہوں، علماء تو ان کے دربار کا ضروری جز بن گئے تھے، سلاطین دہلی کے دور میں شیخ الاسلام، قاضی القضاۃ اور صدرِ جہاں اور مفتی مہتدین علماء ہی مقرر کئے جاتے، اسی طرح عہدِ مغلیہ میں صدر الصدور، قاضی القضاۃ کےعہدے علماء ہی کو دئیے جاتے۔
حمیت اسلامی کا لحاظ:- یہ فرماں روا اگرچہ پوری طرح اوامر و نواہی کے تو پابند نہیں ہوتے تھے لیکن ان کی کوشش ہوتی کہ ان کے عہدہ دار معروف کو قائم کرتے اور منکر کو مٹاتے رہیں اور احکامِ شرعی کی خلاف ورزی کے احتساب میں کوئی کوتاہی نہ کریں، ان میں سے بڑے سے بڑا دیندار حکمراں کو بھی اپنی خود نمائی اور خود پرستی کے باوجود غیرت اسلامی کا خیال اور ضرور رہا اور جہاں حمیتِ اسلام کا سوال پیدا ہوتا وہاں ان کا مذہبی جوش ضرور ابھر آتا جب فاتح بن کر امرا کے جلوس میں ہندوستان آئے تو اپنے ساتھ ججازی، ساسانی، ترکستانی، تاتاری اور ایرانی روایات بھی لائے اور ہندوستان میں رہ کر ہندوستانی ماحول سے بھی متاثر ہوئے اور ان کی معاشرتی، تمدنی اور تہذیبی زندگی میں مختلف عناصر کی آمیزش رہی جس پر ان فرماں رواؤں کی شعوری اور غیر شعوری کوششوں سے اسلامی رنگ کی ایسی چھاپ پڑی کی وہ غلط یا صحیح اسلامی معاشرت و تہذیب کہلانے لگی اور اس کو فروغ دینے میں ہر ممکن کوشش کی گئی، محلوں خصوصاً مقبروں کے بنانے میں جو اسراف کیا جاتا تھا وہ اسلامی نقطۂ نظر سے کبھی جائز نہیں قرار دیا جاسکتا لیکن اس کو بناتے وقت نہ صرف حکمراں بلکہ معمار بھی محسوس کرتے کہ وہ اسلامی فنِّ تعمیر کو فروغ دے کر اسلامی فن تعمیر کو فروغ دے کر اسلام کی شوکت میں اضافہ کر رہے ہیں اور آج تاج محل کو دینی نقطۂ نظر سے کتناہی بدعت اور اسراف تصور کیا جائے لیکن بڑے سے بڑا متقی اور متقشف عالم بھی اس کے اندر پہنچ کر یہ محسوس کرنے پر مجبور ہوتا ہے کہ اس نادرۂ روزگار عمارت کے ذریعہ اگر اسلام کا نہیں تو اسلام کے نام لیواؤں کے جلال و جبروت اور عظمت و شوکت کا سکہ دلوں پر ضرور بیٹھا، قطب مینار اور آگرہ اور دہلی کے قلعوں کے بنانے والوں کے درباروں میں مسرفانہ بلکہ مشرکانہ رسوم و روایات بھی رہیں لیکن انہوں نے جب یہ عمارتیں بنائیں تو لوگوں کو ایسا نظر آیا کہ ان کے کنگوروں، برجیوں اور میناروں پر اسلام کی رفعت و حشمت کے پرچم لہرا رہے ہیں۔
عجیب ستم ظریفی:- لیکن ان کے دورِ حکومت سے لے کر آج تک کے علماء ان کو اسلام کا نمائندہ تسلیم نہیں کرتے، ان کے مذہبی القاب کو محض ظاہری نمود و نمائش قرار دیتے ہیں اور جن معاصر مؤرخوں نے ان کے مذہبی القاب کو سراہا ہے، ان کو چاپلوس، خوشامدی اور درباری مؤرخین کہتے ہیں لیکن اسی کے ساتھ یہ ستم ظریفی بھی ہے کہ خود علماء کے گروہ میں جن اہلِ قلم نے مسلمان فرماں رواؤں اور راجپوتوں کی لڑائیوں کا ذکر کیا ہے، ان کا اندازِ بیان کچھ ایسا ہے کہ یہ تمام لڑائیاں اسلام اور کفر کی معرکہ آرائیاں معلوم ہوتی ہیں اور موجودہ دور کے غیر مسلم مؤرخوں نے ایسے ہی بیانات کے حوالے سے ان مسلمان حکمرانوں کی تلوار کو اسلام کی تلوار قرار دیا ہے اور ان کی خون ریزی، سفاکی اور غیر مسلموں کے ساتھ بدسلوکی کو اسلامی تعلیمات کی طرف منسوب کر دیا ہے، نئے تعلیم یافتہ مسلمان اس قسم کے تاریخی لڑیچر کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کو اپنی تاریخ کو عظمت کا احساس ہونے بجائے ایک قسم کا تکدر پیدا ہوتا ہے اور ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ اپنی ساڑے چھ سو سالہ تاریخ و اسلام کی یا محض چند خاندانوں کی تاریخ قرار دیں، اس کشمکش سے ان کے قومی مفاخر میں طرح طرح کی رکاوٹیں پیدا ہوجاتی ہیں اور یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے پاس ان کی گذشتہ طویل حکومت کا تاریخی سرمایہ ایسا نہیں جس پر وہ فخر کرسکیں، ماضی کا پرستان بن کر اس سے چمٹے رہنا تو کسی حال میں صحیح نہیں لیکن یہ بھی درست نہیں کہ ایک قوم کے سامنے اس کے ماضی کی تاریخ اس طرح پیش کی جائے کہ اس کو پڑھ کر اس کا سر ندامت سے جھک جائے، آج کل تمام قوموں میں یہ ایک عام دستور ہوگیا ہے کہ وہ اپنے داغدار تاریک ماضی کو تانباک اور روشن بنارہی ہیں تاکہ ان کی مدد سے ان کا حال اور مستقبل صحت مند اور ترقی پذیر ہو۔
کیا مسلمان حکمران اسلام کے نمائندے نہ تھے؟ یہ صحیح ہے کہ ہندوستان کے مسلمان حکمران اسلام کے نمائندے نہیں تھے کیونکہ ان کی حکومتیں اسلامی اصول وار معیار پر قائم نہیں ہوئیں لیکن یہ کہہ کر مسلمانوں کو نہ صرف سیاسی نظر و فکر کی پراگندگی میں مبتلا کرنا بلکہ جذباتی طور سے ان کو ان کی تاریخ سے محروم کرنا ہے کیونکہ ایک گروہ ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ خلافِ راشدہ کے بعد جہاں بھی مسلمانوں کی حکومتیں قائم ہوئیں وہ اس طرز کی نہ تھیں جن کو ہم اسلامی حکومتیں کہہ سکیں، بنی امیہ اور بنی عباس کی تاریخ اصطلاحاً تاریخِ اسلام کہلاتی ہیں حالانکہ ان کی حکومتیں بھی خلافتِ راشدہ کے اصولوں سے بہت دور تھیں اس کے باوجود ان کے سیاسی، تمدنی اور معاشرتی ماحول میں زیادہ تر اسلامی اثرات نمایاں رہے، اس لئے وہ اسلامی کہلاتی رہیں، ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کی سیاست، تمدن اور معاشرت پر بھی اسلامی اثرات غالب تھے اور جن مشکلات کا سامنا ان کو کرنا پڑا وہ دوسرے اسلامی ملکوں کے فرماں رواؤں کو کرنا نہیں پڑا، انہوں نے ایسے ملک پر حکومت کی جہاں کی اکثریت ان کی ہم مذہب نہ تھی، اگر وہ سراسر اسلامی آئیں و قونین جاری کر کے حکومت کرنے کی کوشش کرتے تو ان کی حکومت زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکتی تھی لیکن وہ اس مذہب کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے تھے جس کے نام پر وہ حکومت کرتے رہے، اس لئے اس مکتبِ خیال کے حامیوں کی یہ رائے نظر انداز نہیں کی جاسکتی ہے کہ ہندوستان کے مسلمان فرماں رواؤں نے اپنے دورِ حکومت میں اسلام کو اس ملک میں اس طرح رکھا جس طرح کوئی بھرے ہوئے دودھ کے پیالے میں گلاب کی پنکھڑیاں رکھے۔
اور جس گروہ کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان فرماں روا، صلح و جنگ، مالِ غنیمت، محاصل اور مداخل میں تمام تر اسلامی قوانین کے پابند نہیں رہے ان کا کہنا بھی صحیح ہے لیکن دوسرا گروہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اکبر کی زندگی کے آخری دور سے قطع نظر لی جائے تو ایک بھی فرماں روا ایسا نہیں گذر جس نے اسلامی شرع کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہو، کچھ ایسے سلاطین ضرور ہوئے جنہوں نے اپنی ہوس رانی، مفاد پرستی اور دنیا طلبی کی خاطر شریعت کی خلافت ورزی کی پھر بھی وہ اس کے منکر نہیں ہوئے اور زیادہ تعداد ایسے حکمرانوں کی ہے جنہوں نے شرعی قوانین کے ظاہری احترام کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کی اور اسی احترام کی خاطر بعض امور میں درباری علماء سے ایسے فتاوے بھی حاصل کرلیتے جو در اصل درست نہ ہوتے لیکن یہ علمائے سوء کا تصور تھا، ایک حکمراں کیسا ہی جابر ہوتا یا اس کی نجی زندگی کیسی ہی بری ہوتی، لیکن وہ علی الاعلان شریعت کی خلاف ورزی کی جرأت نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اس کو مسلمانوں کا اعتماد اور جذبۂ اطاعت گذراری اسی وقت تک حاصل رہتا تھا جب تک وہ شرعی قوانین کا احترام کم از کم ظاہری طور پر قائم رکھتا پھر از منۂ وسطیٰ میں مذہب لوگوں کے دل و دماغ پر چھایا رہا اس لئے بادشاہِ وقت مصلحۃً بھی اس کے احترام کرنے پر مجبور تھا اور بعض تو مذہبی قوانین کی زیادہ سے زیادہ پابندی کرنے ہی میں اپنی سعادت اور مقبولیت سمجھتے تھے، سلاطین دہلی میں نو مسلم حکمراں ناصرالدین خسرو کی حکومت اس لئے ختم ہوگئی کہ اس نے اپنے ساتھیوں سے مل کر اسلام کی تذلیل شروع کردی تھی، اکبر جیسے جلیل القدر اور ہوشمند حکمراں کے خلاف اس کی اخیر زندگی میں مسلمانوں میں ایک عام بے چینی اس لئے پیدا ہوگئی تھی کہ اس کی وجہ سے اسلام کو نقصان پہنچ رہاتھا اور بعض علماء نے تو اس کے خلاف جہاد تک کا فتویٰ دے دیا تھا، دارا اورنگزیب کے خلاف اس لئے بازی نہیں لے جاسکا کہ مسلمانوں کی نظریں اس کے مذہبی عقائد مشکوک ہوگئے تھے۔
یہ گروہ یہ بھی کہتا ہے کہ اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ ہندوستان کے مسلمان حکمراں کلی طور پر اسلامی شریعت کے علمبردار نہیں بن سکے لیکن وہ اسلامی شرعیت کے محافظ اور نگہبان ضرور رہے وہ تمام اسلامی قوانین کا نفاذ تو نہیں کرسکے لیکن انہوں نے اسلام کی عزت و ناموس کی پاسبانی ضرور کی، یہ بات ہے کہ ان سے ان کے ہم مذہبوں کو جتنی توقعات تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں۔
کیا بادشاہت غیر اسلامی طرز حکومت ہے؟ اسی گروہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس طرح ہمارے گذشتہ علماء، صلحاء اور صوفیہ ہمارے ورثہ میں داخل ہیں، اسی طرح مسلمان فرماں روا بھی خواہ وہ اچھے ہوں یا برے، ہمارے ورثہ میں ہیں، ان کے ذریعہ بھی ہماری مذہبی، تمدنی اور ثقافتی تاریخ بنی ہے اور آج ہمارے احتجاج کے باوجود غیر مسلم مؤرخین ان ہی کے کارناموں کی روشنی میں اسلام کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لئے ان پر تنقید اور نکتہ چینی کرتے وقت ہم پر مختلف قسم کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ان کی بادشاہت کو محض اس لئے غیر اسلامی طرز کی کہہ کر عہدہ بر آ نہیں ہوسکتے ہیں کہ یہ خلافتِ راشدہ کے اصول پر قائم نہیں تھی۔
حضرت مجدد الف ثانی اور حضرت شاہ ولی اللہ بڑے ہی صاحبِ فکر، صاحبِ بصیرت اور صاحبِ عزیمت علماء تھے جن پر ہندوستان کے مسلمانوں کو ہمیشہ ناز رہے گا، حضرت مجدد کی تجدیدی کوششوں سے ہندوستان میں اسلام کو حیاتِ نو ملی، انہوں نے جہانگیر سے ٹکر تو لی مگر اس کی کوشش نہیں کی کہ مغلوں کی خاندانی بادشاہت کو خلافتِ راشدہ کے طرزِ حکومت میں تبدیل کردیا جائے کیونکہ انہوں نے یہ اچھی طرح محسوس کرلیا تھا کہ اس دور میں ہندوستان جیسے ملک میں بادشاہت کے علاوہ کوئی اور طرز حکومت ممکن نہیں ہے اس لیے انقلابی قدم اٹھانے کے بجائے اصلاحی اور تجدیدی طریقہ اختیار کیا اور بادشاہِ وقت کو زیادہ سے زیادہ مذہبی بنانے کی کوشش کی، اپنے ایک مکتوب میں خان جہاں کو تحریر فرماتے ہیں کہ
سلطان روح کی طرح ہے اور تمام انسان بدن کی طرح ہیں اگر روح درست ہے تو بدن بھی درست ہے اگر روح خراب ہے تو بدن بھی خراب ہے، اس لئے اصلاحِ بادشاہ کی جد و جہد تمام اولادِ آدم کی اصلاح کی جد و جہد ہے اور یہ بھی فرمایا کہ بادشاہ کے لئے بد دعا تمام مخلوق کے لئے بد دعا ہے جو بادشاہ کو نقصان پہنچاتا ہے وہ ساری مخلوق کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو بادشاہ کو نقصان پہنچاتا ہے میں اس سے بیزار ہوں
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بادشاہت اسلامی اسپرٹ کے خلاف ضرور ہے لیکن اقتضائے زمانہ اور مصالحِ ملکی کی خاطر گوارا بھی کی جاسکتی ہے، حضرت شاہ ولی اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں بادشاہوں کے اوصاف و فرائض بتا کر ان کو صحیح راستہ پر چلنے کی تلقین کی ہے، اس سے بھی بڑھ کر صحابۂ کرام اور بڑے بڑے ائمہ نے حالات سے مجبور ہوکر بنی امیہ اور بنی عباس کی مورثی بادشاہت قبول کرلی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بادشاہت کو مطلق رد کردینے والا طرزِ حکومت قرار نہیں دیا جاسکتا اور اگر بادشاہت بالکل غیر اسلامی طرزِ حکومت ہے تو یہ مذہبی طبقہ کی بے بسی اور مجبوری کی بڑی دردناک تاریخ ہے کہ ہندوستان میں تقریباً ساڑھے چھ سو برس تک بادشاہت رہی لیکن وہ عوام کو اس کے خلاف صف آرا نہ کرسکے حالانکہ یہی عوام معمولی سے معمولی باتوں پر علماء کے فتویٰ سے ایسے مشتعل اور بے قابو ہوجاتے کہ ان کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا تھا، ایشیائی مزاج ہر جگہ بادشاہت ہی کو قبول کرتا رہا اور پھر یہ چیز بھی قابلِ غور ہے کہ اسلام میں عبادات، معاملات اور اخلاقیات کی تمام جزوی باوں کے لئے تفصیلی احکام موجود ہیں، اس کے برخلاف سیاسی نظام کا خاکہ تو ضرور موجود ہے لیکن بہت زیادہ واضح نہیں، اسی لئے خیال ہوتا ہے کہ اسلام نے سیاسی نظام کو قصداً غیر واضح چھوڑ دیا ہے کہ زمانہ کے حالات کے لحاظ سے جیسی حکومت کی ضرورت ہوگی لوگ خود قائم کرلیا کریں گے کیونکہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو ہر زمانہ اور ہر جگہ کے لئے موزوں ہے اگر شروع میں اس کا کوئی مکمل سیاسی نظام مقرر کردیا جاتا تو ممکن ہے کہ وہ ہر زمانہ اور ہر ملک کے لئے موزوں نہ ہوتا اور اگر یہ خیال صحیح ہے تو بعض حالات میں بادشاہت بھی قابلِ قبول ہوسکتی ہے۔
عام طور سے بادشاہت کو غیر اسلامی طرزِ حکومت کہہ کر اس لئے برا کہا جاتا ہے کہ بہت سے بادشاہوں کی نجی زندگی اچھی نہیں رہی اور ان کے محلوں کی زندگی قیصر و کسریٰ سے زیادہ شاندار تھی جس کو اسلام نے مٹانے کی کوشش کی تھی لیکن ان کی شخصی برائیوں کے باوجود ان کی ذات سے مسلمانوں اور ملک کو بہت سے اجتماعی فوائد پہنچتے رہے، ایسی حالت میں ان کی نجی کمزوریوں کے پیچھے پڑنا یا ان کو غلطیوں کے لئے ندامت سے سر جھکانا یا ان کے ذاتی افعال کی وجہ سے ان کے مذہب کو زیرِ بحث لانا ایک بڑی غلطی اور تاریخی دیانتداری کے خلاف ہے، دوسری قوموں کے فرماں رواؤں کی تاریخ میں اس قسم کی بحث قصداً نظر انداز کردی جاتی ہے۔
علماء کے قدم جمنے کا ذریعہ:- مسلمان بادشاہوں کی بدولت ہندوستان میں علماء اور صوفیہ کو قدم جمانے کا اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کا موقع ملا اور ہر دور میں بکثرت علماء پیدا ہوتے رہے، سلاطین دہلی کے ابتدائی دور میں علماء زیادہ تر نیشاپور، صنعان، غزنین، کاشان، بلخ سجستان، خوارزم اور تبریز سے آئے جیسا کہ ان کے ناموں سے ظاہر ہے اور یہ اپنے ساتھ حنفی فقہ لائے، حجاز سے آنے والے علماء کی تعداد و کم رہی اس لئے ہندوستانی فقہ میں عراقی اور ترکستانی اثرات زیادہ غالب رہے اور یہی فقہ ہندوستان میں رائج رہی جس کی باضابطہ تدوین فتاویٰ تاتار خانی اور فتاویٰ عالمگیری میں ہوئی۔
علماء کا شاندار اجتماع:- سلاطینِ دہلی کی حکومت میں سب سے زیادہ علماء علاؤالدین خلجی کے دور میں تھے ان کا اتنا شاندار اجتماع ہو گیا تھا کہ ضیاؤالدین برنی نے لکھا ہے کہ اس وقت کی اسلامی دنیا یعنی بخارا، سمرقند، مصر، خوارزم، دمشق، تبریز، صفاہان، رے اور روم میں یہاں کے جیسے علماء نہیں پائے جاتے تھے، جملہ علوم میں کامل دستگارہ رکھنے والے علماء یہاں موجود تھے، مولانا ضیاؤالدین برنی ان پر فخر کرتے ہوئے یہاں تک لکھ گئے ہیں کہ بعض علماء تو امام غزالی اور امام رازی کے ٹکر کے تھے اور فقہ کے بعض ماہرین کو امام ابو یوسف اور امام محمد کا مرتبہ حاصل تھا، خود امیر خسرو کو دہلی پر فخر تھا، انہوں نے اس کو قبۂ اسلام کہہ کر یاد کیا ہے، محمد تغلق کے زمانہ میں علماء کی تعداد اور بھی بڑھ گئی تھی، قلقشندی کا بیان ہے کہ دو سو فقہاء سلطان کے دسترخوان پر موجود ہوتے تھے اور وہ ان سے مذہبی مذاکرے کیا کرتا تھا، فیروز شاہ تغلق فقہاء سے اس قدر متاثر تھا کہ اس نے فتاوائے فیروز شاہی کے نما سے فقہ کی تدوین کرائی جو زیادہ مقبول نہ ہوسکی، سکندر لودی کی خواب گاہ میں روزانہ رات کو ستر علماء جمع ہوا کرتے تھے اور وہ ان سے فقہی مسائل دریافت کیا کرتا تھا۔
عہدِ مغلیہ کے علماء:- عہد مغلیہ میں بھی علماء کی تعداد بہت تھی، ملا عبدالقادر بدایونی نے اپنے عہد کے جن ممتاز علماء کے حالات لکھے ہیں ان کی تعداد 69 ہے، اسی طرح مآثر رحیمی کے مؤلف نے ایسے 32 علماء کا ذکر کیا ہے جو عبدالرحیم خانِ خاناں کے دامنِ دولت سے وابستہ تھے، عہدِ عالمگیر میں جو علماء اس کے دربار میں مختلف خدمات پر مامور تھے ان کی تعداد بیالیس ہے، عالمگیر کے زمانہ سے مولانا شاہ عبدالرحیم کے خاندان سے جو سلسلۃ الذہب چلا اس پر مسلمانوں کو آج بھی فخر ہے، ان علماء کے ناموں پر نظر ڈالنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور میں بھی شیراز، کاشان، تبریز، گیلان، مشہد اور ترکستان سے کچھ علماء ضرور آتے رہے لیکن ان کے مقابلہ میں ہندوستانی علماء کی تعداد زیادہ رہی اور حنفی فقہ کی ترویج اور اس کی باضابطہ تدوین فتاواے عالمگیری کی شکل میں ہوئی جس کو عالمگیری کا ایک عظیم الشان علمی و فقہی کارنامہ سمجھا جاتا ہے، حفنی فقہ سے شافعی، مالکی، جنبلی اور شیعی فقہ کا تصادم ضرور ہوا لیکن اکثریت حنفی فقہ کے ماننے والوں ہی کی رہی اور یہ مغلوں کی بادشاہت کا دلچسپ پہلو ہے کہ وزارت کے عہدہ پر زیادہ تر شیعہ امرا مامور رہے، محل ایک عرصہ دراز تک راجپوت شہزادیوں کے زیرِ نگیں رہا لیکن سلطنت پر حنفی فقہ کا غلبہ رہا جو مغل فرماں رواؤں کی غیر معمولی رواداری کا ثبوت ہے لیکن اسی کے ساتھ حنفی علماء کے اثر انداز ہونے کی صلاحیت بھی سراہنے کے لائق ہے۔
علماء کی قسمیں:- سلاطینِ دہلی اور شاہانِ مغلیہ کے دور میں علماء کی کئی قسمیں تھیں۔
1. پہلی قسم وہ علماء تھے جو کسی حال میں بھی حکمراں طبقہ سے میل جول رکھنا پسند نہیں کرتے تھے، بلبنی عہد میں مولانا کمال الدین زاہد بڑے پایہ کے عالم تھے، حضرت شیخ نظام الدین اؤلیاء ان کے شاگردوں میں تھے، سلطان غیاث الدین بلبن نے ان کے پیچھے ایک بار نماز پڑھی تو اس کو لذت محسوس ہوئی، اس نے ان کو اپنا مستقل امام بنانا چاہا، انہوں نے یہ کہہ کر قبول کرنےسے انکار کیا کہ میرے پاس نماز کے سوا اور کیا ہے؟ کیا سلطان اس کو بھی چھین لینا چاہتا ہے۔
شاہجہانی عہد میں مولانا عبدلرشید جونپوری صاحب رشیدیہ کی شہرت پھیلی تو شاہ جہاں کو ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی، اس نے ان کو ایک قاصد کے ذریعہ اپنے یہاں آنے کی دعوت دی، انہوں نے انتہائی استغناء کے ساتھ کہلا بھیجا۔
دنیا اگر دہند نخیزم ز جائے خویش
من بستہ ام حناے توکل بپائے خویش
شاہ ولی اللہ کے والد بزرگوار شاہ عبدالرحیم کچھ دنوں فتاواے عالمگیری کی تصحیح کے لئے عالمگیری دربار سے وابستہ ہوگئے تھے مگر ان کے مرشد مولانا ابوالقاسم نے یہ وابستگی پسند نہیں کی اس لئے وہ اس سے علٰحدہ ہوگئے، ایک بار عالمگیر نے شوقِ ملاقات کا پیام ان کے پاس بھیجا مگر انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا اور ایک معمولی کاغذ پر جس میں ان کا جوتا لپٹا ہوا تھا، یہ عبارت لکھ کر شہنشاہ ہندوستان کے پاس بھیج دی۔
اہل اللہ کا اس پر اجماع ہے کہ وہ فقیر بہت برا ہے جو کسی امیر کے آستانہ پر ہو، حق سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
'دنیاوی زندگی کا سامیہ بہت ہی قلیل ہے' تم کو اس کا بھی قلیل ترین جز ملا ہے۔
اگر بالفرض اس میں سے مجھے بھی دوگے تو وہ جز لایتجزیٰ ہوگا، اس ٹکڑے کے لئے میں اپنے نام کو خداوندِ تعالیٰ کے دفتر سے کیوں کٹواؤں، چشت کے ملفوظات میں مذکور ہے کہ جس کا نام بادشاہ کے دفتر میں لکھ لیا جاتا ہے حق تعالیٰ کے دفتر سے اس کا نام کٹ جاتاہے
انفاس العارفین میں شاہ ولی اللہ صاحب اس خط کو نقل کر کے تحریر فرماتے ہیں کہ عالمگیری کو جب رقعہ ملا تو اس نے اپنی جیب میں رکھ لیا اور جب کپڑے بدلتا تو پھر اس کو جیب میں رکھ لیتا اور فرصت کے وقت اس کو پڑھ کر روتا تھا۔
پاک طینت علماء:- اس طرح کے پاک طینت علماء نے اپنے کردار کو ہر حال میں اعلیٰ اور اونچا رکھا اور ان کا عمل دوسرے علماء کے لینے نمونہ بنایا اور گو وہ اپنے کردار کی اس بلندی سے پوری قوم کو اپنا جیسا نہ بناسکے لیکن اس کے افراد ان سے ضرور متاثر ہوئے، ایسے علماء باگوشۂ نشین ہوکر عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے یا علوم و فنون کی خدمت میں وقت صرف کرتے۔
درس و تدریس میں مشغول:- دوسری قسم میں وہ علماء تھے جن کا مشغلہ درس و تدریس تھا، ہر زمانہ میں سلاطین و امراء کی سرپرستی کی وجہ سے ملک میں بکثرت مدارس تھے، ان کے معلین کے وظائف خزانہ شاہی سے مقرر ہوتے تھے اور وہ فراغ خاطر ساتھ درس و تدریس میں مشغول رہتے، ان وظائف کے لئے مدد معاش کی اصلطاح تھی، اس لئے تعلیم مفت، عام اور سہل الحصول ہوگئی تھی، صبح الاعشیٰ میں ہے کہ محمد بن تغلق کے زمانہ میں صرف دہلی میں ایک ہزار مدرسے تھے جن میں ایک شوافع کا باقی سب احناف کے تھے، فیروز شاہ کے دور میں اس زمانہ کا قائم کیا ہوا مدرسہ فیروز شاہی ہندوستان کا سب سے اچھا اور ممتاز مدرسہ تھا، اس کے تمام اخراجات شاہی خزانے سے ادا کئے جاتے تھے، اس کے زمانہ میں علماء و مشائخ کی تنخواہوں میں چھتیس لاکھ ٹنکے خرچ ہوتے تھے، آگرہ کے متعدد و مدارس میں شیراز اور دوسرے ممالک کے معلمین تعلیم دیتے تھے، اکبر نے فتح پوری سیکری میں ایک بڑا مدرسہ قائم کیا تھا، ابوالفضل کا بیان ہے کہ اس کے مقابلہ میں کوئی سیاح کسی دوسرے مدرسہ کا نام نہیں بتا سکتا تھا، جہانگیر نے یہ قانون بنادیا تھا کہ اس کی مملکت میں جہاں بھی کوئی مالدار رئیس یا تاجر کسی جانشین یا وارث کے بغیر مر جاتا تو اس کی تمام جائداد اور املاک حکومت کی ملک ہوجاتی اور وہ مدرسوں اور خانقاہوں پر صرف ہوتی۔
عالمگیر نے تمام شہروں اور قصبوں میں مکاتب قائم کئے، لائق اساتذہ کو وظائف اور جاگیریں دیں اور طلبہ کے لئے روزینے مقرر کئے، ان شاہی مدرسوں کے علاوہ خانقاہوں، مسجدوں اور رئیسوں کے گھروں پر بھی معلم ہوا کرتے تھے، صبح الاعشیٰ کے مصنف کا بیان ہے کہ محمد تغلق کے عہد میں ٹھٹھ میں مختلف علم و فن کے چار سو مدرسے تھے اور ایسے مدارس تمام صوبوں میں آخر آخر وقت تک رہے، مولانا غلام علی آزاد بلگرامی مآثر الکرام میں لکھتے ہیں کہ:-
صوبہ اودھ اور صوبہ الہ آباد کے بڑے حصہ میں پانج پانچ کوس اور زیادہ سے زیادہ دس دس کوس کے فاصلہ پر شرفاء اور عالی خاندان لوگوں کی آبادی ہے جو سلاطین و حکام کی طرف سے تنخواہ، جاگیر و معاش کے طور پر رکھتے ہیں، انہوں نے مساجد، مدارس اور خانقاہیں تعمیر کر رکھی ہیں، جہاں اساتذہ اور مدرسین علمی فیض رسانی میں مشغول رہتے ہیں
ان مدارس کے علماء خاموشی سے درس و تدریس میں لگے رہتے، ضیاؤالدین برنی کا بیان ہے کہ علاؤالدین خلجی کے عہد تک اتنے علماء جمع ہوگئے تھے کہ بخاریٰ، سمرقند اور بغداد میں بھی اس پایہ کے علماء نہ تھے جو منقولات، تفسیر، فقہ، اصول فقہ، اصول دین، لغت، معانی، بدیع، بیان کلام اور منطق جملہ فنون کی تعلیم دیا کرتےتھے، ان کے فیض سے بڑے بڑے علماء پیدا ہوئے، ان سے حصولِ تعلیم کے لئے بیرونی ممالک تک کے بھی طلبہ آیا کرتے تھے، باہر سے بھی علماء برابر آتے رہے مثلاً منطق و فلسفہ کے مشہور امام قطب الدین رازی کے شاگردوں نے آکر ہندوستان میں درس دیا، ان ہی میں فیروز شاہی عہد کے مشہور عالم مولانا جلال الدین ودانی تھے، حافظ ابن حجر کے خلیفۂ اکبر علامہ سخاوی کے متعدد شاگردوں نے آکر ہندوستان میں حدیث کا درس دیا جن میں مولانا رفیع الدین الائجی الشیرازی اور مولانا راجح بن داؤد احمدآبادی زیادہ مشہور ہیں، مولانا رفیع الدین آگرہ میں مقیم رہے، سکندر لودی ان کا بڑا معتقد تھا، مولانا راجح کا حلقۂ درس احمدآباد میں تھا۔
سکندر لودی کے عہد میں شیخ عبداللہ تلبنی اور ان کے بھائی شیخ عزیزاللہ تلبنی بڑے مشہور مدرس تھے، شیخ عبداللہ کے درس میں سکندر لودی چپکے سے آکر شریک ہوجاتا اور استفادہ کرتا، ان کے حلقۂ درس سے چالیس جید علماء نکلے جن میں مشہور مولانا الہداد جونپوری، میاں لاول، جمال خان دہلوی، میاں شیخ گوالیاری اور میران سید جلال بداؤنی تھے، مولانا عزیزاللہ کے حافظ اور معلومات کی بڑی شہرت تھی وہ مطالعہ کے بغیر مشکل سے مشکل کتابیں بڑھاتے تھے، ان ہی کے شاگردوں میں مولانا حاتم سنبھلی تھے جنہوں نے اپنے حلقۂ درس میں بیس بار شرح مفتاح اور چالیس بار مطول ختم کرائی، تیموریوں کے دور میں ان مدرسین کی بدولت ٹھٹھ سے لے کر بنگال تک علماء اور اہلِ ہنر پیدا ہوتے رہے، جونپو، ظفرآباد اور عظیم آباد میں علماء کی بڑی تعداد ہوگئی، اسی لئے شاہ جہاں کہا کرتا تھا کہ
پورب شیراز مملکت ماست
تیمور کے حملہ کے بعد قاضی شہاب الدین دولت آبادی دہلی سے جونپور آئے تو بقول استاذی المحترم مولانا سید سلیمان ندوی کے ان کے فضل و کمال سے مشرق کی ساری زمیں لہلہا اٹھی، کٹرہ سے لے کر غازی پور تک یکساں فیض جاری ہوا، مولانا قطب الدین ابو الغیث بن نورالدین ابی محمد (المتوفیٰ 869 ہجری)، ملا شیخ عبدالملک عادل فاروقی، ملا علاؤالدین عطا ملک برادرِ شیخ عبدالملک، شیخ محمد عیسیٰ جونپوری جیسے علماء ان کے تلامذہ میں تھے۔
سید عبدالاول جونپوری ہندوستان میں پہلے شخص ہیں جنہوں نے صحیح بخاری کی شرح فیض الباری لکھی، اسی سرزمین سے دیوان عبدالرشید اور ملا محمد جونپوری پیدا ہوئے جن کے بارے میں مولانا شبلی نے لکھا ہے کہ علامہ تفتازانی اور علامہ جرجانی کے بعد دو ایسے علمائے وقت کبھی اکٹھا نہیں ہوئے جن مناظرہ میں دیوان عبدالرشید کی کتاب رشیدیہ اور فلسفہ میں ملا محمود جونپوری کی شمس بازغہ سے اب تک فیض پہنچ رہا ہے۔
شاہجہانی عہد میں پنجاب بھی درس و تدریس کا بڑا مرکز رہا، اسی عہد میں ملا عبدالسلام لاہوری اور عبدالسلام دیوی کے فیض سے بڑے بڑے علماء پیدا ہوئے، ملا عبدالسلام دیوہ ضلع بارہ بنکی کے رہنے والے تھے، تعلیم ملا عبدالسلام لاہوری سے پائی اور وہیں قیام کرکے درس و تدریس میں مشغول رہے، ان ہی کے ذریعہ معقولات کا رواج ہندوستان کے مشرق و مغرب میں شروع ہوا، ان ہی کے شاگردوں میں ملا عبدالحکیم سیالکوٹی تھے جن کی تصانیف عرب و عجم تک پھیلیں، ملا دانیال چوراسی شیخ محب اللہ الہ آبادی
ملا عبدالسلام دیوی کے شاگرد تھے۔
اسی عہد میں ملا محمد فاضل، قاضی محمد اسلم، ملا میرک، ملا عبداللطیف سلطانپوری، میر محمد ہاشم گیلانی کا سلسلۂ تلمذ بہت وسیع تھا، عالمگیری عہد میں ملا محمد یعقوب، شیخ عبدالعزیز اکبرآبادی، شیخ قطب برہانپوری، سید علی اکبر سعداللہ خانی، ملا محمد اکرم لاہوری، حافظ ابراہیم، مولا عبدالباقی جونپوری، سید سعداللہ سلونی اور قاضی محب اللہ بہاری اور ملا زاہد مسند درس وتدریس پر فائز رہ کر علوم و فنون کی بڑی خدمت و اشاعت کی، قاضی محب اللہ بہاری کی سلم و مسلم نے بقول مولانا شبلی درس نظامیہ کے نصف نصاب کو اپنے پنجے میں تقریباً دو سو سال دبائے رکھا، ان کی مسلم الثبوت اصولِ فقہ میں بڑی جامع کتاب سمجھی جاتی ہے، اس سے بھی طلبہ کو بڑا فیض پہنچا، ان میں سب سے زیادہ مشہور میر زاہد ہوئے جن کا رسالہ میر زاہد معقولات میں درس نظامی کی اونچی کتاب سمجھی جاتی ہے، ان ہی کے سلسلۂ تلمذ میں شاہ ولی اللہ صاحب کا مشہور خاندان تھا۔
بعض امرا کو بھی درس دینے کا شوق تھا کاملین کے مستوفی الممالک کے شاگردوں میں دہلی کے بہت سے علماء بھی تھے، اکبری عہد کے مشہور منصب دار امیر فتح اللہ شیرازی کو جب ملکی اور مالیاتی کاموں سے فرصت ملتی تو معقولات کا درس دیا کرتے تھے، ان کے شاگرد ملا عبدالسلام لاہوری تھے جن سے مولانا عبدالسلام دیوی نے تعلیم پائی پھر مولانا عبدالسلام دیوی کے شاگرد ملا دانیال چوراسی تھے، ان سے مولانا قطب الدین سہالی کو شرف تلمذ تھا، ان قطب الدین شمس آبادی اور ملا امان اللہ بنارسی نے درس لیا اور انہی کے نامور شاگرد ملا نظام الدین درس نظامیہ کے بانی ہوئے جن سے پورے ہندوستان کو فیض پہنچا، اس طرح درس نظامیہ کی تعلیم کا سلسلہ امیر فتح اللہ شیرازی سے ملتا ہے، ان علماء میں بعض مدرسین ایسے بھی تھے جن کے ذریعہ علمِ حدیث کی بڑی خدمت و اشاعت ہوئی مثلا مولانا عنایت اللہ کشمیری (المتوفیٰ 1125 ہجری) نے چھتیس بار بخاری کو مذاکرہ کے ساتھ ختم کیا، ایسے بھی تھے جن کو پوری صحاح ستہ اور مشکوٰہ زبانی یاد تھی، بابا داؤد کو مشکوٰۃ المصابیح پوری حفظ تھی، اس لئے ان کے نام کے ساتھ مشکوٰتی لکھا جاتا تھا، حضرت مجدد الف ثانی کے پوتے شیخ محمد فرخ کو 70 ہزار حدیثیں سند کے ساتھ یاد تھیں، آخری دور میں مولانا رحمت اللہ الہ آبادی کو صحاح ستہ از بر تھی بعد اساتذہ کے لئےدرس و تدریس ان کی روح کی غذا اور عبادت بن گئی تھی، مولانا عبدالسلام لاہوری اور ملا عبدالحکیم سیالکوٹی ساٹھ سال تک درس دیتے رہے، ملا جیون نے زندگی کے آخری دن تک درس دیا، ملا عبدالقادر بدایونی نے لکھا ہے کہ ان کے استاد مولانا عبداللہ بدایونی اپنے گھر کا سودا خود خریدنے بازار جایا کرتے تھے، طلبہ ان کے ساتھ ہوتے اور وہ سبق پڑھاتے تھے۔
ان علماء کے تلامذہ حصول تعلیم کے بعد ملک کے اطراف و جوانب میں پھیل جاتے وہی عوام میں اسلام کے نقیب و محافظ ہوتے، یہ جوشِ ایمانی سے معمور ہوتے تھے اور ضرورت کے وقت اسلام کے لئے اپنی جان تک قربانی کردیتے تھے، اکثر قصبوں اور گاؤں میں شہید بابا کے مزارات ان ہی کے ہیں، یہ وہ بزرگان دین ہیں جنہوں نے اسلام کی عزت و ناموس کی خاطر جانیں دیں، ان کے حالات تاریخوں اور تذکروں میں تو نہیں ملتے لیکن ان کے مزارات کے ساتھ مقامی باشندوں کی عقیدت برابر قائم ہے، یہ عوامی علماء عوام کو چھوٹے بڑے مذہبی مسائل سے واقف کراتے، ان کی خلاف ورزی پر سختی کے ساتھ داروگیر کرتے، ان کے فتوں کا خوف عوام پر ایسا غالب رہتا تھا کہ گو وہ اپنی روز مرہ کی زندگی میں بہت سے غیر اسلامی اعمال کے مرتکب ہوتے مگر اسلام کو اپنے سینوں سے لگائے رکھنے ہی میں اپنی دنیاوی فلاح اور اخروی نجات سمجھتے اور یہ ان ہی سے عوامی علماء کا فیض ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے مقامی اثرات تو قبول ضرور کئے لیکن اسلام سے بہت دور نہیں ہونے پائے وہ یہاں کے باشندوں کے ساتھ گھل مل کر ضرور رہے لیکن اپنی انفرادیت کو ہر حال میں قائم رکھا اور اپنی ہر چیز کو مذہب کی روشنی میں جانچنے اور پر رکھنے کی کوشش کرتے رہے، کبھی ان کے مذہبی جذبات دب جاتے مگر ضرورت کے وقت آسانی سے ابھر آتے یا ابھار دئیے جاتے، مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے حکمراں طبقہ بھی برابر فائدہ اٹھاتا تھا چنانچہ راجپوتوں سے جو لڑائیاں ہوئیں ان کے اسباب زیادہ تر ذاتی یاسیاسی ہوتے مگر ان کو جہاد کا رنگ دے دیا جاتا جس سے عام مسلمانوں اور لشکریوں کی مجاہدانہ اسپرٹ ابھر آتی اور وہ غازی کا درجہ یا شہادت کی سعادت حاصل کرنے کے لئے پوری جاں بازی اور سرفروشی سے کام لیتے اور جب یہ جذبہ، ابھر جاتا تو بہتر سے بہتر آلاتِ حرب اور عمدہ سے عمدہ فوجی تنظیم سے زیادہ مفید اور کارگر ثابت ہوتا۔
حکمراں طبقہ کے معاون علماء:- تیسری قسم میں وہ علما تھے جو حکمراں طبقہ کے معاون اور مددگار رہے گوشہ نشین علماء ایسے علماء کو جاگیردار دنیادار، جاہ پرست کہتے، وہ بھی جواب میں کہتے کہ گوشۂ عافیت میں بیٹھ کر عبادت و ریاضت عاقبت تو ضرور سنور جاتی ہے لیکن دین اور ملت کو نقصان پہنچ جاتاہے اور ان کا یہ کہنا بے جا بھی نہ تھا کیونکہ جو علماء دربار سے وابستہ ہوئے وہ اچھے یا برے جیسے بھی رہے ہوں، مجموعی حیثیت سے وہ دربار اور حکومت پر بہر حال اثر انداز ہوئے، قطب الدین ابیک علماء کو ہمیشہ شریعت کی انگوٹھی کے نگینے سمجھتا رہا اور اسی وجہ سے لاہور اہل تقویٰ اور اصحابِ فتویٰ کا مسکن بن گیا اس نے حکم دے دیا تھا کہ مسلمانوں سے غیر شرعی خراج کے بجائے صرف شرعی خراج لیا جائے، ایلتتمش کی مجلسوں میں علماء میں بادشاہت کے نظری اور علمی دونوں پہلوؤں پر مذاکرے ہوتے تھے ان کا خلاصہ یہ ہےکہ بادشاہ کو جو عزت حاصل ہوئی ہے اس کا تقاضہ ہے کہ وہ خدا کا شکر ادا کرے، اپنے کو گونا گوں فضائل سے آراستہ کرے، اپنے قول و فعل اور حرکات و سکنات کو ایسا پسندیدہ بنائے کہ اہلِ اسلام میں اس کا اعتبار قائم اور آخرت میں اس کی نجات ہو، اس طرح حکومت کرکے لوگوں کے اوصاف و اخلاق شریعت کے مطابق ہوجائیں، ان کے معاملات صحیح ہوں، فسق و فجور ملک میں باقی نہ رہے، اپنے قہر، سطوت، قوت، شوکت، حذم و حشم اور خزانے کو خدا اور رسول کے دشمنوں کو ذلیل و خوار کرنے میں صرف کرے، عدل و احسان کے ذیعہ ملک کو ظلم و تعددی سے پاک کرکے لوگوں میں ایسے اخلاقی فضائل پیدا کرے کہ ساری برائیاں دور ہوجائیں، خدا ترس، متقی اور متدین قاضی، محتسب اور حکام مقرر کرے کہ رعایا انصاف اور دینداری سے مستفید ہوتی رہے، رعایا میں دینداری اور حسن اعتقاد پیدا ہوجائے کہ ان میں غداری، مکاری، فریب نفاق، بددیانتی، نفع خوری اور احتکار کے بجائے سچائی اور حق پرستی آجائے، ایک حکمراں کو نیک، سچا، خدا ترس، دیندار اور عبادت گذار ہونا چاہئے کیونکہ اگر اس میں خدا ترسی، دینداری، عبادت گذاری ہے تو اس کی مملکت کے تمام چھوٹھے بڑے، عورت، مرد بوڑھے، جوان ان اوصافِ حسنہ سے متصف ہوجائیں گے اور اگر بادشاہ اور اس کے احکام میں اوصاف ذمیمہ ہیں اور وہ فسق و فجور میں مبتلا ہیں تو رعایا بھی فاسق و فاجر ہوجاتی ہے اور ایک حکمراں اور اس کے تمام حکام و عمال کو باطن کی آرایش میں لگا رہا چاہے ظاہر کی آرائش تو سب ہی کرتے ہیں لیکن باطن کی آرائش ہی حکمرانی اور بادشاہت کا سب سے بڑا وصف ہے۔
علماء کا اثر سلاطین پر:- یہ کوئی دعویٰ نہیں کرسکتا کہ تمام سلاطین ان اصولوں اور نصیحتوں کے پابند رہے کیونکہ سلاطینِ دہلی میں کیقباد، رکن الدین فیروز شاہ، علاؤالدین مسعود شاہ، قطب الدین مبارک خلجی اور ناصر خسرو جیسے ناہل، رند اور بدمست حکمراں بھی گذرے ہیں لیکن علماء نے ان اصولوں اور نصیحتوں کا اعلان کر کے اپنا فرض ضرور انجام دے دیا اور اکابر سلاطین میں ایلتتمش، ناصرالدین محمود، غیاث الدین بلبن، جلال الدین خلجی، غیاث الدین تغلق، محمد شاہ تغلق، فیروز شاہ تغلق اور سکندر لودی نے اس اصولوں پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی کوشش کی، طبقاب ناصری کے مؤلف نے شمسی عہد کی دہلی کو مرکز دائرۂ اسلام اور مہیط اوامر و انوہی شریعت کہا ہے، ناصرالدین محمود تقودیٰ، کسر نفی اور حب رسول میں اپنی مثال آپ تھا، بلبن کا قول تھا کہ حکمرانی کے زمانہ میں ایک حکمراں جتنی باتیں خداوند تعالیٰ کی رضا اور سنت کے خلاف ہوتی رہتی ہیں وہ معاف ہوسکتی ہیں بشرطیکہ وہ حمیتِ اسلام اور شعائراسلام کو برقرار رکھنے کی خاطر امر و معروف و نہی منکر کے مطابق احکامِ شرعی کو رواج دینے میں کوشاں رہے، ضیاؤالدین برنی جیسے سخت گیر مؤرخ کو بھی اعتراف ہے کہ بلبن کی یہ کوشش بڑی حد تک کامیاب رہی، جلال الدین خلجی پنج وقتہ نماز کا ہمیشہ پابند رہا، سفر میں بھی روزے رکھتا اور روزانہ کلام پاک کا ایک پارہ تلاوت کرتا اور اس پر مذہبی اثرات سے لینت اور مسکنت کچھ ایسی غالب رہی کہ وہ اچھا حکمراں ثابت نہی ہوا وہ خود کہا کرتا کہ اس کے محل کے سامنے جمنا کے کنارے بت پرستی ہوتی رہتی ہے لیکن وہ اس کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتا پھر بھی جمعہ کے دن مبروں سے اس کے حامی الاسلام ہونے کا اعلان ہوتا رہتا ہے،
تاتاریوں کے خلاف وہ برابر لڑتا رہا اور اس کو خیال ہوا کہ اگر وہ مجاہدِ فی سبیل اللہ کا خطاب اختیار کرے تو بے محل نہ ہوگا لیکن پھر اس کو خود ہی خیال ہوا کہ معلوم نہیں اس نے تاتاریوں سے اپنی شہرت کے خاطر جنگ کی ہے یا اعلان کلمۂ حق اور شہادت حاصل کرنے کے لئے اور اسی کشمکش میں اس نے یہ لقب اختیار کرنا پسند نہیں کیا۔
مولانا ضیاؤالدین برنی نے غیاث الدین تغلق کی عبادت و ریاضت پاکی نفس اور اخلاقِ حمیدہ کی تعریف دل کھول کر کی ہے، وہ لکھتے ہیں کہ اس عہد میں احکامِ شریعت کے جاری کرنے کی وجہ سے قاضیوں، مفتیوں، دادبکوں اور محتسبوں کی بڑی عزت ہوگئی تھی، سلطان محمد تغلق تخت پر بیٹھا تو غیاث الدین علاؤالدین اور قطب الدین جیسے القاب اخیتار کرنے کے بجائے جونا خاں کا نام بدل کر صرف محمد نام رکھا اور کہا کہ بنی آدم میں اس سے بڑا نام کوئی اور نہیں، اس لئے کسی دوسرے لقب کی ضرورت نہیں، اس نے اپنے سکوں پر محی سنن خاتم النبین، اطیعوا اللہ و اطیعوالرسول و اولی امر منکم نقش کرایا تھا وہ نہ صرف صوم و صلوٰۃ کا بڑا پابند تھا بلکہ نوافل و مستحبات بھی نہ چھوٹتے تھے، اس کا حکم تھا کہ جب وہ محل میں داخل ہو تو نا محرم عورتیں پردہ میں چلی جائیں کہ اس کی نظر ان پر نہ پڑے، ہدایہ اس کے نوک زبان تھی، فقہاء سے برابر مناظرہ کیا کرتا چونکہ خود بہت ہی ذہین تھا اور تمام علوم پر گہری نظر رکھتا تھا اس لئے بعض اوقات مجتہدانہ باتیں کرتا جس سے لوگوں کو شک ہوتا کہ مبادا وہ پیغمبری کا دعویٰ نہ کر بیٹھے اس لئے اس کی جانب سے بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوتی گئیں لیکن وہ جیسا بھی رہا ہو، اس کا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اپنی سلطنت میں مذہب کی روح پھونک دی، ابن البطوطہ کا بیان ہے کہ سلطان کا حکم تھا کہ جو شخص جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھے اس کو سزا دی جائے اور بہت سے آدمی اس بات پر مامور تھے کہ جماعت کے وقت جو شخص جہاں مل جائے اس کو پکڑ کر مسجد میں لے آئیں، یہاں تک کہ دیوان خانہ کے سائیں بھی پکڑ کر مسجد لائے جاتے تھے، سزا کے ڈر سے تمام لوگ بازاروں میں نماز سیکھتے پھرتے تھے، فیروز شاہ تغلق کے عہد میں علماء و مشائخ کو بڑا عروج حاصل ہوا اور وہ ان سے اس قدر متاثر ہوا کہ عام طور سے اس کی حکومت مذہبی حکومت سمجھی جاتی ہے، خواہ یہ حقیقت نہ رہی ہو، اس نے حکم دے رکھا تھا کہ جو روپیہ بیت المال میں جمع کیا جائے وہ شریعتِ محمدی کے مطابق وصول شدہ ہونا چاہئے جن ٹیکسوں کی وصولی قرآن و حدیث کے مطابق نہ ہو ان کو کسی صورت میں بھی بیت المال میں جمع نہ کیا جائے خود فیروز شاہ کو اسلامی فقہ پر بڑا عبور تھا اور اس نے فتاواے فیروز شاہی تدوین کرائی تھی لیکن اسی زمانہ میں فتاواے تاتار خانیہ بھی مرتب ہوئی جس کے سامنے فتاواے فیروز شاہی دب کر رہ گئی۔
لودی خاندان کے حکمرانوں میں سکندر لودی کا مذہبی شغف تو مؤرخین کے بیان کے مطابق حدِّ افراط تک پہنچ گیا تھا، اس کی تہجد اور اشراق کی نماز کبھی فوت نہیں ہوئیں، علماء سے اس کی عقیدت کا ثبوت اس واقعہ سے ہوگا کہ ایک بار وہ مولانا عبداللہ سلطانپوری کے ساتھ کہیں جارہا تھا، ایک مست ہاتھی کہیں سے آتا دکھائی دیا، سکندر لودی نے اپنے کو آگے اور مولانا عبداللہ سلطانپوری کو پیچھے کردیا، مولانا سلطان سے کہا کہ کہیں تخت و تاج ایک بادشاہ سے محروم نہ ہوئے، سلطان نے جواب دیا کہ تخت و تاج کو تو ایک بادشاہ کو مل جائے گا لیکن مولانا عبداللہ سلطانپوری پھر نہ پیدا ہوں گے۔
سلاطین دہلی کی اکثریت شاہان مغلیہ کے مقابلہ میں زیادہ مذہبی رہی وہ اپنے مذہب کو ہر حیثیت سے بلند و برتر ظاہر کرنے کی کوشش کرتے رہے اگر وہ ایسا نہ کرتے تو اسلام کی جڑیں ہندوستان میں مضبوط ہوتیں، ان کے درباروں میں ہندو اور غیر حنفی امرا کا اقتدار بھی نہ تھا اس لئے ان کو حنفی فقہ کو رواج دینے میں کوئی وقت نہیں ہوئی، مغل حکمرانوں کے دور تک فاتح اور مفتوح کی اجنبیت اور دوری کم ہوتی گئی اس لئے ان میں موانست اور یگانگت پیدا ہونے کے ساتھ ہی روا داری کا ہونا لازمی تھا لیکن اس روا داری کے باوجود ان میں مذہبیت بھی رہی جو یقیناً علماء کے اثر سے پیدا ہوئی۔
مغل حکمرانوں کی مذہبیت:- شاہانِ مغلیہ میں بابر فطری طور پر مذہبی واقع ہوا تھا، اس نے ترکی زبان میں اپنے لڑکے کامران کے لئے ایک مثنوی مبین لکھی جس میں مذہبی، فقہی اور اخلاقی مسائل پر دو ہزار اشعار ہیں، یہ کتاب فقہ بابری کے نام سے بھی مشہور ہوئی وہ خواجہ عبداللہ احراری کا مرید بھی تھا اور علم معقول اور منقول میں خراسان کے شیخ الاسلام مولانا سیف الدین احمد علم کلام میں ملا شیخ حسن اور حدیث میں میر جمال الدین محدث کا قدردان معترف رہا۔
ہمایوں صوم و صلوٰۃ کا پابند رہا وہ کبھی قسم نہ کھاتا، معمولی احکامِ شرعی پر اس سختی سے عمل کرتا کہ مسجد میں کبھی پہلے بایاں پاؤں اندر نہ رکھتا اور بے وضو اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیتا۔
جہانگیر ایک راجپوت شہزادی کا فرزند اور متعدد راجپوت شہزادیوں کا شوہر تھا لیکن اس کے باوجود یہ کہنے میں بالکل تامل نہیں کہ وہ علماء کی تعلیمات سے پوری طرح متاثر رہا ایک بار وہ ابوالفضل سے ملنے گیا دیکھا کہ اس کے گھر پر بہت سے کاتب کلام پاک اور تفسیر کی کتابت کرنے میں مشغول ہیں، ابوالفضل ہی نے اکبر کو یہ یقین دلایا تھا کہ قرآن مجید الہامی کلام نہیں بلکہ کلامِ رسول ہے، جہانگیر اپنے باپ کی گمراہی کا سبب ابوالفضل ہی کو قرار دیتا تھا اس لئے وہ کاتبوں سے لے کر تمام اوراق اکبر کے پاس لے گیا اور کہا کہ ابوالفضل کا مذہب خلوت میں کچھ اور ہے اور جلوت میں اور ہے، اپنی تزک میں اس نے اعتراف کیا ہے کہ ابو الفضل کو قتل کرانے میں اس کے مذہبی جذبہ کو بھی بڑا دخل تھا، جہانگیر کے تعلقات حضرت مجدد سے شروع میں ضرور خراب رہے لیکن جب اچھے ہوگئے تو وہ روزانہ ان سے مغرب کے بعد ملاقات کرتا، ان ملاقاتوں سے اس کے قلب کی تطہیر جس طرح ہوئی ہے کہ اس کا اعتراف حضرت مجدد صاحب نے اپنے مکتوبات میں کیا ہے۔
شاہجہاں اہم عہدہ داروں کے تقرر میں ایسے افراد کو ترجیح دیتا تھا جو عالم بھی ہوتے تھے اس کے دیوان کل افضل خان شکراللہ شیرازی کا شمار جید علماء میں کیا جاتا تھا اس کے وزیر سعداللہ خاں کو عبدالحمید لاہوری بادشاہ نامہ میں علامۃ الوریٰ اور فہامۃ العصر لکھتا ہے وہ معقولات اور منقولات کے ممتاز عالم اور حافظ قرآن بھی تھے، اسی عہد میں دانشمند خاں میر بخشی کے عہدہ پر مامور تھے ان کا علم معقولات اور منقولات دونوں میں گہرا تھا، انہوں نے اس زمانہ کے سب سے جید عالم ملا عبدالکریم سیالکوٹی سے ایّاک نعبد و ایّاک نستعین کی تفسیر پر علمی مذاکرہ کیا تو علامہ سعداللہ نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ دونوں میں کس کا علم زیادہ گہرا اور وسیع ہے۔
شاہجہاں کو اس کا دکھ ہوتا اگر ہندوستان کے علماء کی علمی شان پر کوئی حرف آجاتا ایک بار اس کی طرف سے کچھ علماء عراق گئے وہاں ان سے پوچھا گیا کہ امام غزالی نے تہافۃ الفلاسفہ میں قدمِ علم اور نفی علم واجب تعالیٰ کے مسئلہ میں شیخ ابونصر فارابی اور بوعلی سینا کی تکفیر کی ہے اس کا جواب کیا ہے؟ علماء نے اس کا جواب دینے سے پہلے شاہ جہاں کو اس کی اطلاع دی اس کی حمیت ابھر آئی، اس کو خیال پیدا ہوا کہ کہیں اس کے وطن کے علماء کی سبکی نہ ہو اس لئے اس نے اس کے جواب میں ملا عبدالحکیم سیالکوٹی سے ایک رسالہ لکھوا کر عراق بھیجا۔
اسی طرح اس کے عہد میں ایک نابینا عالم ابکج نامی شاہ ایران کے سفیر بن کر اس کے دربار میں آئے ان کو علوم عقلی و نقلی میں بڑی مہارت تھی، انہوں نے دربار کے علماء سے مناظرہ کیا ان کی قوتِ گویائی کے سامنے ہندوستانی علماء ٹک نہ سکے، شاہجہاں کو اس کا دکھ ہوا اس نے اپنے وزیر سعداللہ خاں سے مشورہ کیا کس عالم کو بلا کر ان سے مقابلہ کرایا جائے، انہوں نے ملا محمود جونپوری کو بلانے کی تجویز پیش کی، بادشاہ نے ناظم جون پور کے نام حکم بھیجا کہ ملا محمود بڑی منت و سماجت کے بعد اپنے گوشۂ عافیت سے نکلنے کے لئے تیار ہوئے، ناظم جون پور نے ان کو بڑی شان و شوکت سے روانہ کیا، دارالسلطنت کے قریب سعداللہ خاں اور آصف خان نے ان کا خیر مقدم کیا، دربار میں ایرانی اور ہندوستانی عالم کی ملاقات ہوئی اور ہیولیٰ پر مناظرہ ہوا، ملا محمود جونپوری نے اپنے تبحرِ علمی کا ایسا ثبوت دیا کہ ایرانی عالم نے اپنی شکست تسلیم کرکے ان کے ہاتھ چومے اور شاہ جہاں نے خوش ہوکر طشت میں بھر کر ان پر سے چاندی اور سونا نچھاور کیا اور اپنے لڑکے محمد شجاع کو ان کی شاگردی میں دیا اور جون پور میں ان کے مدرسہ کے لئے جاگیر عطا کی۔
اورنگ زیب تو سراسر علماء کے زیر اثر رہا اور ان کی ہدایتوں کے مطابق اس نے دربار کا رنگ ہی بدل دیا، تمام غیر شرعی اور ناجائز ٹیکس اور نذرانے بند کرا دئیے جن کی آمدنی کروڑوں سے زیادہ تھی درشن کا غیر اسلامی طریقہ موقوف کیا، شاہ جہاں نے دربار میں سجدہ تو بند کرا دیا تھا لیکن زمین بوسی کی رسم جاری تھی، عالمگیر نے اس کو بھی بند کردیا، اس نے خورد و نوش، لباس و پوشاک، سیر و سفر کے تمام تکلفات روک دئیے، یہاں تک کہ دربار میں چاندی کی دوات کے بجائے چینی کی دوات رکھنے کا حکم دیا، انعام کی رقمیں چاندی کی کشتیوں کے بجائے سپر میں پیش کی جانے لگیں، نئے محتسب مقرر کئے گئے جو لوگوں کو منہیات اور ممنوعات سے باز رکھتے تھے، مسجدوں میں امام، مؤذن، خطیب مقرر کئے گئے، فتاویٰ عالمگیری جیسی جامع کتاب کی تدوین ہوئی، ان تمام باتوں پر خواہ پورا عمل نہ ہوسکا ہو لیکن عالمگیر نے دربار اور اپنے ہم مذہبوں کے مزاج کو اسلامی بنانے کی پوری کوشش کی۔
مفاد پرست علماء:- دربار کے کچھ علماء ایسے بھی ضرور تھے جو اپنے عہد کے فرماں رواؤں کو ظل اللہ فی العٰلمین، ظل یزدانی، ظل اللہ فی الارض، سایۂ یزدان پاک اور دین پناہ کے القاب سے یاد کرنے میں بھی تامل نہ کرتے تھے اور یہ القاب ایسے حکمرانوں کے لئے بھی استعمال ہوتے جن کی نجی زندگی بہت خراب ہوتی اور ان کی اطاعت کو بھی مذہبی فریضہ قرار دیا جاتا اور ان کے باغیوں کے عاصی ٹھہریا جاتا اور وہ کبھی کبھی ایسے فتاوے دے دیتے جن سے دربار میں غیر شرعی مراسم رواج پاتے مثلاً سلاطینِ دہلی کے زمانہ میں کچھ علماء ایسے تھے جو تخت کے سامنے زمین بوسی کو جائز سمجھتے تھے، اکبری عہد کے بعض علماء نے اکبر کو قبلۂ حاجات اور کعبۂ مراوات بنایا اور اس کے سامنے سجدۂ تعظیمی کرنا ضروری قرار دیا۔
ایسے علماء کو حکمران اپنے مفاد کے لئے استعمال تو کرتے رہتے اور وہ بھی حُبِ جاہ کی خاطر استعمال ہوتے رہتے لیکن عام نگاہوں میں ان کی قدر و منزلت کبھی نہیں ہوئی، مولانا ضیاؤالدین برنی نے ایسے علماء کو مرتد صفتان کافر کہا ہے، سلطان غیاث الدین بلبن ان کو پاؤں جلے کتے سے تشببیہ دی ہے وہ کتا تھا کہ سمجھدار اور دیندار بادشاہ وہ ہے جو علمائے دنیا کے کہنے پر عمل نہ کرے بلکہ شریعتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کا نفاذ علماء کے حوالہ کرے جنہوں نے دنیا سے منہ موڑ لیا ہے اور جن کی نظریں روپئے پیسے سانپ اور بچھو کی حیثیت رکھتے ہوں۔
(حضرت مجدد الف ثانی ایسے علماء کو علمائے سوء سے یاد کرتے ہیں) اور ان ہی جیسے علماء کے لئے یہ لطیفہ بھی لکھا ہے کہ ایک بزرگ نے ابلیس کو بے کار بیٹھے دیکھ کر اس کی وجہ پوچھی، اس نے کہا کہ اس زمانہ کے علماء میرا کام انجام دے رہے ہیں)
ایسے علماء دربار سے وابستہ ہونے کے بعد اپنے میں امارت کی پوری شان بھی پیدا کر لیتے تھے، عہدِ اکبری میں مولانا عبداللہ سلطانپوری کا انتقال ہوا تو ان کے ذاتی خزانہ سے تین کروڑ روپئے نکلے، اسی عہد کے صدرِ جہاں اور مفتی مولانا میر عبدالحئی تو پیالہ کش بھی ہوگئے تھے، فتاویٰ عالمگیری کی تدوین کے سلسلہ میں جو علماء مقرر ہوئے تھے ان کے سربراہ شیخ نظام برہانپوری تھے، عالمگیری نے ان کو مقرب خاں کے خطاب سے سرفراز کرکے شش ہزاری پنچ ہزار سوار کا منصب عطا کیا تھا اور ان کے دروازے پر عربی اور عراقی گھوڑے اور ہاتھی جھومتے تھے، عہدِ عالمگیری میں گجرات کے قاضی القضاۃ قاضی عبدالوہاب کی دولت کی وجہ سے امرا بھی ان سے حسد کرتے تھے، ایک بار ایک حاسد امیر نے ان کےتین لاکھ روپئے راستے میں لٹوا دئیے اور جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے چاروں لڑکوں کو دو دو لاکھ روپئے ملے۔
جری علماء:- لیکن سب علماء ایسے نہ تھے بلکہ ان ہی میں کچھ ایسے بھی تھے جو بادشاہ ہوں کو ان کی لغزشوں پر علانیہ ٹوکتے تھے، مولانا سید نورالدین مبارک غزنوی ایلتتمش کے عہد میں شیخ الاسلام تھے، انہوں نے ایلتتمش کے سامنے ایک وعظ میں فرمایا کہ بادشاہوں کی زندگی کے جو لوازم ہیں، جس طریقہ سے وہ کھاتے ہیں، شراب پیتے ہیں، جو کپڑے پہنتے ہیں جس طرح وہ اٹھتے بیٹھتے ہیں اور سواری کرتے ہیں، تخت پر بیٹھ کر لوگوں کو اپنے سامنے بٹھاتے اور سجدے کراتے ہیں، خدا کے باغی حکمرانوں کے مراسم کی رعایت دل و جان سے کرتے ہیں اور خدا کے معاملات میں جدت اختیار کرتے ہیں یہ سب دینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف، شرف اور عقبیٰ میں موجبِ سزا ہیں، اسی وعظ میں انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ بادشاہوں کی نجات ان چار چیزوں پر موقوف ہے:-
1. اسلام کی حمیت کو برقرار رکھیں اور بادشاہت کے قہر و سطوت اور عز و ناز کو شعار اسلام کے بلند کرنے میں صرف کریں۔
2. دین کی حمایت یہ بھی ہے کہ وہ اسلامی شہروں اور قصبوں سے فسق و فجور، گناہ و معصیت کو قہر و سطوت کے ذریعہ بالکل ختم کردیں۔
3. دین کی حمایت اس طرح ہوسکتی ہے کہ دینِ محمدی کے احکام کی اشاعت کے لئے اہلِ تقویٰ زاہد، خداترس اور دیندار لوگ مقرر کئے جائیں، بد دیانتوں، دھوکے بازوں، حیلہ گروں، دنیا کے عاشقوں اور فریب دینے والوں کو مسند حکومت پر نہ بٹھایا جائے۔
4. دین کی حمایت، عدل گستری اور انصاف پروری میں بھی ہے، بادشاہ عدل اور انصاف میں انتہا پسند ہو، ظلم و تعدی اس کے مالک میں مطلق نہ ہو جب وہ قہر قوت اور سطوت سے ظالموں کے ظلم کو دور نہ کرے گا، عدل پروری کا حق نہیں ادا کرسکتا آخر میں مولانا نے فرمایا کہ اگر بادشاہ روزانہ ہزار رکعتیں پڑھتا، تمام عمر روزے رکھتا اور گناہوں سے بچتا اور خزانہ کو راہِ حق میں خرچ کرتا رہے مگر دین کی حمایت نہ کرے، اپنی سطوت کو خدا و رسول کے دشمنوں کے قلع قمع کرنے میں صرف نہ کرتا ہو، اپنے ملک میں امر معروف کو جاری کرانے اور نہی منکر کو مٹانے میں کوشاں نہ رہتا ہو اور عدل و انصاف سے کام نہ لیتا ہو، تو اس کی جگہ دوزخ کے سوا اور کہیں نہیں ہوگی۔
علاؤالدین خلجی درشتی کے لئے مشہور تھا لیکن جب اپنے ایک درباری عالم قاضی مغیث الدین سے اس نے بعض مسائل پر فقہی و شرعی استفسارات کئے تو انہوں نے بڑی بے باکی اور جرأت سے جوابات دئیے، یہ سب جواب صحیح تھے یا غلط، اس سے اس وقت بحث نہیں لیکن انہوں نے بڑی صفائی سے کہا کہ اگر بیت المال سے اس نے اپنے حق سے زیادہ لیا اور لاکھوں اور کروڑوں دام سونے کی اور جڑاؤ چیزیں خاص حرم کو دینا شروع کردیں تو قیامت میں ان سب کی باز پرس ہوگی، بادشاہ خواہ اسی لمحے میرے دو ٹکڑے کردے لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ وہ اپنے سپاہیوں، شرابپ پینے والوں اور تاجروں کو جو سزائیں دیتا ہے وہ سب نامشروع ہیں۔
سلطان محمد تغلق کے عہد میں شیخ شہاب الدین نقیہ عفیف الدین کاشانی، شیخ ہود، شیخ شمس الدین ابن تاج العارفین اور شیخ حیدری وغیرہ تو اسی لئے قتل کئے گئے کہ انہوں نے سلطان سے اختلاف کیا اور اس کی ہمنوائی نہیں کی گو اس کی تفصیلی بیان کرنے میں مؤرخین نے کچھ ایسا انداز اختیار کیا ہے کہ اختلافات کی صحیح نوعیت ظاہر نہیں ہوتی ہے۔
سلطان سکندر لودی کے عہد میں علماء کی جرأت اور زیادہ بڑھی ہوئی تھی، سکندر لودی بہار کے دورہ پر گیا تو ایک مسجد میں جمعہ کی نماز پابندی سے پڑھنے کے لئے جاتا تھا، ایک بار اس کے آنے میں دیر ہوئی تو نماز شروع کردی گئی اور سلطان نماز کے بعد پہنچا، مولانا جمالی ساتھ تھے انہوں نے لوگوں سے کہا کہ سلطان کا انتظار ضروری تھا لیکن مولانا ہدی حقانی نے جواب دیاکہ ہم کو اللہ کی نماز پڑھنی تھی وہ پڑھ لی، سکندر لودی نے کہا کوتاہی میری ہے۔ اچھا کیا کہ نماز پڑھ لی۔
اسی کے عہد میں کشتر کے ایک تالاب میں ہندو بکثرت جمع ہوتے اور اشنان کرتے تھے، سکندر نے چاہا کہ اس کو تباہ کر کے اس اجتماع کو روک دے، اس زمانہ کے ایک عالم مولانا عبداللہ سے استفسار کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ قدیم رسم کو روکنا اور قدیم بت خانہ کو منہدم کرنا بالکل جائز نہیں سکندر کو یہ جواب پسند نہیں آیا وہ سمجھا کہ یہ طرفداری کا فتویٰ ہے اور اپنی برہمی کا اظہار کیا لیکن انہوں نے بڑی جرأت اور صفائی سے فرمایا کہ میں نے شریعت کا مسئلہ بیان کردیا ہے اگر شریعت کی پرواہ نہیں تو پھر پوچھنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔
سکندر لودی کے آخر زمانہ میں دہلی کے ایک بزرگ حاجی سید عبدالوہاب بخاری نے سکندر سے داڑھی رکھنے کے لئے اصرار کیا، سکندر کو ناگوار گذرا اور جب وہ چلے گئے تو اس نے کہا یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی عظمت ان کی وجہ سے ہے حالانکہ میں ایک غلام کو عزت دوں تو میرے امراء بھی اس کی عزت کرنے لگیں گے، حاجی عبدالوہاب کو یہ معلوم ہوا تو انہوں نے سکندر لودی کے لئے بدعا کی اور کہا جاتا ہے کہ اسی بددعا کی وجہ سے اس کے حلق میں شدید تکلیف پیدا ہوئی جس سے وہ جاں بر نہ ہوسکا۔
شاہانِ مغلیہ کے زمانہ میں بھی علماء کی جرأت اور صاف گوئی کی مثالیں ملتی ہیں، ملا عبدالنبی اکبر سے اپنی جوتیاں سیدھی کرایا کرتے تھے، ایک دفعہ اس نے سالگرہ کی تقریب میں اپنے کپڑوں پر زعفرانی رنگ چھڑکا، ملا عبدالنبی اس قدر برہم ہوئے کہ سرِ دربار لکڑی اٹھا کر ماری، اکبر کو ناگوار ہوا محل میں جاکر ماں سے شکایت کی کہ وہ خلوت میں منع کرتے تو کوئی ہرج نہ تھا، دربار میں ذلیل کرنا مناسب نہ تھا، مریم مکانی نے کہا بیٹا! دل پر میل نہ لاؤ، یہ نجات اخروی کا باعث ہے، قیامت تک چرچا رہے گا کہ ایک مفلوک الحال ملا نے بادشاہ کے ساتھ ایسی حرکت کی اور سعادت مند بادشاہ نے اس کو برداشت کیا۔
اکبر نے دین الٰہی قائم کیا تو جون پور کے قاضی القضاۃ ملا محمد یزدی اور بنگال کے قاضی القضاۃ معزالملک اور قاضی یعقوب نے علی الاعلان فتویٰ دیا کہ بادشاہ بد مذہب ہوگیا ہے اس پر جہاد واجب ہے، اس علان پر تینوں موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔
اورنگ زیب تخت پر بیٹھا تو صدرالصدور نے شاہ جہاں کی موجودگی میں اورنگ زیب کا نام خطبہ میں شامل کرنے سے انکار کر دیا، اورنگ زیب مولانا میر مرتضی واعظ ملتانی کو اس لئے پسند کرتا تھا کہ وہ شرعی اور مذہبی امور میں حق گوئی سے کام لیتے تھے، اسی لئے ان کو شہزادہ کام بخش کی اصلاح و تربیت کے لئے مامور کیا، اسی دور کے ایک عالم شیخ بایزد نے ایک روز جامع مسجد میں تمام لوگوں کے سامنے عالمگیر سے پوچھا کہ اس کی لڑکیوں میں بعض ناکتخدا کیوں ہیں اور شادی کی تلقین کے لئے ایک وعظ کہا جس کو عالمگیر نے بڑی خاموشی سے سنا۔
بعض درباری علماء نے برے نمونے ضرور پیش کئے لیکن مجموعی حیثیت سے ان کی تعلیم و تلقین رائگاں نہیں گئی وہ سلاطین کے نجی اور درباری زنگی کی بعض غیر شرعی باتوں کو دور کرنے میں ضرور ناکام رہے لیکن یہ کہنے میں تامل نہیں کہ ان کی عام معاشرتی زندگی میں اسلامی اثرات کو زیادہ سے زیادہ غالب رکھنے میں کامیاب رہے، مغل بادشاہوں نے اپنے سیاسی مصالح کی بنا پر راجپوت خانداں میں رشتہ قائم کرنا شروع کیا لیکن یہ درباری ہی علماء ہی کا اثر تھا کہ راجپوت شاہزادیاں محل میں آتیں تو وہ اپنے عزہ و اقربا کی خاطر مشرف بہ اسلام ہونے کا اعلان تو نہ کرتیں لیکن درحقیقت مسلمان بن کر محل میں زندگی بسر کرتیں چنانچہ جہانگیر کی ماں کا نام مریم زمانی رکھا گیا، شاہجہاں اپنی ماں جگت گسائیں کو بلقیس مکانی کے نام سے یاد کرتا ہے، مرنے کے بعد ان راجپوت شاہزادیوں کو اسلامی طریقہ ہی سے دفن کیا جاتا، ایسی کوئی مثال نہیں کہ وہ جلائی گئیں یا انہوں نے اپنی کسی اولاد کو ہندو مذہب پر قائم رہنے کے لئے اصرار کیا ہو اورنگ زیب اور اس کے ایک لڑکے کی شادی راجپوت خاندانوں میں بھی ہوئی لیکن وہ نکاح سے پہلے کلمۂ طیبہ پڑھا لینا ضروری سمجھتا تھا۔
درباری علماء جیسے بھی رہے ہوں لیکن اگر وہ بھی غیر موثر ہوجاتے تو دربارِاسلامی تہذیب اور شعار سے بالکل بیگانہ ہو جاتا مثلاً جہاندار شاہ اپنی طوائف لال کنور کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بن گیا تھا، اس کے ساتھ چاندنی چوک کی دوکانوں میں جاتا، شراب خانہ کی بھی سیر کرتا، محمد شاہ پیا رنگیلے کا دربار تو گویّوں اور سازندوں کا مرکز بن گیا تھا اور جہاں فتاویٰ عالمگیری کی تدوین ہوئی وہاں خیال اور سارنگی کے ایجاد پر فخر کیا جانے لگا لیکن اس عہد کا یہ واقعہ بھی لکھنے کے لائق ہے کہ محمد شاہ نے اپنی ایک خاص مجلس میں اپنے قاضی القضاۃ کی تحقیر کی، لوگوں نے قاضی کو شرم اور غیرت دلائی، قاضی صاحب نے جواب دیا کہ قضا کے فیصلوں میں بادشاہ میرا قلم نہیں روکتا اس لئے مسلمانوں کے فائدے کی خاطر میں اپنی شخصی ہتک گوارا کرلیتا ہوں۔
فتنۂ اباحت:- جب کسی مسئلہ پر علماء اور سلاطین کا تعاون ہو جاتا تو دونوں کی متحدہ قوتوں سے اہم سے اہم کام کسی پیچیدگی کے بغیر انجام پاجاتا اور مذہبی گمراہی اور سیاسی شورش بھی آسانی سے ختم ہوجاتی مثلاً فیروز شاہ تغلق کے عہد میں اباحتیوں کا ایک گروہ پیدا ہوگیا تھا جس کے افراد ایک مقرر جگہ جمع ہوتے شراب پیتے، اپنی عورتوں کو بھی اپنے ساتھ لاتے اور جو جس کا دامن پکڑ لیتا اس سے ملوث بھی ہتا اور ان خرافات کو یہ گروہ مذہبی عبادت کہتا تھا، علماء نے اس کو ملحد اور گمراہ قرار دیا اور سلطان فیروز شاہ تغلق نے ان کو سخت سزائیں دیں، ان میں سے بعض کو قتل کردیا اور بعض کو قید میں ڈال دیا اور بعض کو جلا وطن کردیا۔
فتنۂ مہددیت:- اسی طرح اس عہد میں دہلی کے ایک باشندہ رکن الدین نے مہددیت کا دعویٰ کیا، علماء نے اس کے خلاف شورش کی تو فیروز شاہ تغلق نے اس کو قتل کرا دیا، نویں صدی ہجری میں سید محمد جونپوری بھی مہدیت کے مدعی ہوئے اور ان کا اثر کچھ پھیلا تو علماء نے ان کے خلاف بھی شورش کی اور اربابِ حکومت کی مدد سے ان کو کہیں چین لینے نہیں دیا اس لئے کبھی داناپور کبھی چندیری، مانڈو، چمپانیر، احمدنگر، گلبرگہ، احمدآباد اور نہروالہ میں قیام کیا لیکن وہ کہیں ٹکنے نہ پائے، یہاں تک کہ ان کو ہندوستان بھی چھوڑنا پڑا، اصلاح رسوم اور بدعات کے استیصال میں ان کی خدمات مشہور ہیں، اس لئے ان کے بارے میں مختلف رائیں ہیں کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ ان کے دعویٰ مہدیت کا مقصد صرف احیائے سنت تھا لیکن ان کے معاصر علماء ان کے مخالف رہے اور گو ہندوستان میں ان کے کچھ پیرو اب بھی باقی ہیں لیکن کسی زمانہ میں وہ کوئی مؤثر قوت نہ بن سکے۔
فرقۂ روشنیہ:- اسی طرح عہدِ اکبری میں بایزید روشن جالندھری نے نبوت کا دعویٰ کیا، ہندی اور پشتو میں بھی لکھے اور اپنی کتاب کلام البیان کو کلام الٰہی بتایا، علماء سے بڑے بڑے مناظرے بھی کئے لیکن علماء بازی نہ لے جاسکے اور ایک مستقل فرقۂ روشنیہ کے نام سے قائم ہوگیا، اس فرقہ کا اثر سرحد کے قبائل علاقہ میں زیادہ پھیلا، بایزید روشن کو کابل میں اکبر کے حاکم محسن خاں نے گرفتار کر کے قید کر دیا لیکن رہائی کے بعد بایزید روشن نے آفریدی قبیلہ میں اپنی سرگرمی اور تیز کردی اور مغلوں کو افغانی حکومت کا غاصب بتا کر اکبر کے خلاف بغاوت پھیلانے کی کوشش کی، اکبر کو فرقۂ روشنیہ کے خلاف فوج کشی بھی کرنی پڑی لیکن اس کی سرگرمیاں کم نہیں ہوئیں اور روشن کی وفات کے بعد ہی مغل حکومت اس فرقہ کو قابو میں لا سکی۔
جہانگیری عہد کی بعض مذہبی گمراہیاں:- جہانگیر کو عام طور سے رند بلا نوش سمجھا جاتا ہے لیکن مذہبی گمراہی کے خلاف اس کی مذہبی حمیت جوش میں آتی رہی، اس کے عہد میں لاہور میں شیخ ابراہیم نے اپنے ارد گرد افغانوں کو جمع کر کے مذہبی گمراہی، اوباشی اور سفلہ پروری پھیلائی تو علماء کے توجہ دلانے پر جہانگیر نے اس کو چنار میں قید کر دیا۔
شاہجہانی اصلاح:- علماء ہی کی کوشش سے شاہجہانی عہد میں اللہ اور رسول کے ساتھ گستاخی کرنے کی سزا مقرر ہوئی اور انہی نے ان عورتوں کو جو غیر مسلموں کی زوجیت میں آگئی تھیں ان سے چھٹکارا دلایا اور جو مسجدیں شہید کر کے مندر بنا دی گئی تھیں ان کو واگذاشت کرایا، اس نے علماء ہی کے اثر سے شراب سازی اور شراب نوشی کی بھی ممانعت کرا دی تھی مگر یہ مکمل طریقہ سے بند نہ ہوسکی۔
فتنۂ فربودی:- جب علماء اور فرماں روائے وقت کمزور پڑ جاتے تو مذہبی فتنہ کو روکنا مشکل ہو جاتا مثلا مغلوں کے آخری دورِ حکومت میں میر محمد حسین رضوی مشہدی نے دعویٰ کیا کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور جس روز اس کے دعویٰ کے مطابق اس پر پہلی دفعہ وحی نازل ہوئی تھی، اس روز اس کے تمام پیرو جمع ہوتے، خوشیاں مناتے، خوشبو اور عبیر ایک دوسرے پر چھڑکتے، خود میر حسین اپنے پیروں کو اس جگہ لے جاتا جہاں اس کے گمان میں اس پر وحی نازل ہوئی تھی، اس کو اس کے پیرو قبلۂ حاجات اور گہوارۂ سعادت سمجھتے، اس نے اپنا لقب فربود نموداللہ اور نمود و انمود رکھ لیا تھا، اس لئے اس کی تحریک فربودی کہلانے لگی، اس نے یہ تماشہ پہلے لاہور میں شروع کیا پھر دہلی منتقل ہوگیا، فرخ سیر اس کا بڑا معتقد ہوگیا اور اس کے ماننے والوں کی تعداد بڑھتی گئی، عام علماء نے اس کے خلاف شورش کی لیکن بڑے علماء نے اس کو ایک بازی گر سمجھ کر اس سے الجھنا پسند نہیں کیا، کم سواد علماء مناظرے میں اس سے مغلوب ہو جاتے جس سے عوام اس کے اور زیادہ گرویدہ ہوگئے، فرخ سیر کے انتقال کے بعد محمد شاہ کے وزیر محمد امین خاں نے اس پر سختی شروع کی لیکن جس روز اس نے اس کی گرفتاری کا حکم جاری کیا اسی روز وہ درد تولنج میں مبتلا ہوکر جاں بحق ہوگیا، عوام اس کو فربود کی کرامت سمجھے، اس لئے اس کی بزرگی کی شہرت اور بڑھ گئی، علماء برابر عوام کو اس کے فتنہ سے بچانے کی کوشش کرتے رہے لیکن ان کی خوش اعتقادی اس کی وفات تک قائم رہی اس کے بعد اس کے خلفاء میں جھگڑے شروع ہوگئے، ان سے جو راز منکشف ہوئے اس سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ جو کچھ تھا محض ایک دلچسپ سوانگ تھا۔
سلاطین کے ناقد علماء:- اب تک علماء کی تیس قسموں کا بیان ہوا ہے، چوتھی قسم میں وہ علماء تھے جو برابر مسلمان حکمرانوں کے ناقد رہے اور ان کی تنقیدیں اس لحاظ سے صحیح تھیں کہ ان مسلمان فرماں رواؤں میں بعض ایسے بھی تھے جن کی مجلسوں میں بادہ و ساغر کا دور چلتا تھا بعض کے یہاں ازدواج کی تعداد کی کوئی قید نہ تھی بعض کے درباروں میں رقص و سرود کی محفلیں گرم ہوا کرتی تھیں، گویّوں اور سازندوں کی بڑی سرپرستی کی جاتی تھی اور شاہانہ شوکت و تجمل کے اظہار میں کوئی کسر باقی نہ رکھی جاتی تھی، غیاث الدین تغلق نے تغلق آباد میں قلعہ کے اندر ایک محل بنوایا تھا جس کی اینٹوں پر سونا چڑھا ہوا تھا اس میں ایک حوض بھی تھا جس کو سیّال سونے سے بھروا دیا گیا تھا، شاہی محل کے اندر جو غسل کانہ تھا وہ بھی سونے کا تھا، اسی طرح لال قلعہ کے اندر شاہجہاں نے زنانہ محل کی چھت خالص چاندی کی بنوئی تھی، کھانے کے ظروف، ساغر، مینا، صراحی، پاندان، خاصدان، سنگار دان وغیرہ سونے کے ہی ہوتے اور عام طور سے لباس و پوشاک میں اتنے جواہرات جڑے ہوتے کہ بعض اوقات کپڑے کا رنگ نظر نہیں آتا، مغل بادشاہ تو زیور بھی استعمال کرنے لگے تھے، ان کے گلے میں موتیوں کے ہار اور بازوؤں میں بندبازو بند ہوتے، ان کی پگڑیوں میں موتیوں کا طرہ، جیغہ، (ایک مرصع زیور) سر پیچ (ایک جڑاو زیور) اور کلغی ہوتی، شاہجہاں کے سر پیچ کی مجموعی قیمت بارہ لاکھ روپئے تھی، اورنگ زیب کے عمامہ میں بھی ہیرے اور زمرد ہوتے، اسی طرح تہوار و شادی بیاہ کے موقع پر جو تقریباً منائی جاتیں ان میں مسرفانہ تکلفات مشرکانہ حد تک پہنچ جاتے۔
شاہانہ تکلفات:- علماء ان تمام تکلفات کو رسومِ جبابرہ میں شمار کرتے اور احکامِ الٰہی اور سنت نبوی کے خلاف سمجھتے، ایسے علماء ہندوستان میں بھی عہدِ رسالت اور خلافت راشدہ کے دور کا اسلام دیکھنا چاہتے تھے، اسی لئے وہ یہاں کے مسلمان سلاطین، امراء اور عوام کی زندگی کو غیر اسلامی آلایشوں اور آمیزشوں سے پاک و صاف دیکھنے کی آرزو کرتے رہے کچھ سلاطین ایسے ضرور گذرے ہیں جنہوں نے اپنے دربار سے خود پرستی اور خود نمائی ختم کرنے کی کوشش کی لیکن زیادہ تر غیر اسلامی قسم کی عظمت نمائی میں مبتلا رہے جس کو انہوں نے قصدا اور مصلحۃ بھی اختیار کیا تھا، بلبن ہندوستان کے ماحول کو دیکھ کر، اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ جو بادشاہ دربار کی آرایش، شاہانہ سواری کے مراسم اور سلطنت کے آداب کا لحاظ نہیں کرتا اس کا رعب و داب رعیت کے دلوں میں قائم نہیں ہوتا اور نہ دیکھنے والوں پر اس کی عظمت و جلالت کا کچھ اثر ہوتا ہے، ایسے بادشاہ کے دشمن اس پر دلیری ہوجاتے ہیں اور اس کی حکومت میں خلل پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بلبن کا قول تھا کہ بادشاہ کا رعب اور اس کی ہیت جس قدر اس کے وقار و تمکنت سے رعایا کے دلوں میں بیٹھتی ہے، اس قدر سزا اور خشونت سے قائم ہوتی وہ کہا کرتا تھا کہ بادشاہ کا پرہیبت اور پرجلال نہ ہونا رعایا کی سرکشی اور بغاوت کا باعث ہوتا ہے، ایسی حالت میں غیر مسلم باغیانہ روش اختیار کرتے ہیں اور مسلمان فسق و فجور میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور عدل و انصاف میں اختلال پیدا ہوجاتا ہے اور ظلم تعدی کے دروازے کھل جاتے ہیں، بلبن اس کا بھی قائل تھا کہ اگر بادشاہ باہیبت اور با رعب نہیں تو اس سے دین حق کی رسوائی ہوتی ہے اور دوسرے ادیان میں رونق آجاتی ہے۔
ہندوستان کے تقریباً تمام مسلمان فرماں روا اسی شاہانہ حشمت و دبدبہ پر عمل پیرا رہے اورنگ زیب نے درباری اور خانگی زندگی میں سادگی اختیار کرنے کی ضروری کوشش کی لیکن وہ بھی جب کسی مہم پر جاتا تو اس کے کیمپ کے ساتھ اس کے حرم کی بیگمات کے لباس و پوشاک و جواہرات ستر اسی اونٹوں اور ہاتھیوں پر بار ہوتے، کیمپ کے اندر حرم سرائیں ایرانی قالین، مشجر فرش اور منقش پردے ہوتے، فرنگی مخمل، ساٹن، چینی، ریشمی اور زردوزی کے کپڑوں سے آراستہ ہوتیں اور دوسرے بادشاہوں کے کیمپ میں تو آبدار خانہ، تنبول خانہ، میوہ خانہ، رکاب خانہ، توشک خانہ، خوشبو خانہ اور خدا جانے کیا کیا ہوتا، میدانِ جنگ کی لڑائیوں میں بھی دیبا، حریر، زر بفت اور مخمل وغیرہ کی آنکھیں خیرہ کردیتے والی زینت و آرایش ہوتی۔
ان تکلفات سے شاہانہ رعب تو ضرور قائم ہوتا لیکن آگے چل کر یہ نمود و نمایش سلطنت کا نصب العین بن کر رہ گئی تھی جس نے اخلاقی زندگی کو بالکل کھوکھلا کردیا، امراء، سلاطین کی پرتکلف زندگی کی نقالی کرنے کی کوشش کرتے اور امارت کے ساتھ جس قدر دولت کی فروانی ہوتی گئی اچھائیاں کم اور برائیاں زیادہ پیدا ہوتی گئیں اور جب ان کے اچھے اوصاف زائل ہوگئے تو ان کا کردار بھی بگڑ گیا، شاہ ولی اللہ صاحب۔۔۔۔ بڑے دکھ اور درد سے اپنے عہد کے امراء کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:-
اے امیرو! دیکھ کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے، دنیا کی فانی لذتوں میں تم ڈوبے جارہے ہو اور جن لوگوں کی نگرانی تمہارے سپر ہوئی ہے، ان کو تم نے چھوڑ دیاہے۔۔۔ کیا تم علانیہ شرابیں نہیں پیتے اور پھر اپنے فعل کو تم برا بھی نہیں سمجھتے تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ بہت سے لوگوں نے اونچے اونچھے محل اس لئے کھڑے کئے ہیں کہ ان میں زناکاری کی جائے اور شرابیں ڈھالی جائیں جوا کھیلا جائے لیکن اس میں دخل نہیں دیتے اور اس حال کو نہیں بدلتے۔۔۔ جب کوئی کمزور مل جاتا ہے توا سے پکڑ لیتے ہو اور قوی ہوتا ہے تو چھوڑ دیتے ہو، تمہاری ساری ذہنی قوتیں اس پر صرف ہو رہی ہیں کہ لذید کھانے کی قسمیں پکواتے رہو اور نرم و گداز جسم دانی عورتوں سے لطف اٹھاتے رہو، اچھے پکڑوں اور اونچے مکانات کے سوا تمہاری توجہ اور کسی طرف منعطف نہیں ہوتی، کیا تم اپنے سر کبھی اللہ کے سامنے جھکاتے ہو، خدا کا نام تمہارے پاس صرف اس لئے رہ گیا ہے کہ اپنے تذکروں اور قصہ کہانیوں میں اس کو استعمال کرو، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے لفظ سے تمہاری مراد زمانہ کا انقلاب ہے کیونکہ تم اکثر بولتے ہو خدا قادر ہے کہ ایسا کردے یعنی زمانہ کے انقلاب کی یہ تعبیر ہے
لیکن اسی کے ساتھ تاریخ کا یہ پہلو بھی دردناک ہے کہ گو علماء، سلاطین اور امراء کی زندگی کو غیر اسلامی اور غیر شرعی بتاتے رہے مگر ان کی زندگی کو اسلام اور شریعت سے قریب تر کرنے کی کوئی اجتماعی کوشش نہیں کی وہ کڑھتے ضرور رہے لیکن لسانی جہاد اور تیغ زبان ہی کے استعمال کرنے پر اکتفا کیا مثلاً مولانا ضیاؤالدین برنی اور ان کے ہمنوا علماء کو بڑا دکھ تھا کہ سلاطین دہلی کی حکومت اسلامی نہیں اور ان کا طرز عمل شرعیت کی روشنی میں قابلِ معافی نہیں لیکن فتاوائے جہانداری میں انہوں نے جو بحث کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان حکمرانوں کو جن پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا ان کو سلجھانے میں اس زمانہ کے علماء کی اجتہادی فکر کوئی کام نہ کر سکی اور مولانا ضیاؤالدین برنی یہ کہہ کر خاموش ہوگئے ہیں کہ دینداری اور حکومت کی دنیاداری ساتھ نہیں چل سکتی۔
ہر زمانہ میں تخت کی جانشینی کے لئے ہولناک لڑائیاں ہوتی رہیں جن میں نہ صرف جاں باز آزمودہ کار اور لائق فوجی مارے جاتے بلکہ اس سے ملک کی سیاسی اور معاشی حالت بھی اتنی بگڑ جاتی کہ پوری سلطنت خطرے میں آجاتی، علماء سماع کے جائز و ناجائز، زعفرانی رنگ کے زرد کپڑوں کے حلال و حرام، اطلس کے مشروع اور نامشروع ہونے پر جھگڑتے رہے لیکن اپنی مجہتدانہ فکر سے کبھی یہ کوشش نہیں کی کہ کم از کم جانشینی کے اصول و ضوابط مرتب ہوجائیں جن پر عمل ہوتا رہے وہ برابر اس کی تبلیغ کرتے رہے کہ اسلام میں مذہب اور سیاست دو علٰحدہ چیزیں نہیں ہیں لیکن دونوں کی تطبیق میں ان کی طرف سے کوئی عمل کوشش نہیں ہوئی، ہندوستان میں مسلمانوں کا دورہ ساڑے چھ سو برس رہا لیکن اس دور میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ علماء نے اجماع کے ذریعہ سے یہاں کے مسائل کو طے کرنے کی کوشش کی ہو بعض مسلمان فرماں رواؤں کی خواہش ضرور ہوئی کہ ان کی حکومت اسلامی طرز کی ہو لیکن ان کی خواہش عمل میں اس لئے نہیں آسکی کہ ان کے ذہن میں اسلامی حکومت کا واضح اور صاف تصور نہ آسکا، خلافتِ راشدہ کی مثال ضرور تھی لیکن ایک ایسے اسلامی طرزِ حکومت کا کوئی نمونہ نہ تھا جہاں کی اکثریت غیر مسلموں کی ہو اور علماء نے اس کا کوئی واضح اور مرتب خاکہ پیش کر کے ان کی مدد بھی نہیں کی اس لئے خاندانی بادشاہت قائم رہی اور چلتی رہی۔
علماء کی نا اتفاقی:- سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ تھی کہ خود علما میں اتفاق رائے مشکل سے ہوتا تھا، اس لئے اگر وہ چاہتے بھی تو شاید متفقہ طور پر کوئی باضابطہ سیاسی نظام پیش نہیں کرسکتے تھے، حضرت مجدد الف ثانی نے جب جہانگیر کو اپنی حکومت میں اصلاح کرنے کے لئے مجبور کیا تو اس نے حکم دیا کہ چار دیندار عالم منتخب کئے جائیں اور ان کے مشورے سے ملکی نظم و نسق ایسا قائم کیا جائے کہ کوئی حکم خلافِ شرع نہ ہونے پائے یہ سن کر حضرت مجدد نے چار کے بجائے صرف ایک عالم کے منتخب کرنے کی تجویز پیش کی اور اس کا یہ سبب بیان کیا:-
اگر علماء میں منصب اور عزت کی خواہش ہوئی تو ہر ایک اپنی طرف کھینچنا چاہے گا اور اپنی بڑائی جتانے کی کوشش کرے گا اور پھر ان میں اختلاف ہوں گے اور ان ہی کو یہ تقرب بادشاہی کا ذریعہ بنائیں گے اور لا محالہ مشکل پیدا ہوجائے گی اور سابق میں علمائے سو ہی کے اختلافات نے دنیا کو بلا میں ڈالا تھا اور اب وہی چیز پھر در پیش ہے، دین کی ترویج کہاں، کہیں پھر تخریب نہ ہو العیاذ باللہ، اگر بجائے چار کے ایک ہی عالم کو اس لئے انتخاب کریں تو بہتر ہے اگر علمائے ربانی میں سے مل جائیں تو کیا کہنا، ان کی صحبت تو کبریتِ احمر ہے
دین الٰہی:- حضرت مجدد الف ثانی نے جن علمائے سو کا ذکر کیا ہے ان سے ہندوستان میں اسلام کو بڑا نقصان پہنچا، اکبر شروع میں بڑا دیندار تھا وہ سفر و حضر میں نماز باجماعت کبھی ترک نہ کرتا تھا، دربار میں نماز کے اوقات میں جماعت کھڑی کراتا، آبادی سے دور جاکر مراقبہ بھی کرتا، فتح پور سیکری میں جو عبادت خانہ بنوایا اس میں علماء کو بلاتا اور ان سے مسائل پر تبادلۂ خیالات کرتا اور جمعہ کی ساری رات علماء و مشائخ کی صحبت میں گذارتا لیکن ملا عبدالقادر جیسے راسخ العقیدہ مسلمان مؤرخ کا بیان ہے کہ اسی عبادت خانہ میں علماء بادشاہ سے قریب تر بیٹھنے کی خاطر جھگرتے بحث و مباحثہ میں ایک دوسرے کی تردید کرتے اگر ایک عالم کسی چیز کو حرام قرار دیتا تو دوسرا س کو حلال ثابت کرتا یہاں تک کہ ایک دوسرے کو گمراہ سمجھنے لگتے اور جب بحث ہوتی تو ان کی گردن کی رگیں پھول جاتیں اور شور ہونے لگتا، ہلڑ مچ جاتا، ملا عبدالقادر بدایونی یہ بھی لکھتے ہیں کہ اکبر اپنے زمانہ کے علماء کو رازی اور غزالی سے بہتر خیال کرتا تھا لیکن ان کی رکاکتیں دیکھ کر علمائے سلف کا بھی منکر ہوگیا اور پھر انہی علماء نے ملا مبارک ناگوری جیسے ذہین اور فہیم عالم کو بھی اپنے سے بے گانہ کردیا جس کی وجہ سے ان کا سارا دینی تبحر اکبر کو مجتہداعظم ثابت کرنے اور ان کے لڑکوں ابوالفضل اور فیضی کی ساری ذہانت اور لیاقت دینِ الٰہی کی حمایت میں صرف ہوئی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اکبر قرآن مجید، حیات بعدالموت اور یوم جزا کا منکر ہوگیا، اس نے حکم دیا کہ کلمہ کی جگہ لا الٰہی الا اللہ اللہ اکبر خلیفۃ اللہ پڑھا جائے، شراب اور سور کا گوشت تو حلال کردیا گیا لیکن گائے کا گوشت حرام قرار پایا حج منسوخ کردیا گیا، تقویم اسلامی کے بدلے الٰہی ماہ و سال رائج ہوگئے، عربی کے مطالعہ کو تحقیر سے دیکھا جانے لگا، دربار میں نماز باجماعت موقوف کردی گئی، مساجد اور نماز کے کمرے گوداموں میں تبدیل کردیے گئے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسلام کا سفینہ ہندوستان میں ہمیشہ کے لئے غرقاب ہوجائے گا لیکن اسلام کی قوت نمونے خود اس کو بچالیا اور یہ حضرت مجدد کی بڑی دور اندیشی تھی کہ انہوں نے علمائے ربانی اور علمائے سو کی اصطلاح قائم کر کے عام علماء کے وقار کو محفوظ کردیا ورنہ علماء کے وقار کے خاتمہ کے ساتھ اسلام کے وقار کا بھی خاتمہ ہوجاتا۔
علماء کی دار و گیر:- ان اختلافات کی وجہ سے علمائے ربانی نے عام طور سے گوشہ نشینی اختیار کر لی اور وہ درباری، سیاسی اور عوامی زندگی سے الگ تھلگ اور خاموش رہنے لگے اس لئے اسلامی فقہ کی تعبیر اور تشریح ایسے علماء کے ہاتھوں میں رہی جن میں حرارتِ ایمانی تو تھی لیکن اجتہادی فکر بہت کم تھی، اس لئے حرارتِ ایمانی کی وجہ سے وہ احتساب میں تو بڑی سختی کرتے تھے، بدعت شرک اور کفر کے فتاوے برابر جاری کرتے رہتے مگر وہ مشکلات کا حل نکال کر صحیح رہنمائی نہ کرسکے تاہم ان کی یہ دار و گیر رائیگاں نہیں گئی، اس سے بڑا فائدہ یہ پہنچا کہ ہندوستان میں اسلام کی شکل بہت زیادہ بگڑنے نہیں پائی اور مسلمان ہندوستان میں باہر سے آنے والی دوسری قوموں مثلا یونانی، سیتھین اور پارتھین کی طرح یہاں کے مقامی باشندوں میں بالکل ضم نہیں ہوگئے اور ان کی انفرادیت قائم رہی۔
مسلمانوں کی تہذیبی زندگی:- مگر اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ضم نہ ہونے اور انفرایت قائم رکھنے کے باوجود اپنی معاشرتی اور تمدنی زندگی حتیٰ کہ بعض مذہبی مراسم میں بھی یہاں کے کچھ نہ کچھ مقامی اثرات قبول کئے بغیر نہیں رہ سکے ان میں سے بعض برے اثرات کو دور کرنے کے لئے اصلاحی اور تجدیدی کوششیں بھی جاری رہیں لیکن ان کوششوں کے باوجود مسلمانوں کی تہذیبی اور تمدنی زندگی صحیح معنوں میں اسلامی نہ بن سکی اور اپنی اسی ہندوستانی تہذیب و تمدن کو اسلامی کہنے لگے جن میں اسلامی رنگ کے ساتھ مقامی اثراب بھی تھے اس لئے آج کل یہ ایک متنازعہ فیہ موضوع بن گیا ہے کہ وہ اسلامی تہذیب جو ہم کر ترکہ میں ملی ہے وہ ہندوستانی تہذیب سے علٰحدہ ہے یا دونوں ایک ہیں، ایک گروہ دونوں میں بڑی حد تک وحدت پاتا ہے اور وہ کثرت میں وحدت کا قائل ہے اور دوسرا گروہ اس وحدت کو محض خارجی وحدت قرار دیتا ہے اور اس میں کوئی داخلی وحدت نہیں پاتا وہ داخلی وحدت ان احساسات و جذبات اور رجحانات کا نام رکھتا ہے جن سے اس کی دینی، فکری، نظری اور ذہنی برتری اور بہتری ہرحال میں قائم رہتی ہے خواہ وہ عملی حیثیت سے اس کا نمونہ نہ ہو، اس احساس برتری کو برقرار رکھنے میں ہر زمانہ کے علماء نے بڑی کوشش کی، انہی کی بدولت یہ احساس قائم رہا۔
احساس برتری:- لیکن اس احساس برتری کی شدت میں بعض علماء اپنے عہد کے حکمرانوں کو کچھ ایسے مشورے دے دیتے جو سیاسی اور ملکی مصالح کے لحاظ سے بالکل نامناب ہوتے مثلا شیخ الاسلام مولانا سید نورالدین مبارک عزنوی نے شمس الدین ایلتتمش کو اور قاضی مغیث الدین بیانوی نے علاؤالدین خلجی کو غیر مسلموں کو اطاعت گذار اور فرماں بردار بنانے کے جو مشورے دئیے ان میں عہد سپہ گری کے جذبات کی زیادہ جھلک ہے، ان کا تجزیہ اگر موجودہ دور کے علماء کریں تو وہ یقینا ان کو اسلامی تعلیم کے سراسر خلاف قرار دیں گے اور خود دیانتدان ہندو مؤرخین بھی اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اس دور کے مؤرخین یا علماء غیر مسلموں کے خلاف اپنے جوش و خروش کا اظہار محض اس لئے کرتے رہے کہ ان کی اور ان کے حکمرانوں کی شہرت اسلامی ممالک میں مجاہدین اور مبلغین اسلام کی حیثیت سے برقرار رہے، ایسے ہندو مؤرخین نے اس کا بھی اعتراف کیا ہے کہ فتح و تسخیر کے زمانے میں تو ہندؤوں کو صعوبتوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہونا پڑتا وہ یکایک بڑے علاقے سے اپنے سیاسی اقتدار سے محروم کردیے جاتے ان کے مذہب کو بھی تحقیر سے دیکھا جاتا لیکن جوں ہی فتح و کامرانی کا جوش ختم ہوتا تو ان کو رواداری اختیار کرنی پڑتی اور وہ ہندؤوں کو اپنی سلطنت کا ضروری جزو سمجھنے پر مجبور ہوتے۔
اورنگ زیب کی رواداری:- اورنگ زیب کو شریعتِ اسلامی کا بہت بڑا علمبردار سمجھا جاتا ہے لیکن وہ جب دارا شکوہ کو مغلوب کرنے کے بعد اپنے دوسرے بھائی شجاع کے خلاف کھجوہ میں اترا تو اس کی فوج کے برانفار میں راجہ جسونت سمجھ دس ہزار راجپوت سواروں کے ساتھ متعین تھا اس کے علاوہ کم از کم چالیس راجپوت سردار دوسرے بازؤوں پر راجپوت سیاہیوں کے ساتھ لڑ رہے تھے، اورنگ زیب اپنے مسلمان حریفوں کے مقابلہ میں راجپوت سرداروں کے ماتحت لشکر بھیجنے میں مطلق تامل نہ کرتا تھا، عہدوں اور ملازمتوں کے دینے میں اورنگ زیب اسی اصول کا پابند تھا جو ہر ہوشمند حکمراں کو ہونا چاہئے، اس کے ایک منصب دار نے دو پارسی ملازموں کو علٰحدہ کرنے کے سلسلہ میں لکھا کہ وہ آتش پرست ہیں، ان کی جگہ کسی مسلمان کو مقرر کیا جائے کیونکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ، اورنگ زیب نے جواب میں لکھا کہ اس قسم کے کاروبار میں مذہب کو بیچ میں نہیں لانا چاہئے اور نہ ان معاملات میں تعصب کو جگہ مل سکتی ہے اور اس کی تائید میں لکم دینکم ولی دین کی آیت پیش کی اور لکھا کہ اگر امین خاں کی نقل کردہ آیت کا وہ مفہوم ہوتا جو اس نے سمجھا ہے اور اس کو سلطنت کا دستور بنایا جائے تو پھر چاہئے کہ ملک کے سب راجاؤں اور ان کی رعایا کو غارت کردیا جائے مگر یہ کس طرح ہو سکتا ہے، شاہی نوکریاں لوگوں کو ان کی لیاقت اور قابلیت کے مطابق ملیں گی، اس کے علاوہ اور کسی لحاظ سے نہیں مل سکتی ہیں۔
اورنگ زیب کو عام طور سے غیر مسلم مؤرخین متعصب حکمراں کہتے ہیں مگر ملازموں کے تقرر میں اس کا یہ اصول تھا کہ اگر مسلمان حکمراں اس پر عامل نہ ہوتے تو شاید ان کی حکومت اتنے دنوں تک قائم نہیں رہ سکتی تھی لیکن بعض متشدد علماء کی زبان سے جو فقرے یا جملے نکل گئے تھے، ان کی تو اسلام کی تعلیم سمجھ لیا جاگیا اور جو علماء ہندؤوں کے ساتھ خاموشی سے ہمدردی، رواداری، لینت و محبت کا ثبوت دیتے رہے، اس کو بھلا دیا گیا اور موجودہ دور کے بعض مؤرخین علماء کے تند اور تلخ فقروں کو اچھا کر کے اس عہد کی تاریخ کو تاریک بنانے کی مہم میں لگے ہوئے ہیں اور ان کو فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کا ذریعہ بنا لیا ہے اور مسلمان اہل قلم کی ساری سرگرمیاں اس غلط فہمی کو دور کرنے میں صرف ہورہی ہیں۔
عبادت گاہوں کا انہدام:- اسی طرح عبادت گاہوں کے انہدام کا مسئلہ ہے بعض مسلمان فرماں رواؤں نے اپنے احساسِ برتری، فاتحانہ غرور، سپاہیانہ غیظ و غضب، حربی جوش اور حصول دولت کی طمع میں کچھ مندر ضرور منہدم کئے جس کی ذمہ داری اس زمانہ میں مذہبِ اسلام پر رکھی جارہی ہے، حالانکہ اسلامی قانون کے رو سے پرانے مندر کسی حال میں توڑے نہیں جاسکتے اس کے باوجود کسی بادشاہ کے ذاتی فعل کو اسلام کا قانون مشہور کرنے میں بعض غیر مسلم مؤرخین تامل نہیں کرتے اور مسلمانوں کی طرف اس کی مدافعت اور معذرت میں ہر قسم کا زور صرف کیا جارہا ہے، اس تنازعہ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے ہندوستان کے علماء نے مسلمان حکمراں اور غیر مسلم رعایا کی حیثیت کو پورے طور سے واضح کرنےکی کوشش نہیں کی حالانکہ شروع میں محمد بن قاسم نے سندھ میں ایک غیر مسلم رعایا کو وہی حیثیت دی جو صحابۂ کرام نے اہلِ فارس کو دی تھی یعنی ان کو شبہ اہل کتاب تسلیم کیا جس کے معنی یہ ہیں کہ دو باتوں کے سوا یعنی نکاح اور ذبیحہ کے علاوہ اور تمام امور میں ان کے ساتھ اہلِ کتاب کا برتاؤ کیا جائے اور ان کے مندروں کی حیثیت ایران کے آتشکدوں کی طرح رکھی گئی اور جس طرح صحابہ نے آتش کدے نہیں توڑے اسی طرح مصالحت کے بعد مندر بھی محفوظ رہنے دئے گئے۔
محمد بن قاسم نے اپنی غیر مسلم رعایا کےساتھ بڑی رواداری اور محبت کا ثبوت دیا، اس کا نتیجہ یہ تھا کہ ایک روایت کےمطابق محمد بن قاسم کے جانے کے بعد وہاں کے لوگ اس کا بت بنا کر پوچتے تھے، حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے حکمرانوں میں ترک اور مغل زیادہ تر نومسلم تھے، اسلام نے ان کو تہذیب اور شائستگی لباس ضرور پہنایا تھا مگر وہ اپنی قبائلی اور نسلی خصوصیات کو بالکل بھول نہ سکے اس لئے اپنی معاشرت کو بہت زیادہ اسلامی رنگ نہیں دے سکے، ان کے ساتھ جو علماء ہے وہ بھی ترکستانی اور ماوراالنہری تھے جن کا مذہبی فکر و تدبر بھی نسلی خصوصیت سے خالی نہ تھا، راعی اور رعایا کے رشتہ کو بھی اسی انداز میں سونچتے تھے اور انہوں نے کبھی ان کی حیثیت کو واضح کرنے کی کوشش نہیں کی، وقتی ضرورت اور مصالح کی بنا پر فتاوے دیتے رہے اگر ترکوں اور مغلوں کے بجائے عرب حکمراں ہوتے اور ان کے جلوس حجاز کے علماء رہتے تو وہ دین اسلام کے حقیقی حامل اور اس کے مزاج شناس ہونے کی وجہ سے اسلام اور اسلامی زندگی کو کچھ ایسے رنگ میں پیش کرتے کہ آج ہندوستان کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔
جہاں تک عبادت گاہوں کے انہدام کا تعلق ہے اس میں مذہبی جوش سے زیادہ سیاسی غلبہ و اقتدار کو دخل تھا اسی لئے مسلمانوں کے دورِ حکومت میں ہندو راجاؤں کے ہاتھوں مسجد کے انہدام کی مثالیں بھی بکثرت موجود ہیں چنانچہ جیانگر کے راجہ نے احمد نگر پر غلبہ پایا تو وہاں کی مسجدوں کو منہدم کیا اور ان کے احاطہ میں رقص و سرود کی مجلس قائم کی، حضرت مجدد نے اپنے مکتوبات میں جہانگیر سے اصرار کیا ہے کہ وہ اپنے دور کی منہدم مسجدوں کو پھر سے تعمیر کرائے، شاہجہانی عہد میں بہت سی مسجدیں مسمار کردی گئی تھیں اور ان کی بجائے مندر بنا دیے گئے تھے، شاہجہاں کو خبر ہوئی تو اس نے کوئی عام سزا نہیں دی بلکہ جن مسجدوں کو گرا کر مندر بنادیے گئے تھے وہ پھر مسجدیں بنادی گئیں، مرہٹے ستارہ اور یرلی کے قلعوں میں داخل ہوئے تو بیجاپور کے حکمرانوں کی تعمیر کردہ مسجدوں کو مسمار کردیا اس لئے اگر مسلمان حکمرانوں اور فاتحہ نے اپنی طاقت اور قوت کے غرور میں مندروں کو منہدم کیا تو یہ ان کا ذاتی فعل تھا جس کے لئے کوئی معذرت پیش کرنے اور شرم سے سرجھکانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کوئی قوم ایسی نہیں جس کے تمام فرماں رو مذہبی و اخلاقی معیار پر ہر زمانہ میں پورے اتر سکیں اور ہر اعتراض سے پاک ہوں اور اچھوں اور بروں سے تاریخ کا کوئی دور خالی نہیں البتہ اس سلسلہ میں مذہب کو بحث میں لانا صریحاً بد دیانتی اور بد طینی ہے۔
مسلمان حکمرانوں کا مذہبی تعصب:- یہ ہندوستان کی تاریخ کی عجیب ستم ظریفی ہے کہ جن مسلمان حکمرانوں پر مذہبی تعصب، ہندو کشی اور مندروں کے انہدام کا الزام لگایا جاتا ہے وہ زیادہ تر ہندو ماؤں کے بطن سے تھے، عام طور سے مؤرخین انہدام مندر کے سلسلہ میں فیروز شاہ تغلق، سکندر لودی، جہانگیر، شاہ جہاں اورنگ زیب کا ذکر کرتے ہیں، اول الذکر چاروں حکمرانوں کی مائیں ہندو تھیں، اورنگزیب کی ماں تو نہیں لیکن دادی راجپوت شہزادی تھی اور اسی لئے بعض ہندو اہلِ نظر کی رائے یہ ہے کہ ان مخلوط شادیوں سے جو نسلیں پیدا ہوئیں وہ ہندوؤں کے لئے خالص خون والے مسلمانوں سے زیادہ مخالف اور متعصب ثابت ہوئیں اور پھر اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ اورنگزیب کے مذہبی تعصب کی بنا پر شیواجی پیدا ہو تو اکبر جیسے روا دار حکمراں کے عہد میں رانا پرتاب کا وجود سمجھ میں نہیں آتا، یہ دونوں ہندؤوں کے قومی ہیرو بن گئے ہیں جن کو بڑے سے بڑا وطن پرست مسلمان بھی اپنا قومی ہیر تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں، اسی لئے ایک خاص کتبِ خیال کے لوگوں کو کہنے کا موقع مل جاتا ہے کہ متحدہ قومیت کی اساس خارجی وحدت پر نہیں بلکہ داخلی وحدت پر ہے۔
جزیہ:- اسی طرح جزیہ کو ایک توہین آمیز ٹیکس سمجھا جاتا ہے اور یہ محض اس لئے کہ سلاطین اور علما دونوں نے اس کے روشن پہلو کی وضاحت پوری طرح نہیں کی، جزیہ در اصل اس ٹیکس کو کہتے ہیں جو اسلامی حکومت اپنی غیر مسلم رعایا سے اس خدمت کے معاوضہ میں وصول کرتی ہے کہ وہ ان کے سیاسی، معاشرتی اور مذہبی حقوق کی حفاظت کی ذمہ دار ہے، اس ٹیکس کے لینے کے بعد حکومت ہر طرح سے ذمیوں کے جان و مال کی نگرانی کرتی تھی اور ایسا کرنا اس کے مذہبی فریضہ میں داخل تھا اور جو حکومت ان کی حفاظت کرنے سے قاصر رہتی اس کو جزیہ وصول کرنے کا حق نہ ہوتا اس کے علاوہ کسی عالم یا فقیہ نے جزیہ کا کچھ اور مطلب بتایا تو یہ اس کا تصور ہے، ٹیکس کا نقص نہیں، علماء کے اصرار کے باوجود مسلمانوں کے پورے دورِ حکومت میں صرف تین حکمرانوں علاؤالدین خلجی، فیروز شاہ تغلق اور اورنگ زیب کے عہد میں یہ ٹکس لگایا گیا اور اس زمانہ میں یہ ٹیکس اتنا اشتعال انگیز نہیں سمجھا گیا جتنا اب طرح طرح کی موشگافیوں سے سمجھا جانے لگا ہے، اس زمانہ کے تمام راجہ اس کو ٹیکسوں کی طرح ایک ٹیکسوں کی طرح ایک ٹیکس سمجھ کر ادا کردیا کرتے تھے اور کسی حال میں وہ اپنی کو کمتر درجہ کا شہری تسلیم نہیں کرتے تھے حالانکہ اب یہی بتایا جاتا ہے کہ یہ ٹیکس غیر مسلموں کو سیاسی، اقتصادی، مذہبی اور اخلاقی حیثیت سے تابع بنا کر گری ہوئی حالت میں رکھنے کے لئے عائد کیا جاتا تھا مگر جب ہاتھ میں تلوار موجود تھی تو ایسا کرنے کے لئے ٹیکس لگانے کی کیا ضرورت تھی اور ایسے مؤرخ کی کوئی وقت نہیں ہوگی جو یہ تسلیم نہ کرے کہ بلک گیر کے سلسلہ میں مسلمانوں کی تلوار تو خوب چمکی لیکن ملک داری میں ان کی تلوار ہمیشہ نیام میں رہی وہ میدانِ جنگ میں خواہ کیسی ہی خون ریزی کرتے لیکن جنگ کے بعد معتدل روش اختیار کر لیتے کیونکہ ملک کی زراعت اور تجارت ہندؤوں کے ہاتھوں میں تھی اونچے عہدہ دار تو مسلمان ضرور تھے لیکن دوسرے تمام عہدے ہندؤوں کے ہاتھوں میں ہوتے تھے کیونکہ مدد کے بغیر حکومت کا ڈھانچہ کھڑا نہیں ہوسکتا تھا اور اگر ان کے ساتھ روادارانہ سلوک نہ کیا جاتا تو تھوڑی تعداد اور قلیل فوج کی مدد سے ہر جگہ مسلمانوں کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی تھی۔
تبلیغِ اسلام:- اس حقیقت کے باوجود انہدامِ مندر اور جزیہ کے مسئلہ کو اچھال کر مسلمان حکمرانوں کے مذہبی تعصب اور تشدد میں طرح طرح کی رنگ آمیزی کی گئی ہے اور یہ الزام عام طور سے رکھا جاتا ہے کہ ہندوستان میں اسلام تلوار کے زور سے پھیلا لیکن یہ عجیب بات ہے کہ علماء ان تمام حکمرانوں سے اس لئے بدظن نظر آتے ہیں کہ ان کے کہنے کے مطابق انہوں نے اما اتقل و اما الاسلام پر عمل نہیں کیا اور پورے ہندوستان کو اسلام کے نور سے منور ہونے نہیں دیا لیکن تاریخ کو مڑ کر دیکھنے کے بعد خود علماء پر یہ الزام آتا ہے کہ مسلمانوں کی حکومت کے زمانے میں انہوں نے اسلام کی تبلیغ اور اشاعت میں وہ اسپرٹ اور تنظیم نہیں دکھائی جو انگریزوں کے زمانہ میں عیسائی مبلغین دکھاتے رہے ورنہ ہندوستان کی تصویر آج کچھ اور ہوتی۔
اسلام کی اثرپذیری:- لیکن سلاطین اور علماء کی اس غفلت کے باوجود یہاں کے باشندے اسلام کی ہمہ گیری خصوصاً اس کے خالص توحید کے تخیل، عقلیاتی تصور زندگی، معاشرتی اخوت، مساوات اور اجتماعی یگانگت کو دیکھ کر خود اس کی طرف مائل ہوئے وہ اپنے یہاں کی ذات پات کی طبقاتی تقسیم اور اس کی بندشوں سے کچھ ایسے نالاں تھے کہ تھوری سی کوشش سے حلقہ بگوش اسلام ہونے میں تامل نہ کرتے اس لئے اسلام خود بخود ہندو مت کے لئے ایک چیلنج بن گیا اور ہندو اپنی مذہبی اصلاح کے لئے مجبور ہوگئے اور ان میں مختلف قسم کی مذہبی و اصلاحی تحریک شروع ہوئیں، ان کی کم و بیش یہی غایت تھی کہ مسلمانوں کی طرح ہندؤوں کے عوام کا بھی درجہ بلند ہو ممکن ہے کہ بھگتی کا عقیدہ اسلام سے پہلے کا ہو لیکن اس میں اسلام کے تصادم ہی سے جان پڑی، شمالی ہند میں جے دیو، میرابائی، رامانند، مہاراشٹر اور گجرات میں گیانیشور بنگال میں جپتین اور کرناٹک میں لنگایت کی ساری مذہبی سرگرمیاں اسلام ہی کے تصورِ توحید اور تصورِ حیات سے ماخوذ ہیں، ان کا پیام تھا کہ سارے انسان خدا کی نظروں میں یکساں ہیں اس لئے بلا امتیاز ہر قوم اور ہر طبقہ کے لوگوں کو ان تحریکوں میں شریک ہونے کی عام دعوت تھی اس میں کچھ مسلمان بھی شریک ہوئے، رامانند کے مشہور چیلے کبیر تھے، کبیر کے معتقد تقی سہروردی کی لڑکی کمال کی شادی ایک برہمن سے ہوئی، کبیر کی چیلی گنگا بائی تھیں، داؤد کے چیلے شیخ بہار جی، باقر جی اور رجب جی تھے، چیتن کے مشہور چیلوں میں روپ، سناتن اور ہری داس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہی تھے۔
ان تحریکوں سے مسلمانوں میں ہندی شاعری بھی مقبول ہوئی تو قطبن نے مرگاوتی، منجن نے مادھومالتی، ملک محمد جائسی نے پدماوت، عثمان نے چتراولی، شیخ نبی نے گیان دیپ، قاسم شاہ نے ہنس جواہر، نور محمد نے اندراوتی، فاضل شاہ نے پریم رتنا لکھ کر ہندؤوں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے قریب تر کرنے کی کوشش کی، کچھ ایسے بھی ہندی کے مسلمان شعرا گذرے ہیں جنہوں نے کرشن بھگتی کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا مثلاً کرشن بھگتی، پر رسخاں کی نظمیں مذہبی خوش اور محبت کے غلو میں سورداس اس سے کم نہیں سمجھی جاتی ہیں، اس کے علاوہ قادر، جمال مبارک، طاہر اور تاج نے بھی کرشن سے عقیدت ظاہر کی۔
وحدتِ روحانی کی سعی ناکام:- مذکورۂ بالا ہندو پیشواؤں اور مسلمان شاعروں نے ہندو دھرم اور اسلام کے باطنی شعور کو باہم سمو کر دونوں میں وحدت اور مصالحت پیدا کرنے کی کوشش کی، یہ تحریکیں مذہبی تاریخ اور عمرانیات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے تو بڑی دلآویز ہیں لیکن جب یہ مذہب کے اصول و عقائد اور رسوم و عبادات سے ٹکرائیں تو زیادہ مؤثر ہو کر پھیل نہ سکیں، راسخ العقیدہ ہندو اور مسلمان دونوں ان کی طرف زیادہ مائل نہیں ہوئے بلکہ علماء تو کچھ مسلمانوں کو ان تحریکوں میں شریک ہوتے دیکھ کر ان کے مخالف ہوگئے اور ان کے خلاف ارتداد کا فتویٰ دے دیا۔
ہندوستان کی تاریخ کا یہ تجربہ ہے کہ اس قسم کی تحریکوں سے باطنی اور روحانی اتحاد کے بجائے ذہنی اور مذہبی انتشار پیدا ہوجاتا ہے، اکبر کا دینِ الٰہی اس کی ایک واضح مثال ہے، اس سلسلہ میں راجہ مان سنگھ کا رویہ قابلِ ذکر ہے، اکبر نے جب اس کو اس مذہب میں داخل ہونے کی دعوت دی تو اس دلیر راجپوت سپاہی نے جواب دیا کہ اگر مریدی سے مراد جان نثاری ہے تو اس کو آپ آزما چکے ہیں کہ آپ کے لئے ہمیشہ جان ہتھیلی پر رکھی ہے، اس کے بعد مزید آزمائش کی ضرورت نہیں اور اگر مذہبی مریدی مراد ہے تو میں ہندو ہوں، فرمائیے! مسلمان ہوجاؤں ان کے علاوہ اور کوئی راستہ تو جانتا نہیں، مان سنگھ کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ جو شخص مذہب میں سچا ہوگا وہی وفاداری اور اخلاص میں پورا اترے گا کیونکہ ہر مذہب کی بنیاد وفادار اخلاص پر ہے اگر اہلِ مذہب میں اخلاص نہ ہو تو یہ مذہب کا قصور نہیں بلکہ بدمذہبوں کا قصور ہے، راجہ مان سنگھ اپنی عمل زندگی میں اس کا ثبوت دیتا رہا جب اس کی رہ نمائی میں کہیں فوج جاتی تو ہر پڑاؤ پر مسلمان لشکریوں کے لئے اپنی نگرانی میں نماز ادا کرنے کے لئے خیمے تیار کراتا اور پہلے ان کی راحت کا سامان کر لیتا، اس کے بعد اپنی فکر کرتا۔
علما اور امرا :- شاہانِ مغلیہ کے عہد میں بھی بعض بہت ہی اچھے امرا تھے، عبدالرحیم خان خانان کے دربار سے شیعی اور سنی دونوں علما وابستہ رہے، ان میں مولانا میاں وجیہ الدین، مولانا غازی خاں بدخشی، قاضی نصیرالدین برہان پوری، ملا خیرالدین رومی، مولانا جلال الدین حسن نیشاپوری، مولانا شیخ عبداللہ، مولانا شیخ ابراہیم، مولانا شیخ علم اللہ، مولانا صوفی، مولانا محمد علی کشمیری، مولانا میر دوستی سمرقندی، میر عبدالباقی تبریزی، میر فیض اللہ ترخورانی، ملا خوشحال تاشکندی، مرزا محمد قاسم گیلانی، آقا جلال قزوینی، قاضی عبدالعزیز ہمدانی، مولانا محمد تقی کاشانی، مولانا مقود علی تبریزی، مولانا محمد رضائی تاج مشہدی اور حکیم کمال الدین حسین شیرازی قابلِ ذکر ہیں، عبدالرحیم خان خانان کی خط و کتابت حضرت مجدد الف ثانی اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی سے بھی رہی، جس کےمطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ امارت کے باوجود اس کا دینی شعور بیدار تھا اور وہ شیعہ سنی کے جھگڑوں سے بالا تر ہوکر دینی حمیت کو برقرار رکھنا چاہتا تھا۔
جہانگیری امرا میں شیخ فرید مرتضیٰ خاں بخاری کو بھی علما اور مشائخ سے بڑا گہرا تعلق تھا، حضرت باقی باللہ اور حضرت مجدد الف ثانی دونوں اس کی گونا گوں خوبیوں کے معترف تھے، اکبری عہد میں وہ بخشی کے عہدے پر مامور تھا، جہانگیر کی جانشینی میں اس کا بڑا دخل تھا، اسی لئے جہانگیر نے اس کو میر بخشی کا عہدہ عطا کیا پھر گجرات اور پنجاب کا صوبہ دار بھی مقرر ہوا، وہ اپنے گھر سے نکلتا تو راستہ میں مسیکنوں کو کمل، چادر اور کپڑے تقسیم کرتا جاتا، کسی کو نقد روپیہ اور کسی کو اشرفی دیتا، بیواؤں اور حاجت مندوں کے لئے اس کے یہاں سے یومیہ ماہانہ اور سالان کہ وظیفے مقرر تھے، غریب لڑکیوں کی شادی کے جہیز کا سامان بھی کرتا، اس کے دسترخوان پر روزانہ پانچ سو سے ایک ہزار تک آدمی کھانا کھاتے تھے، اس میں بڑی دینی غیرت و حمیت تھی اور وہ مذہبی شعار کو رواج دینے کے لئے بے چین رہتا، اکبر کے دینِ الٰہی کی مذہبی گمراہیوں کو دور کرنے میں حضرت مجدد الف ثانی نے جو تجدیدی اور اصلاحی اقدام اٹھائے، ان میں وہ بڑا معاون ہوا، اسی کے اصرار پر جہانگیر نے اپنی جانشینی کے بعد حکم دیا کہ ملکی نظم و نسق میں کوئی بات خلاف شرع نہ ہونے پائے، حضرت مجدد، شیخ فرید کے ان مساعی جمیلہ کے ممنون رہے، اس کی شان یہ شعر لکھتے ہیں۔
گر برتنِ من زباں شود ہر موئے
یک شکر تو از ہزار نتواں کرد
ایک دوسرے مکتوب میں اس کو لکھتے ہیں کہ ہم فقیروں پر آپ کے احسانوں کا شکر لازم ہے، کیونکہ ہمارے حضرت خواجہ قدس سرہٗ کی ظاہری جمیعت کا سبب آپ ہی ہوئے تھے اور اس جمعیت کی حالت میں آپ کی طفیل میں ہم نے حقِ سبحانہ کی طلب کی اور بہت فائدے حاصل کئے، شیخ عبدالحق محدث دہلوی بھی اس کو حیائے سنت و شریعت کے لئے برابر خطوط لکھتے رہے، ماثرالامرا کے مصنف نے اس کی بہت سی خوبیوں کا ذکر کرکے لکھا ہے کہ اس کے ایسا آدمی پھر زمانہ نے ہندوستان میں پیدا نہیں کیا۔
حضرت مجدد نے جہانگیر کے ایک دوسرے جیل القدر امیر خان اعظم کی دینی حمیت سے بھی فائدہ اٹھانا چاہا، اس کو ایک مکتوب میں لکھتے ہیں کہ مسلمان اسلام کے احکام جاری کرنے سے رکے ہوئے ہیں اور ان احکام کے بجا لانے پر مطعون ہیں، شرع شریف کی رونق بادشاہوں پر منحصر ہے لیکن اب قصہ برعکس ہوگیا ہے اور معاملہ بدل گیا ہے، ہائے افسوس! صد افسوس! ہم ایسے نازک وقت میں آپ کے وجود مبارک کو غنیمت جانتے ہیں، اس معرکۂ ضعیف میں آپ کے سوا کسی اور کو بہادر نہیں جانتے، آپ کے مسلمان ہونے کی عزت ہمسروں کی نظروں میں ظاہر ہے، کوشش فرمائیں کہ زیادہ نہ سہی تو اتنا تو ہو کہ اہلِ اسلام بیہودہ علمی باتوں سے محفوظ رہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو جزائے خیر دے، پہلی حکومت میں دینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دشمنی مفہوم ہوتی تھی، اس حکومت میں ظاہری طور پر وہ عناد نہیں ہے، اگر ہے تو بے عملی کے باعث ہے، ایسا نہ ہو عناد و دشمنی تک نوبت پہنچ جائے اور مسلمانوں پر معاملہ اس سے بھی زیادہ تنگ ہوجائے، حقِ تعالیٰ آپ کو اور ہم کو سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت پر ثابت قدم رکھے۔
جہانگیر کے امرا میں خانجہاں لودی بھی بڑا مذہبی واقع ہوا تھا، شیخ فضل اللہ برہانپوری کے حلقۂ ارادت میں داخل تھا، رات اکثر علما اور صوفیہ کی صحبت میں گذارتا تھا، اس کی سرکار میں کسی قسم کی بدعت کا رواج نہ تھا۔
مہابت خاں کے لڑکے خان زماں بہادر مرزا امان اللہ کے بارہ میں مآثرالامرا کے مصنف کا بیان ہے کہ بخود بینہا در امثال و اقران سر برتری می افراخت
شاہجہانی عہد کے امرا میں افضل خاں، علامی شکراللہ شیرازی، علامی سعداللہ خاں اور دانشمندخاں میر بخشی کا ذکر ہم پہلے بھی کر چکےہیں، یہ تینوں معقولات و منقولات کے عالم تھے، شاہجہاں کے عہد میں افضل خاں، علامی شکراللہ شیرازی دیوانِ کل کے عہدے پر فائز ہوئے تو کسی نے تاریخ کہی۔
شد فلاطون وزیر اسکندر
علامی سعداللہ کی تقریر کی بلاغت اور تحریر کی فصاحت مشہور تھی، ان کے مذہبی معلومات، علمی لیاقت، حسن اخلاق، تواضع اور دیانتداری سے عہدۂ وزارت کو وقار حاصل تھا، عالمگیر اپنے میر بخشی دانشمند خاں اور ملا شفیعائی یزدی ان کو علم و فضل اور نیک نفسی کی وجہ سے بہت عزیز رکھتا تھا، مآثرالامرا کے مصنف نے لکھا ہے۔
پس از و تا حال از نونیاں بلند مقدار کسے کہ فضیلت را امارت جمع کردہ باشد در عرصۂ روزگار نیامدہ
مغل بادشاہوں کے آخری دور میں نجیب الدولہ کے یہاں نو سو علما تھے جو پانچ سے پانچ سو روئے تک وظائف پاتے تھے، اس نے نجیب آباد میں ایک مدرسہ بھی قائم کیا تھا جو شاہ ولی اللہ کی سیاسی تحریک کا ایک زبرست مرکز تھا، شاہ ولی اللہ نے مسلمانوں کی حکومت کو سنبھالنے کی کوشش میں اس سے بڑی مدد حاصل کی، ان کے علاوہ بہت سے امرا ایسے بھی تھے جن کی سپہ گری، جانبازی اور پامردی سے ہر زمانہ میں حکومت کو بڑی تقویت پہنچتی رہی، ان کے تدبر اور ہوش مندی سے حکومت کا وقار بڑھتا گیا، اسی لئے علما ضرورت کے وقت ان سے مدد لیتے رہے لیکن مجموعی حیثیت سے امرا کا اخلاق اور کردار بہت زیادہ قابل تعریف نہیں رہا، اس میں شک نہیں کہ سلاطین دہلی اور شاہانِ مغلیہ کے عروج کے زمانے میں زیادہ تر امرا ایسے تھے جن کی فوجی اور حربی قیادت سے حکومت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی، وہ حصار اور میدانِ کی لڑائیاں جس طرح لڑتے رہے ہندوستان کی جنگی تاریخ کا غیر معمولی کارنامہ ہے، سندھ میں برہمن آباد کے قلعہ کا دو چار میل تھا جو سد سکندری سے زیادہ مضبوط سمجھا جاتا تھا، گوالیار کے قلعہ کے بارہ میں تاج المآثر کے مصنف کا بیان ہے کہ یہ اتنا اونچا تھا کہ تیز اور تند ہوا بھی اس کی اونچائی تک نہیں پہنچ سکتی تھی اور نگل کے قلعہ کے بارہ میں امیر خسرو لکھتے ہیں کہ اس کی دیوار اتنی سنگین تھی کہ لوہے کی اینٹ بھی اس سے زیادہ مضبوط نہیں بنائی جاسکتی تھی، سنگ مغربی اس سے ٹکرا کر واپس آجاتا تھا، رن تھنبور کی اونچائی اور مضبوطی کو دیکھ کر ابوالفضل متحیر ہوگیا، لکھتا ہے کہ خیال کی منجنیق بھی اس کی اونچائی تک نہیں پہنچ سکتی تھی، چتوڑ کے پہاڑی قلعہ کا دور آٹھ میل کا تھا، آسام کے قلعوں میں سری گھاٹ ناندو اور سملا گڑھ کا ذکر کرتے وقت عالمگیر نامہ کا مصنف بے حد متحیر ہوگیا تھا، ان سب قلعوں کو فوجی امرا نے اپنی پامردی اور جانبازی سے فتح کیا اور ہندوستان کا شاید ہی کوئی قلعہ ایسا رہ گیا تھا جس کو انہوں نے تسخیر نہ کیا ہو، اسی طرح میدان کی لڑائیوں میں اختیارالدین محمد بن بختیار خلجی، ظفر خاں، الپ خاں، ملک کافور، خان عالم، منعم خاں خان خانان، عبدالرحیم خان خانان، خان زماں، بہادر خاں، ابراہیم خاں، سید عبدالوہاب ذوالفقار خاں، امیرالامرا سید حبین خاں اور قطب الملک سید عبداللہ خاں وغیرہ جس جوش خروش شجاعت اور تیور سے لڑتے رہے، ان پر آج بجا طور پر فخر کیا جاسکتا ہے لیکن وہ اپنی سپاہیانہ خدمات کا صلہ حاصل کرنے کے لئے دربار کے اندر جس اخلاق و کردار کا نمونہ پیش کرتے رہے وہ بہت زیادہ قابلِ تعریف نہیں اور ان فوجی قائدین میں سے کسی میں بھی حضرت خالد بن ولید، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح، حضرت عمرو بن العاص، حضرت سعد بن وقاص اور حضرت سعید بن عامر کا پرتو بھی نہیں پایا جاتا ہے، ایسا کیوں تھا؟ کیا وہ صرف حصولِ جاہ و منصب کے مرض سے مغلوب رہے اور کیا ان میں مذہبی غیرت و حمیت نہیں رہی؟ سلاطینِ وقت جنگ کے موقع پر برابر ان کا مذہبی جذبات ابھارتے رہے۔
شہاب الدین غوری دوسری بار پرتھوی راج سے لڑنے کے لئے آیا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسلام اور ہندو مذہب کی جنگ ہے، دکن میں جب جب فوجی امرا اپنی فوجیں لے کر گئے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جہاد کرنے جارہے ہیں، کنواہ کی جنگ شروع ہونے سے پہلے بابر نے اپنے فوجی امرا کے سامنے جو تقریر کی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مجاہدوں ہی سے مخاطب تھا، اس نے کہا کہ ہم قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھائیں گے، اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس کا موقع دیا ہے کہ اگر ہم غنیم پر غالب آئے تو غازی کہلائے اور مرے تو شہید ہوئے، دونوں حامل میں ہم کو بڑا درجہ اور بلند مرتبہ ملتا ہے، اس تقریر کا یہ اثر ہوا کہ تمام سرداروں نے کلام پاک کو ہاتھوں میں لے کر قسمیں کھائیں کہ وہ میدانِ جنگ سے کسی حال میں بھی منہ نہ موڑیں گے، اورنگ زیب دارا سے اپنے امرا کے ساتھ یہ کہہ کر سموگڑھ کی طرف روانہ ہوا کہ وہ شرعی اور اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے اور امرا اس سے متاثر ہوکر اس کے ساتھ ہوگئے، ان امرا کے مذہبی جذبات کو علما بھی دین کی خدمت کے لئے ابھارتے رہتے تو شاید وہ مجموعی حیثیت سے اتنے برے نہ ہوتے جتنے کہ تاریخ کے صفحات پر دکھائی دیتے ہیں، اس میں شک نہیں کہ ان کی امارت اور جاہ پسندی کی وجہ سے ان میں برائیاں پیدا ہوتی رہیں پھر بھی وہ ایک بڑی قوت تھے، اسی لئے اچھے سلاطین ان کی برائیوں کو نظر انداز کرکے ان کے اچھے اوصاف سے برابر فائدہ اٹھاتے اور ان کو بڑی سی بڑی طاقت کے خلاف ٹکڑاتے رہے، علما ان کی برائیوں کے نکتہ چیں تو ضرور تھے لیکن ان کے عیش و عشرت کے قلعوں اور غفلت و بے عملی بلکہ دینی بے راہ روی کے حصاروں پر حملہ آور ہوئے اور صرف وعظ و تلقین اور پندونصائح کے ذریعہ ان کی اصلاح کی کوشش پر اکتفا کیا، اچھے سلاطین کی طرح ان کی قوت سے فائدہ نہیں اٹھایا، ان میں کوئی امیر مسجد بنا دیتا، مدرسے قائم کر دیتا، بیواؤں اور مسکینوں کو خیرات دے کر فیاضی کا ثبوت دیتا، عالموں کو اپنے دربار میں رکھ لیتا تو اسی کو غنیمت جانتے اور کبھی اجتماعی طور پر ان کی مذہبی غیرت و حمیت کو دین کے فروغ اور اسلام کی صحبت مندانہ ترقی میں استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی، اگر حضرت مجدد الف ثانی کی خدمات سے قطع نظر کرلیا جائے تو مسلمانوں کی حکومت کے دورِ عروج میں علما نے قائدانہ صلاحیت اور زعیمانہ قوت و نفوذ کا ثبوت نہیں دیا، اس لئے سلاطین کے بعد امرا ہی معاشرت کے قائد بنے رہے اور چونکہ ان کی مذہبی حمیت صحیح طور پر ابھاری نہیں گئی، اس لئے ان کی امارت کی مذہبیت پر غالب ہوتی چلی گئی اور اسی امارت کی خاطر ان میں باہمی بڑی کشمکش رہی، جس سے پوری تاریخ بھری پڑی ہے، سلاطین دہلی کے عہد میں مملوک اور غیر مملوک، خلجی اور غیر خلجی، قرونہ ترک، لودی اور غیرلودی امرا آپس میں لڑکر خونریزی کرتے رہے، مغلوں کے عہد میں افغان اور غیر افغان، ایرانی اور غیر ایرانی، ہندوستانی اور غیر ہندوستانی اور راجپوت اور غیر راجپوت امرا لڑے اور امرا کا باقتدار گروہ جس کا ساتھ دے دیتا وہی تخت و تاج کا مالک ہوجاتا، طاقتور حکمراں کے عہد میں احرار کی یہ آویزش دبی رہتی لیکن کمزور حکمرانوں کے آجانے سے پھر ابھر جاتی، ان کی اس آویزش سے مسلمانوں کی تاریخ کو بڑا نقصان پہنچا۔
شیعہ سنی امرا کا تنازعہ :- مغلوں کے آخری دور میں شیعہ اور سنی امرا کے جھگڑے بھی تکلیف دہ رہے لیکن شیعہ اور سنی علما ان جھگڑوں کو جس رنگ میں اب تک پیش کر رہے ہیں، اس سے ایک مؤرخ متفق نہیں ہوسکتا، یہ صحیح ہے کہ قطب الملک سید عبداللہ اور امیرالامرا، سید حسین علی خاں، برہان الملک اور صفدر جنگ کی سرگرمیوں سے مغل حکومت کو نقصان پہنچا لیکن اس کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ بیرم خاں خان خانان، امیرالامرا شریف خاں، منعم خاں خان خانان، عبدالرحیم خان خانان، اعتمادالدولہ مرزا غیاث بیگ طہرانی، یمین الدولہ، آصف خاں ابوالحسن مشہور بہ آصف جاہی، جملۃ الملک اسد خاں، شائستہ خاں اور امیر جملہ وغیرہ کی جان بازی اور شمشیر زنی سے مغلوں کو حکومت کو غیر معمولی سربلندی بھی حاصل ہوئی، یہ صحیح ہے کہ سادات بارہہ نے فرخ سیر، رفیع الدرجات اور رفیع الدولہ کے ساتھ بہت ناروا سلوک کیا لیکن ان ہی کے بعد احمد شاہ کی آنکھیں نکلوائی گئیں، عمادالملک کے ذریعہ عالمگیر ثانی کا قتل ہوا اور ایک سنی امیر غلام قادری روہیلہ نے قلعہ معلیٰ کے اندر داخل ہوکر ناز نیناں حرم کے پھول سے رخساروں کو طمانچوں سے سرخ کیا اور نوکِ خنجر سے شاہ عالم کی آنکھیں نکالیں، یہ پہلو بڑا ہی دردناک ہے کہ بنگال میں میر جعفر اور دکن میں میر صادق پیدا ہوئے لیکن حضرت شاہ اسمٰعیل شہید اور سید احمد شہید بریلوی کی اسلامی تحریک کو بالا کوٹ میں دفن کرنے والے آخر کون تھے؟ اس کا جواب موجودہ دور کے ایک دیدہ ور عالم اور مؤرخ کے الفاظ میں یہ ہے کہ ان مجاہدوں کی تاریخ بتائے گی کہ ان کی تحریک کا یہ انجام کیوں ہوا، واقعہ چھپا اور اسباب نامعلوم نہیں، وہی جماعتوں کا نفاق اور امرا کا اختلاف ان کی ناکامی کا سبب ہوا، جو ہمیشہ سے ناکاموں کی ناکامی کا سبب بنا رہا ہے، پشاور کے پٹھان امرا اگر وفاداری سے کام لیتے تو آج ہندوستان کا نقشہ دوسرا ہوتا۔
شیعہ امرا سنی امرا ہی کی طرح اپنے اقتدار کی خاطر تخت و تاج الجھتے رہے، ان کی بادشاہ گری سنی امرا ہی کی طرح تھی، مملوک امرا نے بادشاہ گر بن کر ایلتتمش کو تخت پر بٹھایا، خجلی امرا نے جلال الدین خلجی کے سرپر تاج رکھا، فرونہ ترک امرا نے غیاث الدین تغلق کو اپنا بادشاہ بنایا، لودی امرا نے خاندان سادات کو ختم کر کے بہلول لودی کو بادشاہ تسلیم کیا، مغلوں کے دور میں جنگ جانشینی کی لڑائی امرا ہی کے سہارے لڑی جاتی تھی، اسی طرح آخری دور میں سادات بارہہ بادشاہ گرہ ہوگئے تھے تو یہ محض ان کی اقتدار پسندی تھی لیکن اس اقتدار پسندی میں بھی تیموری خاندان کے احترام میں سنی بادشاہ ہی کو تخت پر بٹھاتے رہے اور انہوں نے ان بادشاہوں کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا وہ محض ان کی سیاسی بازی گری تھی، اس کا تعلق ان کے مذہبی عقائد سے جوڑنا صحیح اور مؤرخانہ تجزیہ نہیں ہوگا، قطب الملک سید عبداللہ خاں اور امیرالامرا سید حسین علی خان کے متعلق مآثرالامرا کے مصنف کا بیان ہے کہ
ایں ہا از ناظم سادات بارہہ اند، وا کابر شرفائے ہند، ہر دو برادر فرقدین فلک سیادت و نیرین سپہر امارت بودند، متجلی باکثر شمائل سینہ و خصائل رضیہ، خصوص سخاوت و شجاعت کہ ازیں دو صفت والا آثار غرا بطہور رساندند و نقشہائے کہ طراز صفحہ دولت باشد بر لوح روزگار نشاندند و از مبادی ایام عروج تامنتہی بخوبی و نیکنامی بسر بروند و از آبیاری عد و احسان عرصۂ ہند را رشک فردوس بریں بروند لیکن در اوآخرِ ایام دولت راہ غلط پیمودند و تار روزِ قیامت داغ بدنامی با خود بروند
ایک گروہ ایسا بھی ہے جو سادات بارہہ اور ان کے ہم خیال امرا کی سرگرمیوں کو مبالغہ آمیز طریقہ پر بیان کرکے مسلمانوں پر خوامخواہ مذہبی اور ذہنی انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ہندوستان کی تاریخ پر نظر رکھنے والے اس ذہنی انتشار میں مبتلا نہیں ہوسکتے، غوریوں نے پنجاب میں غزنویوں کو ختم کیا، تمیور نے دہلی میں آکر خاندانِ تغلق کی حکومت پر ایک زبردست ضرب لگائی، سکندر لودی نے شرقی خاندان کو ختم کیا، بابر نے ابرہیم لودی کو پانی پت کی جنگ میں شکست دے کر بے شمار مسلمانوں کی لاشوں کا ڈھیر کردیا، شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو ہندوستان چھوڑ کر جلاوطن ہونے پر مجبور کیا، اکبر مظفر گجراتی اور چاند سلطانہ کے خلاف برابر یلغار کرتا رہا، نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی نے دہلی آکر جو خونریزی کی، اس کی تفصیل پڑھ کر اب بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، ان میں فریقین سنی ہی تھے، اگر ان میں کوئی فریق شیعہ ہوتا تو سنی شیعہ کا سوال پیدا ہوجاتا جیسا کہ عالمگیر کے زمانے میں لولکنڈہ اور بیجاپور کی فوج کشی کو بنا دیا گیا ہے، اورنگ زیب کے تمام نانہالی رشتہ دار شیعہ تھے، اس کی بیوی دلرس بانو کے تمام اعزہ و اقربا بھی شیعہ ہی تھے، وہ دربار اور محل کے اندر زیادہ تر شیعی عقائد رکھنے والوں ہی سے گھرا رہتا تھا، اگر ان سب کو وہ محض شیعہ ہونے کی وجہ سے ناپسند کرتا تو شاید اس کا ایک لمحہ بھی سکون و چین سے نہیں گذر سکتا تھا، سنیوں اور شیعوں میں مذہبی عقائد کے سلسلہ میں جو اختلافات اور لڑائیاں ہوئیں وہ اسلامی تاریخ کا بہت ہی المناک پہلو ہے، اس سے اسلام کو بڑا نقصان پہنچا لیکن ان کی نوعیت شیعہ اور سنی امرا کے جھگڑوں سے بالکل الگ ہے، امرا کی آویزش کا مقصد اقتدار، جاہ اور منصب کے علاوہ کچھ اور نہ تھا۔
مسلمان عوام :- علما ان جھگڑوں کو بے بسی سے دیکھتے رہتے، حالانکہ وہ سلاطین اور امرا کو چھوڑ کر عوام کے دلوں کو تسخیر کرتے تو سلاطین اور امرا دونوں کو اپنے سامنے جھکا سکتے تھے اور مسلمانوں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ان کا اعلیٰ اور اونچا طبقہ ہر زمانہ میں اچھا نہیں رہا بلکہ بعض زمانے میں بہت برا ہوگیا جس سے ان کی تاریخ ہی بدل گئی لیکن مسلمان عوام ہر زمانے میں اچھے رہتے ہیں، ان کا ظرف توحید و رسالت کی اعلیٰ تعلیم اور اسلام کی برتری کے احساس کی بدولت ہمیشہ سونے کا رہتا ہے جس پر زمانہ کبھی زنگ لگا دیتا ہے لیکن جب کبھی اچھے سنار کے ہاتھوں میں آجاتا ہے تو پھر کندن کی طرح دمکنے لگتا ہے، اسی لئے یہی عوام لشکری بن کر اچھے سلاطین اور اچھے امرا کی قیادت میں بڑے بڑے جنگی اور حربی کارنامے انجام دیتے رہے، کبھی کونجی رن کے ہلاکت خیز صحرا میں پہنچے، کبھی اراکان کے دشوار گذار علاقوں میں داخل ہوکر دریائی جنگلوں سے گذرے، کبھی وندھیاچل کے پرپیچ اور تنگ راستوں کو طے کیا، کبھی تبت و ترکستان کی سرحد تک پہنچ کر اپنی شجاعت و مردانگی کے جوہر دکھائے، کبھی قراجیل کے ہولناک دروں میں موت اور ہلاکت سے سینہ سپر ہوئے، کبھی ان کا دل بادل دریائے سرخان اور کوہِ ہندوکش کے برفستانی علاقوں سے گذرا اور ان ہی کی نبرد آزمائی اور سپہ گری سے نہ صرف کشمیر سے راج کماری تک ہندوستان کو جغرافیائی وحدت حاصل ہوئی بلکہ ان کی وجہ سے ہندوستان کا پرچم کابل، قندھار، بست، بلخ اور بدخشاں پر بھی لہرایا، ان جنگی کارناموں پر کسی قوم کو بھی ناز اور فخر ہوسکتا ہے۔
پھر یہی مسلمان اپنے سلاطین کے جامد مقلد بھی نہیں رہے، اچھے علما کی قیادت میں کیا کچھ نہیں کیا، علما ہی کے اثر سے اکبر جیسا وسیع المشرب اور روادار حکمراں ان میں مقبول نہ ہوسکا، انہوں نے حضرت احمد سرہندی کو مجدد وقت تسلیم کرکے اپنا سرتاج بنایا تو جہانگیر جیسے تاجدار کو بھی ان کے سامنے جھکنا پڑا، محمد شاہ رنگیلے کے جانشین احمد شاہ اور اس کی ماں کو اندھا کیا گیا تو وہ خوش تھے، آگے چل کر تیموری خاندان کے فرمانروا کو نظر انداز کرکے وہ حضرت سید احمد شہید بریلوی اور حضرت اسمٰعیل شہید کے پیچھے جس طرح امڈے اس پر ان کی نسلوں کو آج بھی فخر ہے۔
عالمگیر کے بعد اس کے نااہل جانشینوں کے عہد میں مسلمانوں پر سخت وقت آیا تو وہ ایلتتمش کی دیندارانہ اولعزمی، بلبن کی فرکیخسردی، علاؤالدین خلجی کے عہد کی اقتصادی خوشحالی اور رغبت پروری، محمد تغلق کی فیاضی اور عدل گستری، فیروز تغلق کی شریعت نوازی، بابر کا سپاہیانہ جوش و خروش اور آہنی عزم ہمایوں کا استقلال و ہمت، شاہجہاں کی شان و شوکت اور عالمگیرکی نبردآزمائی اور بیدار مغزی پر سے دیکھنا چاہتے تھے جو میسر نہ ہوئی، اس کے بجائے انہوں نے جہاں دار شاہ کی طوائف لال کنور کی رنگ رلیاں دیکھیں جو اپنی تمام بدعنوانیوں کے ساتھ جہاں دار شاہ کی جگہ حکومت کرنے لگی تھی اور جس کو چاہتی اعزاز و منصب عطا کرتی، دربار اور حرم کی اس اخلاقی پستی کو دیکھ کر مسلمان خون کے آنسو روتے رہے، مسلمانوں میں اس وقت تک اجتماعی اور تنظیمی شعور پیدا نہیں ہوا تھا، ان کی قوت یا سلاطین تھے یا امرا، جب ان دونوں سے ان کو مدد نہ ملتی تو علما کی طرف نظر اٹھاتے، اکبر کے زمانہ کی بے راہ روی کو جہانگیری عہد میں حضرت مجدد الف ثانی نے جس طرح روکا تھا، اس سے لذت آشنا ہونے کے بعد ہر زمانے میں بادشاہِ وقت کی کج روی کے سدباب کے لئے علما ہی کی طرف ان کی نظر اٹھتی تھی لیکن عالمگیر کے بعد سلاطین کے بے راہ روی کو روکنے میں علما کی طرف سے کوئی صحیح رہنمائی نہیں ہوئی اور جہاں دار شاہ پر وہ مطلق اثر انداز نہ ہوسکے۔
فرخ سیر کی وفات کے بعد اجیت سنگھ راٹھور اپنی لڑکی کو شاہی محل سے جودھپور لے جانے لگا تو یہ راجپوت شاہزادی اپنا اسلامی لباس اتارتی گئی یعنی اسلام ترک کرکے ہندو بن کر باپ کے گھر گئی، خافی خاں لکھا ہے کہ مسلمانوں میں اس سے بڑی ہلچل پیدا ہوئی کہ ایک مسلمان عورت پھر ہندو ہوجائے یہ بات شریعت اسلام اور ناموس سلطنت کے خلاف سمجھی گئی کیونکہ آج تک ایسا نہیں ہوا تھا کہ راجاؤں کی لڑکیاں مشرف بہ اسلام ہوکر بادشاہوں کی زوجیت میں رہنے کے بعد پھر ہندو بن کر اپنے بادشاہ گر قطب الملک سید عبداللہ خاں نے راجپوت شاہزادی کو محل سے جانے کی اجازت دے دی اور ایک کروڑ روپئے کا مجوزہ سامان بھی اس کے ساتھ واپس کردیا۔
محمد شاہ کے لڑکے احمد شاہ کے عہد میں تو حکومت کا نقشہ اور بھی بدل گیا، اس کی ماں اودھم بائی ایک نو مسلم طوائف تھی، وہ اودھم بائی سے نواب قدسیہ صاحب زمانی حضرت قبلہ عالم ہوگئی اور پنج لاکھ سوار کے منصب سے سرفراز کی گئی، اسی کی دیوڑھی میں دربار لگتا اور سلطنت کے تمام اہم کام انجام پاتے، اس کا بھائی مان خان ادنیٰ اور درجہ کا گویا اور نچییا تھا لیکن شش ہزاری منصب دار بنا کر معتقدالدولہ بہادر کے خطاب سے سرفراز کیا گیا پھر محل کا ایک خواجہ سرا جاوید خاں وزارتِ عظمیٰ پر فائز کیا گیا اور اس کو نواب بہادر کے خطاب پانے کے ساتھ ہی مراتبِ علم اور نقارہ کے استعمال کی بھی اجازت دی گئی، اس پر علما کی غیرت و حمیت ابھری تو احمد شاہ کی معزولی کا فتویٰ صادر کیا اور محمد شاہ محبوس کردیا گیا پھر اس کی اور اس کی شوخ دیدہ ماں دنوں کی آنکھیں نکلوادی گئیں، عام مسلمان اس سے آزردہ خاطرہ ہونے کے بجائے خوش ہوئے لیکن مسلمانوں کی حکوت کی گرتی ہوئی عمارت صرف فتویٰ کے سہارے بے تہیں رک سکتی تھی، مسلمان سلاطین قطب مینار، لال قلعہ اور تاج محل بناکر مسلمانوں کی سیاسی اور تمدنی زندگی کارعب و جلال دکھا چکے تھے، اس لئے ضرورت اس کی تھی کہ علما و صلحا اپنے دل بے تاب اور نگاہ مردِ مومن سے مسلمانوں کے اخلاق و کردار کے قطب مینار اور تاج محل بنا کر ان کی تقدیر بدل دیتے لیکن وہ ایسا نہ کرسکے اور جب اس کی کوشش کی تو اس وقت بہت تاخیر ہوچکی تھی جس وقت جانباز، سرفروش اور کفن بردوش علما کے پیدا ہونے کی ضرورت تھی، اس وقت ان کا فقدان ہوگیا تھا۔
لائق سلاطین کے عہد میں لائق علما :- اور تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اچھے سلاطین ہی کے عہد میں اچھے علما بکثرت پیدا ہوتے رہے اور نالائق سلاطین کے دور میں اچھے علما پیدا نہ ہوسکے، ضیاؤالدین برنی نے لکھا ہے کہ سلطان شمس الدین ایلتتمش کے عہد میں اس قدر ارباب فضل و کمال جمع ہوگئے تھے کہ ربع مسکوں میں اس کی کوئی مثال نہ تھی اور اس کا دربار محمود و سنجر کا دربار معلوم ہوتا تھا، بلبن کے عہد میں مولانا برہان الدین محمود بلخی، مولانا نجم الدین، عبدالعزیز دمشقی، مولانا شیخ سراج الدین سنجری، مولانا شرف الدین ولوالجی، قاضی رکن سامانوی، مولانا کمال الدین زاہد، مولانا شمس الدین خوارزمی، مولانا فخرالدین ناقلہ، قاضی رفیع الدین گازرونی، قاضی جلال الدین کاشانی، قاضی ظہیرالدین، شیخ الاسلام سید قطب الدین، مولانا سید منتخب الدین، مولانا سید معین الدین سامانہ کے علم و فضل سے اس عہد میں فیوض و برکات کا بڑا چشمہ بہتا رہا۔
علاؤالدین خلجی کا شمار دیندار اور متقی سلاطین میں نہیں کیا جاتا ہے لیکن وہ ایک لائق اور کامیاب حکمراں ضرور تھا اور اس کی حکومت میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ترقی ہوتی رہی اور اسی کے ساتھ اس کے عہد میں علما بکثرت جمع ہوگئے تھے، ضیاؤالدین برنی نے قاضی فخرالدین ناقلہ، قاضی مشرف سرباہی، مولانا نصیرالدین غنی، مولانا تاج الدین مقدم، مولانا رکن الدین سنامی، مولانا تاج کلاہی، مولانا ظہیرالدین بھکری، قاضی محی الدین کاشانی، مولانا وجیہ الدین پائلی، مولانا شہاب الدین ملتانی وغیرہ جیسے چھیالیس علما کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر ان میں سے ہر ایک کے علمی کمالات کا ذکر کیا جائے تو ایک ایک کتاب تیار ہوجائے، پہلے ذکر آچکا ہے کہ ان میں سے بعض سے بعض علما امام غزالی، امام رازی، امام ابو یوسف اور امام محمد کے پایہ کے تھے، سلطان محمد تغلق کے دور میں مولانا ضیاؤالدین بخشی، مولانا معین عمرانی، مولانا عفیف الدین کاشانی، مولانا ناصرالدین واعظ ترمذی، مولانا عبدالعزیز اروبیلی، شیخ ابوبکر بن خلال وغیرہ جیسے علما سے خواص و عوام فائدہ اٹھاتے رہے، یہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ دو سو فقہا اس کے دسترخوان پر موجود ہوتے تھے۔
فیروز شاہی عہد میں مولانا صدرالدین یعقوب مظفر کرمانی، مولانا جلال الدین، مولانا علیم اند پتھی، مولانا خواجگی تھانیسری، قاضی عبدالمقتدر شریحی، مولانا عالم بن علا (مؤلف فتاویٰ تاتار خانیہ) مولانا شرف الدین محمد العطائی (صاحبِ فوائد فیروز شاہی) جیسے علما موجود تھے، ان میں سے بعض علما سے خود فیروز شاہ اسفتادہ کرتا رہا، سلطان سکندر لودی کے عہد میں مولانا شیخ سعداللہ، مولانا شیخ رزق مشتاقی، مولانا اللہ داد، مولانا شیخ عبدالوہان بخاری، مولانا شاہ جلال تبریزی، مولانا شیخ عبداللہ تلبنی، مولانا میاں طہٰ، مولانا میاں خواجگی، مولانا سید رفیع الدین صفوی، مولانا جلال الدین دوانی، مولانا شیخ حسام الدین المعروف بہ اجہر، مولانا میاں بھوہ ممتاز علما تھے جو محراب، منبر اور مسندر درس و تدریس کی زینت بن کر عوام و خواص کو اپنے علم و فضل سے سیراب کرتے رہے، عہدِاکبری میں ابوالفضل نے شیخ مبارک ناگوری، شیخ نظام نارنولی، شیخ ادہن، امن اللہ، میاں وجیہ الدین، شیخ رکن الدین، شیخ عبدالعزیز، شیخ الہٰدیہ، شیخ عبدالغفور کو خدیو فشاتیں کہا ہے، میر فتح اللہ شیرازی، میر قضیٰ، مولانا سعید ترکستانی، حافظ تاشکندی، مولانا شاہ محمد، مولانا علاؤالدین، حکیم مصری اور مولانا صادق کو دانندہ، معقول و منقول لکھا ہے، مولانا پیر محمد مولانا عبدالباقی مرزا مفلس، مولانا محمد، مولانا نورالدین ترخان کو شناسائے عقلی کلام بتایا ہے اور میاں حاتم، مولانا عبدالقادر، مخدوم الملک، میر عبداللطیف، میر نوراللہ، شیخ عبدالنبی وغیرہ کو خوانامی نقل، مقال کہا ہے، ان کے علاوہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی، حاجی ابراہم محدث، شیخ جلال الدین تھانیسری، شیخ نظام الدین امٹھوی، شیخ داؤدی جہنی وغیرہ کے فیوض و برکات سے عوام و خواص متمتع ہوتے رہے۔
جہانگیر نے اپنے عہد میں میران صدر پہانی، مولانا مرزا شکر اللہ شیرازی، مولانا نقیائے شوستری، مولانا مرزا محمد قاسم گیلانی کو ہر طرح نوازا اور اس عہد میں اور جو دوسرے علما تھے، ان کے فام ملا روز بھان شیرازی، اعمی اعمری، ملا باقر کشمیری، ملا باقر ٹھٹھی، ملا مقصود علی تبریزی، قاضی نوراللہ، ملا فاضل کابلی، ملا عبدالطیف سہارنپوری، ملا عبدالرحمٰن بوہرہ گجراتی، ملا حسن فراغی گجراتی، خواجہ عثمان حصاری اور ملا محمد جونپوری تھے۔
شاہجہانی عہد میں ملا عبدالحکیم سیالکوٹی، ملا محمد فاضل بدخشانی، قاضی محمد اسلم ہروی، قاضی محمد سعید کرہرودی، ملا میرک شیخ ہردوی، ملا عبداللطیف سلطان پوری، میر محمد ہاشم گیلانی، ملا فرید دہلوی، ملا یوسف، ملا عبدالسلام لاہوری، مولانا محب علی، مولانا سید محمد رضوی، ملا محمود جونپوری وغیرہ اسلام کی عزت و ناموس کے محافظ رہے۔
عالمگیر نے مولانا عبداللطیف سلطانپوری، مولانا ہاشیم گیلانی، علامی سعداللہ، ملا موہن بہاری، مولا سید محمد قنوجی، ملا شیخ احمد معروف بہ ملا جیون، شیخ عبدالقوی، ملا شفیعائی دانشمندی خاں جیسے علما سے تعلیم پائی پھر فتاویٰ عالمگیری کی ترتیب و تدوین میں شیخ نظام برہانپوری، ملا محمد جمیل جونپوری، قاضی محمد حسین جونپوری، ملا حامد جونپوری، شیخ وجیہ الدین کوپامئوی، شیخ رضی الدین بھاگلپوری جیسے علما اور فقہا نے پوری اعانت کی پھر اسی عہد میں ملا محمد یعقوب شیخ سلیمان منیری، ملا قطب ہانسوی، ملا عبداللہ سیالکوٹی، شیخ قطب برہانپوری، ملا عوض وجیہ، قاضی عبدالوہاب، مولانا سید محمد بیجاپوری، حاجی احمد سعید بہاری، سید، علی اکبر سعد اللہ خانی، ملا محمد اکرم لاہوری، حافظ ابراہیم، مولانا شرف الدین لاہوری، ملا عبدالباقی جونپوری، قاضی سید عنایت اللہ مونگیری، قاضی ملک محب اللہ بہاری، سید سعداللہ سلونی وغیرہ اپنے علم و فضل، ذہانت و ذکاوت اور فطرت عالی کی وجہ سے عزت و وقعت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔
اچھے علما کا فقدان :- عالمگیر کے بعد نالائق حکمرانوں کی ایک طویل فہرست ہے اور یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ اس زوال اور اذبار کے زمانے میں شاہ ولی اللہ کے عہدِ شباب تک اچھے علما اور صلحا کا فقدان ہوگیا، شاہ ولی اللہ کی ولادت 1703 عیسوی میں ہوئی اور 1719 عیسوی میں وہ اپنے والد بزرگوار کی مسند تدریس پر جلوہ افروز ہوئے، بارہ برس تک درس و تدریس دیتے رہے پھر حجاز تشریف لے گئے اور وہاں سے علمِ حدیث کی تحصیل و تکمیل کرکے دو سال کے بعد واپس ہوئے تو انہوں نے تجدید و اصلاح کا کام شروع کیا، اس اثنا میں جانشینی کی سات لڑائیوں سے تخت و تاج کی بنیاد دہل گئی تھی، ان لڑائیوں میں بڑے بڑے جانباز، آزمودہ کار اور لائق فوجی سردار مارے گئے اور جو مارے نہیں گئے وہ دربار سے منسلک ہونے کے بعد میدانِ جنگ کی کدورت دیوانِ عام اور دیوانِ خاص میں بیٹھ کر نکالتے رہے جس سے دربار سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا مرکز بن گیا اور جہاں دارشاہ سے بہادر شاہ ظفر تک دربار کی تاریخِ نفاق پرور ریشہ دانیوں اور ہلاکت خیز فتنہ انگیزیوں سے معمور ہے اور جب حکومت شام غریبان بن کر رہ گئی تو مرہٹوں کی بڑھتی ہوئی قوت اور بڑھی، سکھوں نے پنجاب میں اپنا تسلط قائم کرلیا، جاٹوں اور انگریزوں نے بھی حکومت کی بازی لگائی، اس طوائف الملوکی میں اچھے علما کی پیداوار بھی بند ہوگئی، درس و تدریس کی مسند تو خالی نہیں ہوئی، محراب و منبر کی زینت بھی نہیں گئی لیکن ان علما سے مسلمانوں کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچا، شاہ ولی اللہ اپنے عہد کے علما کو مخاطب کرتے ہوئے بڑے دکھ اور درد سے فرماتے ہیں۔
ارے بد عقلو! جنہوں نے اپنا نام علما رکھ چھوڑا ہے تم یونانیوں کے علوم میں ڈوبے ہوئے ہو اور صرف، نحو اور معانی میں غرق ہو اور سمجھتے ہو کہ یہی علم ہے، یاد رکھو علم یا تو قرآن کی کسی آیت محکم کا نام ہے یا سنت ثابتہ قائمہ کا، چاہئے کہ قرآن سیکھو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری روش کی پیروی اور آپ کی سنت پر عمل کرو، تم نے اپنے حالات سے عام مسلمانوں کو یہ باور کرایا ہے کہ علما کی بڑی کثرت ہو چکی ہے، حالانکہ ابھی کتنے بڑے بڑے علاقے ہیں جو علما سے خالی ہیں اور جہاں علما پائے بھی جاتے ہیں وہاں بھی دینی شعار کو غلبہ حاصل نہیں ہے، دین میں خشکی اور سختی کی راہ اختیار کرنے والوں سے میں پوچھتا ہوں کہ تمہارا کیا حال ہے، ہر بری بھلی بات، ہر رطب و یابس پر تمہارا ایمان ہے، لوگوں کو تم جعلی اور گھڑی ہوئی حدیثوں کا وعظ سناتے ہو، اللہ کی مخلوق پر تم نے زندگی تنگ کر چھوڑی ہے، حالانکہ تم اس لئے پیدا ہوئے تھے کہ لوگوں کو آسانیاں بہم پہنچاؤ گے نہ کہ ان کو دشواریوں میں مبتلا کروگے۔
حضرت شاہ ولی اللہ اسی طرح سلاطین کی زبوں حالی پر خون کے آنسو روتے ہیں اور وہ ایک خط میں گذشتہ زمانہ کو یاد کرکے لکھتے ہیں کہ بادشاہانِ اسلام کا وجود اللہ تعالیٰ کی ایک زبرست نعمت ہے، قدیم اسلام بادشاہوں نے بڑی مدت میں بڑی جدوجہد کے بعد اس ولایت کو فتح کیا، دہلی کے علاوہ جو صاحبِ اقتدار بادشاہوں کا مستقر رہی ہے، ہر علاقہ میں علٰحدہ علٰحدہ فرمانروا تھے، گجرات، ٹھٹھ، بنگالہ برہانپوری، برابر، اورنگ آباد، حیدآباد، بیجاپور، مالوہ میں صاحبِ فوج اور صاحبِ خزانہ بادشاہ ہوتا تھا، ہر ایک بادشاہ نےاپنی اپنی مملکت میں مسجدیں تعمیر کرائیں مدرسے قائم کئے، عرب و عجم کے مسلمان اپنے اپنے وطنوں سے منتقل ہوکر ان علاقوں میں آگئے اور یہاں اسلام کی ترویج و اشاعت کا سبب بنے، اس قت تک ان اگلوں کی اولاد اسلام کے طور و طریقہ پر قائم ہے لیکن آگے چل کر اپنے زمانے کے سلاطین کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان کی ناعاقبت اندیشی، غفلت اور اختلاف فکر کی وجہ سے طوائف الملوک کی شروع ہوگئی، مرہٹوں اور جاٹوں کو غلبہ حاصل ہوگیا، بادشاہوں کی نااہلی پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وہ بیت المال کا صحیح انتطام نہیں کرتے اور خزانہ کی قلت کے باوجود ایسے لوگوں کو وظائف دیتے ہیں جو محبت نہیں کرتے لیکن وظائف پاکر خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں، خزانے کو بھرنے کے لئے کاشتکاروں، بیوپاروں اور پیشہ وروں پر بھاری بھاری محصول لگایا جاتا ہے پھر بھی فوج کو وقت پر تنخواہ نہیں ملتی، جاگیرداروں کی کثرت ہوگئی ہے اور ان کے مسموم اثرات معاشرت میں پھیلے ہوئے ہیں، امرا کی جو اخلاقی حالت بگڑ گئی تھی، اس کا ذکر پہلے آچکا ہے، شاہ ولی اللہ کو اس کا رنج تھا کہ وہ دنیا کی فانی لذتوں میں ڈوب کر اپنا سارا وقار کھو چکے ہیں بلکہ ان کو اس کا بھی دکھ تھا کہ بنگال اور اودھ میں انہوں نے اپنی اپنی سلطنت قائم کرکے دہلی کی مرکزیت کو ختم کردیا ہے۔
بگڑی معاشرت :- اور جب اچھے سلاطین اچھے امرا اور اچھے علما نہیں رہے جو حکومت اور معاشرت کو سنوارنے والے تھے تو عام مسلمانوں کی بھی معاشرت بگڑی، شاہ ولی اللہ ان پر آنسو بہاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان کے اخلاق خراب ہوچکے ہیں، ان پر حرص و آزسوار ہوگیا ہے، ان پر شیطان نے قابو پالیا ہے، انہوں نے حرام کو حلال اور حلال کو حرام بنا دیا ہے، روزی کمانے کے بجائے دوسروں کے سینوں کے بوجھ بنے ہوئے ہیں، دنیا کمانے اور دھندوں میں تنے پھنس گئے ہیں کہ نماز روز اور زکوٰۃ کا مطلق خیال نہیں کرتے، انہوں نے ایسے بگڑے ہوئے رسوم اختیار کرلئے ہیں جن سے دین کی اصلی صورت بھی بگڑ گئی ہے اور ان کی زندگی بھی ان کے لئے تنگ ہوگئی ہےِ، مسلمانوں میں جو پیشہ ور ہیں ان میں امانت کا جذبہ بالکل مفقود ہوگیا ہے اور فرض معبودوں پر قربانیاں چڑھاتے ہیں، مدار اور سالار کا حج کرتے ہیں ان میں سے بعض لوگوں نے فال بازی اگبنڈے اور ٹوٹکے وغیرہ کا پیشہ اختیار کر رکھا ہے وہ اپنی عورتوں اور بچوں کے حقوق کی پرواہ نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔
شاہ ولی اللہ کا احسان :- اس سقوط و تنزل کے زمانے میں شاہ ولی اللہ نے مسلمانوں کے انحطاط کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد قلمی جہاد کیا اور قرآن مجید کا فارسی میں ترجمہ اور اس کے تشریحی فوائد لکھ کر عام مسلمانوں کے ذہن کو اس کی تعلیمات سے قریب تر کیا، اسی طرح حدیث کی اہم ترین کتاب مؤطا کی فارسی اور عربی میں مجتہدانہ شرحیں لکھیں، صحیح بخاری کے تراجم شرح کی اور مدارس میں فقہ و منطق کے بجائے حدیث کے درس و تدریس پر زور دیا جس کو ان کے تلامذہ نے تمام ملک میں پھیلایا، تقلیدی فقہ کی جگہ تحقیقی فقہ کی اہمیت بتاکر فقہی جمود کو توڑا اور حنفی، شافعی، حنبلی اور مالکی کو ایک دوسرے قریب تر کرنے کی کوشش کی، اسی طرح ازالۃ الخفا لکھ کر شیعوں اور سنیوں کا ذہن صاف کیا، تفہیمات میں اصلاح معاشرت اور اصلاح و سوم پر زور دیا اور حجۃ اللہ البالغہ تو آج تک علما کے لئے شمع ہدایت ہے اور بقول مولانا شبلی اس کی نکتہ سنجیوں کے آگے، غزالی، رازی اور ابن رشدی کے کارنامے بھی ماند پڑ گئے اور انہوں نے اپنے والد بزرگوار کے مدرسۂ رحیمیہ میں درس دینا شروع کیا تو اس کے طلبہ یہاں کے اصلاحی نصاب کو سندھ سے بنگال تک سیکڑوں مدارس میں رواج دیتے رہے جس سے سلام کی ایک نئی لہر ہندوستان میں پھیلی، اس موقع پر اس کا اظہار غیر مناسب نہ ہوگا کہ اس مدرسہ کے لئے ایک عالی شان مکان محمد رنگیلے نے عطا کیا تھا، موجودہ دور کے ایک بڑے عالم نے اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس رنگیلے نے عطا کیا تھا، موجودہ دور کے ایک بڑے عالم نے اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس رنگیلے نے مسلمانوں کے ساتھ وہ رنگیں سلوک کیا کہ اگر مسلمان اس غیرب کو اس خدمت کی بنیاد پر بخش دیں تو وہ اس کا مستحق قرار دیا جاسکتا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ کے دردمند دل کی سیاسی پکار ان کے ان خطوط میں سنائی دیتی ہے جو انہوں نے احمدشاہ ابدالی کے علاوہ نجیب الدولہ نظام الملک کو لکھے، ان امرا میں اسلامی حمیت اور غیرت باقی رہ گئی تھی، اس سے شاہ صاحب نے فائدہ اٹھانا چاہا، نجیب الدولہ کو وہ رئیس المجاہدین، امیرالغرات اور منبع الحسنات کے لقب سے یاد کرتے رہے اور نجیب الدولہ کی تائید سے احمد شاہ ابدالی کو مدعو کیا، اس دعوت پر احمد شاہ ابدالی 1761 عیسوی میں ہندوستان آیا اور پانی پت کی مشہور تیسری لڑائی، اس کا نتیجہ اتنا تو ضرور ہوا کہ مغل بادشاہوں کی حکومت کی مدت کچھ اور بڑھ گئی لیکن ان کی بنیادی کمزوریوں میں کوئی مضبوطی پیدا نہ ہوسکی کیونکہ ان میں ان کے اسلاف کی طرح شاہین کا جگر اور عقابی قوت پرواز باقی نہ رہ گئی تھی، ان کی تلوار صیقل زدہ اور برندہ ہونے کے بجائے کند ہوچکی تھی اور ان میں لہو ترنگ کے بجائے صرف ناہلی کا جل ترنگ رہ گیا تھا۔
حضرت شاہ ولی اللہ کی ولادت اورنگ زیب کے آخری زمانے میں ہوئی اور بہادر شاہ اول سے لے کر شاہ عالم تک کا زمانہ دیکھا، ان میں جہاں دار شاہ احمد شاہ کی زندگی تو رنگینی اور بدمستی میں گذری، عالمگیر ثانی ایک مذہبی حکمراں تھا، غیر مسلم مورخوں کا بیان ہے کہ وہ عالم گیر اول کا مقلد بن کر حکومت کرنا چاہتا تھا اور اس نے اپنے وزیر پر عماد الملک کی مدد سے بہت سی بدعتوں کو روک کر مذہب کو بھی فروغ دینا چاہا، شاہ عالم میں بھی دینداری تھی وہ تو خواجہ میر درد کی مجلسِ سماع میں ذوق شوق سے شریک ہوتا تھا، اکبر ثانی کے تعلقات حضرت شاہ ولی اللہ کے گھر والوں سے بہت اچھے تھے، حضرت شاہ اسمٰعیل شہید کے سوانح نگار لکھتے ہیں کہ اکبر شاہ ثانی کے زمانے میں جامع مسجد دہلی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ تبرکات رکھے رہتے تھے جن کو نکالتے وقت لوگ زور شور سے نعت پڑھتے تھے اور ان کو شاہی محل زیارت کے لئے لے جاتے تھے، ایک روز شاہ اسمٰعیل مسجد میں وعظ کہہ رہے تھے کہ یہ تبرکات نکالے گئے لیکن انہوں نے ان کا احترام نہیں کیا، لوگوں کو ناگوار ہوا اور بادشاہ اکبر شاہ ثانی سے ان کی شکایت کی بادشاہ نے ان کو بلوا کر واقعہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا یہ تبرکات مصنوعی ہیں، ان کی تعظیم ضروری نہیں، بادشاہ نے متعجب ہوکر پوچھا یہ کیسے؟ شاہ صاحب نے جواب دیا کہ اس کو تو آپ بھی مصنوعی سمجھتے ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ تبرکات آپ کی زیارت کے لئے آتے ہیں، آپ کبھی ان کی زیارت کے لئے تشریف نہیں لے جاتے، یہ سن کر بادشاہ چپ ہوگیا، پھر شاہ صاحب نے کلام مجید اور بخاری لانے کو کہا اور ان کو ہاتھ میں لے کر واپس کردیا، اس کے بعد بادشاہ سے فرمایا کلام اللہ اور کلام رسول دونوں بڑے تبرکات ہیں، دونوں چیزیں آپ کے سامنے آئیں لیکن آپ نے کوئی تعظیم نہ کی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ تبرکات کی تعظیم ان کے شرف کی وجہ سے نہیں کرتے بلکہ محض ایک رسم پرستی ہے، یہ سن کر بادشاہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں سونے کے کڑے تھے، شاہ صاحب نے اس کو بھی حرام بتایا بادشاہ نے فوراً اتار دیے، ایک شہزادہ بیٹھا ہوا تھا، اس کی داڑھی منڈی ہوئی تھی، اس کو داڑھی رکھنے کی تلقین کی اور اس نے ان کے حکم کی تعمیل کی۔
بہادر شاہ ظفر بھی بڑی مذہبیت تھی، اس کی حمدونعت میں جو کیفیت ہے اس سے اس کا پور اندازہ ہوتا ہے وہ بادشاہ کے لباس میں ایک صوفی منش درویش تھا، اس کو مولانا فخرالدین سے شرف بیعت بھی حاصل تھا، جیسا کہ آگے ذکر آئے گا، تصوف میں اس کو اس قدر انہماک ہوگیا تھا کہ سعدی کی گلستاں کی شرح صوفیانہ نقطۂ نظر سے خود لکھی، اور اشغال و اذکار میں ایک کتاب سراج المعرفت لکھوائی لیکن کسی حکمراں کی مذہبیت اسی وقت مؤثر ہوسکتی ہے جب اس میں صدیقیت، فاروقیت اور اسدللّٰہیت کا پرتو ہو، یہ درجہ تو بہت بلند ہے، ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں میں شاید ہی کسی کو حاصل رہا ہو اس لئے دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ مذہبیت کے ساتھ اگر بلندیت، بابریت اور عالمگیریت بھی ہو تو وہ مؤثر ہوسکتی ہے، مغلوں کے آخری چند سلاطین مذہبی تو تھے مگر ان میں مذہب کی اصلی روح نہ تھی اور تاریخ کو مڑ کر دیکھنے کے بعد یہ کہنا پڑتا ہے کہ سلطان علاؤالدین خلجی اگرچہ سنگ دل اور بظاہر مذہب سے بیگانہ وشعی کا الزام عائد کیا جاتا ہے پھر بھی اس کا دور اس لحاظ سے غنیمت ہے کہ اس کے زمانہ میں دہلی قبلۂ اسلام بن گئی تھی، اسی طرح بلا نوش اور پیالہ کش جہانگیر کا عہد حکومت اس لحاظ سے قابل قدر ہے کہ ا س دور میں حضرت مجدد الف ثانی کی کوششوں سے دین کا احیا ہوا،
اکبر شاہ ثانی اور بہادر شاہ ظفر کی مذہبیت سے ان کا ذاتی وقار توکچھ ضرور قائم رہا لیکن ان کی وجہ سے ان کی حکومت سنبھل نہ سکی، اسی لئے اس زمانے میں علما نے جو تحریک اٹھائی، اس میں انہوں نے خود بھی ان بادشاہوں کو نظر انداز کردیا۔
علما کی دست گیری :- اور یہ مسلمانوں کی خوش قسمتی تھی کہ جب حکمران وقت ان کے لئے بیکار ہوگئے تو علما نے آگے بڑھ کر ان کی دست گیری کی، شاہ ولی اللہ نے اپنی تصانیف سے جو ذہنی اور فکری انقلاب پیدا کیا، اس کو ان کی اولادوں اور شاگردوں نے اپنی غیر معمولی سرگرمیوں سے برقرار رکھا۔
شاہ عبدالعزیز :- ان کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز نے تو اپنے زمانہ میں یہ فتویٰ دے دیا کہ ہندوستان کے جس قدر حصے غیر مسلم طاقتوں کے قبضے میں جاچکے ہیں ان میں بڑے نام سلطان کا دخل مانا بھی جاتا ہو تو وہ سب کے دارالحرب ہیں۔
شاہ اسمٰعیل شہید : - اور پھر حضرت شاہ ولی اللہ کے پوتے اور حضرت شاہ عبدالعزیز کے بھتیجے حضرت شاہ اسمٰعیل شہید کی عملی سرگرمیوں نے ظاہر کردیا کہ اب اس کا وقت نہیں رہا کہ علما ارباب رخصت بن کر مدرسوں میں درس دیتے رہیں اور محراب و منبر کی زینت بن کر صحیح عقائد کے اعلان پر قناعت کرلیں بلکہ اس کا وقت آگیا ہے کہ اربابِ عزیمت بن کر اسلام کی عزت و ناموس کی پاسبانی کریں، مسلمان خواص و عوام دونوں کی بگڑی ہوئی معاشرت کو سنواریں اور کانٹوں کی راہ پر چل کر سر بکف اور کفن بردوش ہوجائیں، انہوں نے تجدید اصلاح کی خاطر پہلے بدعتوں کا استیصال کرنے کی کوشش کی، مسجدوں، عرسوں اور مجلسوں میں جہاں مسلمان جمع ہوتے، وعظ کہنے لگتے اور ان کو توحید و تقویٰ کی طرف پکار پکار کر بلاتے، معصیت کے اڈوں پر بھی پہنچ کر اللہ کا پیام سناتے اور معصیت کی زندگی چھوڑ کر صالح زندگی بسر کرنے کی تلقین کرتے، انہوں نے تقویت ایمان لکھ کر یہ بتایا کہ وہی زندگی تہذیب اور معاشرت اسلامی ہے جو قرآن اور سنت کے مطابق ہو، اس کے علاوہ کوئی زندگی یا تہذیب یا معاشرت خواہ کیسے ہی شاندار اور دل آویز ہو، اسلامی نہیں کہی جاسکتی، اس کتاب کے متعلق موجودہ دور کے ایک بڑے عالم کی رائے ہے کہ اگر یہ کتاب پانچ سو سال پہلے لکھی جاتی تو ہندوستان مسلمان دنیا کے مسلمانوں سے بہت آگے بڑھ جاتے لیکن پھر بھی اس کتاب نے مسلمانوں میں ایک بڑا ذہنی انقلاب پیدا کیا۔
حضرت احمد شہید بریلوی :- حضرت اسمٰعیل شہید نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ حضرت احمد شہید بریلوی کے ہاتھ پر بیعت کرلی جو ان سے عمر میں آٹھ سال چھوٹے تھے اور ان کے چچا شاہ عبدالعزیز کے شاگرد اور مرید تھے، ان کی ذات میں حضرت مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ کے فضل و کمال اور مجاہدہ و حال کے دو آتشہ سے ایک سہ آتشہ تیار ہوا تھا، دونوں کی کوششوں سے تجدید دین کی ایک نئی تحریک شروع ہوئی جس کو ہندوستان میں سب سے پہلی اسلامی تحریک سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے اور دونوں نے مل کر مسلمانوں کی ایک ایسی مخلص جماعت پیدا کی جو خدا اور نبی کی وفا دار روئے حق کے نشہ میں سرشار ہوکر جہاد کے لئے آمادہ ہوگئی لیکن ترائین، کنواہا، اور پانی پت کے فاتحوں اور اراکان، بلخ اور قندھار پر پرچم لہرانے والوں کے جانشینوں سے اس کو کوئی مدد نہیں ملی کیونکہ وہ مدد دینے کی لائق ہی نہیں رہ گئے تھے، اس جماعت کو کامیابی نصیب نہیں ہوئی، اور بالا کوٹ میں حضرت اسمٰعیل اور حضرت احمد شہید بریلوی دونوں شہید ہوئے، ان کی ناکامی کے اسباب پر اب تک تحقیقات جاری ہیں لیکن جس طرح کربلا کے بعد اسلام زندہ ہوا، اسی طرح اس تحریک کے کربلا کے بعد ہندوستان میں اسلام پھ زندہ ہوا کیونکہ ان دونوں بزرگوں کے پیروں نے ان کی تعلیمات کو پنجاب سے لے کر بنگال کی سرحدتک جاری رکھا، اس میں شک نہیں کہ وہ مسلمانوں کی سلطنت کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو تو نہ بچاسکے لیکن انہوں نے دین و مذہب اور ایمان و یقین کی ایک نئی روح پھونک کر ہندوستان میں اسلام کو بچالیا جس کو مسلمان اپنی زندگی کا اساس بنا کر انگریزوں کے دورِ حکومت میں ہر قم کے حوادث کا مقابلہ کرتے رہے اور آج ہندوستان میں جہاں بھی قال اللہ اور قال رسول کی آواز سنائی دیتی ہے، وہ ولی اللّٰہی خیالات سے متاثر ہونے والے ہی بزرگوں کی صدائے بازگشت ہے، علما کے اس احسان کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔
البتہ اخلاص نیت کی بنا پر جس طرح یہ کہا گیا ہے کہ تقویت الایمان پانچ سو برس پہلے لکھی گئی ہوتی تو ہندوستان کا مسلمان دنیا کے مسلمانوں سے بہت آگے بڑھ جاتا، اسی طرح ایک بہت بڑا گروہ زبانِ حال سے یہ کہہ رہا ہے کہ عالمگیری کے بعد ہی کوئی شہید احمد بریلوی یا اسمٰعیل شہید پیدا ہوگیا ہوتا تو آج مسلمانوں کی تاریخ کچھ اور ہوتی اور یہ مسلمانوں کی بدقسمتی رہی کہ جب حضرت مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ جیسے عالی دماغ علما پید اہوئے تو ان کے زمانے میں تخت پر عالمگیر جیسا بادشاہ نہیں رہا یا عالمگیر جیسے حکمراں کو حضرت مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ، حضرت اسمٰعیل شہید اور حضرت احمد شہید بریلوی جیسے مجاہد، مفکر، سربکف اور کفن بردوش علما نہیں ملے، اسی لئے مسلمانوں کے عروج و کمال اور سقوط و زوال کی تاریخ ان کے سلاطین ہی سے وابستہ ہوکر رہ گئی، جب تک تخت و تاج کو ہوش مند اور بیدار مغز حکمراں ملتے رہے، مسلمانوں کو اپنی سیاسی اور تمدنی زندگی پر ناز رہا اور جیسے ہی حکمراں طبقہ کی ہوش مندی اور عالی دماغی جاتی رہی، مسلمان اپنی شوکت و حشمت سے محروم ہوگئے، عام مسلمانوں نے سلاطین اور علما دونوں کے سامنے جھکنے میں تامل نہیں کیا کیونکہ دونوں اپنے کو اسلام کا محافظ اور پاسبان کہتے رہے لیکن دونوں کی ہم آہنگی اور تعاون کی تاریخ زیادہ روشن نہیں، ایک دوسرے سے مشکوک اور آزردہ خاطر ہونے کے بجائے دونوں انجام بینی، مآل اندیشی اور مصلحت کوشی سے کام لے کر اپنی علمی اور ایمانی قوتوں کو ایک دوسرے کا سہارا بناتی رہتیں، تو مسلمانوں کی تاریخ کا نہج کچھ اور ہوتا۔
مشائخ اور سلاطین :- سلاطین صوفیۂ کرام کے آستانوں پر برابر جھکتے رہے، مشہور ہے کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ہی کی دعوت پر شہاب الدین غوری ہندوستان آیا، ایلتتمش حضرت قطب الدین بختیار کاکی کا مرید تھا اور رات کو ان کے پاؤں بھی دابتا تھا، حضرت جلال الدین تبریزی دہلی تشریف لائے تو اس نے خدم و حشم کے ساتھ دہلی سے باہر جاکر ان کا استقبال کیا، قاضی قطب الدین کاشانی اس کے دربار میں آئے تو ان کو اپنے پہلو میں بٹھایا، اسی طرح دربار میں قاضی حمیدالدین ناگوری کا خیر مقدم تخت سے اتر کر کیا اور ایک موقع پر ان کے قدموں پر بھی گر پڑا، بلبن اپنی شاہانہ شوکت و عظمت کے باوجود مشائخ کی بے حد تعظیم کرتا اور حصول برکت کے لئے ان کے گھروں پر بے تکلف جاتا، وہ شیخ علی چشتی کا بڑا گرویدہ تھا، ان کو لینے کے لئے چشت سے کچھ لوگ آئے تو اس نے ان کے قدموں پر گر کر ان کو چشت جانے سے روکا، ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس نے اپنی لڑکی بیبی ہزیرہ کو حضرت بابا فریدالدین گنج شکر کے حبالۂ عقد میں دیا تھا، اس لحاظ سے سلطان ناصرالدین محمود ان کا ہم زلف تھا، جلال الدین خلجی حضرت بو علی قلندر پانی پتی کا مرید تھا، علاؤالدین خلجی بعض اسباب کی بنا پر خواجہ نظام الدین اؤلیا سے مل تو نہ سکا لیکن اس نے اپنے دونوں لڑکوں خضر خاں اور شادی خاں کو ان کے حلقۂ ارادت میں دے دیا اور جب حضرت خواجہ کی مجلس سماع کے اشعار اس کے سامنے دہرائے جاتے تو وہ ان کو آنکھوں سے لگاتا اور بار بار پڑھتا، قطب الدین مبارک کی خلجی سہروردیہ سلسلہ کے ایک بزرگ شیخ ضیاؤالدین رومی کا مرید تھا، سلطان محمد تغلق حضرت شیخ فریدالدین گنج شکر کے پوتے حضرت شیخ علاؤالدین کا مرید تھا، اس نے حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا کے جنازے کو کاندھا دیا اور ان کے روضۂ مبارک کی عمارت بنوائی، حضرت شرف الدین یحییٰ شیخ رکن الدین ملتانی کی خانقاہ میں بھی اسی نے تعمیر کرائیں، سلطان فیروز شاہ تغلق بھی حضرت شیخ علاؤالدین اجودھنی کا مرید تھا، وہ مشائخ کی تعظیم و تکریم میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتا تھا، سلطان سکندر لودی حضرت سماؤالدین کا مرید تھا، بابر حضرت عبدالقدوس گنگوہی کے آستانہ پر خود حاضر ہوا تھا اور حضرت گنگوہی نے بھی اپنے ایک مکتوب کے ذریعہ اس کو نصیحت کی کہ وہ عدل قائم کرے، اوامر و نواہی کی پابندی کرے، نماز باجماعت ادا کرے اور علما کو دوست بنائے، ہمایوں حضرت غوث گوالیاری کے حلقۂ ارادت میں داخل تھا، اکبر کو شیخ سلیم چشتی سے جو عقیدت رہی وہ اس کی زندگی کا اہم جز ہے، ان ہی کی خاطر اس نے فتح پور سیکری کو تمام شہروں کا سرتاج بنا دیا، اس کو جب کبھی ملکی اور فوجی کاموں سے فرصت مل جاتی تو حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے آستانہ پر حاضر ہوتا، میدانِ جنگ میں حضرت خواجہ سے حصولِ برکت کے لئے یا معین کا نعرہ بھی لگاتا، شہزادہ سلیم کی پیدائش کی خوشی میں حضرت خواجہ کے مزار پر حاضری دینے کے لئے آگرہ سے اجمیر تک پا پیادہ گیا، جہانگیر تو حضرت شیخ سلیم کے سایۂ عاطفت میں پلا، اس لئے وہ بزرگوں، درویشوں حتیٰ کہ سنیاسیوں سے بھی بے حد عقیدت رکھتا تھا، کچھ دنوں اس کو حضرت مجدد الف ثانی سے اختلاف ضرور رہا لیکن جب اس کی غلط فہمی دور ہوئی تو وہ حضرت مجدد کا بہت گرویدہ ہوگیا، ایک مشہور روایت ہے کہ وہ کہا کرتا تھا کہ میرے پاس ایک دستاویزِ نجات ہے اور وہ حضرت مجدد کا یہ ارشاد مبارک ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ کو جنت میں لے جائے گا تو تیرے بغیر نہ جاؤں گا، شاہ جہاں بچپن ہی میں حضرت مجدد کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوگیا تھا، عالمگیر نے سلوک و طریقت کی تعلیم حضرت مجدد کے صاحبزادے اور حضرت معصوم سے پائی، فرخ سیر نے حضرت سید شاہ سلام اللہ سے بیعت کی، محمد شاہ رنگیلے کو شاہ مبارک، شاہ بدا اور شاہ رمز سے بڑی عقیدت تھی، عالمگیر شاہ ثانی کا فعل تو درویشوں سے اس کی غیر معمولی عقیدت مندی ہی کے سلسلہ میں ہوا، شاہ عالم کو حضرت شاہ فخرالدین دہلوی سے بیعت تھی، بہادر شاہ ظفر بھی ان ہی کا مرید تھا اور جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے صاحبزادے مولانا قطب الدین سے بیعت کی، ان کا وصال ہوا تو ان کے خورد سال صاحبزادے غلام نصیرالدین عرف کالے صاحب سے وہی عقیدت قائم رکھی۔
صوفیہ سے عقیدت کے اسباب :- سلاطین کا صوفیہ کے آستانے پر جھکنے کے کئی اسباب تھے، ہندوستان میں مسلمانوں کے ابتدائی دورِ حکومت میں اتنے جلیل القدر صوفیہ گذرے کہ وہ خواص و عوام دونوں کے دلوں پر چھائے رہے، ان کی درویشی میں شاہنشاہی تھی، ان کی قلندری میں شانِ سکندری تھی، سلاطین کے دربار میں عجم کا حسن طبیعت دکھائی دیتا تو ان بوریہ نشینوں کی خانقاہوں میں عرب کا سوزدروں ملتا تھا، ان کی حکمت ملکوتی اور علمِ لاہوتی سے لوگوں کے درد کا درما ہوتا رہتا تھا، وہ شبنم بن کر جگر لالہ میں ٹھنڈک پیدا کرسکتے تھے، توطان بن کر دونوں کو دہلا بھی سکتے تھے، اسی لئے وہ عوام و خواص کے مرجع بن گئے تھے، سلاطین بھی ان کا دامن پکڑنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتےتھے، اس کے علاوہ بعض سلاطین علما کی سخت گیریوں سے گھبراتے تو ان کو صوفیائے کرام کے روحانی دامن میں پناہ ملتی تھی، صوفیہ کرام ظواہر کی پابندی میں سختی کرنے کے بجائے سلاطین میں اسلام کی اخلاقی اور باطنی روح پیدا کرنے کی کوشش کرتے، اس سے کبھی کبھی شریعت کی گرفت تھوڑی ڈھیل ضرور ہوجاتی لیکن اسلام کے باطنی مزاج کا استیلا ان پر قائم رہتا، جس سے غیر شعوری طور پر حکومت و سلطنت کو فائدہ پہنچتا، ایلتتمش جیسے دیندار بادشاہ کے دربار میں مولانا سید نورالدین مبارک غزنوی نے یہ وعظ کہنے میں تامل نہیں کیا کہ بادشاہوں کی زندگی کے جو لوازم ہیں جس طرح سے وہ کھاتے ہیں جو کپڑے پہنتے ہیں جس طرح وہ اٹھتے بیٹھتے اور سواری کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ وہ تمام چیزیں دینِ مصطفیٰ کے خلاف ہیں لیکن حضرت بختیار کاکی اپنے مرید سلطان ایلتتمش کو شاہانہ شوکت و حشمت ترک کرنے کی تلقین کے بجائے اس کو خدا ترسی، پارسانی، تزکیۂ نفس، غمخواریٔ دین، عدل پروری اور خدمتِ خلق کی تعلیم دیتے رہے، سلطان غیاث الدین بلبن کے دربار کی نمائش، خود پرستی اور فکروی خسروری کو علما رسوم جبارہ کہتے رہے، وہ دربار کی ظاہری نمود و نمائش میں عجمی فرمانرواؤں کی تقلید کرتا تھا جس کا رنگ مشرکانہ تھا لیکن وہ اپنے عہد کے تمام اکابر بزرگانِ دین سے فیوض و برکات حاصل کرتا رہا، اس کی درباری زندگی خواہ کیسی ہی رہی ہو لیکن اس کو حمیت اسلام اور شعار اسلام کا بڑا خیال رہا، اسی لئے صوفیہ بھی اس کا احترام کرتے، اس کے مرنے کے بعد حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا اور دوسرے مشائخ جب اس کا نام لیتے تو اس کے نام کے ساتھ رحمۃ اللہ علیہ طالب اللہ ثراہ اور اناراللہ برہانہ بھی کہتے جو عموماً صلحا اور اخیار کے نام کے ساتھ استعمال کئے جاتے ہیں، اس کے دربار کے بعض مشرکانہ رسوم کے باوجود خواجہ نظام الدین اؤلیا نے اس کے مذہبی عقائد کی تعریف کی ہے۔
حضرت سید جلال الدین بخاری مخدوم جہانیاں جہاں گشت اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں کہ ہندوستان میں شب برات کی جو تقریبات منائی جاتی ہیں وہ غزنیں، خراسان اور عرب میں دیکھنے میں نہیں آئیں، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کا کوئی تعلق مسلمانوں سے نہیں ہے بلکہ ہندوستان کے عوام سے ہے جو دین سے بے خبر ہیں اور وہ اس رات غیر شرعی چیزوں میں مشغول رہ کر اپنے اعمال کو سیاہ کرتے ہیں وہ فیروز شاہ تغلق سے برابر ملتے رہے جس نے ان سے مذہبی اور روحانی فیوض حاصل کئے لیکن اس کے دربار میں شبِ برات کی تقریب بہت دھوم دھام سے منائی جاتی، بے شمار مشعلیں روشن کی جاتیں طبل بجتے، آتش بازی کے طرح طرح کے تماشے ہوتے مگر حضرت مخدوم جہانہاں جہاں گشت سلطان کی اس شاہانہ تقریب کو ختم کردینے پر مصر نہیں ہوئے۔
سلاطین پر صوفیہ کے اثرات :- صوفیہ کرام کی پیری مریدی محض رسمی اور روایتی نہیں رہی، سلاطین کے مذہبی خیالات و جذبات کے نشو و نما میں ان بزرگوں کے فیوض و برکات کا بڑا دخل رہا، شمس الدین ایلتتمش حضرت خواجہ بختیار کاکی کا مرید ویساہی فرمانروا ہوا جیسا کہ ہونا چاہئے تھا، تذکرہ نگار لکھتے ہیں کہ وہ راتوں کو جاگتا، کسی نے اس کو سوتے نہین دیکھا، وہ بیدار ہوکر عالمِ تحیر میں کھڑا رہتا اور اگر سو جاتا تو بیدار ہوجاتا، وضو کرتا اور مصلے پر جابیٹھا، وہ ہمیشہ نمازِ باجماعت میں تکبیرِ اولیٰ سے شریک ہوتا، عصر کی سنتیں کبھی قضا نہیں کیں، ان ہی خوبیوں کی وجہ سے اس کو حضرت خواجہ بختیار کاکی کے جنازہ کی نماز پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی، عصبامی نے فتوح السلاطین میں اس کو صاحبِ ولایت، پارسا، صاحبِ شرع فرمانروا، غم خوار دین، خسرو دینِ پناہ، خسرو پاک دیں اور خوش نفس وغیرہ جسے القاب سے یاد کیا ہے، خواجہ نظام الدین اؤلیا نے بھی اپنے ملفوظات میں اس کا ذکر جابجا عزت و احترام اور لطف و محبت سے کیا ہے بلکہ اس کے بعض قول و فعل کو بطورِ نصیحت اپنے مریدوں کے سامنے نقل بھی کیا ہے۔
سلطان ناصرالدین محمود پر اپنے باپ سلطان شمس الدین ایلتتمش کا بڑا اثر تھا، اسی لئے اس کو نہ صرف علما سے محبت بلکہ مشائخ سے بھی مودت تھی، تذکرہ نگار لکھتے ہیں کہ اس کو حضرت بابا گنج شکر سے بڑی عقیدت تھی اور اگر یہ روایت تسلیم کر لی جائے کہ وہ حضرت بابا فریدالدین گنج شکر کا ہم زلف تھا تو ظاہر ہے کہ ان سے بڑا ستفادہ کیا ہوگا، اس کے حبِ رسول، لینت، مروت اور دوسرے اوصافِ حمیدہ کے قصے بہت مشہور ہیں مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اس سلطان کے عجیب و غیر قصے خلفائے راشدین کے حالاتِ زندگی سے ملتے جلتے ہیں، اس نے گو بائیس برس تک حکومت کی لیکن اس کی زندگی میں درویشان برابر قائم رہی، دربارِ عام میں آتا تو شاہانہ لباس میں ملبوس رہتا لیکن دربار ختم کرنے کے بعد پٹھے پرانے کپڑے پہن لیتا، اس کا زیادہ تر وقت عبادت، ریاضت، تلاوتِ کلام پاک، شب بیداری اور ذکر اللہ میں گذرتا، حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا نے اس کے نام کے ساتھ بھی انار اللہ برہانہ رحمۃ اللہ علیہ کے تعظیمی الفاظ استعمال کئے ہیں۔
غیاث الدین بلبن پر حضرت شیخ علی چشتی، حضرت شیخ فریدالدین گنج شکر، حضرت خواجہ شمس الدین ترک پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے مشائخ کا بڑا اثر رہا اور ان ہی کی صحبت کا اثر تھا کہ مولانا ضیاؤالدین برنی لکھتے ہیں کہ وہ عبادت، ریاضت، روزے، نفل اور شب بیداری میں غیر معمولی اہتمام رکھتا، نماز باجماعت پڑھتا، جمعہ کی نماز مسجد میں ادا کرتا، اشراق و چاشت، اوابین اور تہجد کی بھی پابندی کرتا، خواہ کوئی موسم ہو رات کو جاگتا، سفر و حضر میں اوراد و وظائف کو نہ چھوڑتا کبھی بے وضو نہ رہتا، مشائخ کی بیحد تعظیم کرتا، ان میں سے کسی کا انتقال ہوجاتا تو ان کے جنازہ میں شریک ہوتا پھر ان کے سویم میں شرکت کرتا۔
جلال الدین خلجی کو نہ صرف حضرت بو علی قلندر بلکہ تمام مشائخ سے بھی بڑی عقیدت رہی اور اس میں غیر معمولی علم، خداترسی و نرمی ان ہی کے اثرات سے پیدا ہوئی، مولانا ضیاؤالدین کا بیان ہے کہ ایسا حلیم، کریم اور خداترس بادشاہ کوئی اور نہیں ہوا، علاؤالدین خلجی کسی کا مرید تو نہ تھا لیکن ایک بار حضرت بو علی قلندر رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو شحنۂ دہلی لکھ کر یاد کیا تو وہ خوش ہوا پھر دوسری بار انہوں نے ا س کو فوطہ وار دہلی لکھا تو اس نے کہا کہ اس کے لئے میں شکرادا کرتاہوں، وہ حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا کی زیارت سے تو محروم رہا لیکن ان کی دعاؤں کا برابر طلب گار رہا، مؤرخین اس کی تصویر اچھی نہیں پیش کرتے لیکن حضرت نصیرالدین چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس کے متعلق بری رائے نہیں رکھتے، ان کے ملفوظات کے کاتب شیخ حمید شاعر کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ علاؤالدین خلجی کے مرنے کے بعد اس کی قبر لوگوں کے لئے زیارت گاہ بن گئی تھی اور لوگوں کا عام عقیدہ تھا جو کوئی اپنی مراد کی ڈوری اس کے مزار پر باندھے گا، اللہ تعالیٰ حاجتیں برلائے گا، حضرت امیر خسرو تو یہاں تک لکھ گئے ہیں کہ علاؤالدین نے رحمتِ خداوندی کی نشانیوں کو مصحف وجود کی جلد میں جمع کردیا تھا، امیر حسن سنجری تو اس کو اپنے اشعار میں دین پرور، دین پناہ اور اسلام پرور وغیرہ کے القاب سے یاد کرتے ہیں، عصامی نے بھی اس کو شاہِ دین پرور لکھا ہے، عام طور سے علاؤالدین خلجی سے متعلق جو واقعات مشہور ہیں ان کی تاریخی شہادتوں کے بعد علاؤالدین کی مذکورۂ بالا تعریف و توصیف بظاہر مبالغہ آمیز معلوم ہوگی لیکن علاؤالدین کے معاصروں کے ان بیانات کو نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا، مولانا ضیاؤالدین برنی سلطان محمد تغلق کے بہت بڑے ناقد تھے لیکن وہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ سلطان کے کردار میں دو خاص باتیں تھیں، خدا کی بندگی اور بڑوں کی نیاز مندی، نیاز مندی سے مراد ہے کہ وہ درویشوں اور بزرگوں کی صحبت کا بڑٖا گرویدہ رہا اور ان کی برابر سرپرستی کی، ابن بطوطہ نے لکھا ہے کہ اس کی بعض باتیں ایسی تھیں جن کو سننے کے بعد عجائبات معلوم ہوتی ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ شریعت کا پابند تھا، نماز کی بڑی تاکید کرتا تھا جو نہیں پڑھتا اس کو سزا دیتا، وہ منجملہ ان بادشاہوں کے ہے جن کی نیک بختی اور مبارک نفسی حد سے بڑھی ہوئی تھیں، اس کی بے حد خواہش رہی کی مشائخ اور صلحا اس سے تعاون کرکے حکومت کو سنوارنے میں مدد کریں، اسی لئے اپنے مرشد شیخ علاؤالدین اجودھنی کے ایک صاحبزادے شیخ معزالدین کو گجرات کا ایک معزز عہدیدار بناکر وہاں روانہ کیا جہاں وہ شہید ہوئے، حضرت علاؤالدین کے دوسرے صاحبزادے شیخ علم الدین کو ہندوستان کا شیخ الاسلام بنایا، خواجہ کریم سمرقندی (بابا فریدالدین کی نواسی کے شوہر) کو شیخ الاسلام بناکر ستگاؤں بھیجا، اس نے سہروردیہ سلسلہ کے مشہور بزرگ شیخ رکن الدین کو سو گاؤں جاگیر کے طور پر دیئے، شمس سراج عفیف نے لکھا ہے کہ فیروز شاہ تغلق اپنے پورے عہدِ حکومت میں اؤلیائے کرام کی متابعت کرتا رہا، ہر وقت مشائخ کی محبت میں ان کی پروی کی اور آخر زمانے میں محلوق بھی ہوگیا تھا، علما و مشائخ ہر وقت اس کے پاس رہتے، اس لئے اس کو ہمیشہ مکروہ و حرام اشیا کا علم رہتا تھا اور ان ہی کے فیوض سے اس میں شریعت اور سنت کی پیروی کا جذبہ پیدا ہوتا رہا، وہ پانچوں وقت کی نماز باجماعت ادا کرتا، روزانہ کلامِ پاک کی تلاوت کرتا، جمعہ کے دن سورۂ کہف اور جمعہ کی رات میں سورۂ طٰہٰ بلا ناغہ پڑھتا تھا، لودی سلاطین سکندر لودی حضرت سماؤالدین رحمۃ اللہ علیہ کا مرید تھا اور ان کے مرید شیخ جمالی کی صحبت سے برابر فیضات رہا اور ان بزرگوں کے اثر سے پانچویں وقت کی نماز باجماعت ادا کرتا، نفلیں بہت پڑھا کرتا تھا، صبح ہونے سے تین گھنٹے پہلے وہ جاگتا، غلس کرتا، تہجد کی نماز پڑھتا اور پھر قرآن کے تین پارے ہاتھ باندھ کر اور کھڑے ہوکر پڑھتا تھا، پہلے ذکر آچکا ہے کہ ہمایوں صوم و صلوٰہ کا بہت پابند تھا اور حسنِ ادب کا یہاں تک لحاظ رکھتا کہ وہ بے وضو اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیتا۔
حضرت شیخ سلیم چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اکابر صوفیہ میں نہیں ہوتا لیکن یہ ان کا بڑا کارنامہ ہے کہ جب تک وہ زندہ رہے اکبر کو اپنے سایۂ عاطفت میں لے کر دیندار اور اسلامی عزت و ناموس کا نگہبان بنائے رکھا اور اب یہ الزام کے طور پر کہا جاتا ہے کہ ایک صوفی نے تو اس کو صحیح راستہ پر لگائے رکھا لیکن علما کے ایک گروہ نے اس کو اسلام سے بدظن کرکے ایک غلط راستہ پر لگا دیا، جہانگیر کو حضرت سلیم چشتی سے مستفیض ہونے کا موقع نہیں ملا کیونکہ اس کے بچپن ہی میں ان کا وصال ہوگیا تھا لیکن وہ ان کی صاحبزادی کی گود میں پلا جنہوں نے اس کو دود بھی پلایا اور وہ ان ہی کو اپنی ماں تصور کرتا رہا، اسی لئے اس کو اپنی ماں مریم زمانی سے کم لگاؤ رہا، ا س کی رضاعی ماں کا انتقال اس کے تھوڑیں سال جلوس میں ہوا تو ان کے جنازے کو اپنے کاندھے پر اٹھا کر کچھ دور لے گیا اور خود اپنی تزک میں لکھتا ہے کہ کئی روز تک ان کی جدائی کے غم میں کھانے پینے اور کپڑے بدلنے کی خواہش نہیں ہوئی، اس کے بچپن کا ماحول مذہبی تھا اس لئے اکبر کی بے راہ روی کے باوجود اس میں اسلامی غیرت و حمیت کا بڑا جذبہ رہا، اسی لئے آخر میں وہ حضرت مجدد الف ثانی کا بھی معتقد ہوگیا اور ان کی ایمانی حرارت اور جہانگیر کی مذہبی غیرت کے تعاون سے اسلام کی شمع جو اکبر کے دور میں زرد پڑ چکی تھی پھر سے منور ہوگئی، خود شاہ جہاں کی مذہبیت حضرت مجدد الف ثانی کے فیوض کا نتیجہ تھی کیونکہ وہ بچپن ہی میں ان کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوگیا تھا اور عالمگیر تو مجددی تحریک کا سب سے بڑا علمبردار ہی بن گیا تھا۔
صوفیۂ کرام کی تلقین :- کسی بادشاہِ وقت کا محض مذہبی ہونا اس کے اچھے حکمراں ہونے کی دلیل نہیں، مذہبی ہونے کے ساتھ اس میں حکمرانی کے تمام اوصاف بھی موجود ہوں تو وہ پھر ایک قابلِ قدر حکمراں ہے، اسی لئے صوفیہ کرام نے سلاطین کی تعلیم و تربیت اپنے عام مریدوں سے مختلف انداز میں کی اور خلق اللہ کی حاجت برآری اور عام عدل پروری پر زیادہ زور دیا، حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی عام تعلیم تھی کہ حاجت مندوں کی مدد کرنے والا اللہ کا دوست ہے، اگر کوئی شخص اوراد و وظائف میں مشغول ہو اور کوئی حاجت مند آجائے تو لازم ہے کہ وہ اوراد و وظائف کو چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہو اور اپنے مقدور کے مطابق اس کی حاجت پوری کرے، حضرت خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ سلطان ایلتیتمش کو برابر رعایا، فقیروں، غریبوں اور درویشوں کے ساتھ دوستی کی تلقین فرماتے رہے۔
حضرت فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ بھی مظلوموں کی حمایت کی تلقین کرتے رہے، اجودھن کے ایک عامل کو شکایت تھی کہ وہاں کا والی اس پر مہربان نہیں ہے، حضرت فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی سفارش والی سے کی لیکن والی نے اس کی طرف توجہ نہیں کی، حضرت گنج شکر نے عامل سے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح میں نے تمہاری سفارش والی سے کی اور اس نے نہ سنی، اسی طرح تم سے بھی کسی نے کسی مظلوم کی سفارش کی ہوگی اور تم نے نہ سنی ہوگی، یہ سن کر عامل متاثر ہوا اور ظلم کرنے سے توبہ کی، حضرت نظام الدین اؤلیا صوم دہر کے باوجود افطار میں کوئی چیز چکھ لیتے، اس کے بعد سحر میں کچھ کھاتے اور اکثر ایسا بھی ہوتا کہ اس وقت کچھ نہ کھاتے، خادم عرض کرتا ہے کہ اگر آپ اس وقت میں کچھ نہ تناول فرمائیں گے تو کمزوری آجائے گی، قوت برقرار نہ رہے گی، یہ سن کر روتے اور فرماتے کہ بھوکوں، مسکینوں اور درویشوں کے فاقہ کو سونچتا ہوں تو حلق سے کھانا نہیں اترتا پھر ایک اور موقع پر فرمایا کہ جو شخص اپنا غم والم مجھ سے بیان کرتا ہے تو اس کو سن کر میرا رنج و غم دو چند ہو جاتا ہے، معلوم نہیں وہ لوگ کیسے ہیں جو دوسروں کے غم والم کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور آہ نہ کریں، ان پر بڑا تعجب ہے، حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا نے کسی سلطانِ وقت سے تعلق تو نہیں رکھا لیکن خلق اللہ کے ساتھ ان کی غمخواری کا اثر خواص و عوام دونوں پر رہا۔
شمس سراج عفیف نے تاریخِ فیروز شاہی میں لکھا ہے کہ سلطان فیروز شاہ تغلق جب تخت نشین ہوا تو حضرت نصیرالدین چراغ دہلوی نے سلطان کو پیغام دیا کہ آپ وعدہ کریں کہ خلق اللہ کے ساتھ عدل و انصاف کریں گے ورنہ ان بیکس ہندؤں کے لئے اللہ تبارک تعالیٰ سے دوسرا فرمانروا طلب کیا جائے سلطان نے جواب میں کہلا بھیجا کہ میں خداوند تعالیٰ کے بندوں سے حلم و بردباری کے ساتھ پیش آؤں گا اور ان پر انصاف و محبت سے حکومت کروں گا، حضرت شیخ نے یہ جواب سنا تو کہلایا کہ اگر آپ خلق اللہ کے ساتھ خلق و مروت سے پیش آئیں گے تو ہم بھی اللہ تبارک و تعالیٰ سے آپ کے لئے چالیس سال کی حکومت کے لئے دعا کریں گے اور آخر کار وہی ہوا جو شیخ نے فرمایا تھا۔
حضرت شرف الدین یحییٰ منیری نے بھی فیروز شاہ تغلق کو اپنے مکتوب میں عدل و انصاف کی تلقین کی اور اس کو ایک حدیث لکھ کر بھیجی کہ جو کوئی مظلوم کی مدد کرتا ہے، خدائے تعالیٰ قیامت کے روز پل صراط کو عبور کرنے میں اس کی مدد کرے گا اور بہشت میں جگہ دے گا اور جو کوئی مظلوم کو دیکھتا ہے اور وہ مظلوم اس سے فریاد کرتا ہے لیکن وہ فریاد نہیں سنتا تو قبر کے اندر اس کو آگ کے سو کوڑے مارے جائیں گے پھر ایک دوسری حدیث بھی تحریر فرمائی کہ جو کوئی مظلوم کی مدد کرتا ہے، اس کے لئے تہتر مغفرت لکھی جاتی ہے، ان میں سے ایک تو اس کو دنیا میں مل جاتی ہے، اس کا کام سدھرتا ہے اور بقیہ بہتر عقبیٰ میں ملتی ہے، ایک تیسری حدیث کو یہ بھی لکھی کہ پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک ساعت کا عدل ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے، ان کے ایک دوسرے مکتوب میں ہے کہ امرا اصحابِ منصب اور اربابِ قدر و منزلت کے لئے اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچنے کا سب سے نزدیک راستہ یہ ہے کہ وہ عاجزوں کی دست گیری اور حاجت مندوں کی حاجت روائی کریں، چنانچہ ایک بزرگ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں پہنچنے کی راہیں تو بہت ہیں لیکن سب سے نزدیک راہ دلوں کو راحت پہنچانا ہے، ان بزرگوں سے یہ کہا گیا کہ جس شہر کے وہ رہنے والے ہیں اس کا بادشاہ شب بیدار ہے نفل نمازیں بہت پڑھتا ہے، نفل روزے بھی رکھتا ہے، فرمایا بے چارے نے اپنے کام کو تو کھو دیا ہے لیکن دوسروں کے کام میں لگا ہوا ہے، لوگوں نے ان بزرگ سے پوچھا کہ آکر اس بادشاہ کا اپنا کام کیا ہے تو فرمایا کہ اس کا کام تو یہ ہے کہ طرح طرح کے کھانے پکوائے اور بھوکوں کو پیٹ بھر کر کھلوائے، طرح طرح کے کپڑے سلوائے اور ننگوں کو پہنوائے، اجڑے ہوئے دلوں کو آباد کرے، حاجت مندوں کی دست گیری کرے، نفل نمازیں پڑھنا اور نفل روزے رکھنا تو درویشوں کا کام ہے۔
حضرت اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ خود ایک مملک کے حکمراں رہ چکے تھے اس لئے اپنی درویشی کے زمانے میں حکمراں طبقہ کو برابر نصیحتوں سے مستفید کرتے رہے، ایک ملفوظ میں تو فرمایا کہ جہانداری اور شہریاری کو چار چیزوں سے نقصان پہنچتا ہے۔
1 سلاطین کا لذائذ دنیا میں مستغرق ہوجانا۔
2 اپنے مقربین کے ستھ بدخلقی سے پیش آنا۔
3 سزا دینے میں زیادتی کرنا۔
4 رعیت پر ظلم کرنا اور پھر دوسرے ملفوظات میں بتایا کہ بادشاہ اپنے وقت کو اس طرح ترتیب دیں کہ صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد اشراق تک وظیفہ پڑھیں پھر علما و صلحا کے ساتھ صحبت رکھیں اور چاشت کے وقت تک ان سے عدل و انصاف کے متعلق قرآنی آیتوں کے مطالب پوچھیں، اسی جگہ وزیروں اور ندیموں کو بلائیں اور یہ لوگ فوجوں کے جو معروضات پیش کریں ان کا مناسب جواب دیں ہر شخص کے مدعا کو پورا کریں، اس کے بعد دربارِ عام ہو جس میں رعایا اور مسلمانوں کے قضایا اور دعاویں پیش ہوں اور شریعت کے مطابق انصاف کے ساتھ فیصلہ ہو۔۔۔ عدل انصاف کے اصولوں میں ایک نقطہ سے بھی انحراف نہ کریں تاکہ سلطنت میں خلل واقع نہ ہو۔
حضرت خواجہ گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ اپنی تصنیف خانمہ میں فرماتے ہیں کہ اگر کوئی بادشاہ راہِ سلوک میں گامزن ہو تو سلطان ابراہیم ادہم، معاویہ ثانی اور عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ بن سکتا ہے لیکن اگر کوئی بادشاہی کے لئے موزوں ہو تو پھر اسی فرض کو انجام دے، سلوک کی طرف مائل نہ ہو اور حکومت میں ایسے متدین اور صالح لوگوں کو عہدہ دار مقرر کرے کہ جو شرعی احکام کو نافذ کرا سکیں اور فقیروں، کمزوروں، یتیموں، عاجزوں، لنگڑوں، گونگوں، بیواؤں کی پوری خبر گیری کریں ان کو برباد ہونے سے بچا لینے سے زیادہ کوئی مشکل کام نہیں۔
حضرت عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے سکندر لودی کو ایک مکتوب میں یہ لکھ بھیجا کہ ایک ساعت کا عدل ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر اور فاضل تر ہے اور پھر اس کو ایک حدیث بھی لکھ بھیجی کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب شخص انصاف پسند امام ہوگا، اس لئے کہ اس کے عدل کی منفعت اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق کے لئے تھی، پس وہ شخص ان سات آدمیوں میں سے ایک آدمی ہوگا جن کو اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سایہ میں رکھے گا، اس دن اس سایہ کے علاوہ کوئی دوسرا سایہ نہ ہوگا، بابر کی حکومت قائم ہوئی تو حضرت عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بھی ایک مکتوب میں تحریر فرمایا کہ عالی ظرف لوگ دنیا کو آخرت کی ایک کھیتی سمجھتے ہیں اور جو کچھ دنیا میں کرتے ہیں خداہی کے لئے کرتے ہیں، اللہ کے حکم کی تعظیم خلق اللہ کی شفقت سے وابستہ ہے اور اسی پر عمل کرنے سے ابدی فلاح حاصل ہوتی ہے، آپ کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرنے کی خاطر لوگوں کے سروں پر عدل کا سایہ اس طرح قائم کریں کہ کوئی شخص بھی کسی پر ظلم نہ کرے، حضرت عبدالقدوس گنگوہی نے ہمایوں کو بھی اسی قسم کی تلقین کی۔
عدل پرور سلاطین :- خدمتِ خلق اللہ اور عدل پروری کی مؤثر تعلیم اسلام نے دے رکھی ہے، مملوک سلاطین کی حکومت دہلی میں قائم ہوئی تو ان کے سامنے غزنوی اور غوری دربار کی عدل پروری کی روایات پہلے سے موجود تھیں، ہندوستان کے صوفیہ کرام کی مزدیک تعلیم و تلقین نے سونے پر سہاگہ کا کام دیا اور شاید ہی کوئی فرمانروا ایسا گزرا ہو جو عدل پرور نہ رہا ہو، فخرِ مدبر کا بیان ہے کہ قطب الدین ایبک نے سخاوت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اور عدل میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تقلید کرنے کی کوشش کی، حضرت بختیار کاکی کے ملفوظات فوائدالسالکین میں ہے کہ ایلتتمش کی طرف سے عام اجازت تھی کہ جو لوگ بھی فاقہ کرتے ہوں اس کے پاس لائے جائیں اور جب وہ آتے تو ان میں سے ہر ایک کو کچھ نہ کچھ دیتا اور ان کو قسمیں دے کر تلقین کرتا کہ جب ان کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہ رہے یا ان پر کوئی ظلم کرنے تو وہ یہاں آکر عدل و انصاف کی زنجیر جو باہر لٹکی ہوئی ہے ہلائیں تاکہ وہ ان کے ساتھ انصاف کرسکے ورنہ قیامت کے روز ان کی فریاد کا بار اس کی طاقت برداشت نہ کرسکے گی، غیاث الدین بلبن کے بارے میں مولانا ضیاؤالدین برنی نے لکھا ہے کہ وہ داددہی اور انصاف پروری میں بھائیوں، لڑکوں اور مقربوں کا مطلق لحاظ نہ کرتا اور جب تک مظلوم کے ساتھ انصاف نہ کرلیتا اس کے دل کو آرام نہ پہنچتا، انصاف کرتے وقت اس کی نظر اس پر نہ ہوتی کہ ظلم کرنے والا اس کا حامی و مددگار ہے، اس کے لڑکے، اعزہ، مخصوصین، والی اور مقطع اس کی عدل پروری سے واقف تھے، اس لئے کسی کی بھی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ کسی کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی کریں، اس کے عدل و انصاف کے قصے بہت مشہور ہیں، خود اس زمانہ کے ہندوؤں نے اس کی حکومت کو دل کھول کر سراہا ہے، 1337بکرمی مطابق 1285 کا ایک سنسکرت کتبہ پالم میں ملا ہے جس میں لکھا ہے کہ بلبن کی سلطنت میں آسودہ حالی ہے، اس کی بڑی اور اچھی حکومت میں غور سے غزنہ اور ڈراوڈ سے رامیشورم تک ہر جگہ زمین پر بہار ہی بہار کی دل آویزی ہے، اس کی فوجیوں نے ایسا امن و امان قائم کیا ہے جو ہر شخص کو حاصل ہے، سلطان اپنی رعایا کی خبر گیری ایسی اچھی کرتا ہے کہ خود وشنو دنیا کی فکر میں آزاد ہوکر دودھ کے سمندر میں جاکر سو رہے ہیں، امیر خسرو علاؤالدین خجلی کے بارے میں خزائن الفتوح میں لکھتے ہیں کہ اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایسا عدل قائم کر رکھا ہے اور عوام کے معاملات میں والمتنصر باللہ اور المستعصم بنا ہوا ہے، محمد بن تغلق کے بارے میں سلاطین دہلی اور مغل بادشاہ کے دور کے مؤرخین لکھتے ہیں کہ وہ عدل نوازی کے سلسلہ میں مشائخ اور علما کی بھی رو رعایت نہ کرتا وہ اگر مجرم ہوتے تو ان کو بھی بلا تامل سزائیں دیتا، مسالک الاصبار میں ہے کہ سلطان ہفتہ میں ہر شنبہ کو دربارِ عام منعقد کرتا اور اس کے افتتاح کے موقع پر ایک نقیب بلند آواز سے پکارتا کہ مظلومین اپنی فریاد سنائیں اہلِ حاجت اپنی ضرورتیں پیش کریں جس کو کوئی شکایت ہو یا جو حاجت مند ہو وہ حاضرِ حضور ہو جائے، نقیب کے خاموش ہوتے ہی اہلِ غرض بلا تکلف سامنے آجاتے اور سامنے کھڑے ہوکر نہایت صفائی سے حالات بیان کرتے، اثنائے بیان میں کسی کو کسی کے روکنے کی مجال نہ تھی، تاریخِ مبارک شاہی اور ملا عبدالقادر بدایونی کی منتخب التواریخ دونوں سلطان ان مفتیوں سے مشورے کرتا اور ان کو تنبیہ کر رکھی تھی کہ اگر کوئی معصوم ان کے فیصلہ کی بدولت تہ تیغ ہوا تو اس کا خون ناحق ان کی گردن پر ہوگا، اس لئے مفتیوں سے کوئی فروگذاشت نہ ہوتی، موجودہ دور کے ہندو مؤرخین بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں کہ فیروز شاہ کی حکومت عدل و انصاف کی حکومت تھی کسی شخص کو بھی دوسرے پر ظلم و تعدی کرنے کا حق نہ تھا، تمام ملک میں مکمل امن و سکون تھا، چیزوں کی فراوانی تھی، اعلیٰ و ادنیٰ ہر طبقہ کے لوگ مطمئن تھے، عام رعایا قانع اور دولت مند ہوگئی تھی۔
سلاطین دہلی کی حکومت میں عدل وپروری کی جو روایت قائم ہوئی اس کو مغل بادشاہوں نے اور بھی شاندار طریقہ پر برقرار رکھا، بابر نے اپنی تزک میں خود لکھا ہے کہ اس کی فوج بھیرہ سے گزر رہی تھی تو اس کو معلوم ہوا کہ سپاہیوں نے بھیرہ والوں کو ستایا ہے اور ان پر ہاتھ ڈالا ہے تو فوراً ان سپاہیوں کو گرفتار کرکے بعض کو سزائے موت کا حکم دیا اور بعض کی ناکیں کٹواکر تشہیر کرایا، ابوالفضل کا بیان ہے کہ اکبر نے روزانہ ایک خاص وقت انصاف کے لئے مقرر کر رکھا تھا، جہانگیر اور بھی سخت تھا وہ دو گھنٹے روزانہ عوام کی شکایتیں سنتا، اس نے تو اپنے محل میں ایک زنجیر لگا رکھی تھی تاکہ ہر شخص کسی روک ٹوک کے بغیر براہ راست اس سے فریاد کرسکے وہ سفر میں بھی ہوتا تو روزانہ تین گھنٹے بیٹھ کر فریاد سنتا اور ظالموں کو سزا دیتا تھا، علالت کے زمانہ میں بھی اس کا یہ معمول جاری رہتا اس نے اپنی تزک میں لکھا ہے۔
بہر نگہبانی خلقِ خدا
شب نکنم دیدۂ بخواب و شنا
از پئے آسودگی جملہ تن
رنج بستدم بہ تن خویشتن
وہ تو نور جہاں کو بھی ایک عورت کے شوہر کو ہلاک کرنے پر موت کی سزا دینے کے لئے تیار ہوگیا تھا جیسا کہ مولانا شبلی کی نظم عدل جہانگیری سے ظاہر ہوگا، مغل بادشاہوں کا یہ دستور تھا کہ وہ دیوانِ عام میں عوام کی شکایتیں سنتے جہاں ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی ان کے پاس آسانی سے پہنچ سکتا تھا جو بھی چاہتا دربارِ عام کے سامنے حاضر ہوکر خود اپنا استغاثہ پیش کردیتا دربار کے عہدیدار اس کو لے کر بادشاہ کے سامنے پیش کردیتے، بادشاہ اس کو پڑھوا کر سنتا، مدعی سے جرح کرتا اور پھر مناست کارروائی کے لئے فیصلہ صادر کردیتا، اگر مجرم کوئی بڑا عہدیدار بادشاہی خاندان کا بھی ہوتا تو اس کو سزائیں دینے میں تامل نہ کیا جاتا، شاہ جہاں نے گجرات کے ناظم حافظ محمد نصیر کو حبس دوام کی سازا اس لئے دی کہ وہاں کے تاجروں کے ساتھ وہ ظالمانہ طریقہ پر پیش آتا تھا، اسی طرح ایک بار بنگال کے ناظم فدائی خاں کو اس کے عہدہ سے برطرف محض اس لئے کردیا کہ عوام اس کے شاکی تھے، اورنگ زیب کے ناقدین بھی اس پر یہ الزام نہیں رکھ سکتے کہ وہ عدل پرور نہیں تھا، اس نے شاہ جہاں کو اس کی معزولی کے بعد ایک رقعہ میں لکھا کہ خداوند تعالیٰ اسی کو کچھ عطا کرتا ہے جس میں رعایا کی حالت سدھارنے اور ان کی حافظہ کی صلاحیت ہوتی ہے حکمرانی کے معنیٰ لوگوں کی نگہبانی ہے، نہ کہ تن پروری اور عیاشی اور اسی عدل پروری کا نتیجہ تھا کہ جو سلاطین مذہبی ہوتے، انہوں نے جزیہ یا نئے مندر کے بننے اور نہ بننے کا سوال تو اٹھایا لیکن یہاں کے غیر مسلموں پر اپنا مذہب زبردستی لادنے کی کوشش نہیں کی، وہ خود تو اسلام کے محافظ اور نگہبان ضرور رہے اور مسلمانوں کو بھی اوامر و نواہی کی پابندی کرانے کی کوشش کی لیکن کبھی اپنی غیر مسلم رعایا کے مذہبی عقائد میں مداخلت نہیں کی اور ان کی معاشرتی زندگی کو درہم برہم نہیں کیا، اکبر نے انسان دوستی کے جذبہ سے ستی کے رسم کو روکنے کی کوشش کی، کمسن، بیواؤں کے رواج کو بھی ختم کردینا چاہا، بچپن کی شادی کے خلاف بھی کچھ عملی کارروائی کی لیکن اپنی ہمدردانہ خواہشوں کو کبھی تلوار کی نوک سے عمل میں نہیں لایا، بعض فرمانرواؤں پر جبری تبلیغ کا الزام عائد کیا جاتا ہے لیکن نئی تحقیقات سے یہ الزامات زیادہ تر بے بنیاد ثابت ہورہے ہیں، ہندو مؤرخین لکھتے ہیں کہ یوپی، چھ سو سال تک مسلمانوں کے زیر نگین رہا لیکن یہاں مسلمان صرف چودہ فیصدی ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندو مذہب محفوظ رہا اور جبری اشاعت اسلام نہیں ہوئی اور ہندوؤں کو زبوں حال نہیں بنا گیا، تمام سلاطین اچھی طرح سمجھ گئے تھے کہ ان کا سیاسی مفاد اسی میں ہے کہ یہاں کے لوگوں کے مذہبی اور معاشرتی نظام میں مداخلت نہ کریں، اس رواداری کے بغیر ان کی حکومت زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکتی تھی، صوفیۂ کرام نے خدمتِ خلق اللہ اور عدل پروری کی جو تعلیم دی اور خود یہاں کے غیر مسلموں کے ساتھ ان کا جو کریمانہ اور روادارانہ اخلاق رہا، اس سے سلاطین کو مزید تقویت پہنچی۔
سلاطین کی مدح سرائی :- اب تک سلاطین کے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے وہ ممکن ہے کہ محض جابندارانہ مدح سرائی سمجھی جائے اور انگریزوں اور ان کے ہمنوا مؤرخوں کی تاریخ پڑھنے والوں پر یہ گراں گذرے لیکن یہ ملحوط رکھنا چاہئے کہ جن سلاطین کا ذکر اور پر کی سطروں میں کیا گیا ہے وہ مسلمانوں کے دورِ عروج کے اچھے حکمراں تھے اگر ان میں واقعی یہ خوبیاں نہ ہوتیں تو خون سے ہولی کھیلنے والے ہتھیلی پر سر رکھ کر لڑنے والے اپنے سینوں کو نوکِ شمشیر اور نوکِ سنان سے چھلنی کرنے والے راجپوتوں کی سرزمین میں ان کا اور ان کے ہم مذہبوں کا قدم جمنا آسان نہ تھا، اس لئے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مسلمانوں کی حکومت کے دورِ عروج میں زیادہ ترا چھے حکمراں گذرے۔
مملوک سلاطین میں آرام شاہ، رکن الدین فیروز شاہ، معزالدین بہرام شاہ، علاؤالدین مسعود شاہ اور کیقباد جیسے بے جان حکمراں بھی گذرے لیکن اسی خاندان میں ایلتتمش کی نیک نفسی اور انتظامی کارگردگی، بلبن کے جاہ و جلال اور عدل گستری کی بدولت حکومت کو غیر معمولی قوت حاصل ہوئی، خلجی سلاطین کے عہد میں قطب الدین مبارک شاہ جیسا رند اور ناصرالدین خسرو جیسا مفسد حکمراں بھی ہوا لیکن ان کے عہد کی بدعنوانیاں اور کمزوریاں ان کے پیشرو سلطان علاؤالدین خلجی کو نبرد آزمائی اور رعایاپروری سے دب کر رہ گئیں، ان کے خاندان کو تو ان سے نقصان پہنچا لیکن حکومت برقرار رہی، غیاث الدین کی مردانگی اور فرزانگی، محمد بن تغلق کی بلند حوصلگی اور الوالعزمی اور فیروز شاہ کی غیر معمولی رحم دلی اور رعیت نوازی سے جو قوت بنی اس کے سہارے ان کے کمزور جانشین کچھ عرصہ تک حکومت کرتے رہے، ابراہیم لودی کو اپنی کمزوریوں کا نتیجہ بھگتنا پڑا، ان میں سے اچھے سلاطین کی اچھائیوں کا ذکر کرنے میں جس طرح منہاج سراج (مؤلف طبقات ناصری) مولانا ضیاؤالدین برنی (صاحبِ تاریخ فیروز شاہی) اور شمس سراج عفیف (کاتب تاریخ فیروز شاہی) نے فیاضی سے کام لیا ہے، اسی طرح موجودہ دور کے ہندو مؤرخین میں کے ایس لعل نے اپنی تاریخ ہسٹری آف دی خلجیز، ڈاکٹر ایشوری پرشاد نے ہسٹری آف قرونہ ٹرکس اور ڈاکٹر ایشور ٹوپا نے پولی ٹکس ان پر موغل ٹائمس میں قابلِ قدر سلاطین کی خوبیاں بیان کرنے میں بخل سے کام نہیں لیا ہے۔
مغل خاندان کے پہلے چھ بادشاہوں کے حربی، سیاسی، اقتصادی اور تمدنی کارنامے اتنے شاندار ہیں کہ اس خاندان کے آخری 13 نا اہل اور نالائق حکمراں ان ہی شاندار کارناموں کی بدولت ڈیڑھ سو برس تک تخت و تاج کے مالک بنے رہے اور جس طرح نظام الدین بخشی نے طبقاتِ اکبری، ابوالفضل نے اکبر نامہ، مستعد خاں نے اقبال نامہ جہانگیری، ملا عبدالحمید لاہوری نے بادشاہ نامہ لکھ کر مغل بادشاہوں کے قابلِ قدر حکمرانوں کی مدح سرائی کی ہے، اسی طرح موجودہ دور کے ہندو مؤرخوں میں ڈاکٹر رام پرشاد ترپاٹھی نے رائز آف دی موغل امپائر، ڈاکٹر بینی پرشاد نے ہسٹر آف جہانگیر اور بنارسی پرشاد نے ہسٹری آف شاہ جہاں لکھ کر اپنے اپنے نقطۂ نظر سے ان حکمرانوں کو خراج تحسین ادا کیا ہے، البتہ عالمگیر کی تعریف و توصیف میں جس طرح عالمگیرنامہ کے مصنف کاظم شیرازی کا قلم چلا ہے، اس طرح سر جدو ناتھ، سرکار کا نہیں چل سکا ہے لیکن اس بادشاہ کے عظیم المرتبت ہونے کی یہ دلیل کافی ہے کہ سر جدو ناتھ سرکار جیسے دیدہ ور مؤرخ نے اس بادشاہ کی تاریخ لکھنے میں بیس برس کی مدت گذاری اور بڑی کدو کاوش کے بعد اس کی تاریخ پانچ جلدوں میں مرتب کی، آج تک کسی نا اہل بادشاہ کی تاریخ اتنی جلدوں میں نہیں لکھی گئی۔
مغل خاندان کے پہلے چھ حکمرانوں کی تاریخ لکھنے میں مؤرخین کے قلم میں جو رنگینی اور توانائی پائی جاتی ہے وہ ان کے جانشینوں کے عہد کے مؤرخوں میں نہیں پائی جاتی ہے، اس لئے اچھے سلاطین کا مطالعہ خواہ کتنے ہی تعصب کے ساتھ کیا جائے اچھے ہی رہیں گے، اس لئے ان کی اچھائیوں کے ذکر میں قلم خوامخواہ رقص کرنے لگتا ہے۔
اچھی معاشرت :- اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کے دورِ عروج میں بھی سلاطین جانشینی کی لڑائیوں میں ایک دوسرے کا خون بہاتے رہے، بعض شہزادے قتل کئے گئے، بعض کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری گئیں، بعض قید خانے میں ایڑیاں رگڑتے رہے، اسی طرح امرا میں بھی باہمی رقابت رہی، سازشوں کے ذریعہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے رہے، ان کی وجہ سے جابجا بغاوتیں بھی ہوتی رہیں جن سے کبھی حکومت کی مرکزیت خطرے میں پڑجاتی، لیکن ان بدعنوانیوں کے باوجود مجموعی حیثیت سے مسلمانوں کی معاشرت کا سانچہ اور ڈھانچہ بہت زیادہ بگڑنے کے بجائے بنیادی طور پر مضبوط اور مستحکم رہا، اسی لئے اچھی معاشرت کی بدولت اچھے سلاطین پید اہوتے رہے جو برے حکمرانوں کی لائی ہوئی برائیوں کا کفارہ بن جاتے۔
اچھی معاشرت کے معمار صوفیۂ کرام :- اور یہ حقیقت ہے کہ اچھی معاشرت اچھے صلحا اور صوفیہ کے طفیل میں ہی بنتی رہی۔
اکابرِ صوفیہ انابت، عبادت اور ریاضتِ شاقہ کے بعد تمکین و تلوین، مجاہدہ و مشاہدہ کی منزلیں طے کرکے اور عالمِ ملکوت و جبروت و لاہوت کی دولت سمیٹ کرکے خانقاہوں میں رشد و ہدایت کے لئے بیٹھ جاتے تو ان کی ذات تجلیٔ ربانی و روحانی کی ایک شمع بن جاتی اور لوگ پروانہ وار ان کے ارد گرد جمع ہوجاتے اور لوگوں کے اخلاق و سیرت کو اپنے اعلیٰ کردار کے عملی نمونے سے سنوارنے کی کوشش کرتے اور تسلیم کرنا پڑے گا کہ مسلمانوں کے اعلیٰ اخلاق کی تعلیم کا مرکز علما کا حلقۂ درس و تدریس یا ان کا مسکن نہیں رہا اور نہ سلاطین کے درباروں میں اس کے جلوے دکھائی دیئے بلکہ مسلمانوں کے اخلاقِ حمیدہ کی تعلیم صوفیۂ کرام کی خانقاہوں ہی میں ہوئی اور جب یہاں کے غیر مسلم باشندے مسلمان حکمرانوں کی تلوار کو اسلام کی تلوار سمجھ کر اسلام سے آزردہ اور خوف زدہ ہورہے تھے تو ان فقر و فاقہ والے بزرگوں کے تزکیۂ باطن اور تہذیبِ نفس کو دیکھ کر ان کے دلوں پر اسلام کی سچی عظمت اور شوکت قائم ہوئی۔
کرامات :- ان بزرگانِ دین کے حالاتِ زندگی ایسے لکھے نہیں گئے جیسے ہونے چاہئیں اور جو حالات کے معاصر تذکروں میں لکھے گئے ان کو پڑھ کر آج کل کے کچھ لوگوں کو ان کی زندگی صرف کرامتوں میں گھری ہوئی معلوم ہوتی ہے، اس میں شک نہیں کہ ان سے کرامتیں صادر ہوتی رہیں، ہندوستان کے سریع الاعتقاد لوگ سادھوؤں، رشیوں اور منیوں کے خوارقِ عادات سے کچھ ایسے متاثر تھے کہ ان بزرگوں کو بھی کرامتوں کے ذریعہ تسخیرِ قلوب کرنا پڑا لیکن ان کے یہاں اظہارِ کرامت کوئی اہم چیز نہیں، چشتیہ سلسلہ میں راہِ سلوک کے پندرہ درجے مقرر ہیں، ان میں پانچواں درجہ کشف و کرامات کا ہے، اس درجے کے حاصل ہونے کے بعد سالک کشف و کرامات کے ذریعہ اپنی ذات کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے اظہار سے وہ بقیہ درجات سے محروم ہوجاتا ہے، اسی لئے حضرت بابا گنج شکر نے خواجگانِ چشت کے مسلک کے مطابق صوفی کو کشف و کرامات کے اظہار سے منع کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ اس کا اظہار کرنا پست حوصلہ والوں کا کام ہے، اس سےنفس میں تکبر پیدا ہوتا ہے، حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا نے بھی کرامت کے اظہار کی ممانعت سختی سے کی ہے اور اپنے ملفوظات میں یہ بیان کیا ہے کہ ایک بار خواجہ ابوالحسن نوائی دجلہ کے کنارے پہنچے تو دیکھا کہ ایک ماہی گیر دریا میں جال ڈال رہا ہے، خواجہ ابوالحسن نوائی نے ماہی گیر کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اگر میں صاحبِ ولایت و کرامت ہوں گا تو تمہارے جال میں کہنے سے ڈھائی من وزن کی ایک مچھلی پھنسے گی اور مچھلی ٹھیک اسی وزن کی ہوگی، نہ کم نہ زیادہ، ان کے کہنے کے مطابق واقعی اس وزن کی مچھلی پھنس گئی، اس کی خبر شیخ جنید قدس سرہٗ کو ہوئی تو انہوں نے فرمایا، کاش اس جال میں ایک مار سیاہ پھنستا اور ابوالحسن کو کاٹ لیتا کہ وہ ہلاک ہوجاتے، لوگوں نے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں فرماتے ہیں، جواب دیا کہ اگر سانپ ان کو کاٹ لیتا تو وہ شہید ہوجاتے لیکن اپنی کرامت کے بعد زندہ رہے تو یہ دیکھنا پڑے گا کہ ان کا خاتمہ کس طرح ہوا۔
اصلی کرامت :- ان بزرگانِ دین کی اصلی کرامت ان کی نفس کشی تھی، ان کا قول تھا کہ دریا کی سطح پر چلنا، آگ میں کود کر زندہ نکل آنا، پہاڑ کو ناخن سے کھود کھود کر گرا دینا آسان ہے لیکن نفس کو قابو میں رکھنا آسان نہیں، اسی لئے وہ نفس کشی کے لئے ہر قسم کا مجاہدہ کرتے حضرت خواجہ معین الدین رات کو کم سوتے اور بالعموم عشا کے وضو سے فجر کی نماز ادا کرتے، عبرت حاصل کرنے کے لئے قبرستان میں قیام فرماتے، حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی جس برس تک رات کو اطمینان سے نہ سوئے اور نہ زمین سے پیٹھ لگائی، حضرت بابا گنج شکر عالمِ تفکر میں ایک عرصۂ دراز تک کھڑے رہے، مطلق نہ بیٹھے، ان کے پاؤں سوج گئے تھے اور ان سے خون بہتا تھا، اس درمیان ان کو یاد نہیں کہ انہوں نے کچھ کھایا ہو، حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا صائم الدہر رہے، صرف افطار اور سحر کے وقت آدھی یا زیادہ سے زیادہ ایک روٹی سبزی یا تلخ کریلہ کے ساتھ کھاتے لیکن کبھی کسی لقمہ میں لذت محسوس ہوتی تو اس کو منہ سے نکال کر دسترخوان پر ڈال دیتے تاکہ کام و دہن لذت آنا نہ ہونے پائیں، اسی لئے ان کے دسترخوان سے ادچبے نوالے بھی پائے جاتے، وہ تمام رات عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے اور ان پر غیر معمولی کیفیت و مستی اور بیخودی و وارفتگی طاری رہتی، صبح ہوتی تو شغل باطن سے آنکھیں سرخ رہتیں، حضرت شرف الدین یحییٰ منیری اپنی ابتدائی ریاضت کے زمانے میں کھانے پینے سے پرہیز کرتے، جب کبھی ان پر اشتہا کا غلبہ ہوتا تو درخت کی پتیاں کھا کر بھوک کی شدت رفع کر لیتے، حضرت نصیرالدین چراغ دہلوی اپنے مجاہدے میں دس دس روز تک کچھ نہ کھاتے اور جب خواہشات کا غلبہ ہوتا تو لیموں کا عرق پی لیتے۔
ان بزرگوں کے یہاں فقروفاقہ کی بڑی اہمیت تھی، ان کا خیال تھا کہ فقروفاقہ سے نفس میں افتادگی اور دل میں عاجزی پیدا ہوتی ہے، اگر چہ بھوک سے جسم بلا میں مبتلا ہوجاتا ہے لیکن دل کو روشنی اور جان کو صفائی حاصل ہوتی ہے، کھانےسے گناہوں کا مادہ بڑھتا ہے اور فاقہ سے سب اطاعتوں کی اصل ملتی ہے اور سب سے بڑھ کر اسی سے نفس کشی ہوتی ہے، اس نفس کشی کے ذریعہ سے صوفیہ کوشش کرتے کہ ان میں حضرت آدم کی توبہ، حضرت ادریس کی عبادت، حضرت عیسیٰ کا زہد، حضرت ایوب کی رضا، حضرت یعقوب کی قناعت، حضرت یونس کا مجاہدہ، حضرت یوسف کا صدق، حضرت شیعب کا تفکر، حضرت نوح کا اخلاص، حضرت ابراہیم کا شکر اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا ہوجائے اور جب ان کو یہ چیزیں حاصل ہوجاتیں تو وہ رشدوہدایت کی مسند پر جلوہ افروز ہوتے اور ایک طرف سلاطین کا تخت و تاج ہوتا تو دوسری طرف کی فقیری کے جلوہ ہائے صدرنگ ہوتے، بادشاہوں کے درباروں میں جاہ، حشمت، دولت، ثروت اور رتبہ ملتا لیکن ان فقیروں کے درباروں میں توحید، ایمان، طہارت، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، تواضع، اخلاص، قناعت ، صدق و صفا، محبت رسول، خدمتِ خلق اللہ ، حلم و عفو، حقوقِ ہمسایہ محبت و مودت وغیرہ کی اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم ملتی رہی۔
سلاطین اور صوفیہ کی زندگی کا تفاوت :- دونوں اپنے اپنے حلقے کے حکمراں تھے لیکن ان دنیاوی اور روحانی حکمرانوں کی زندگی میں بڑا تفاوت تھا، سلاطین کے لباس و پوشاک میں بڑی نمایش ہوتی ان کے تاج، قبا اور پٹکے میں اس طرح آویزاں ہوتے کہ پٹکے کی چمک کمر تک، قبا کی گلے تک اور تارج کی سر تک ہوتی، ان کی بعض پوشاک میں جو بڑے چوڑے زردوزی کا کام ہوتا گلے پر جو کام کیا جاتا وہ جوہرات سے سجایا جاتا اور اس میں یاقوت اور ہیرے ٹانکے جاتے اور بعض لباس میں اس قدر جواہرات ٹکے ہوتے تھے کہ کپڑے کا رنگ نظر نہیں آتا تھا۔
سلطان غیاث الدین بلبن کے دربار میں منقش فرش بچھایا جاتا، زربفت کے پردے لٹکائے جاتے، چاندی اور سونے کے برتن رکھے جاتے، جن میں میوے، شربت اور پان رکھ کر اہلِ مجلس کی تواضع کی جاتی تھی، سلطان معزالدین کیقباد نے ایک سال جشنِ نو روز منایا تو اس موقع پر زربفت، اطلس، یاقوت، زری کے کام اور دوسرے قیمتی کپڑوں کی نمایش سے دربار کو جنت بنا دیا، جمنا کے بیچ میں زر و جواہر سے ایک مصنوعی چمن بنایا گیا تھا، محل کے درودیوار اور فرش و فروش سونے اور موتیوں سے ایسے آراستہ کئے گئے تھے کہ فردوسِ بریں کا دھوکہ ہوتا تھا، مسالک الابصار کے مصنف کا بیان ہے کہ جو شان و شوکت، جاہ و جلال اور کروفر سکندر ذوالقرنین اور ملک شاہ بن الپ ارسلان کے دربار میں تھا، وہی محمد بن تغلق کے دربار میں نظر آتا تھا لیکن ان بادشاہوں کے اسی دارالسلطنت میں اکابر صوفیہ کی خانقاہوں میں بوریا کے سوا کچھ نہ تھا، ان کے کپڑے پھٹ جاتے تو پیوند لگا دیتے، بعض اوقات ناداری کی وجہ سے پیوند بھی نہیں لگا سکتے تھے، حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے فقیرانہ لباس میں دوہرا بخیہ ہوتا تھا، اگر وہ پھٹ جاتو تو جس رنگ کا کپڑا مل جاتا اسی کا پیوند لگا لیا کرتے تھے، اسی پر ان کے سلسلہ کے تمام بزرگوں کا عمل رہا، حضرت فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے کپڑے پھٹ جاتے تو بھی علٰحدہ نہ کرتے تھے، ایک بار کرتہ بہت ہی بوسیدہ ہوگیا تھا، ایک شخص نے نیا کرتہ نذر کیا، ترتہ پہن تو لیا لیکن فرمایا جو ذوق مجھ کو اس پرانے کرتہ میں حاصل تھا، اس نئے کرتہ میں نہیں ہے جس کمبل پر دن کو بیٹھتے، اسی کو رات کے وقت اپنا بسترِ استراحت بناتے، حضرت نصیرالدین چراغ دہلوی کے ملفوظات میں ہے کہ کوئی دنیادار ان سے ملنے آتا تو وہ شیخ کا جبہ پہن کر بیٹھ جاتے اور جب وہ چلا جاتا تو کھار دے کر لباس پہن لیتے، شیخ کا جبہ پہن کر لوگوں سے اپنے فقر کو پوشیدہ رکھتے تھے۔
حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ کے مشہور خلیفہ حضرت برہان الدین غریب رحمۃ اللہ علیہ بڑے نحیف و منحنی تھے، مرشد سے تعلیم و تربیت پانے کے زمانے میں ایک بار ان کے دونوں زانوؤں میں درد رہنے لگا تھا، اس لئے کمبل کو دوتہ کرکے اس پر بیٹھے تھے، حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ کو اس کی خبر ہوئی تو ان کی یہ تن آسانی ان کو پسند نہ آئی اور جب حضرت برہان الدین غریب حضرت خواجہ کی خانقاہ میں آکر جماعت خانہ میں آئے تو حضرت خواجہ نے کہلا بھیجا کہ وہ جماعت خانہ میں نہ بیٹھیں، حضرت برہان الدین غریب رحمۃ اللہ علیہ گھر جاکر سوگ میں بیٹھ گئے اور برابر روتے رہتے، ان کی تعزیت کے لئے لوگ آتے تو ان کے ساتھ وہ بھی روتے، بالآخر حضرت امیر خسرو بیچ میں پڑے اور وہ حضرت برہان الدین غریب رحمۃ اللہ علیہ کو ان کی دستار ان کی گردن میں ڈال کر حضرت خواجہ کے پاس لے گئے تو انہوں نے تقصیر معاف کی اور تجدید بیعت سے مشرف کیا، اس زمانہ میں محل میں کوئی دعوت ہوتی تو دسترخوان پر ایک ہزار سے زیادہ قسموں کے کھانے ہوتے، شربت قند کے سیکڑوں پیالے رکھے رہتے، منہ کا مزہ بدلنے کے لئے شربت گلاب بھی ہوتا، انواع و اقسام کے حلوے ہوتے، روٹیوں میں نانِ تنک، کاک اور سنبو وغیرہ کی کئی قسمیں ہوتیں، پلاؤ کے بھی کئی اقسام ہوتے، کسی میں گوشت، کسی میں خرمہ اور کسی میں انگور پڑا ہوتا، بکرے، دنبے، بیڑ، تیتر، تیہو اور چرز کے قورمے اور کباب ہوتے، کھانے کے بعد نبیذ کا بھی دور چلتا لیکن معاصر اکابر صوفیہ کے گھروں اور خانقاہوں میں ان مادی آلایشوں کے بجائے فقروفاقہ، تنگی، عسرت اور ناداری کے سوا کچھ نہ ہوتا، سلطان شمس الدین ایلتتمش کے مرشد حضرت خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے گھر میں برابر فاقہ رہتا، جب کئی فاقوں کی نوبت آجاتی تو ان کی حرم محترم پڑوس کے بقال کی بیوی سے ایک ٹنکہ یا ایک بہلول قرض لے کر خوردونوش کا انتظام کرتیں، جب کہیں سے کچھ میسر ہوتا تھا تو قرض ادا کر دیا جاتا تھا۔
تفاوت :- حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ کے زمانہ میں ایک چیتل میں دو سیر آٹا ملتا تھا لیکن پھر بھی شروع زندگی میں ان کے پاس اتنے دام نہ ہوتے تھے کہ روٹی کے لئے آٹا خرید سکیں، کئی کئی روز کا فاقہ ہوجاتا، ایک بار مسلسل تین روز کا فاقہ ہوگیا تو دروازہ پر دستک دی گئی اور ایک شخص خشک کھچڑی دے کر غائب ہوگیا، حضرت خواجہ نے بھوک کی شدت میں اس کو کھا لیا اور اس کو کھا کر جو لذت محسوس کی اس کا ذکر آئندہ بار بار فرماتے اور کہتے تھے کہ پر کسی کھانے میں ایسی حلاوت محسوس نہیں ہوئی جب گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہ ہوتی تھی تو ان کی والدہ ماجدہ کہا کرتیں کہ آج ہم لوگ خداوند تعالیٰ کے مہمان ہیں، حضرت خواجہ کو اس جملہ سے بڑی لذت ملتی اور جب ان کے گھر میں آذوقہ ہوتا تو وہ افسوس کرتے کہ ان کی والدہ ماجدہ کی زبان پر وہ جملہ نہ ہوگا۔
بعض سلاطین و امرا کے غیظ و غضب اور غصہ و کینہ پروری کی بہت بڑی مثالیں ملتی ہیں، مثلاً سلطان ناصرالدین محمود کے عہد میں عمادالدین ریحان، سنقار اور انع خاں میں بڑی معاصرانہ چشمک رہی، ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے اور حصول اقتدار کی خاطر فوجیں جمع کرکے میدانِ جنگ میں بھی اتر آتے تھے، بلبن کے عہد میں لکھنوتی میں طغرل نے بغاوت کی تو اس کی سرکوبی کرکے اس کے رشتہ داروں اور ساتھیوں کو تہ تیغ کیا گیا اور ان کے سروں کو سرِ بازار لٹکا کر وہاں کے لوگوں کے دلوں میں ہشت پیدا کی گئی، علاؤالدین خلجی تختِ نشیں ہوا تو اس نے جلال الدین خلجی کے شہزادوں ارکلی خاں، ابراہم اور ان کی ماں کے خلاف تیس چالیس ہزار کا ایک لشکرِ جرار انع خاں اور ظفر خاں کی نگرانی میں ملتان بھیجا جنہوں نے دونوں شہزادوں اور ان کی ماں کو گرفتار کیا پھر دونوں شہزادے نابینا کردیئے گئے اور ماں قید خانہ میں ڈال دی گئی، ظفر خاں عہدِ علائی کا بہت ہی بہادر فوجی رہنما تھا، اسی وجہ سے دربار کے اور امرا اس سے حسد کرتے تھے وہ تاتاریوں کے خلاف لڑتا ہوا محض اس لئے مارا گیا کہ باہمی چشمک میں اور فوجی امرا اس کی مدد کو نہ پہنچ سکے، علاؤالدین خلجی رن تنبھور کی مہم میں جارہا تھا تو تلپت کے پاس اس کے بھتیجے اکت خان نے اس پر قاتلانہ حملہ کیا اور وہ ہلاک ہوتے ہوئے بچا، اس نے اشتعال میں آکر اکت خاں اور اس کے ساتھیوں کو تہِ تیغ کرا دیا، وہ رن تنبھور کی مہم میں تھا کہ اس کی عدم موجودگی سے فائدہ اٹھا کر فخرالدین کوتوال کے لڑکے حاجی مولہ نے علم بغاوت بند کردیا اور ایک سید کو تخت پر بٹھایا، علاؤالدین خلجی نے اپنے فوجی سرداروں کو بھیج کر یہ بغاوت فرو کرائی، حاجی مولہ اور سید کے ساتھ فخرالدین کوتوال کے اور لڑکے بھی موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔
اسی زمانہ میں صوفیۂ کرام نے حلم و بردباری کے جو نمونے پیش کئے وہ اپنی مثال آپ ہیں حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی ایک روز اپنی خانقاہ میں تشریف فرما تھے کہ دلق پوش قلندروں کی ایک جماعت پہنچی اور ان سے مالی مدد کی خواستگار ہوئی، انہوں نے اس جماعت سے بیزاری کا اظہار فرمایا، اس پر قلندروں نے گستاخی شروع کردی اور اینٹ پتھر سے ان کو مانے لگے، حضرت بہاؤالدین نے خادم سے فرمایا کہ خانقاہ کا دروازہ بند کر دو، جب دروازہ بند ہوگیا تو قلندروں نے دروازہ پر پتھر مارنے شروع کئے، حضرت بہاؤالدین نے کچھ تامل کرنے کے بعد خادم سے فرمایا دروازہ کھول دو، میں اس جگہ بٹھایا گیا ہوں، خود سے نہیں بیٹھا ہوں، خادم نے دروازہ کھول دیا، اس وقت قلندر نادم ہوئے اور اپنے قصور کی معافی چاہی، حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ خدا کی کسی مخلوق سے عناد رکھنا طریقت کے خلاف سمجھتے تھے غیاث پور کے قریب کا رہنے والا ایک شخص چھجو نامی بلا وجہ حضرت محبوبِ الٰہی رحمۃ اللہ علیہ کا دشمن ہوگیا تھا اور ایذا رسانی پر کمربستہ رہتا تھا لیکن جب اس کی وفات کی خبر ان کو ملی تو اس کے جنازہ میں شریک ہوئے اور تدفین کے بعد اس کی قبر پر دوگانہ نماز ادا کی اور اس کی مغفرت کے لئے دعائیں کیں، اگر ان کو کسی پر غصہ آتا تو نہ صرف غصہ کو پی جاتے بلکہ اس کو معاف بھی کردیتے اور فرماتے کہ جو شخص غصہ پی جاتا ہے اور معاف نہیں کرتا ہے تو ممکن ہے کہ اس کے دل میں کینہ پکڑے، فوائدالفواد میں ہے کہ ایک بار ایک شخص حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا کے پاس آیا اور ان کو گالیاں دینے لگا، وہ خاموشی سے سنتے رہے پھر اس نے جو کچھ مطالبہ کیا پورا کردیا اور جب وہ چلا گیا تو حاضرین کو مخاطب کرکے کہا کہ ایک شخص ایک مرتبہ بابا فرید کے پاس آیا اور گستاخانہ طور پر کہنے لگا تو نے اپنے کو بت بنا لیا ہے، بابا فرید نے نرمی سے جواب دیا کہ میں نے اپنے کو نہیں بنایا ہے خداوندِ تعالیٰ نے مجھ کو بنایا ہے، سیر الاؤلیا میں ہے کہ حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ کسی کو برا کہنا برا ہے لیکن برا چاہنا اس سے بھی برا ہے، فوائدالفواد میں ہے کہ حضرت خواجہ نے فرمایا کہ ایک شخص سے دوسروں کو نہ فائدہ پہنچے اور نہ نقصان تو ایسا شخص جماد کہلاتا ہے لیکن ایسے شخص سے وہ شخص بہتر ہے جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے، نقصان نہیں پہنچتا ہے لیکن ان دونوں سے وہ شخص بہتر ہے کہ اس سے دوسروں کو ہمیشہ فائدہ پہنچتا ہے لیکن لوگ اس کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں پھر بھی وہ تحمل اور حلم سے کام لیتا ہے، یہ کام صدیقوں کا ہے۔
درباری سازشوں سے سلاطین اور امرا کے جتنے قتل ہوئے، ان کی گنتی ممکن نہیں، مملوک سلاطین میں آرام شاہ، سلطانہ رضیہ، بہرام شاہ، خلجی حکمرانوں میں جلال الدین خلجی، قطب الدین مبارک خلجی اور اس خاندان کا غاصب خسرو خاں، تغلق خاندان میں سلطان ابوبکر شاہ اور خاندان سادات میں معزالدین مبارک شاہ اور لودیوں میں ابراہیم لودی تہِ تیغ ہوئے اور پھر باہمی کینہ پروری، بغض اور حسد کی وجہ سے سلاطین دہلی کے عہد میں ملک اختیارالدین اتیگین، ملک التونیہ، امیر سنقار، ملک طغرل، ملک اکت خاں، ظفرخاں اور ملک کافور وغیرہ جیسے جیل القدر امرا بھی نذر شمشیر ہوئے لیکن اسی عہد میں صوفیۂ کرام نے اپنے مخالفوں اور دشمنوں کے ساتھ جو حسنِ سلوک کیا، وہ انسانی تاریخ کی عجیب و غریب مثالیں ہیں، حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی خانقاہ میں ایک بدباطن شخص ان کو قتل کرنے کے رادہ سے آیا لیکن انہوں نے نورِ باطن سے یہ معلوم کر لیا اور اس کو اپنے پاس بلا کر کہا کہ جس ارادہ سے آئے ہو اس کو پورا کرو، یہ سن کر اس پر لرزہ طاری ہوگیا اور اس نے کہا کہ مجھ کو لالچ دے کر آپ کو ہلاک کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے، خواجہ صاحب نے اس کو یہ کہہ کر معاف کردیا کہ ہم درویشوں کا شیوہ ہے کہ ہم سے کوئی بدی بھی کرتا ہے تو ہم اس کے ساتھ نیکی سے پیش آتے ہیں۔
ایک روز حضرت نصیرالدین چراغ دہلوی نمازِ ظہر کے بعد جماعت خانہ میں آکر اپنے حجرۂ خاص میں مشغول تھے کہ ایک قلندر تراب نامی وہاں پہنچا اور ان پر چھری سے پے درپے حملے کئے، خون حجرے کے باہر بہنے لگا لیکن ان کے استغراق میں فرق نہیں آیا، خون دیکھ کر مریدین حجرے میں گئے اور قلندر کو سزا دینی چاہی لیکن حضرت چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے روکا اور اپنے مریدینِ خاص کو پاس بلا کر قسم دی کہ کوئی شخص قلندر کو ایذا نہ پہنچائے پھر قلندر سے معذرت کی کہ اگر چھریاں مارتے وقت تمہارے ہاتھ کو تکلیف پہنچی ہو تو معاف کرنا اور بیس تنکے زر دے کر اس کو رخصت کیا۔
حبِّ جاہ اور حرص اقتدار کی خاطر امرا نے بڑے بڑے نمونے پیش کئے، دہلی کی سلطنت کی تاسیس کے چار سال کے اندر قطب الدین ایبک کی وفات ہوگئی تو ناصرالدین قباچہ نے ملتان پر قبضہ کر لیا، بنگال میں علی مردان خلجی نے دہلی کے اقتدار کو تسلم کرنے سے روگردانی کی، بدایوں کے لوگ ایلتتمش کے ساتھ ہوگئے، اسی طرح ایلتتمش کی وفات کے بعد سندھ اور قباچہ پر سیف الدین قرنع حملہ آور ہوگیا، اودھ میں بغاوت ہوگئی، بنگال، بہار ملتان مرکز سے منقطع ہوگئے امرا کی بغاوتوں کو سر کرنے میں سلاطین کی جوجی، مالی اور دماغی قوتیں برابر صرف ہوتی ہیں لیکن اسی زمانے میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ اپنے مریدوں کو یہ تعلیم دے رہے تھے کہ عارف صادق وہ ہے کہ اس کی ملک میں کچھ نہ ہو اور نہ وہ کسی کی ملک ہو، عارف کا ایثار بے نیازی ہے، عارف وہ نہیں جو کسی چیز کے پیچھے پریشان ہو، حضرت بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ نے دنیا کی آلایشوں سے دور رہنے کی تلقین یہ بتا کر دی کہ حضرت بایزید بسطامی نے ستر سال تک عبادت کی مگر جب مقامِ قرب آیا تو ان کو قربت محض اس وجہ سے حاصل نہ ہوسکی کہ ان کے پاس دنیاوی آلایشوں میں مٹی کا ایک کوزہ اور چڑے کا ایک خرقہ باقی رہ گیا تھا، ان کو پھینک دیا تب یہ درجہ حاصل ہوا، حضرت فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ سالک کو رزق حاصل کرنے کے لئے پریشان خاطر نہ ہونا چاہئے، اگر وہ اس کے لئے پریشان رہتا ہے تو وہ بددین ہے۔
حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ کی خبر جلال الدین خلجی کو ہوئی تو اس نے ان کی خدمت میں یہ کہلا بھیجا کہ اگر وہ حکم دیں تو ان کے خدمت گزاروں کے لئے کچھ گاؤں نذر کئے جائیں مگر حضرت خواجہ کے فاقہ مست جاں نثاروں نے ان سے عرض کیا کہ آپ کے یہاں ہم کبھی کبھی روٹی کھا لیتے ہیں لیکن یہ گاؤں قبول کرلئے گئے تو اس کے بعد ہم آپ کے یہاں پانی پینا بھی پسند نہ کریں گے، یہ جواب سن کر حضرت خواجہ بے حمد محظوظ ہوئے، قاضی محی الدین کاشانی حضرت خواجہ کے بڑے ممتاز مرید تھے، ان کے پاس ایک جاگیر کا شاہی فرمان تھا لیکن جب حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے تو اپنی جاگیر کا شاہی فرمان مرشد کے سامنے لاکر چاک کردیا اور فقروفاقہ کی زندگی بسر کرنے لگے۔
سلاطین و امرا جب دنیاوی آلایشوں میں مبتلا ہوکر جائز و ناجائز اور حلال و حرام میں کوئی امتیاز نہ کرتے تھے تو اس وقت یہی بزرگانِ دین رضا و تسلیم، صبر و شکر، توکل و قناعت اور ذکر و فکر کے ذریعہ تزکیۂ نفس، تصفیۂ دل اور تجلیۂ روح میں لگے ہوئے تھے جن کو حاصل کرنے کے بعد وہ لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے اور ان کی حکومت سلاطین کی حکومت سے زیادہ مقبول ہوتی، وہ فوجوں کے بجائے دلوں کو ٹکرا کر ان میں ایک طوفان بپا کردیتے جس سے لوگوں کے کردار میں صفائی، اخلاق میں پاکیزگی اور روح میں بالیدگی پیدا ہوتی رہتی اور ان ہی خوبیوں میں سے بلند اخلاق اور اعلیٰ کردار بنتا اور یہ تسلیم کرنا پڑے گا مسلمان ہندوستان میں آکر مجموعی حیثیت سے اچھے اخلاق اور مستحکم کردار کا ثبوت نہ دیتے تو شاید اس زمین میں جڑ نہ پکڑ سکتے تھے بلکہ اور قوموں کی طرح یہاں کے باشندوں میں ضم ہوجاتے، کردار و اخلاق کو سنوارنے کے لئے اسلام کو باضابطہ تعلیم ضرور تھی لیکن ان کے عملی نمونے ہندوستان میں صوفیہ اور صلحا پیش کرتے رہے اور یہ کہنے میں تامل نہیں کہ شروع میں ان ہی بزرگانِ دین کے فقر سے مسلمانوں میں اخلاق کے اسرارِ جہانگری واضح ہوتے رہے، ان ہی بزرگوں کی قلندری سے مسلمانوں کو صحیح معنوں میں سیرت کی توانگری حاصل ہوتی رہی اور ان ہی کی درویشی سے مسلمانوں کے کردار کی سکندری کی راہ کھلی۔
اخلاق و کردار کے معمار :- شہاب الدین غوری کی فتح کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی اقتدار شروع ہوا، تو حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی وجہ سے ہندوستان ان کے مختلف قسم کے برکات سے مستفیض ہوا، انہوں نے صوری و معنوی اخلاق کے محاسن کی اسلامی تعلیم اپنے کردار و سیرت کے عملی نمونے سے کچھ اس طرح پیش کی کہ یہاں کے غیر مسلموں کو بھی اسلام کے جلوے ان ہی میں نظر آنے لگے اور انہوں نے اس سرزمین میں اسلام کے نور کو اس طرح پھیلا یا کہ وہ وارث النبی فی الہند کے لقب سے اب تک یاد کئے جاتے ہیں، تذکرہ نگار لکھتے ہیں کہ ان کی نظر جس فاقس پر پڑ جاتی وہ تائب ہوجاتا اور پھر کبھی کسی گناہ میں مبتلا نہ ہوتا اور انہی کی نظرِ کیمیا اثر کی وجہ سے ان کے خلفا کی ایک بڑی جماعت تیار ہوئی جو محض اپنے بلند اخلاق اور پاکیزہ صفات کی وجہ سے لوگوں پر حکومت کرتی رہی اور جب سلاطین ایک جگہ سے دوسری جگہ فوج کشی میں مشغول تھے تو یہ بوریا نشین مختلف مقامات پر پہنچ کر دلوں کی تسخیر میں لگے ہوئے تھے، حضرت خواجہ کے اکابر خلفا میں حضرت خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت حمیدالدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ کی روحانی راجدھانی دہلی تھی، شیخ حمیدالدین سوالی رحمۃ اللہ علیہ نے ناگور میں قیام کرکے اس کو اپنے روحانی جلوں سے معمور کیا، دوسرے خلفا میں شیخ وجیہ الدین، خواجہ برہان الدین، شیخ صدرالدین کرمانی، شیخ محمد ترک نارنولی، شیخ علی سنجری اور خواجہ یادگار سبزواری نے مختلف جگہوں میں جاکر لوگوں کے اخلاق و سیرت کو سنوارا اور اسلام کی شوکت قائم کی۔
مؤرخوں اور تذکرہ نگاروں دونوں کا بیان ہے کہ ایلتتمش کے عہد میں حضرت خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ شیخ حمیدالدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ، شیخ علی سنجری رحمۃ اللہ علیہ، شیخ احمد نہروالی رحمۃ اللہ علیہ، شیخ بدرالدین سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ، سید قطب الدین غزنوی، حضرت نظام الدین ابوالموید غزنوی اور شیخ محمود موینہ وغیرہ کی برکتوں سے اس عہد کے لوگوں میں خدا ترسی، تقویٰ، تزکیۂ نفس، عبادت اور ریاضت کا غیر معمولی جذبہ پیدا ہوا، بلبن کے عہد میں اتنے مشائخ اور سادات جمع ہوگئے تھے کہ مؤرخوں نے ان کے وجود کی وجہ سے اس عہد کو خیر مالا عصار لکھا ہے، حضرت بابا گنج شکر، خواجہ علی چشتی، شیخ بہاؤالدین زکریا ملتانی، ان کے صاحبزادے شیخ صدرالدین، سیدی مولہ، شیخ حسام الدین ملتانی، شیخ نجیب الدین فردوسی، ابو بکر حیدر طوسی وغیرہ کے انوار سے پوری سلطنت منور ہوگئی تھی۔
علاؤالدین خلجی کے عہد میں علما کے اجتماع سے دہلی قبۂ اسلام اور رشک مکہ و مدینہ ہوگئی تھی تو صوفیۂ کرام کے وجود سے بھی یہ شہر آراستہ تھا، مولانا ضیاؤالدین برنی کا بیان ہے کہ اس زمانہ کے مشائخ حضرت نظام الدین اؤلیا، حضرت علاؤالدین چشتی اور حضرت رکن الدین سہروردی کے انفاسِ متبرکہ سے ایک دنیا روشن ہوگئی تھی، گناہ گاروں نے ان کے ہاتھ پکڑ کر گناہوں سے توبہ کی، بدکاروں نے بدکاری سے ہاتھ اٹھایا اور ان دینی بادشاہوں کی محبت اور اخلاق کے اثر سے خداوند تعالیٰ کے فیض کی بارش دنیا میں ہونے لگی، ان بزرگوں کے وجود سے شعائر اسلام اور احکامِ شریعت کو بہت فروغ ہوا اور طریقت نے بڑی رونق پائی۔
مولانا ضیاؤالدین برنی یہ بھی لکھتے ہیں کہ کتنا عجیب زمانہ وہ تھا جو سلطان علاؤالدین کے آخری دسویں سال میں نظر آیا، ایک طرف سلطان علاؤالدین نے ملک کی بہتری کے لئے تمام نشہ آور اور ممنوع چیزوں اور فسق و فجور کے اسباب کو قہروغلبہ، تعزیر تشدد اور قید و بند سے روک دیا، مالداروں سے ان کی سود خوری، ذخیرہ اندوزی اور بغاوت کو ختم کردیا پھر بازار والوں کو جو سب سے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں سچ بولنے پر مجبور کیا، دوسری طرف اسی زمانہ میں شیخ الاسلام نظام الدین اؤلیا بیعت کا عام دروازہ کھول کر خاص و عام، غریب و دولت مند، عالم و جاہل، شہری و دیہاتی سب کو پاکی کی تعلیم دیتے تھے اور ان کی وجہ سے مرد، عورت، بوڑھے، جوان، بازاری، عامی، غلام اور نوکر سب کے سب نماز ادا کرنے لگے تھے، خواص و عوام کے دلوں نے نیکی اختیار کر لی تھی، عہد علائی کے آخری چند سالوں میں شراب، معشوق، فس و فجور، جوا اور فحاشی وغیرہ کا نام لوگوں کی زبان پر نہیں آنے پاتا، وغیرہ وغیرہ۔
حضرت نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ کا زمانہ محمد تغلق کی حکومت کے ابتدائی دور تک رہا، محمد تغلق ان سے کسبِ فیض تو نہ کرسکا لیکن جیسا کہ پہلے ذکر آیا ہے وہ چشتیہ سلسلہ کے بزرگ حضرت بابا گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے حضرت شیخ علاؤالدین کا مرید تھا، اس کے بارے میں عام طور سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے وقت کے مشائخ کو ایذائیں پہنچایا کرتا تھا، جیساکہ آگے بیان ہوگا لیکن اس کے عہد میں حضرت فخرالدین زراوی، حضرت نصیرالدین چراغ دہلوی، حضرت قطب الدین منور اور حضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ سے عوام و خواص کو بڑا فیض پہنچا، یہی بزرگ فیروز شاہی عہد میں بھی رہے، ان کے علاوہ حضرت مخدوم جہانیاں گشت رحمۃ اللہ علیہ کا اثر فیروز شاہ پر بہت تھا، ان بزرگوں کے اثرات کی وجہ سے شریعت کے احیا اور بدعات کی روک تھام میں بڑی مدد ملی، بیت المال میں غیر مشروع اور حرام مال روک دیا گیا، محل کے اندر دیواروں پر مصوری اور نقاشی ختم کردی گئی، چاندی اور سونے کے ظروف کا استعمال بند کردیا گیا، ممالک محروسہ میں جو باتیں خلافِ شرع نظر آئیں قطعاً موقوف کردی گئیں۔
عجیب توارد :- اور یہ عجیب توارد ہے کہ خواجگانِ چشت کا سلسلۃالذہب، حضرت خواجہ نصیرالدین رحمۃ اللہ علیہ کی ذات پر ختم ہوا تو سلاطینِ دہلی کا عروج بھی فیروز شاہ تغلق کے ساتھ جاتا رہا، حضرت نصیرالدین چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے مرض الموت میں مولانا زین الدین علی نے عرض کیا کہ آپ اکثر مرید اہلِ کمال ہیں کسی کو سجادہ نشیں مقرر فرمائیں تاکہ سلسلہ جاری رہے، فرمایا ان درویشوں کے نام لکھ کر لاؤ جن کو تم اس لائق سمجھتے ہو، مولانا زین الدین نے تین قسم کے دریشوں کا انتخاب کیا، اعلیٰ، اوسط اور ادنیٰ، حضرت خواجہ نے ان کے نام کو دیکھ کر فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جوا پنے دین کا غم کھائیں گے لیکن دوسروں کا بار نہ اٹھا سکیں گے، اس کے بعد وصیت فرمائی کہ دفن کرتے وقت حضرت شیخ نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ کا خرقۂ مبارک، عصا، تسبیح، کاسہ اور چوبیں نعلین ان کے ساتھ قبر میں دفن کر دیئے جائیں اور ایسا ہی کیا گیا۔
حضرت نصیرالدین چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے بعد حضرت خواجہ گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، شیخ جلال الدین تھانیسری رحمۃ اللہ علیہ، شیخ عبدالعزیز چشتی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ، شیخ سلیم چشتی دنیال چشتی، شیخ علاؤالدین مجذوب، شیخ اجودھن جونپوری رحمۃ اللہ علیہ، سید علاؤالدین مجذوب رحمۃ اللہ علیہ نے چشتیہ سلسلہ کے بزرگوں کی تعلیم تو جاری رکھی لیکن وہ اپنے پیش رو بزرگوں کی طرح ایک غیر معمولی روحانی طاقت بن کر لوگوں کے دل و دماغ پر نہ چھا سکے، گوالیار سے شطاریہ سلسلہ چلا اور خود دہلی میں حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے خلفا کے ذریعہ نقشبندیہ سلسلہ کی تعلیمات کی ترویج ہوئی لیکن عہدِ اکبری کے آتے آتے تصوف میں اتنی خرابیاں پیدا ہوگئیں کہ اس کے ذریعہ سے پہلے کی طرح روحانی تربیت و اصلاح کا کام خاطر خواہ طریقہ پر نہ ہوسکا۔
خام صوفیہ :- یہ خرابیاں اس لئے پیدا ہوئیں کہ حضرت بختیار کاکی، حضرت بابا گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ اور خواجہ نظام الدین اؤلیا جیسے جلیل القدر صوفیہ پیدا نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر خام صوفیہ پیدا ہونے لگے اور وہ تصوف کی روح سے بیگانہ ہوکر اس کے ظاہری رسوم پر زیادہ زور دینے لگے اور جب وحدالوجود کے مسئلہ میں زیادہ گرما گرمی پیدا ہوئی تو وہ اس کے اصلی رموز کو تو سمجھ نہ سکے، اتحاد و حلول کی ظاہری باتوں میں بہہ کر گمراہ ہوگئے، جیسا کہ آگے ذکر آئے گا، اسی طرح وہ اپنے سلسلہ کے بزرگوں کی اصلی تعلیمات کو بھلا کر صرف ان کے کشف و کرامات ہی کو تصوف قرار دیتے رہے، وہ سنت و شریعت کو بھول کر غیر شرعی ریاضات و مجاہدات اور غیر اسلامی احوال و مواجید کے قائل رہے، نماز و روزے کو باطن کی درستگی کے بعد غیر اہم قرار دیا، سماع کی اصلی حقیقت کو نظر انداز کرکے نغمہ اور رقص پر زیادہ زور دینے لگے پھر کبیر، رامانند اور چتن وغیرہ کی جو روحانی تحریکیں اٹھیں، تو ایک گروہ اس کا بھی قائل ہوگیا کہ رام اور رحیم دونوں ایک ہیں، دنیا کا مالک ایک ہے اس تک پہنچنے کے لئے محض اخلاص، محبت اور تلاش کی ضرورت ہے، کسی کی وساطت اور شفاعت درکار نہیں ہے، خالق مخلوق میں ہے اور مخلوق خالق میں ہے، یہ دونوں الگ الگ نہیں ہیں، یہ تحریکیں کچھ ایسی دل آویز تھیں کہ ان میں کچھ مسلمان بھی شریک ہوگئے۔
حضرت مجدد کی اصلاحی کوششیں :- حضرت مجدد نے اسی قسم کی تمام باتوں کو بدعت قرار دیا اور مسلمانوں میں ان بدعتوں کے خلاف تجدیدی اور اصلاحی تحریک شروع کی اور ایسے تصوف کو ضلالت سے تعبیر کیا جس میں شریعت کی خلاف ورزی ہوتی ہو اور ایسے احوال و کیفیات کو جو نامشروع طریقہ پر مترتب ہوں، استدراج کہا انہوں نے کسی چیز کی حلت یا حرمت کے سلسلہ میں اؤلیائے کرام کے الہام کو تسلیم کرنے سے بالکل انکار کیا، اسی طرح اربابِ باطن کے کشف کو کسی چیز کے فرض یا سنت ہونے کی دلیل قرار نہیں دیا اور صاف طور پر بتایا کہ علومِ لدنیہ کی صحت و مقبولیت کی علامت صریح علوم شرعیہ کے ساتھ ان کی مطابقت ہے، اس کے خلاف جو کچھ ہے، الحاد اور بے دینی ہے، سنت سے ہٹ کر جو ریاضتیں کی جاتی ہیں وہ صریحاً گمراہی ہے وہ اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں کہ جو کوئی جس قدر شریعت میں راسخ اور ثابت قدم ہوگا اسی قدر ہوائے نفس سے دور ہوتا جائے گا کیونکہ نفس کے لئے شریعت کے اوامر و نواہی کے بجا لانے سے زیادہ دشوار کوئی اور چیز نہیں اور صاحبِ شریعت کی پیروی کے بعد کسی خرابی کا تصور نہیں آسکتا، اسی لئے وہ ریاضتیں اور مجاہدے جو سنت کی تقلید کے سوا اختیار کئے جائیں وہ معتبر نہیں ہیں، وہ اپنے ایک مکتوب میں شیخ نظام تھانیسری کو یہ بھی لکھتے ہیں کہ جس طرح آپ کی مجلس میں تصوف کی کتابوں کا ذکر ہوتا رہتا ہے، اسی طرح فقہ کی کتابوں کا بھی ذکر ہونا چاہئے اور اگر تصوف کی کتابیں نہ پڑھی جائیں تو کوئی ہرج نہیں، کیونکہ وہ احوال سے تعلق رکھتی ہیں اور قال میں نہیں آتیں لیکن کتب فقہ کے نہ پڑھنے پر ضرر کا احتمال ہے، اللہ تعالیٰ ہم کو اور آپ کو اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی کمالِ متابعت عطا فرمائے، وہ خام صوفیوں کے سماع و نغمہ اور وجد و تواجد کی بھی مذمت کرتے رہے جیسا کہ آگے ذکر آئے گا۔
حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ نے جس طرح دین کی تجدید کی اور اکبر کے دینِ الٰہی کے فتنوں کا سدباب اپنے صلاحی اور تجدیدی کارناموں سے کیا، اسی طرح تصوف کی بھی تجدید کی، جس کو ان کے صاحبزادوں میں خواجہ محمد صادق، خواجہ محمد سعید اور عروۃ الوثقیٰ خواجہ محمد معصوم اور خلفا میں میر محمد نعمان کشمی، مولانا محمد ہاشم کشمی، خواجہ سید آدم نبوری حسینی، شیخ طاہر لاہوری، شیخ بدیع الدین سہارنپور، شیخ نور محمد پٹنی، شیخ حمید بنگالی، شیخ طاہر بدخشی، مولانا یوسف سمر قندی، مولانا احمد برکی، مولانا محمد صالح کولابی، سید محب اللہ مانکپوری رحمۃ اللہ علیہ، حاجی خضر افغان، شیخ بابا احسن ابدالی، مولانا امان اللہ لاہوری، وغیرہ نے اپنی کوششوں سے برقرار رکھا اور یہ اب علما بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ان ہی کے فیوض و برکات کی وجہ سے شاہ جہاں اور عالمگیر جہانگیر اور اکبر سے بالکل مختلف حکمراں گذرے۔
صوفیہ کا فقدان :- اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ عالمگیر کے بعد جس طرح اچھے علما کا پیدا ہونا بند ہوگیا، اسی طرح اچھے صوفیہ کا بھی فقدان ہوگیا، یہاں تک کہ میر محمد حسین رضوی مشہدی جو اپنے کو فرمود نمود اللہ کہتا تھا، قبلۂ حاجات اور گہوارۂ سعادت سمجھا جانے لگا اور تصوف بازی بچگان بن گیا، شاہ عبدالعزیز کے ملفوظات میں ہے کہ محمد شاہ کے زمانے میں ہر سلسلہ اور طریقہ کے بائس بزرگ صاحبِ ارشاد دہلی میں موجود تھے، انہی میں مرزا مظہر جانِ جاناں اور حضرت فخرالدین دہلوی بھی تھے، ان سے پیاس بجھ تو جاتی تھی لیکن ان میں ان کے اکابر اسلاف کی روح نہیں تھی اور پھر صوفیۂ خام کی اتنی کثرت ہوگئی تھی کہ یہ خود بھی گمراہیوں میں مبتلا رہے اور اس زمانہ کے مسلمانوں کو بھی مبتلا کیا، جیسا کہ آگے ذکر آئے گا۔
سلاطین ومشائک کا تصادم :- سلاطین و صوفیہ کی زندگی کی نوعیت میں جو بعدالمشرقین رہا، اس لحاظ سے دونوں میں یگانگت پیدا ہونے کا امکان نہ تھا لیکن صوفیۂ کرام کی یہ کرامت تھی کہ وہ ہر دور میں سلاطین کو اپنے آستانوں پر جھکاتے رہے اور یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ علما تو سلاطین سے مذہبی، فقہی مسائل اور طرز حکومت کی نوعیت پر بہت الجھے لیکن صوفیۂ کرام نے ان سے الجھنے کے بجائے ان کو اپنے قریب تر کردیا، کچھ ایسے سلاطین بھی گزرے ہیں جن کا تصادم ان کے بعض معاصر مشائخ سے ہوا لیکن ان کی مثالیں بہت زیادہ نہیں ہیں، اس تصادم کا جائزہ لینے سے پہلے ایک بات کی وضاحت ضروری ہے اور وہ یہ کہ تذکرہ نگار جب بوریا نشینوں اور تخت نشینوں کے تعلقات کا ذکر کرتے ہیں تو وہ کچھ نہ کچھ ایسی باتیں تخت نشینوں کے متعلق ضروری قلم بند کردیتے ہیں جن سے ان کے خیال میں درویشی کی عظمت اور جلالت بڑھ جاتی ہے لیکن تنقید و تجزیہ کے بعد ان کے بیانات میں بڑی کمزوری دکھائی دیتی ہے مگر کچھ مؤرخین ایسے بھی ہیں جو ان تذکرہ نویسوں کے بیانات سے فائدہ اٹھا کر سلاطین کے کردار کو اس طرح پیش کرنے لگے جن سے وہ خواہ مخواہ بدنام ہوتے جاتے ہیں لیکن اسی کے ساتھ کچھ درباری مؤرخین ایسے بھی ہیں جو اپنے شاہی آقاؤں کا حق نمک ادا کرنے کی خاطر مشائک کی اچھی تصور نہیں کھینچتے ہیں، اس طرح تذکرہ نگاروں اور مؤرخوں دونوں کی غیر ذمہ دارانہ تحریروں سے اس عہد کی تاریخ کو نقصان پہنچا ہے، اسی لئے ان اختلافات میں دونوں کے بیانات کو قبول اور رد کرنے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔
سلاطین اور صوفیہ کے اختلافات کی پہلی مثال سلطان جلال الدین خلجی اور سیدی مولہ کے تصام میں ملتی ہے، مولانا ضیاؤالدین برنی لکھتے ہیں، سیدی مولہ عجیب وغریب بزرگ تھے، نماز کے پابند تھے لیکن جماعت کے ساتھ نماز ادا نہیں کرتے تھے، کوئی کچھ دیتا تو اس کو قبول نہ کرتے لیکن ان کے اخراجات اتنے تھے کہ لوگوں کو حیرت ہوتی تھی کہ وہ اخراجات پورا کرنے کے لئے روپے کہاں سے لاتے ہیں، لوگ کہتے کہ وہ علمِ کیمیا جانتے ہیں، ان کی خانقاہ میں روزانہ ہزاروں من میدہ خرچ ہوتا تھا، پانچ سو جانور ذبح کئے جاتے تھے، دو تین سو من شکر اور سو دو سو من نبات خریدی جاتی تھی، ان کے یہاں امرا کی آمد و رفت برابر رہتی اور ایسے امرا نے جو سلطان جلال الدین خلجی سے بدظن تھے، اس خانقاہ میں بیٹھ کر یہ سازش کرنی چاہی کہ سلطان جلال الدین خلجی کے بجائے سیدی مولہ کو حکمراں بنایا جائے اس کی خبر سلطان کو ہوئی تو اس نے سیدی مولہ اور ان بدباطن امرا کو اپنے سامنے بلایا، انہوں نے اپنے جرم سے انکار کیا تو سلطان نے چاہا کہ اس زمانے کے رسم کے مطابق ان کو آگ میں ڈال دیا جائے تاکہ اگر وہ سچے ہوئے تو بچ جائیں گے اور جھوٹے ہوئے تو ہلاک ہوجائیں گے، علما نے اس کی مخالفت کی کہ آگ کے ذریعہ سے جھوٹ اور سچ کی تمیز نہیں کی جاسکتی ہے اور یہ فعل نامشروع ہے، سلطان نے یہ ارادہ ترک کردیا اور سیدی مولہ کو بندھوا کر اپنے محل کے پاس بلوایا اور ان سے مباحثہ کیا اور جب بحث جاری تھی تو حیدری جماعت کے ایک فرد نے بڑھ کر سیدی مولہ کو استرے سے زخمی کردیا اور سلطان جلال الدین خلجی کے لڑکے ارکلی خاں کے اشارہ سے ایک فیل بان ہاتھی لے کر دوڑا اور سیدی مولہ کو ہاتھی کے پاؤں سے مسل ڈالا، مولانا ضیاؤالدین برنی نے لکھا ہے کہ جلال الدین خلجی جیسے حلیم اور بردبار بادشاہ کی وجہ سے درویشی کی عزت جاتی رہی لیکن جس روز سیدی مولہ کا قتل ہوا، اس روز اتنی زبردست آندھی آئی کہ معلوم ہوتا تھا کہ قیامت آگئی ہے، جلال الدین خلجی نے اس کے بعد محسوس کیا کہ اس سے ایک غلط کام ہوگیا، یہ تصادم ذاتی اشتعال یاسی مصالح کی بنا پر ہوا، اس میں اصولی اختلاف نہ تھا۔
البتہ حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی کیا یہ اصول بنا رکھا تھا کہ وہ کسی سلطانِ وقت سے نہ ملیں گے، اس سلسلہ میں بعض سلاطین سے ان کا شدید اختلاف رہا، سلطان جلال الدین خلجی کو حضرت خواجہ کے شرف ملاقات کی بڑی تمنا تھی لیکن اس کی یہ تمنا پوری نہیں ہوئی، اس کے دربار سے امیر خسرو وابستہ تھے اس لئے اس نے بھیس بدل کر امیر خسرو کے ساتھ حضرت خواجہ کا دیدار حاصل کرنا چاہا، امیر خسرو بھی اس لئے راضی ہوگئے لیکن یکایک ان کو خیال ہوا کہ اپنے دنیاوی آقا کو خوش کرنے میں کہیں ان کے روحانی آقا ناخوش نہ ہوجائیں، اس لئے اپنے مرشد سے سلطان کے ارادہ کو ظاہر کردیا، حضرت خواجہ کو یہ معلوم ہوا تو اسی وقت شہر چھوڑ کر اپنے مرشد کے مزار کی زیارت کے لئے اجودھن رانہ ہوگئے، سلطان جلال الدین کو خبر ملی امیر خسرو سے یہ راز فاش کرنے کی باز پرس کی، امیر خسرو نے بڑی جرأت کے ساتھ سلطان کو جواب دیا کہ آپ رنجیدہ ہوں گے تو زیادہ سے زیادہ میری جان کا خطرہ ہے لیکن مرشد آزردہ ہوتے تو میرے ایمان کا خطرہ ہے، سلطان یہ جواب سن کر خاموش ہوگیا۔
سلطان علاؤالدین خلجی حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ کے پاس نذریں بھیجتا، ان سے اپنی فوجی مہم کی کامیابی کے لئے دعاؤں کا طلبگار ہوتا، ان کی مجلسِ سماع کا ذکر شوق سے سنتا لیکن اس حسنِ عقیدت کے باوجود دونوں میں کبھی ملاقات نہیں ہوئی اور جب اس سے حضرت خواجہ سے نہ ملنے کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے جواب دیا کہ میں بادشاہ ہوکر سر سے پاؤں تک گناہوں میں آلودہ ہوں، اس آلودگی کی وجہ سے ایسے پاک بزرگ سے ملنے میں شرم آتی ہے، عوام و خواص میں حضرت خواجہ کی مقبولیت بہت بڑھ گئی تو علاؤالدین خلجی کو سلطانِ وقت کی حیثیت سے ایک موقع پر رشک پیدا ہوا کہ کہیں وہ اس کے لئے خطرہ نہ بن جائیں، اس لئے ان کو آزمانے کی خاطر لکھ بھیجا کہ خداوندِ تعالیٰ دنیا کی سلطنت کی باگ ہمارے ہاتھ میں دی ہے، تو ہم کو چاہئے کہ ملک کی بھلائی اور اپنی بہتری کے لئے آپ سے بھی مشورہ کرکے ان پر عمل کرتےرہیں لیکن حضرت خواجہ کی طرف سے یہ پیام تھا کہ فقیروں کو بادشاہوں کے کام سے کیا مطلب میں ایک فقیر ہوں اور ایک گوشہ میں رہتا ہوں، بادشاہوں اور مسلمانوں کی دعا گوئی میں مشغول ہوں، اس کے بعد بھی بادشاہ مجھ سے کچھ کہے گا تو میں اس جگہ کو چھوڑ کر کہیں چلا جاؤں گا، خدا کی زمین کشادہ ہے، سلطان علاؤالدین کو یہ پیام پہنچا تو وہ ان کا اور بھی معتقد ہوگیا اور پھر ملاقات کی خواہش ظاہر کی لیکن حضرت خواجہ نے کہلا بھیجا کہ آنے کی ضرورت نہیں، میں غائبانہ دعا میں مشغول ہوں اور غائبانہ دعا اثر رکھتی ہے، سلطان نے پھر اصرار کیا تو حضرت خواجہ نے آزردہ ہوکر کہا اس ضعیف کے گھر میں دو دروازے ہیں اگر بادشاہ ایک دروازہ سے تشریف لائے تو میں دوسرے دروازہ سے نکل جاؤں گا۔
سلطان علاؤالدین خلجی کی وفات کے بعد اس کا لڑکا قطب الدین مبارک خلجی ملک کافور کی مدد سے اپنے دو بھائیوں حضرت خاں اور شادی خاں کو قتل کرکے تخت نشین ہوا، یہ دونوں شہزادے حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا کے عزیز مریدوں میں تھے، اس لئے سلطان قطب الدین خلجی ان سے بدگمان رہا، اس کی یہ بدگمانی عداوت میں تبدیل ہوگئی اور وہ مصلحتاً سہروردیہ سلسلہ کے ایک بزرگ شیخ ضیاؤالدین رومی کا مرید ہوگیا اور حضرت خواجہ کی دشمنی کا اظہار کھلم کھلا کرنے لگا، اس وقت ان کے لنگر خانہ کا خرچ روزانہ دو ہزار ٹنکہ تھا، سلطان کے بعض مفسد امرا نے اس کے کان بھرے کہ یہ تمام اخراجات اُن امرا کے نذرانے کی رقم سے پورے ہوتے ہیں جو خانقاہ میں آیا جایا کرتے ہیں، سلطان نے خانقاہ میں امرا کی آمد روفت سختی سے روک دی مگر اس لنگر خانہ کے اخراجات پر کسی قسم کا اثر نہیں پڑا اور سارے اخراجات حسبِ معمول پورے ہوتے رہے، سلطان کی پرخاش اور بڑھی اور اس نے حضرت خواجہ کو دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا لیکن حضرت خواجہ نے کہلا بھیجا کہ میں گوشہ میں بیٹھا رہتا ہوں کہیں آتا جاتا نہیں، میرے بزرگوں کا بھی یہ قاعدہ نہیں تھا کہ وہ دربار میں جائیں اور بادشاہوں کے مصاحب بنیں، اس لئے مجھ کو اس سے معذور سمجھ کر معاف رکھنا چاہئے لیکن سلطان نے اس عذر کو قبول نہیں کیا اور غصہ میں آکر یہ اعلان کرا دیا کہ جو کوئی بھی ان کا سر لائے گا اس کو ایک ہزار اشرفی انعام میں دی جائے گی، حضرت خواجہ نے سلطان کے پیر شیخ ضیاؤالدین رومی کے پاس پیام کہلا بھیجا کہ وہ اپنے مرید کو سمجھائیں کہ درویشوں کو رنج پہنچانا کسی مذہب میں روا نہیں مگر اس پیام کے پہنچنے سے پہلے شیخ ضیاؤالدین رومی کا انتقال ہوگیا ان کی فاتحہ خوانی کے موقع پر سلطان اور اس کے اکابر امرا ان کے مزار کے پاس جمع ہوئے تو حضرت خواجہ نے بھی اس میں شرکت کی جس وقت وہ تشریف لائے تو تمام حاضرین ان کی تعظیم کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے، سلطان نے یہ دیکھا تو اس کا حسد اور بھی بڑھ گیا اور محل میں جاکر اس نے حکم جاری کیا کہ ہر قمری مہینہ کی پہلی تاریخ کو جب کہ تمام ائمہ اور مشائخ دربار میں رسماً جمع ہوا کرتے ہیں تو وہ بھی حاضر ہوں، جب یہ حکم ان کے پاس پہنچا تو صرف یہ فرمایا کہ دیکھوں گا کہ کیا ظہور میں آتا ہے، شہر کے اکابر نے حضرت خواجہ کی خدمت میں پہنچ کر ان سے عرض کیا کہ ایک ناعاقبت اندیش سلطان کی وجہ سے کوئی فتنہ پیدا ہوجائے تو دربار میں جاکر اس کو روک دینا بہتر ہے لیکن حضرت خواجہ نے فرمایا کہ میں اپنی مرشدوں کے خلاف دستور کوئی کام نہ کروں گا، لوگوں میں بڑی سراسیمگی تھی کہ سلطان الاؤلیا اور سلطان دہلی کے تصادم سے ایک بڑی مصیبت بپا ہوجائے گی لیکن سلطان قطب الدین جس روز دربار میں حضرت خواجہ کی آمد کا منتظر تھا، اسی روز محل کے اندر شورش ہوئی اور خسرو خاں کے ہاتھوں قتل ہوا۔
ان تفصیلات سے اندازہ ہوگا کہ یہ اختلاف بھی کسی نظری اور فکری مسئلہ پر نہ تھا بلکہ سراسر ذاتی تھا، خسرو خاں تخت نشیں ہوا تو اس نے اپنی سیہ کاروں پر پردہ ڈالنے کی خاطر مشائخ کے پاس بھی رو پئے بھجوائے، حضرت خواجہ کے پاس بھی پانچ لاکھ ٹنکے پہنچے لیکن انہوں نے اسی وقت ساری رقم فقرا میں تقسیم کردی اور جب غیاث الدین تغلق بادشاہ ہوا تو جن لوگوں کو خسرو نے روپے دیئے تھے ان سے غیاث الدین تغلق نے واپس مانگے، اس حکم پر دوسرے مشائخ نے روپئے واپس کر دیئے لیکن حضرت خواجہ نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی، آگے چل کر غیاث الدین تغلق نے جاہ طلب علما کے مشورے سے ایک مخصر میں حضرت خواجہ کو سماع کے جائز و ناجائز ہونے پر مناظرہ کرنے کے لئے طلب کیا تو اس میں وہ شریک ہوئے اور سماع کی اباحت اور حلت میں دلائل پیش کئے، اس کی تفصیل آگے آئے گی، بعض تذکرہ نگاروں اور مؤرخوں نے لکھا ہے کہ سلطان غیاث الدین 725 ہجری میں بنگال کی مہم سے واپس آرہا تھا تو اس نے حضرت خواجہ کے پاس یہ پیام کہلا بھیجا کہ وہ غیاث پور سے نکل کر اس کا استقبال کریں لیکن اس پیام کو پڑھ کر حضرت خواجہ کی زبان سے صرف یہ نکلا کہ ’’ہنوز دلی دور است‘‘ چنانچہ غیاث الدین تغلق شہر سے تین کوس کے فاصلہ پر ایک نئی عمارت میں مقیم تھا کہ اچانک یہ عمارت رات کو گر گئی جس کے نیچے دب کر وہ جاں بحق ہوگیا لیکن یہ مشہور روایت محض عوام کی ہے جس کو موجودہ دور کے محقق صحیح تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔
حضرت خواجہ نے سلاطینِ وقت سے ملنے سے جو گریز کیا اس سے عام طورپر خیال ہوتا ہے کہ تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ ایک بار سہروردیہ سلسلہ کے بزرگ حضرت رکن الدین دہلی سے سلطان وقت سے مل کر ملتان جارہے تھے تو واپسی میں پاک پٹن بھی ٹھہرے اور حضرت بابا گنج شکر کے پوتے حضرت علاؤالدین سے ملاقات کے وقت معانقہ کیا تو آخر الذکر نے معانقہ کے بعد غسل فرمایا کہ ان میں بھی درباری نجاست لگ گئی ہے، حضرت رکن الدین نے غسل فرمانے پر ان کی احتیاط کو سراہا اور اپنی ذات سے ندامت کا اظہار کیا، حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ کا سلاطین سے نہ ملنا ان کی درویشی کے جلوۂ صد رنگ میں سے ایک تابناک جلوہ تھا لیکن اس سے یہ سمجھنا صحیح نہ ہوگا کہ وہ یا خواجگانِ چشت بادہشت کو ایک نجس چیز سمجھتے تھے، حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا نے سلطان شمس الدین ایلتتمش، ناصرالدین محمود اور غیاث الدین بلبن کے لئے تعظیمی الفاظ استعمال کئے ہیں جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے اوپر یہ بھی ذکر آیا ہے کہ انہوں نے علاؤالدین خلجی کو یہ کہلا بھیجا کہ میں بادشاہوں اور مسلمانوں کی درما گوئی میں مشغول ہوں، ان باتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر ان کے معیار مطابق کوئی سلطان ہوتا یا وہ اگر سلطان ایلتتمش یا ناصرالدین محمود یا غیاث الدین بلبن کے وقت میں ہوتے تو بادشاہ سے ملنے پر پرہیز نہ کرتے کیونکہ خود ان کے سلسلہ کے اکابر بزرگ بادشاہ سے ملاقات کرنا کوئی دنیاوی نجاست تصور نہیں کرتے تھے، ایک روایت میں ہے کہ ایلتتمش نے حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں رہ کر علم لدنی اور معرفتِ باطن کے تمام رموز حاصل کئے۔
اور یہ روایت تسلیم نہ بھی کی جائے تو مستند تذکروں میں ہے کہ ایلتتمش سے حضرت خواجہ معین الدین چشتی کو جو روحانی لگاؤ تھا اس کی بنا پر وہ ایک بار اجمیر سے چل کر دہلی تشریف لائے اور سطان سے ملنے تامل نہ کیا، سیرالاؤلیا جیسے مستند تذکرہ میں ہے کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادوں کے قبضہ میں اجمیر کے پاس ایک گاؤں گیا، وہاں کے مقطع نے لگان مقرر کرنے میں ان کو کچھ زیادہ تنگ کیا تو انہوں نے اپنے والد بزرگوار سے عرض کیا کہ وہ دہلی جاکر سلطان سے ایک فرمان لے آئیں، حضرت خواجہ نے اپنے صاحبزادوں کی خاطر دہلی کا سفر کیا اور جب وہ اپنے مرید حضرت خواجہ بختیار کاکی کے پاس پہنچے اور ان کو اپنے مرشد کی تشریف آوری کی وجہ معلوم ہوئی تو انہوں نے اپنے مرشد کو سلطان کے پاس جانے سے روک دیا اور خود سلطان کے یہاں قدم رنجہ فرمایا وہ کبھی سلطان کے پاس نہیں گئے تھے، حالانکہ سلطان اس کا برابر متمنی رہا، سلطان اپنے مرشد کو اپنے یہاں دیکھ کر متعجب ہوا اور جو کچھ انہوں نے چاہا اس نے کر دیا، یہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ ایلتتمش برابر ان کے خلوت و جلوت میں ساتھ رہا اور رات کے وقت ان کے پاؤں بھی دبایا کرتا تھا، فوائدالفواد اور سیرالاؤلیا میں ہے کہ سلطان ناصرالدین محمود اوچہ اور ملتان کی طرف گیا تو وہ اپنے پورے لشکر کے ساتھ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر سے ملا اور وہ بھی اس سے بڑی خوشی سے ملے، روایت ہے کہ بلبن جب سلطان ناصرالدین محمود کا وزیر تھا تو وہ حضرت گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ سے جاکر ۔۔ تو انہوں نے اس کے بادشاہ ہونے کی پیش گوئی بھی کی، حضرت گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے حضرت علاؤالدین رحمۃ اللہ علیہ ان کے سجادہ نشیں ہوئے تو وہ دربار سے لاگ تھلک ضرور رہے لیکن انہیں محمد تغلق اور فیروز شاہ تغلق کو مرید بھی کیا، خود حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ نے سلطان الدین خلجی سے ملاقات کرنا تو پسند نہیں کیا لیکن اس کے لڑکوں میں سے خضر خاں اور شادی خاں کو مرید کیا اور یہ دونوں ان کے عزیز مریدوں میں تھے، خضر خاں ہی نے خانقاہ کی عمارت بنوائی پھر حضرت خواجہ کے سب سے محبوب مرید حضرت امیر خسرو تھے جو جلال الدین خلجی کے مصنف دار اور بارہ سو تنکے سالانہ کے وظیفہ خوار اور علاؤالدین خلجی کے معزز درباری رہے، قطب الدین مبارک خلجی کی شان میں قصیدے بھی کہتے رہے اور اپنی مثنوی نہ سپہر کے صلہ میں اس سے ہاتھی کے برابر روپے پائے، غیاث الدین تغلق کے ساتھ بنگال بھی گئے اور آقاؤں کی فتح و تسخیر پر نثر اور نظم میں کتابیں بھی لکھتے رہے لیکن اس دربار داری کے باوجود حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا کو ان سےبڑا گہرا لگاؤں رہا، تذکرہ نویس لکھتے ہیں کہ حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا فرمایا کرتے تھے کہ میں اپنے سے تو تنگ آجاتا ہوں لیکن امیر خسرو سے کبھی تنگ نہیں ہوتا ہوں، ایک اور موقع پر فرمایا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ جب پوچھے گا کہ دنیا سے کیا لائے تو میں کہوں گا اس ترک اللہ (امیر خسرو) کا سوز سینہ پھر ایک اور موقع پر فرمایا کہ اگر شریعت میں اجازت ہوتی تو میں وصیت کرتا کہ امیر خسرو کو میری قبر میں ساتھ دفن کیا جائے تاکہ قبر کے اندر بھی یکجائی ہو، امیر خسرو کی زندگی کی یہ کرامت ہے کہ وہ سلاطینِ وقت کے درباری اور ہم مجلس بھی تھے اور خلوت میں اپنے مرشد کے ادنیٰ خادم بھی رہے لیکن دونوں میں کسی کو بھی اپنے سے اوپر ہونے کا موقع نہیں دیا۔
امیر خسرو کے درباری تعلقات قائم رکھنے میں حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ کبھی معترض نہیں ہوئے لیکن اس کی بھی مثال ہے کہ وہ اپنے مریدوں کے درباری تعلقات رکھنے میں مانع بھی ہوئے مثلا خواجہ مویدالدین کرہ سلطان علاؤالدین کی شہزادگی کے زمانے میں اس کے جاں نثاروں میں تھے مگر ترک دنیا کرکے حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا کے آستانے پر جبیں سائی کرنے لگے، علاؤالدین خلجی جب بادشاہ ہوا تو ایک حاجب کو حضرت خواجہ کی خدمت میں بھیج کر پیام دیا کہ خواجہ مویدالدین کو رخصت کردیں تاکہ وہ اس کے کام میں مدد دیں۔
حضرت خواجہ نے فرمایا کہ ان کو ایک اور کام درپیش ہے اور اسی میں وہ کوشش کر رہے ہیں، شاہی حاجب کو یہ جواب گراں گزرا اور اس نے کہا کہ مخدوم ! آپ چاہتے ہیں کہ اپنا جیسا سب کو کرلیں، حضرت خواجہ نے فرمایا اپنے جیسا کیا میں اپنے سے بہتر کرنا چاہتا ہوں اسی طرح حضرت خواجہ شمس الدین دہاری شاہی ملازمت میں دیوان کے عہدہ پر مامور تھے مگر اس عہد کو چھوڑ کر حضرت خواجہ کے مرید ہوگئے اور ان کے ملفوطات کے کاتب بن گئے، ایک دن حضرت خواجہ سے عرض کیا کہ اگر حکم ہو تو آنے جانے والوں کے لئے ایک مکان بنالوں، حضرت خواجہ نے فرمایا کہ یہ کام اس کام سے جس کو تم نے چھوڑا ہے کم نہیں ہے۔
حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا کے خلفا میں حضرت نصیرالدین چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت قطب الدین منور اور حضرت فخرالدین زرادی نے اپنے مرشد کے مسلک کے مطابق سلاطین سے ملاقات کرنے میں گریز ضرور کیا لیکن ان تینوں کی ملاقاتیں سلطان محمد تغلق سے ہوئیں، گو تذکرہ نگار لکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے نفس پر جبر کرکے اس سے ملاقات کی، حضرت نصیرالدین چراغ نے کسی بادشاہ کو اپنے حلقۂ ارادت میں تو نہیں لیا لیکن سلطان فیروز شاہ کا لائق وزیر خان جہاں ان کا مرید تھا اور وہ اس پر بہت مہربان رہے اور جب اس نے ان سے عبادت و ریاضت کی تفصیل پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ تم وزیرِ مملکت ہو، تمہاری عبادت یہی ہے کہ حاجت مندوں کی حاجت برآری میں انہتائی کوشش کرو، آگے چل کر چشتیہ سلسلہ کے اکابر صوفیہ میں حضرت عبدالقدوس گنگوہی، حضرت مجدد الف ثانی اور حضرت شاہ فخرالدین دہلوی وغیرہ کی بھی ملاقاتیں سلاطین وقت سے ہوتی رہیں، اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہے کہ حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا کے علاوہ چشتیہ سلسلہ کے بہت سے بزرگوں نے بادشاہوں سے ملاقاتیں تو کیں لیکن ان میں سے کوئی دربار میں خود سے حاضری دینا پسند نہ کرتا، بادشاہِ وقت خود ان کے پاس آتے جاتے تو وہ ان سے ملاقات کرلیتے لیکن ان ملاقاتوں کے باوجود سلاطین اور امرا سے تعلق رکھنا اپنی فقیری اور گمنامی کی شان کے خلاف سمجھتے رہے، ان کے خلاملا سے راحت پسندی اور تن پروری کا خطرہ محسوس کرتے تھے، اس لئے کبھی ان کا دیہہ دار یا جاگیر دار بننا پسند نہیں کیا اور نہ ان کے دفتر میں اپنا نام لکھوانا گوارا کیا اپنی فقیری کی شانِ کمال استغنا ہی میں تصور کرتے رہے جس کی تفصیل آگے آئے گی۔
محمد تغلق اور صوفیہ کا تصادم :- پہلےکہا جا چکا ہے کہ محمد بن تغلق حضرت بابا فریدالدین گنج شکر کے پوتے حضرت علاؤالدین اجودھنی کا مرید تھا اور ان کی اولادوں کو بڑے عہدوں سے نوازا، اس نے بعض مشائخ کے لئے خانقاہیں بھی بنوائیں اور بعض کے مزارات بھی تعمیرا کرائے اور ان کے لئے جاگیریں وقف کیں لیکن اسی کے ساتھ بعض تاریخوں اور تذکروں میں ہے کہ اس نے شیخ شہاب الدین بن احمد جام کی داڑھی نچوائی اور آخر میں ان کے منہ میں گوبر ڈلوا کر ان کو ہلاک کرایا، شیخ ہود کو بھی قتل کرایا، شیخ شمس الدین بن تاج العارفین کو قید کیا، حضرت نصیرالدین چراغ دہلوی کے گلے کی ہڈیوں میں سوراخ کرا کے ان کو رسیوں سے باندھنے کا حکم دیا اور ان کو قید کر دیا، اسی طرح اس نے حضرت فخرالدین زراد اور حضرت قطب الدین منور کو بھی ایذائیں پہنچائیں، ان واقعات کی تفصیل لکھ کر سلطان کو جابر، قاہر، سفاک، ظالم اور خونی حکمراں بتایا گیا ہے، اس کے عہد کے ایک شاعر عصامی نے تو اس کو محلد بے دین، اصول و فروع سے منحرف وغیرہ وغیرہ قرار دیا ہے اور یہ بھی الزام رکھا ہے کہ اس کے بے راہ روی کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں کفر پھیلا اور اسلام کی رونق کم ہوگئی، ابن بطوطہ سلطان کے ساتھ ایک عرصۂ دراز تک رہا، اس نے سلطان کے متعلق جو کچھ لکھاہے وہ عصامی یا اس کے ہم خیال مؤرخوں اور تذکرہ نویسوں کے بیان سے بالکل مختلف ہے وہ لکھتا ہے کہ سلطان سخاوت، شجاعت، سختی اور خونریزی کی حکایات عوام الناس کے زبانِ زد ہیں، اس کے باوجود میں نے کسی شخص کو اس سے زیادہ متواضع اور منصف نہیں دیکھا، وہ شریعت کاپابند ہے اور نماز کی بڑی تاکید کرتا ہے جو نہیں پڑھتا اس کو سزا دیتا ہے اور وہ ان بادشاہوں میں ہے جن کی نیک بختی اور مبارک نفسی حد سے بڑھی ہوئی ہے۔
موجودہ دور کے محقق اور مؤرخین بھی محمد تغلق کو ان عینکوں سے دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں جن سے اس کے بعض معاصر یا عہدِ مغلیہ کے مؤرخوں اور تذکرہ نویسوں نے دیکھا ہے اور اس دور میں اس پر جتنے الزامات رکھے گئے تھے ان کا ناقدانہ اور محققانہ تجزیہ کرکے ان کو غلط قرار دینے کی کوشش کی ہے، اسی طرح صوفیۂ کرام کی خوں ریزی اور ایذا رسانی کے بعض واقعات کو بھی من گھڑت داستانیں اور کذبِ عوام الناس ٹھہرانے کی کوشش کی گئی ہے، موجودہ دور کے ایک مؤرخ جناب آغا مہدی حسین نے اپنی کتاب سلطان الہند محمد شاہ بن تغلق میں اس کی سیرت کا محققانہ جائزہ لینے کے بعد آخر میں یہ لکھا ہے کہ سلطان محمد کیا تھا اور بنانے والوں نے اس کو کیا بنادیا وہ بیدار مغز، روشن ضمیر، صلح پسند، فراخ دل، مصلح، عالی حوصلہ، عالم، عامل، محقق، مجدد، مدبر، فیاض، سیر چشم، محتاط اور اصول کا پابند تھا، وفاداروں اور فرمانبرداروں کا کیا ذکر دشمنوں پر بھی مہربانی کرتا، مجرموں کے جرم کو معاف کردیتا اور خطا کاروں کی خطاؤں کو بخش دیتا، چشم پوشی سے بھی کام لیتا، سزائیں، بہت دیتا اور خونریزیاں کرتا مگر جو کچھ کرتا تھا، کسی خاص مطلب اور مصلحت سے کرتا تھا، بدقسمتی سے اس کا مطلب پورا نہ ہونے پایا، اس نے جاہل نما عالموں کی اصلاح کرنی چاہی تھی اور بہتر علما اور مشائخ کو ملکی عہدوں اور ذمہ داریوں پر بلکہ دربار کی مختلف خدمتوں پر مقرر کرنا چاہا تھا مگر ناکام رہا، دشمنی پھیل گئی اور مخالت بڑھ گئی، باغیوں کی بن آئی اور سلطان محمد کی جان پر آبنی، آخر وہ ہلاک ہوگیا، اس کے مرتے ہی سلطنت پر ان علما کا اثر قائم ہوگیا جن کی اصلاح میں سلطان محمد اتنے عرصہ سے کوشاں تھا، اسی اثر کے تحت میں ایک تحریک ہوئی جس کی بنا پر سلطان کے ظلم اور اس کی خونریزیاں باقاعدہ لکھی گئیں۔
فیروز شاہ کا تصادم صوفیہ سے :- فیروز شاہ تغلق شریعت کا لحاظ ہر حال میں رکھتا اور اس نے اس کی پاسبانی کرکے نہ صرف علما بلکہ صوفیہ کی بے راہ روی کو بھی سختی سے روکا، اس کے عہد میں ایک بزرگ احمد بہاری تھے جو دہلی میں آکر رہ گئے تھے، ان کے بہت سے مریدین تھے، فیروز شاہ کا بیان فتوحات فیروز شاہی میں ہے کہ ان کے مریدینِ دہریے تھے جو احمد بہاری کو خدا سمجھتے اور کہا کرتے تھے کہ دہلی میں خدا طلوع ہوا ہے اور خود احمد بہاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ باتیں کرتے تھے، اسی لئے فیروز شاہ نے ان کے پاؤں میں زنجیر ڈلوا کر اپنے سامنے بلوایا اور قید کردیا، ان کے مریدین کو ادھر اُدھر مختلف شہروں میں بھیج کر منتشر کردیا، ان کے ایک دوست شیخ عز کاکوی بھی تھے، ان پر بھی شطحیات کا الزاما آیا اور علما کے فتوے پر ان کو قتل کردیا گیا، فتوحاتِ فیروز شاہی میں احمد بہاری اور شیخ کاکوی کے قتل کا ذکر نہیں ہے لیکن حضرت مخدوم الملک شرف الدین یحییٰ منیری کے مکتوبات سے ظاہر ہوتا ہے کہ احمد بہاری اور شیخ کاکوی دونوں قتل کردیئے گئے جس سے مخدوم الملک کو بڑا دکھ ہوا اور وہ دونوں کو توحید کے اسرار و رموز کا واقف کار اور ترک و تجرید کا حامل سمجھتے تھے اور ان کی باتوں کو عالم دیوانگی پر محمود کرتے تھے، اسی لئے ان کو ان دونوں کے قتل کی خبر ملی تو فرمایا کہ جس شہر میں ایسے بزرگوں کا خون بہایا جائے، تعجب ہے اگر وہ آبادر ہے، ان کے حامیوں کا خیال ہے کہ فیروز شاہ کے بعد اہلی تیمور کے ہاتھوں جو برباد ہوئی، وہ گویا ان ہی بزرگوں کا خون رنگ لایا تھا۔
فیروز شاہ کے عہد میں عین الملک ماہرو کے غلام نے صوفی بن کر اپنے مریدوں کو تاکید کی کہ میں انالحق کہوں تو تم سب بلند آواز سے توئی توئی کہو، اس نے اپنے مریدوں کے لئے ایک رسوالہ بھی لکھا، فتوحاتِ فیروز شاہی میں ہے کہ اس کو بھی پایہ زنجیر طلب کرکے سخت سزاد گی گئی، فتوحات فیروز شاہی میں اس کے قتل کا بھی ذکر نہیں لیکن وہ بھی علما کے فتوے پر قتل ہوا۔
فیروز شاہ کے زمانے میں مشائخ کی قبروں کی زیارت کے سلسلہ میں بہت سی بدعتیں بھی پیدا ہوگئی تھیں، ان کے مزارات کی زیارت کے لئے پالکیوں، گھوڑوں اور خچروں پر سوار ہوکر جاتیں، ان کے پیچھے اوباش لکھ جاتے جو طرح طرح کی مذموم حرکتیں کرتے، فیروز شاہ نے عورتوں کو مزاروں پر جانے سے بالکل روک دیا اور اس حکم کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں دیں۔
حضرت مجدد الف ثانی اور جہانگیر :- مغل بادشاہوں کے دور میں جہانگیری اور حضرت مجدد الف ثانی کے درمیان کچھ دنوں ضرور اختلاف رہا، عالمگیر کے عہد میں حضرت سرمد کی شہادت کا المناک حادثہ بھی ضرور پیش آیا لیکن ان دونوں واقعات کو چھوڑ کر ہر موقع پر مغل حکمراں صوفیۂ کرام کے آگے سرِ تسلیم خم کرتے رہے۔
پہلے ذکر آیا ہے کہ جہانگیر میں بڑی مذہبی حمیت و غیرت تھی لیکن اسی کے ساتھ اس سے دو قابلِ اعتراض باتیں سرزد ہوتی رہیں، ایک تو وہ پیالہ کش رہا، دوسرے اسلام کے حکم کے خلاف اس کے حرم میں ایک وقت چار سے زیادہ بیگمات رہیں اور یہ لکھتے ہوئے دکھ ہوتا ہے کہ ازمنۂ وسطیٰ میں پیالہ کشی اور کثرتِ ازدواج شاہانہ لوازم میں داخل ہوگئی تھیں، بلبن، فیروز شاہ تغلق اور بابر جیسے دیندار بادشاہوں کی مجلسوں میں بھی کچھ دنوں تک شیشہ و ساگر کا شغل رہا، جہانگیر تو علانیہ شراب نوشی کرتا رہا بلکہ اپنی طرح شہزادہ خرم کو بھی شراب پینے کے لئے آمادہ کرتا، اپنے دسویں سال جلوس میں ایک موقع پر صاف گوئی سے کام لے کر لکھتا ہے۔
وہ (یعنی حرم) 24 سال کا ہوگیا تھا، اس کی شادی بھی ہوگئی تھی، اس کے بچھے بھی ہوگئے تھے لیکن اب تک اس نے شراب پی کر اپنے کو آلودہ نہیں کیا تھا، آج کے روز وہ وزن کئے جانے والا تھا (یعنی اس کی سال گرہ تھی) میں نے اس سے کہا کہ بابا صاحب! تم اولاد والے ہوگئے ہو، بادشاہ اور شہزادے شراب پیا کرتے ہیں، آج تمہارا جشنِ وزن ہے تو تمہارے ساتھ میں بھی شراب پیتا ہوں اور تم کو اجازت دیتا ہوں کہ جشن کے مواقع پر نو روز اور بڑی بڑی مجلسوں میں شراب پیا کرو لیکن اعتدال قائم رہے
جہانگیر آخر آخر وقت تک شراب پیتا رہا لیکن جمعرات جمعہ کی رات اور اتوار کو نہیں پیتا، جمعرات اس کی تخت نشینی کا دن تھا، جمعہ کی رات کو وہ متبرک رات سمجھتا اور اتوار اکبر کی پیدائش کا دن تھا، اسی طرح اس کے حرم میں چار سے زیادہ بیویاں رہیں، اکبر نے اپنے عہدِ حکومت میں اس کی چودہ شادیاں رچا کر اپنے سیاسی اغراض پورے کئے، ان میں چھ راجپوت شہزادیوں سے ہوئیں، جہانگیر نے خود اپنے عہد کو حکومت میں تین نکاح کئے، ممتاز اور بااثر ہندو اور مسلمان منصب داروں نے اپنی اپنی لڑکیوں کو اس کے حرم میں بڑی بڑی امیدوں کے ساتھ داخل کیا اور خود راج کماریاں اور امیر زادیاں بھی ملکہ بننے کے شوق میں سوکنوں کا خیال کئے مغیر حرم میں داخل ہوتی رہیں، اسلامی قانون کی یہ خلاف ورزی جس کسی مسلمان حکمراں نے کی اس کی زندگی پر ایک بدنما داغ ہے۔
جہانگیر اپنی ان معصیتوں کے باوجود مذہب کا برابر احترام کرتا رہا، پہلے ذکر آچکا ہے کہ اس نے ابوالفضل کا قتل اس لئے کرایا کہ اس کا خیال تھا کہ اسی نے اس کے باپ کو مذہبی گمرہی میں مبتلا کیا، اس کا بھی ذکر پہلے آیا ہے کہ اس نے لاہو کے شیخ ابراہیم کو مذہبی بے راہ روی اور سفلہ پروری کی وجہ سے چنار میں قید کردیا اور پھر قاضی نوراللہ شوستری جیسے مقتدر شیعی عالم کو غصہ میں اس لئے قتل کرا دیا کہ ان کی بعض باتوں سے اس کے مذہبی احساسات کو ٹھیس لگی، ان کی موت شیعوں کے لئے ایک بڑا المناک حادثہ ہے، جس کا دکھ ان کو اب تک ہے، اسی لئے وہ شہید ثالت کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں، ملا عبدالقادر جیسے متشدد سنی عالم بھی قاضی نوراللہ شوستری کے لئے بہت اچھے الفاظ استعمال کرتے ہیں، حالانکہ ملا صاحب نے اکبر اور اس کے دینِ الٰہی کے حامیوں کے لئے جو الفاظ استعمال کئے ہیں، ان سے ان پر غیر معمولی تعصب اور تنگ نظری کا الزام آتا ہے لیکن وہ قاضی نوراللہ شوستری کے متعلق لکھتے ہیں۔
اگر چہ شیعی مذہب است، اما بسیار صفت و عدالت و نیک نفسی و حیا تقویٰ و عفاف و اوصاف اشراف موصوف است و تعلیم و علم و جورت فہم و جدت طبع و صفائی قریحہ و ذکا مشہور است، صاحبِ تصانیف لائقہ است
لیکن ان خوبیوں کے باوجود قاضی نوراللہ شوستری کی زبان سے جہانگیر کے سامنے عاجلانہ طور سے کچھ یسے کلمات نکل گئے جن سے جہانگیر کو بڑا اشتعال پیدا ہوا اور اس نے ان کو قتل کرادیا، یہ واقعہ 1019ہجری یعنی اس کے پانچویں سال جلوس کا ہے، نور جہاں ایک سال کے بعد محل میں داخل ہوئی تھی، اس کی موجودگی میں شاید حادثہ پیش نہ آتا، جہانگیر غالباً اپنی ندامت میں اس حادثہ کا ذکر اپنی تزک میں نہیں کرتا ہے لیکن ایسے مقتدر شیعہ عالم کا قتل جہانگیر کے تمام شیعی امرا کے لئے بہت ہی تکلیف دہ رہا، اس حادثہ کے نو سال کے بعد جہانگیر کا تصادم حضرت مجدد الف ثانی سے ہوا اور اس کا آغاز اس طرح ہوا کہ حضرت مجدد الف ثانی نے اپنے ایک خواب کا ذکر اپنے مرشد حضرت خواجہ باقی باللہ سے ایک مکتوب میں کیا جس میں تحریر فرمایا۔
’’۔۔۔۔ دوسری عرض یہ ہے کہ دوسری دفعہ اس مقام کے ملاحظہ کے وقت اور بہت سے مقامات ایک دوسرے کے اوپر ظاہر ہوئے، نیاز و عاجزی سے توجہ کرنے کے بعد جب اس مقام سے اوپر کے مقام میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ حضرت ذی النورین رضی اللہ عنہ کا مقام ہے اور دوسرے خلفا کا بھی اس مقام میں عبور واقع ہوا ہے اور یہ مقام بھی تکمیل و ارشاد کا مقام ہے اور ایسے ہی اس مقام سے اوپر کے دو مقام بھی جن کا اب ذکر ہوتا ہے، تکمیل و ارشاد کے مقام میں اور اس مقام کے اوپر ایک اور مقام نظر آیا، جب اس مقام میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا مقام ہے اور دوسرے خلفا کا بھی وہاں عبور واقع ہوا ہے اور اس مقام سے اوپر حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا مقام ظاہر ہوا، بندہ اس مقام پر بھی پہنچا اور اپنے مشائخ میں سے حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہٗ کو ہر مقام میں اپنے ساتھ ہمراہ پاتا تھا اور دوسرے خلفا کا بھی اس مقام میں عبور واقع ہوا ہے، سوائے عبور اور مقام اور مرور ثبات کے کچھ فرق نہیں ہے اور اس مقام کے اوپر سوائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کوئی مقام معلوم نہیں ہوتا اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے مقام کے مقابل ایک اور نہایت عمدہ نورانی مقام کہ اس جیسا کبھی نظر میں نہ آیا تھا، ظاہر ہوا اور وہ مقام اس مقام سے تھوڑا بلند تھا جس طرح کہ صفہ کو سطح زمین سے ذرا بلند بتاتے ہیں اور معلوم ہوا کہ وہ مقام محبوبیت کا مقام ہے اور وہ مقام رنگین اور منقش تھا، اپنے آپ کو بھی اس مقام کے عکس سے رنگین پایا
(ماخوذ از مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی اردو ترجمہ از قاضی عالم الدین صاحب)
اس خط کی شہرت پھیلی تو کچھ بدباطن اشخاص نے ان پر الزام رکھا کہ انہوں نے اپنے کو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے افضل تر قرار دیا ہے لیکن وہ اس الزاما کی تردید اپنے ایک مکتوب میں یہ لکھ کر کرتے ہیں۔
وہ شخص جو اپنے آپ کو حضرت صدیق رضی اللہ عنہ سے افضل جانے اس کا امر دو حال سے خالی نہیں ہے یا وہ زندیق محض ہے یا جاہل۔۔ یا وہ شخص جو حضرت امیر رضی اللہ عنہ کو حضرت صدیق رضی اللہ عنہ سے افضل کہے، اہل سنت و جماعت کے گروہ سے نکل جاتا ہے تو پھر اس شخص کا کیا حال ہے جو اپنے آپ کو افضل جانے
جہانگیر کو بھی حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ کے اس خط کی خبر ملی، اس کو اس کا یہ مطلب سمجھا گیا کہ حضرت احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ اس کے دعویدار ہیں کہ وہ مقامِ محبوبیت میں پہنچ کر خلفائے راشدین سے زیادہ مقرب الٰہی ہوگئے ہیں۔
تذکرہ نگاروں اور مقالہ نویسوں کی روایت ہے کہ دربار میں حضرت مجدد الف ثانی طلب کئے گئے، جہانگیر نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے کو حضرت ابوبکر صدیق سے زیادہ افضل سمجھتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں حضرت علی کو تو ان پر فضیلت دینے کے لئے تیار نہیں ہوں، اپنے کو ان سے افضل تر سمجھنے کا کیا سوال ہوسکتا ہے، میں تو اپنے کو کتے سے بھی افضل نہیں تصور کرتا ہوں پھر ان سے پوچھا گیا کہ تقربِ الٰہی میں اپنے کو حضرت عثمان، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مقام سے گزرتا ہوا کیوں لکھا ہے، جوابات کہ دربار کا کوئی امیر بڑے منصب داروں کے مقام سے گذرتا ہوا تخت شاہی سے تقریب حاصل کرتا ہے تو کیا وہ ان منصب داروں سے معزز اور افضل سمجھا جاتا ہے جہانگیر جریز ہوا لیکن فوراً ہی اس نے سجدۂ تعظیمی نہ کرنے کی باز پرس کی، حضرت مجدد نے فرمایا کہ سجدہ بجز خداوند قدوس کے کسی اور کے لئے جائز نہیں، دربار کے شیخ اسلام مفتی عبدالرحمٰن نے سلاطین کے لئے سجدۂ تحیت کا جواز پیش کیا لیکن حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کہ یہ رخصت ہے اور عزیمت کے خلاف ہے، عزیمت یہی ہے کہ غیراللہ کوسجدہ نہ کیا جائے، اس خلاف توقع جواب کو سن کر جہانگیر نے مشتعل ہوکر ان کو گوالیار میں محبوس کردیا، کہا جاتا ہے کہ ایک روز اس نے خواب میں دیکھا کہ حضور سرور کائنات صل اللہ علیہ وسلم اس سے فرما رہے ہیں کہ تم نے ایک بڑے آدمی کو قید کردیا ہے، جہانگیر نے منفعل ہوکر ان کی رہائی کا حکم صادر کیا اور اپنے پاس بلاکر معذرت کی اور پھر ان کی ذات اقدس سے اس کو عقیدت اتنی بڑھی کہ روزانہ مغرب کے بعد وہ ان سے ملاقات کرتا اور ان کے سرچشمۂ علم و فضل سے اس کے قلب کی تطہیر ہوتی گئی لیکن اس سلسلہ میں خود جہانگیر کا بیان جو تزک جہانگیر میں ہے، وہ ایک عقدۂ لایخل کی حیثیت رکھتا ہے، وہ اپنے چودھویں سال جلوس میں لکھتا ہے۔
ان ہی دنوں مجھ سے عرض کیا گیا کہ شیخ احمد نامی نے ایک جعل ساز (شیادے) نے سرہند میں کروفریب (زرق وسالوس) کا جال بچھا کر بہت سے ظاہر پرستوں کو پھانس رکھا ہے اس نے ہر شہر اور ہر علاقہ میں ایک خلیفہ مقرر کر رکھا ہے جو دوکانداری، معرفت فروشی اور مردم فریبی میں بہت پختہ ہیں، اس نے اپنے مریدوں اور متعقدوں کو بہت سے خرافات لکھے ہیں، ان کو ایک کتاب میں جمع کردیا ہے اور نام مکتوبات رکھا ہے، اس میں بہت سی مہمل اور لاطائل باتیں لکھی ہیں جو کفر کی حد تک پہنچتی ہیں، ایک مکتوب میں لکھا ہے کہ میں سلوک کی راہ میں ذی النورین کے مقام سے گذرا جو نہایت اونچا اور پاگیزہ تھا اور اس سے گذر کر مقامِ فاروق سے پیوست ہوگیا اور مقامِ فاروق سے گذر کر مقام صدیق عبور کیا، ہر مقام کی تعریف اس کے مطابق کرکے لکھا ہے کہ مقام محبوبیت میں پہنچ گیا، یہ مقام مشاہدہ تھا جو کہ نہایت منور اور دل کش تھا اور مجھ پر مختلف قسم کے اتوار کا عکس پڑ رہا تھا یعنی استغراللہ خلفا کے مقام سے گذر ان سے عالی تر مقام پر پہنچ گیا، اس نے اسی طرح کی اور بھی گستاخانہ باتیں لکھی ہیں جن کا لکھنا طوالت اور بے ادبی ہے، میں نے اسی بنا پر حکم دیا کہ وہ دربار میں حاضر ہو، میرے حکم کے مطابق آیا اور جو کچھ میں نے پوچھا اس کا معقول جواب نہیں دے سکا وہ ریاکار، بے عقل، مغرور، خود پسند معلوم ہوا، اس کے اس حال کی اصلاح کے لئے یہی مناسب سمجھا کہ کچھ روز کے لئے اس کو قید کردیا جائے تاکہ اس کے مزاج کی شوریدگی، داغ کی آشفتگی کچھ دور ہوجائے اور عوام کی شورش فرد ہوجائے، اس کو انی رائے سنگھ دلن کے حوالے کیا کہ اس کو گوالیار کے قلعہ میں قید رکھے
اس تحریر سے یہ ظاہر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جہانگیر اپنے چودھویں سال جلوس تک حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ سے بالکل ناواقف تھا اور اس سال ان جعل ساز، معرفت فروش اور مردم فریب کی حیثیت سے پہلی دفعہ واقف ہوا اور جب ان سے ملا تو ان کو شوریدہ مزاج، آشفتہ دماغ، بے عقل، مغرور اور خود پسند پایا، تزک جہانگیری اپنی صداقت پسندی صاف گوئی اور حقیقت نگاری کے لئے مشہور ہے لیکن مذکورۂ بالا بیان میں یہ چیزیں بالکل نظر نہیں آتی ہیں، یہ کسی طور پر تسلیم نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جہانگیر حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی اہمیت سے چودہویں سال جلوس تک بالکل بے خبر رہا، پہلے کہا جاچکا ہے ہے عہد اکبری میں جو غیر اسلامی اور مشرکانہ رنگ پیدا ہوگیا تھا اس کو دور کرنے کے لئے انہوں نے پوری کوشش کی اور شیخ فرید نجاری، خواجہ جہاں، خان خانان عبدالرحیم خان اور دوسرے جلیل القدر امرا کو برابر خطوط لکھ کر جہانگیر کو اپنی حکومت میں اسلامی رنگ پیدا کرنے پر بالواسطہ مجبور کیا اور جہانگیر نے حکم بھی دیا کہ چار دیندار عالم منتخب کئے جائیں اور ان کے مشورے سے ملکی نظم و نسق ایسا قائم کیا جائے کہ کوئی حکم خلاف شروع نہ ہونے پائے، یہ سن کر حضرت مجدد نے شیخ فرید نجاری کو ایک مکتوب میں لکھ کر چار کے بجائے صرف ایک عالم کو منتخب کرنے کی تجویز پیش کی تاکہ اختلاف پیدا نہ ہو، شیخ فرید نجاری جہانگیر کا بہت ہی محبوب مقرب بارگاہ تھا، اس کو جہانگیر اپنا بہت بڑا مخلص اور فدائی بھی سمجھتا رہا کیونکہ اس کی تخت نشینی میں شیخ فرید کا بڑا ہاتھ رہا، اس نے اس کو مرتضیٰ خاں کا خطاب بھی دیا، اسی کے ساتھ شیخ فرید حضرت مجدد کا بڑا معتقد بلکہ عزیز مرید بھی تھا، اس کا انتقال جہانگیر کے گیارہویں سال جلوس میں ہوا، ظاہر ہے کہ اس کی وساطت سے جہانگیر کو حضرت مجدد کی اہمیت کا اندازہ ضرور ہوا ہوگا اور وہ زندہ رہتا تو جہانگیری اور حضرت مجدد کے اختلاف کی نوبت ہی نہیں آتی پھر خود شہزادہ خرم اور دوسرے امرا کو حضرت مجدد سے جو محبت اور عقیدت رہی، اس سے جہانگیر بے خبر نہ رہا ہوگا، ایک روایت یہ بھی ہے کہ جہانگیر اور حضرت مجدد میں مراسلت بھی رہی لیکن تعجب ہے کہ دونوں میں ملاقات نہیں ہوئی، حالانکہ جہانگیری اپنے دور کے تمام اکابر بزرگانِ دین سے مل کر اپنے اسلامی حسن باطن کا ثبوت دیتا رہا، وہ اپنے باہویں سال جلوس میں احمدآباد گیا تو وہاں کے مشہور بزرگ شیخ اسمٰعیل بن شیخ محمد غوث سے ملا اور ان کو خلعت اور پانچ سو روپئے دیے اور پھر جتنے بزرگ اس سے ملنے کے لئے آئے ان کو بھی خلعت اور جاگیریں عطا کیں اور اپنے کتب خانۂ خاص سے تفسیر کشاف، تفسیرِ حسینی اور روضۃ الاحباب وغیرہ جیسی کتابیں نذر کیں اور پھر اس نے ایک عام حکم دیا کہ مشائخ کی اولاد کے ساتھ ہر قسم کی رعایتیں کی جائیں، چودہویں سال جلوس میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی سے ملا تو ان کے متعلق لکھا ہے کہ دہلی کے گوشہ میں بیٹھ کر مدت سے توکل و تجرید کی زندگی بسر کر رہے ہیں، ان کی صحبت بے ذوق نہیں ہے، طرح طرح کے مراحم و دل نوازی کر کے ان کو رخصت کیا، اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ انہوں نے ایک کتاب تصنیف کی ہے جس میں مشائخِ ہند کے حالات ہیں اس کے لکھنے میں بڑی زحمت اٹھائی ہے، وہ اسی سال پنجاب گیا تو کلا نور کے پاس پہنچ اس کو سندھ کے مشہور بزرگ شیخ میر محمد مشہوربہ میاں میر سے ملاقات کا اشتیاق پیدا ہوا جو اس وقت لاہور میں تھے اس کا لاہور میں جانا ممکن نہ تھا اس لئے حضرت میاں میر خود اس کے پاس تشریف لائے، جہانگیر ان سے مل کر متاثر ہوا، ان کے بارے میں لکھتا ہے کہ بڑے قابل، مرتاض، مبارک نفس، صاحبِ حال، گوشہ نشین، توکل پسند اور دنیا سے مستغنی بزرگ ہیں، خلوت میں ان کی صحبت سے مستفید ہوا اس زمانہ میں ان کا وجود غنیمت اور عزیز ہے، ان سے بڑے حقائق و معارف سننے میں آئے، میں نے چاہا کہ آپ کی خدمت میں نذر پیش کروں لیکن جرأت نہ ہوئی، آخر میں ایک سفید ہرن کی کھال جانماز کے طور پر استعمال کرنے کے لئے ان کی خدمت میں پیش کی۔
بزرگانِ دین سے اس عقیدت کے باوجود حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ کے تمام کارناموں اور خوبیوں کو نظرف انداز کرکے جہانگیر کا ان کو جعل ساز، دوکان دار، معرفت فروش، مردم فریب وغیرہ کہنا تعجب انگیز ہے کیوں کہ وہ طبعاً بہت ہی محبت کیش تھا اور اس کا دل بڑا ہی دردمند واقع ہوا تھا، خود حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ اس کے اسلامی حسن باطن کے معترف رہے، اس لئے اس نے حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں جو الفاظ لکھے ہیں ان کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے، وہ علم و فن کا بڑا ادا شناس بھی تھا، اس لئے حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات جیسے گنجینۂ حقائق و معارف کو مہمل اور لاطائل کہنا اور بھی زیادہ بوالعجبی ہے یا تو اس پوری عبارت کو الحاقی سمجھ کر رد کردیا جائے اور اگر یہ الحاقی نہیں ہے تو پھر یہ قیاس کرنا غلط ہوگا کہ جہانگیر نے حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں اس قسم کے نازیبا الفاظ لکھ کر نورجہاں اور اپنے شیعی امرا کی نظروں میں قاضی نوراللہ شوستری کے خون کا دھبہ اپنے دامن سے دھونے کی کوشش کی ہے، اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ کی بزرگی اور شہرت کے باوجود جہانگیر نے ان سے اسیری کے واقعہ سے پہلے ملنا پسند نہیں کیا، اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تجدیدی اور اصلاحی کوششوں میں شیعوں کے خلاف بھی ایک محاذ قائم کیا تھا اور ان کے اثرات کو دور کرنے کی خاطر بڑے شدومد سے ان کے مذہبی عقائد کی تردید میں لگے ہوئے تھے، ظاہر ہے کہ وہ تمام شیعی امرا کی نظروں میں خار کی طرح کھٹک رہے ہوں گے، ایسی صورت میں جہانگیر نے اپنے شیعی امرا کی دلداری اور دلجوئی کی خاطر ان سے ملنا پسند نہ کیا ہو، اس لئے اگر یہ کہا جاتا ہے کہ شیعی امرا نے جہانگیر کو ان کے خلاف ابھار کر ان کو قید کرا دیا تو یہ بعید از قیاس نہیں، اس سے نہ صرف قاضی نوراللہ شوستری کے قتل کا خون بہا ادا ہوگیا بلکہ شیعیت کے خلاف بھی کچھ دنوں کے لئے سرگرمیاں کم ہوگئیں، اگر قاضی نوراللہ شوستری کے قتل سے جہانگیر کے سنی امرا خوش ہوئے ہوں گے تو اس کے شیعی امرا کو حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ کی اسیری سے کچھ تسکین ضرور ہوئی ہوگی، جہانگیر کا حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے ایک ہندو منصب دار رائے سنگھ کے حوالے کرنا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس معاملہ میں وہ اپنے سنی امرا پر زیادہ بھروسہ نہیں رکھتا تھا کیونکہ اس کو سنی امرا میں ان کی مقبولیت کا اندازہ رہا ہوگا، اس اسیری کے بعد تذکرہ نگار تو یہ لکھتے ہیں کہ جہانگیر نے اپنی غلطی پر منفعل ہوکر حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ کو رہا کردیا اور ان سے معذرت کی لیکن وہ خود اپنے پندرہویں سال جلوس میں لکھتا ہے کہ
شیخ احمد سرہندی دکان آرائی، خود فروشی اور بے صرفہ گوئی کی خاطر کچھ دنوں کے لئے زنداں ادب میں محبوس تھے، ان کو اپنے پاس بلاکر رہائی دی، خلعت اور خرچ کے لئے ایک ہزار روپئے بھی دیے اور ان کو اختیار دیا کہ وہ چاہے چلے جائیں یا میرے ساتھ رہیں، انہوں نے انصاف کے ساتھ عرض کیا کہ اس تنبہ اور تادیب سے ان کو ہدایت حاصل ہوئی، انہوں نے ساتھ رہنے ہی میں اپنی مراد برآری دیکھی
اگر یہ عبارت بھی الحاقی نہیں تو جہانگیر کے اس بیان میں بھی شیعی اعزہ اور امرا کی دلدہی کے جذبہ کا اظہار ہوتا ہے، اس ناخوش گوار واقعہ کا انجام خوشگوار طریقہ پر ہوا، رہائی کے بعد جہانگیر اور حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ دونوں ایک دوسرے سے قریب تر ہوگئے، حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ اپنے صاحبزادوں خواجہ محمد سعید اور خواجہ محمد معصوم کو ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں کہ
الحمد اللہ۔۔۔۔۔۔ بادشاہ کے ساتھ عجیب وغیر صحبتیں گزر رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عنایت سے ان گفتگوؤں میں بال برابر مدہنت نہیں دخل پاتی، اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان محفلوں میں وہی باتیں ہوتی ہیں جو خاص خلوتوں اور مجلسوں میں بیان ہوا کرتی ہیں، اگر ایک مجلس کا حال لکھا جائے تو دفتر ہوجائے، خاص کر آج ماہ رمضان کی سترہویں رات کو انبیا علیہم الصلٰوۃ والسلام کی بعثت اور عقل کے عدم استقلال اور آخرت کے ایمان اور اس کے عذاب و ثواب اور رویت دیدار کے اثبات اور حضرت خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت اور ہر صدی کی مجدد رحمۃ اللہ علیہ اور خلفائے راشدین رضی اللہ عہنم کی اقتدا اور تراویج کے سنت اور تناسخ کے باطل ہونے اور دوسرے موضوع پر بہت کچھ مذکور ہوا اور بادشاہ بڑی خوشی سے سنتے اور سب کچھ قبول کرتے رہے
اس خط سے ظاہر ہے کہ دونوں کے تعلقات خوشگوار ہو گئے تھے لیکن بعض تذکرہ نویس اور مقالہ نگار لکھتے ہیں کہ جہانگیر نے حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ کو رہا کرنے کے بعد اپنے ساتھ رکھ کر نظر بند کر رکھا تھا لیکن یہ محض بدگمانی اور غلط قسم کی قیاس آرائی ہے، ایک مشہور روایت یہ بھی ہے کہ جہانگیر آخر میں حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ سے اتنا متاثر ہوگیا تھا کہ وہ کہا کرتا تھا کہ میرے پاس ایک دستاویز نجات ہے اور وہ حضرت شیخ کا ارشاد مبارک ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم کو جنت میں لے جائے گا تو ہم تیرے بغیر نہ جائیں گے، کچھ اہل قلم اس رویت کو مستند نہیں سمجھتے اور اس کی تردید میں اپنا زور قلم خواہ مخواہ صرف کرتے ہیں لیکن اس کو صحیح مان لیا جائے تو کیا ہرج ہے، دوسری قومیں طرح طرح کی روایتیں گڑھ کر اپنی تاریخ بنارہی ہیں، اگر ہماری تاریخ میں کچھ ایسی روایتیں ملتی ہیں جن کی صحت اور عدم صحت دونوں مصدقہ تھیں لیکن اگر ان سے تاریخ کا کوئی پہلو روشن ہوتا ہے تو ہمارے اہل قلم کو بلا وجہ اس کی تردید کے پیچھے نہ پڑنا چاہیے، اس سے نہ صرف ہمای تاریخ کو نقصان پہنچا ہے بلکہ ایک دوسرے کی ترید اور تائید کرنے میں خواہ مخواہ علمی اور تحقیقی سرگرمیاں برباد ہوتی رہی ہیں۔
حضرت سرمد کی شہادت :- عالمگیری عہد کا ایک بہت بڑا المیہ حضرت سعیدائے سرمد کی شہادت ہے، وہ نسلاً کاشانی یہودی تھے، اسلام لانے سے پہلے ان کا شمار علمائے یہود میں تھا وہ توریت کے بہت بڑے عالم سمجھے جاتے تھے، اسلام قبول کرنے کے بعد فلسفہ و حکمت میں بڑی دستگاہ بہم پہنچائی جس کا اظہار انہوں نے اپنی رباعیوں میں جابجا کیا ہے، وہ ایک ممتاز رباعی گو کی حیثیت سےبھی مشہور ہوئے، تجارت ان کا خاندانی پیشہ تھا، اسی سلسلہ سے اپنے وطن کا شان کو چھوڑا تو خلیج فارس کے راستے ہوتے ہوئے ٹھٹھ آئے، یہاں ان کو ابھی چند نامی ایک ہندو لڑکے سے محبت ہوگئی، لڑکے نے بھی ان کی مریدی اختیارکرکے ان سے عبرانی، توریت اور زبور پڑھنا شروع کیا اور ان کی نگرانی توریت کے ابتدائی چھ ابواب کے ترجمے فارسی میں کئے جن کو دبستان المذاہب کے مصنف نے اپنی کتاب میں شامل کر لیا ہے، ٹھٹھ کے قیام سے حضرت سرمد اس قدر مغلوب الحال ہوگئے تھے کہ بیخودی کے عالم میں کوچہ اور بازار میں برہنہ دکھائی دیتے تھے، اسی مجذوبانہ کیفیت میں وہ حیدرآباد دکن پہنچے اور وہاں سے شاہجہاں کے عہد میں دہلی آئے، ان کی عارفانہ رباعیوں کی شہرت دہلی پہلے پہنچ چکی تھی، اس لئے ان کے پاس ان کا کلام سننے کے لئے لوگوں کا بڑا مجمع رہنے لگا، داراشکوہ بھی ان کا گرویدہ ہوگیا اور انہوں نے پیشن گوئی کی کہ شاہجہان کے بعد وہی بادشاہ ہوگا، اس سے داراشکوہ کی گرویدگی اور بڑھ گئی، وہ داراشکوہ کے سامنے آتے تو اپنی عریانی چھپانے کے لئے کمر میں کپڑے کا کوئی ٹکڑا باندھ لیتے لیکن جب اورنگ زیب اور دارا کے درمیان جانشینی کی جنگ ہوئی تو دارا کو شکست ہوئی اور پھر وہ ارتداد، الحاد اور کفر کے الزام میں تہِ تیغ ہوا، تذکرہ نویس لکھتے ہیں کہ عالمگیر نے تخت نشینی کے بعد سرمد سے دریافت کیا کہ انہوں نے داراشکوہ کو بادشاہت کی جو خوشخبری دی تھی، وہ کیسے پوری نہ ہوسکی؟ سرمد نے جواب دیا کہ وہ مژدہ صحیح نکلا کیونکہ دارا کو ابدی سلطنت کی تاجپوشی نصیب ہوئی ہے، یہ جواب اورنگ زیب کو ناگوار گزرا، بعض تذکرہ نویس لکھتے ہیں کہ ان کی رباعیوں میں حسبِ ذیل رباعی کی شہرت ہوئی۔
آنکو کہ سر حقیقتش با در شد
خود پہن ترا ز سپہر سناور شد
ملا گوید کہ برشد احمد بہ فلک
سرمد گوید فلک باحمد و رشد
تو ان پر یہ الزام رکھا گیا کہ وہ معراج جسمانی کے منکر ہیں، تذکرہ نویس یہ بھی لکھتے ہیں کہ قاضی عبدالقوی فقہی جزئیات کا بڑا لحاظ رکھتے تھے، احتساب میں بھی بہت سخت تھے، ان کو حضرت سرمد کی برہنگی بڑی ناگوار تھی، اس لئے ان سے باز پرس کی تو انہوں نے جواب دیا کہ شیطان قوی است اور پھر یہ رباعی پڑھی۔
خوش بالائے کردہ چنیں پست مرا
چشمے بدو جام بردہ از دست مرا
و در بغل من است و من در طلبش
ذردے عجبے برہنہ کردہ است مرا
قاضی عبدالقوی مذکورۂ بالا جواب اپنے اوپر طنز سمجھے اور انہوں نے ان پر عریانی کا جرم قائم کرکے عالمگیر کو ان کے قتل کا مشورہ دیا لیکن عالمگیر نے کہا کہ صرف عریانی وجہ قتل نہیں ہوسکتی ہے، بعض تذکروں میں یہ بھی ہے کہ عالمگیر نے ان کو دربار میں بلا کر ان سے برہنگی کا سبب پوچھا تو انہوں نے یہ رباعی پڑھی۔
آنکس کہ ترا سریر سلطانی داد
مارا ہمہ اسباب پریشانی داد
پوشاند لباس ہر کرا عیبے دید
بے عیباں را لباسِ عریانی داد
اس طرح حضرت سرمد پر مختلف قسم کے الزامات تھے، علما ان سے خوش نہ تھے اور خود عالمگیر کو بھی ان سے ناگواری تھی، اس لئے وہ علما کے ایک اجتماع میں طلب کئے گئے دربار میں ان سے کلمہ پڑھنے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے حسب عادت صرف ایک جز یعنی لا الہٰ پڑھا، علما نے اس پر اعتراض کیا تو انہوں نے کہا کہ میں ابھی نفی میں مستغرق ہوں، مرتبہِ اثبات پر نہیں پہنچا ہوں تو پھر جھوٹ کیسے کہوں، علما نے کہا ایسا کہنا کفر ہے، اگر کہنے والا توبہ نہ کرے تو واجب القتل ہے اور ان کے قتل کا فتویٰ صادر کردیا گیا، تذکرہ نویس لکھتے ہیں کہ اس فتویٰ کے بعد دربار سے حضرت سرمد قتل گاہ کی طرف چلے تو تمام شہر امنڈ پڑا، اس قدر ہجوم تھا کہ راستہ چلنا دشوار ہوگیا، حضرت سرمد پر کوئی اثر نہ تھا اور وہ اطیمنان و سکون کے ساتھ رباعیاں کہتے جا رہے تھے اور جب جلاد تلوار لے کر ان کی طرف بڑھا تو ان کے لبوں پر مسکراہٹ تھی اور وہ یہ شعر پڑھ رہے تھے۔
رسیدہ یار عریاں، تیغ ایں دم
بہر رنگے کہ آئی مہ شناسم
پھر یہ اشعار پڑھے۔
شورے شدہ از خواب عدم چشم کشودیم
دیدیم کہ باقیست شبِ فتنہ غنودیم
دیگر
سر جدا کرد از تنم شوخے کہ بامایار بود
قصہ کوتہ کرد ورنہ درد سر بسیار بود
تذکرہ نویس یہ بھی لکھتے ہیں کہ سرکشتہ سے دیر تک کلمۂ طیبہ کی آواز بلند ہوتی رہی، واللہ اعلم اور ان کی ذات سے لوگوں کی گرویدگی آج تک باقی ہے اور انہوں نے وحدۃ الوجود، وحدۃ الشہود جبرو اختیار، محبتِ الٰہی، ذکرِ الٰہی، رضائے الٰہی، دیدارِ الٰہی، دیدار نبوی پر جو رباعیاں کہی ہیں وہ آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں لیکن ان کی عارفانہ انفرادیت ان کی مجذوبانہ کفیت میں کچھ ایسی گم ہوکر رہ گئی ہے کہ ان کے متعلق جب کوئی کچھ لکھنے بیٹھتا ہے تو طرح طرح کی موشگافیاں کرتا ہے، چنانچہ کلیفورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر والٹر جے فشل نے حیدرآباد دکن کے رسالہ اسلامک کلچرل میں ازمنۂ وسطی میں ہندوستان کے مغل شاہنشاہوں کے دربار میں یہود اور یہودیت کے عنوان سے ایک مضمون میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ سرمد بظاہر مسلمان ہوگئے تھے لیکن انہوں نے اسلام برائے نام قبول کیا تھا، وہ ہمیشہ یہودیوں کو تنبیہ کرتے رہتے تھے کہ وہ مسلمانوں کے مذہب کو قبول نہ کریں اور انہوں نے ہندوستان پہنچ کر یہودیت کی بڑی خدمت کی، اس لئے وہ یہودی مذہب کی تاریخ میں نمایاں جگہ پانے کا حق رکھتے ہیں، ان کی پہلی خدمت تو یہ تھی کہ انہوں نے دبستان المذاہب جیسی اہم کتاب کے مصنف سے علمی اشتراک کرکے یہودیت کو فارسی جاننے والے ہندوستانیوں سے روشناس کیا، ان کی دوسری خدمت یہ تھی کہ ان ہی کی وساطت سے ہندوستان میں توریت کا فارسی ترجمہ رائج ہوا، تیسری بڑی خدمت یہ تھی کہ انہوں نے داراشکوہ کو یہودی عقائد سے واقف کرایا، پروفیسر مذکورہ آخر میں لکھتے ہیں کہ سرمد کے قتل کرانے کی ایک بڑی وجہ ان کی یہودیت بھی تھی، انہوں نے اسلام ضرور قبول کرلیا تھا لیکن وہ اسلام سے سطحی طور پر متاثر تھے، وہ صوفی بن کر شاہی خاندان کو اپنے زیر اثر لارہے تھے، اورنگ زیب نے اس خطرہ کو محسوس کرلیا تھا، چنانچہ دارا کے قتل کے محضر میں اس نے یہ وضات بھی کردی تھی کہ داراشکوہ کے ذریعہ یہودیت اور کفر کا غلبہ ہوجاتا۔
پروفیسر مذکور یہودی ہیں اس لئے انہوں نے جو کچھ لکھا ہے، اس میں خود ان کی یہودیت کی فتنہ سامانی اور شرانگیزی ہے، حضرت سرمد سے عام مسلمانوں کو جو عقیدت پیدا ہوگئی ہے اس کو وہ کسی طرح زائل کرنا چاہتے ہیں، علما اور عالمگیر نے جو کچھ ان کے ساتھ کیا وہ صحیح تھا یا غلط اس بحثف سے قطع نظر ہوکر یہ کہا جاسکتا ہے کہ آج بھی ان کے مرقد پر زائرین کا مجمع رہتا ہے جو ان کی مقبولیت کی دلیل ہے اور موجودہ دور کا بڑے سے بڑا متقشف عالم بھی ان کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال نہیں کرتا۔
صوفیۂ کرام کی شان استغنا :- اوپر کی تفصیلات سے ظاہر ہوا ہوگا کہ بعض سلاطین کو کچھ صوفیہ سے ذاتی یا سیاسی یا مذہبی اختلافات ضرور ہوئے لیکن ان کی مثالیں زیادہ نہیں ہیں، زیادہ تر سلاطین اکابر صوفیہ کی بارگاہوں میں سرِ نیاز خم کرتے رہے لیکن ان روحانی بزرگوں نے ان سے قریب ہونے کے باوجود ان سے دور رہ کر اپنی روحانی عظمت برقرار رکھی اور اپنی فقیری کی شان ان سے متغنی اور بے نیاز رہنے ہی میں تصور کی اور ان سے کسی قسم کا مادی فائدہ اٹھانا اپنے لئے سم قاتل سمجھتے رہے۔
سلطان ایلتتمش حضرت خواجہ بختیار کاکی کا مرید تھا، اس کو حضرت خواجہ کے گھر والوں کی عسرت اور تنگی کا حال معلوم ہوا تو اس نے اپنے وزیر کے معرفت کچھ گاؤں کا فرمان لے کر ان کی خدمت میں بھیجا، خواجہ صاحب نے لینے سے انکار کیا اور فرمایا کہ ہمارے خواجگان نے کسی سے گاؤں قبول کیا ہوتا تو ہم بھی قبول کرلیتے، اگر ہم گاؤں لے لیں تو قیامت کے روز اپنے خواجگان کو کیا منہ دکھائیں گے، سلطان ناصرالدین محمود نے حضرت بابا گنج شکر کی خدمت میں اپنے وزیر الغ خاں کو چا گاؤں کا فرمان اور ایک کثیر رقم بطور ہدیہ دے کر بھیجا مگر انہوں نے یہ کہہ کر واپس کردیا کہ ان کو دو جن کو ضرورت ہو، اسی طرح ایک بار ان کی خدمت میں اجوھدن کے والی نے کچھ گاؤں اور نقد رقم پیش کرنے کی کوشش کی تو فرمایا کہ اگر میں یہ گاؤں اور رقم لے لوں تو مجھے لوگ درویش نہ کہیں گے مالدار کہیں گے اور میرا لقب درویش دیہ وار ہوجائے گا۔
اگر اصرار کر کے سلاطین اور امرا کچھ نذرانے ان کا اکابر صوفیہ کو پیش کرتے تو وہ ایک ہاتھ سے لے کر دوسرے ہاتھ سے مساکین اور غربا میں تقسیم کر دیتے، سلطان محمد تغلق نے حضرت شیخ قطب الدین منور رحمۃ اللہ علیہ کے پاس شہزادہ فیروز اور مولانا ضیاؤالدین برنی کو ایک لاکھ ٹنکے دے کر بھیجا، انہوں نے اتنی بڑی رقم دیکھ کر فرمایا یہ درویش ایک لاکھ ٹنکے لے کر کیا کرے گا اور لینے سے انکار کردیا، شہزادہ فیروز اور مولانا ضیاؤالدین برنی سلطان کے واپس گئے، سلطان نے پچاس ہزار ٹنکےدے کر پھر دونوں کو بھیجا لیکن شیخ نے ان کو بھی قبول نہیں کیا، بالآخر دو ہزار ٹنکے بھیجے گئے لیکن ان کو بھی قبول نہیں کیا اور فرمایا درویش کے لئے دو سیر کھچڑی اور ایک سیر روگن کافی ہے لیکن جب اصرار کیا گیا تو نہوں نے دوہزار کی رقم لے لی، کچھ تو اپنے مرشد حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کے لئے محفوظ رکھی اور بقیہ فقرا میں تقسیم کردی۔
اسی طرح سلطان محمد تغلق نے حضرت شرف الدین یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ کے اخراجات کے لئے ایک پرگنہ کی جاگیر کا فرمان جاری کیا اور اپنے مقطع کو حکم دیا کہ اگر وہ قبول نہ کریں تو بھی زبردستی دیا جائے، شاہی مقطع کی گلو خلاصی کی خاطر انہوں نے یہ جاگیر قبول کرلی لیکن فیروز شاہ تغلق کے عہد میں دہلی جاکر یہ فرمان واپس کردیا کہ یہ ان کے کام کا نہیں، فیروز شاہ تغلق نے حضور برکت کی خاطر کچھ خدمت کرنی چاہی اور ایک بڑی رقم پیش کی، اس کو قبول تو فرما لیا لیکن شاہی دربار سے نکلتے ہی فقرا اور مساکین میں تقسیم کردیا اور درویشانہ استغنا کے ساتھ خالی ہاتھ وطن کی طرف مراجعت کی۔
حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ کا مطبخ ہمیشہ گرم رہتا، کئی ہزار فقرا اور مساکین ان کے مطبخ میں روزانہ کھانا کھاتے، ان اخراجات کے لئے ان کے یہاں بکثرت نذرانے آتے لیکن دن کو جو چیز خانقاہ میں آتیں شام تک تقسیم کردی جاتیں، ان کی خانقاہ میں دنیاوی ساز و سامان جمع ہوتے تو ان کو دیکھ کر ان پر گریہ طاری ہوجاتا اور اگر کسی وقت کوئی قیمتی چیز بطور تحفہ آجاتی تو اور بھی زیادہ آہ و بکا کرتے اور ہدایت دیتے کہ یہ جلد از جلد فقرا میں تقسیم کردی جائے اور جب یہ محتاجوں کو پہچ جاتی تو ان کو اطمینان ہوتا وہ ہر جمع کو تجرید فرماتے، یعنی وہ اپنے تمام حجروں اور ابنا خانوں کو یہاں نک خالی کرا دیتے کہ ان میں جھاڑو دے دی جاتی، اس کے بعد جامع مسجد تشریف لے جاتے اور اطمینان سے نماز ادا کرتے، وہ بادشاہوں اور شہزادوں سے تحفے اور ہدیے قبول نہیں کرتے اور کوئی پیش کرتا تو ٹھنڈی آہ بھر کر کہتے کہ یہ لوگ درویشی کو غارت کرتے ہیں۔
اکابرِ صوفیہ کی الاودوں کی روایت شکنی :- آگے چل کر ان بزرگوں کی الاودوں اور سجادہ نشینوں میں یہ شان باقی نہیں رہی، سلاطین وقت نے ان کو عہدے دیے تو ان کو قبول کرلیا اور ان کی خانقاہوں کے لئے جاگیریں عطا کیں تو خوشی سے منظور کرلیں بلکہ جاگیریں حاصل کرنے کی کوشش کی۔
حضرت بابا فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے اور سجادہ نشیں شیخ علاؤالدین اجودھنی رحمۃ اللہ علیہ شاہی دربار کی حاضری کو نجس اور پلید سمجھتے رہے، اسی لئے جیسا کہ پہلے ذکر آیا ہے جب حضرت رکن الدین ملتانی رحمۃ اللہ علیہ دہلی کے دربار سے واپسی میں اجودھن ان کی ملاقات کو آئے اور ان سے معانقہ کیا تو انہوں نے معانقہ کے بعد غسل کیا تاکہ دربار کی نجاست دور ہوجائے لیکن خود ان کے صاحبزادوں میں شیخ معزالدین اور شیخ علم الدین نے محمد تغلق کے عہد میں عہدے قبول کئے، اوّل الذکر گجرات کے ناظم ہوئے اور آخر الذکر شیخ الاسلام کے عہدے پر مامور کئے گئے۔
حضرت شیخ عبدالقدوس رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے ملا عبدالنبی اکبر کے زمانہ میں صدرالصدور بننے کو تو بن گئے لیکن آخر میں اکبر کو ان سے جو اختلاف ہوا تو ان کو قید خانہ میں بند کر دیا جہاں رہ کر عالمِ بقا کو سدھارے، ملا عبدالقادر بدایونی کا بیان ہے کہ اکبر نے حضرت غوث گوالیاری رحمۃ اللہ علیہ کو ایک در درہم کی جاگیر دی تھی، اس لئے ان کے اخراجات بہت تھے اور وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ شاہانہ کروفر کے ساتھ سفر کرتے تھے، حضرت شیخ سلیم چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے راہِ سلوک طے کرنے میں بڑی ریاضت کی اور انتہائی فقروفاقہ کی زندگی بسر کی لیکن ان کے معاصر شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ آخر میں ان میں بڑی تبدیلی پیدا ہوگئی تھی، انہوں نے عمارتیں بنوانی شروع کیں، باغ لگوائے اور کنویں کھدوائے اور بعض عادتیں جو شرعیت کے خلاف تھیں، عوام کی طرح ان میں بھی پیدا ہوگئیں، یہ تبدیلی شاہی دربار سے تعلقات کے بعد ہوئی، جہانگیر نے ان کی اولادوں کو بھی بڑے بڑے عہدے دینے شروع کئے، ان کے پوتے اسلام خاں فاروقی چشتی کو بنگال کا صوبہ دار مقرر کیا، عجیب وغریب صفات رکھتے تھے، میدانِ جنگ میں ہاتھی سے لڑجاتے تھے اور اس کو زمین پر دے مارتے تھے، خاندانی روایت کے مطابق صوفی بھی تھے، زندگی بھر جوارکی روٹی، ساٹھی کا چاول اور ساگ کھاتے رہے، مذہبی احکام کے بھی بڑے پابند تھے لیکن امارت آئی تو لوازم امارت کی خاطر فنون لطیفہ کی بھی سرپرستی کرنے لگے اور بنگال کے رقص و سرود کے اربابِ کمال مثلاً لولی، ہورکنی، کنچنی اور ڈومنی پر نولاکھ ساٹھ ہزار سالانہ خرچ کیا کرتے تھے۔
ہر خانقاہ کے لئے سلاطین نے بڑی بڑی جاگیریں عطا کیں جس کا نتیجہ یہ تھا کہ اس کے متوالی اور سجادہ نشیں اپنے اسلاف کی روایت کے خلاف مالدار اور جاگیردار بن بیٹھے اور ان میں نفس کشی کے بجائے نفس پروری، ریاضت و عبادت کے بجائے امارت و جاہ پسندی اور فقروفاقہ کے بجائے تن آسانی اور راحت پروری آگئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سلاطین پہلے ان کی بارگاہ میں جبیں سائی کرتے تھے لیکن اب وہ خود ان کے فیض وکرم کے زلہ ربا ہوگئے، داراشکوہ کے پیر ملا جیو اپنے مریدوں سے کہا کرتے تھے کہ جس طرح میں دارا کے حال کی طرف متوجہ رہتا ہوں تم بھی رہا کرو، اگر تم اس کی طرف متوجہ نہ ہوگے تو خدا سے پھر جاؤ گے، وہ اپنے مریدوں سے دارا شکوہ ہی کی صورت کا مراقبہ کرنے کی تلقین کرتے تھے، آگے چل کر محمد شاہ رنگیلے نے اپنے زمانے میں ایک صوفی شاہ مبارک کو برہان الطریت کا خطاب دیا، اور ایک دوسرے بزرگ شاہ بدا کو برہان الحقیقت کے لقب سے نوازا اور شاہ رمز کو فصیح البیان کا خطاب دیا۔
آخری دور میں حضرت شاہ کلیم اللہ جہاں آبادی، حضرت شاہ نظام الدین اورنگ آبادی اور حضرت شاہ فخرالدین دہلوی جیسے بزرگوں نے صوفیۂ کرام کے استغنا کی عظمت اور توکل کی شان کو برقرار رکھنے کی ضرور کوشش کی لیکن دنیادار صوفیہ کی وجہ سے خانقاہوں کی اہمیت بھی جاتی رہی اور جہاں علم، معرت، تقویٰ، دینداری اخلاص، استغنا، توکل، حقوق العباد، حقوق اللہ اور تہذیب نفس کی بہترین تعلیمات حاصل ہوا کرتی تھیں، وہاں معرفت فروشی، مردم فریبی اور تصوف کی دوکان داری ہونے لگی، خواجگانِ چشت کی تعلیم یہ تھی کہ سالک تمام دنیاوی آلائشوں سے پاک رہے، حتیٰ کہ وہ اپنے رزق سے بھی بے غم رہے اور اگر اس کے لئے اندوہ گیں رہتا ہے تو وہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے کیونکہ خداوند تعالیٰ خود اس کا رزق اس کے پاس پہنچائے گا پھر بھی ا س کا توکل یہ ہونا چاہئے کہ اس کو جو کچھ بھی ملے راہِ خدا میں دے دے اور اگر رزق جمع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی تمام عنایتوں سے محروم ہوجاتا ہے، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک مکتوب میں فرمایا کہ فقیروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے کو ہمیشہ ذلیل، محتاج اور مسافر سمجھیں، روتے اور التجا کرتے ہوئے زندگی گزار دیں اور اپنے عیبوں کو دیکھتے، گناہوں کے غلبہ کا مشاہدہ کرتے اور علّام الغیوب سے ڈرتے رہیں، اپنی نیکیوں کو تھوڑا سمجھیں اگر چہ بہت ہوں، اور اپنی برائیوں کو بہت خیال کریں، اگر چہ تھوڑی ہوں، اور مخلوق میں مشہور اور مقبول ہونے سے ڈرتے رہیں لیکن یہ تمام شرائط جاگیر دار صوفیہ نے پوری نہیں کیں اور جن کو جاگیریں نہیں ملیں وہ عملیات، تعویذوں اور گنڈوں کے ذریعہ مشہور ہوکر رزق جمع کرنے کی فکر میں لگے رہے، ایسے ریا کار صوفیہ کے نمونے دیکھ کر علما کا ایک بڑا گروہ نہ صرف ان کا مخالف بلکہ سلوک و تصوف کا بھی نکتہ چیں رہا۔
علما اور صوفیہ :- یہ عجیب بات ہے کہ تمام اکابر صوفیہ نے علما ہی کی طرح تعلیم حاصل کی لیکن علما اور صوفیہ کی تقریق خواہ مخواہ پیدا ہوگئی، حضرت بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ نے تمام ظاہری علوم کی تعلیم پائی تھی، حضرت بہاؤالدین زکریا سہروردی رحمۃ اللہ علیہ نے کلامِ پاک ساتوں قراتوں کے ساتھ حفظ کیا تھا اور پندرہ سال تک خراسان اور بخارا میں تحصیل علم کرتے رہے، حضرت فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی کلامِ پاک حفظ کیا اور فقہ کی کتاب نافع مولانا منہاج الدین ترمذی سے پڑھی، حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ راہِ سلوک کی ابتدائی منزل میں کسی شروعی مسئلہ پر غور و فکر رہے تھے کہ ایک مجذوب نے آکر کہا کہ مولانا نظام الدین! علم بہت بڑا حجاب ہے، حضرت شیخ نظام الدین اؤلیا کے دل میں یہ بات کھٹکی کہ علم حجاب تو ہوسکتا ہے لیکن بڑا حجاب کیونکر ہوسکتا ہے، مجذوب نے کہا جب اس جگہ پہنچو گے تو معلوم ہوجائے گا، اس کے بعد حضرت شیخ نظام الدین اپنے مرشد حضرت فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے اور مجذوب کی باتیں کہہ سنائیں، حضرت فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ حجاب دو قسم کا ہوتا ہے، ایک ظلمانی، دوسرا نورانی، گناہ اور برائیاں ظلمانی حجاب ہیں جو شخص ان سے توبہ کرے گا اس کا گناہ معاف کردیا جائے گا لیکن علم ایک نورانی حجاب ہے جس کو ہر شخص نہ عبور کرسکتا ہے اور نہ اس کے کنارے سے اٹھ سکتا ہے جس وقت تک شروعی علوم میں دستگاہ نہیں ہوگی، خدا کی محبت، معرفت اور قربت حاصل نہیں ہوسکتی، اس لئے علم ایک بڑا حجاب ہوتا ہے۔
حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا نے قدوری، حریری، مشارق الانوار کی باضابطہ تعلیم پائی اور جب ان کی دستارِ فضیلت باندھی گئی تو بدایوں کی علما اور مشائخ دونوں اس تقریب میں شریک تھے، ان کا شمار متبحر علما میں بھی ہوتا رہا، ان کے مرید ان کے علمی تبحر سے بھی استفادہ کرتے تھے، اسی لئے ان کی خانقاہ میں رشدوہدایت کے ساتھ درس و تدریس کا بھی سلسلہ رہتا تھا۔
اکابر صوفیہ کی علمی فضیلت کے معترف سب ہی ہوتے مثلاً مولانا قطب الدین کاشانی دہلی آئے اور حضرت حمیدالدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف پڑھیں تو اپنے ہمراہی علما سے کہا کہ اے یارو جو کچھ ہم نے اور تم نے پڑھا ہے وہ سب ان تصانیف میں موجود ہے اور جو کچھ نہیں پڑھا ہے وہ علم بھی ان کتابوں میں موجود ہے، اسی طرح حضرت شیخ صدالدین عارف، حضرت شیخ ابوالفتح رکن الدین، حضرت شیخ برہان الدین غریب، حضرت شیخ نصیرالدین چراغ دہلوی، حضرت شرف الدین احمد منیری، حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت، حضرت سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت بہاؤالدین نقشبند، حضرت عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے اکابر مشائخ کا درجہ علومِ ظاہری میں جید علما سے کم نہیں لیکن اس حقیقت کے باوجود علما اور صوفیہ کی تفریق پیدا ہوگئی اور غلط یا صحیح وہ دو علٰحدہ گروہ سمجھے گئے اور بڑی چھوٹی بہت سی باتوں پر دونوں میں اختلاف پیدا ہوتے رہے۔
شریعت و طریقت کا جھگڑا :- علما کو صوفیہ سے اختلاف کا بڑا سبب یہ تھا کہ وہ برابر ڈرتے رہے کہ کہیں طریقت اور حقیقت کے مسائل و افکار میں شریعت گم ہوکر نہ رہ جائے، حالانکہ جتنے اکابر صوفیہ گذرے ہیں وہ برابر یہ کہتے رہے کہ جس طرح آفتان سے نور، جوہر سے عرض اور موصوف سے صفت جدا نہیں ہوسکتی، اسی طرح شریعت سے حقیقت علٰحدہ نہیں ہوسکتی، خود حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ تعلیم رہی کہ صوری حیثیت سے اخلاق کی تکمیل یہ ہے کہ سالک اپنے ہر کردار میں شریعت کا پابند ہو، جب اس سے کوئی بات خلافِ شریعت سرز نہ ہوگی تو وہ دوسرے مقام پر پہنچے گا جس کا نام طریقت ہے اور جب اس میں ثابت قدم رہے گا تو معرفت کا درجہ حاصل کرے گا اور جب اس میں بھی اترے گا تو حقیقت کا مرتبہ پائے گا، اس کے بعد وہ جو کچھ مانگے گا اس کو ملے گا، اسی لहے خواجہ صاحب نے شریعت کے تمام ارکان اور جزئیات کی پابندی پر بڑا زور دیا ہے اور یہی مسلک چشتیہ سلسلہ کے تمام بزرگوں کا رہا۔
سہروردیہ سلسلہ میں حضرت صدرالدین عارف فرمایا کرتے تھے کہ ایمان کی استقامت کی علامت یہ ہے کہ بندہ اللہ اور رسول کو محبوب رکھے اور محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو تمام پیغمبروں میں افضل سمجھے اور جو کچھ آپ نے فرمایا اس کو صحیح اور درست سمجھے، خواہ یہ باتیں عقل میں آئیں یا نہ آئیں اگر نہ آئیں تو بھی ان کو تسلیم کرے تاکہ اعتقاد ردست رہے، کیونکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم کو جانا اور اس کی کیفیت کو معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی۔
فردوسیہ سلسلہ کے بزرگوں میں حضرت شرف الدین یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مکتوبات میں فرمایا ہے کہ شرعیت کے بغیر راہِ سلوک میں قدم رکھنا جہالت اور ہلاکت ہے، شریعت سے طریقت اور طریقت سے حقیقت معلوم ہوتی ہے، ایک سالک کو شریعت سے واقفیت نہیں تو وہ طریقت اور حقیقت سے آگاہی نہیں حاصل کرسکتا ہے، حقیقت بغیر شریعت کے زندقہ اور شریعت بغیر حقیقت کے نفاق ہے۔
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اپنے ہر مکتوب میں مکتوب الیہ کو شریعت کی پابندی کی تعلیم وتلقین کرتے رہے، وہ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں کہ صدیقین کی دلی آرزو اور اصلی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ حضرت مصطفیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کمالِ متابعت سے مشرف ہوجائے، اس کے سوا سب کچھ جھوٹے وہم اور بیہودہ خیالات ہیں، سلام ہو اس شخص پر جس نے ہدایت پائی اور حضرت مصطفیٰ علیہ وآلہ الصلوٰۃ والسلام کی متابعت کو ہمیشہ لازم جانا لیکن رفتہ رفتہ صوفیہ میں کچھ ایسا گروہ بھی پیدا ہوگیا جو یہ کہتا کہ ایمان کی علت معرفت ہے، اگر معرفت ہو اور طاعت نہ ہوتو اللہ تعالیٰ بندہ سے مواخذاہ نہ کرے گا لیکن طاعت ہو اور معرفت نہ ہو تو بندہ بجات نہیں پائے گا۔
کچھ ایسے صوفیہ بھی پیدا ہوگئے جو اپنے کو قلندر کہتے، نماز نہیں پڑھتے اور روزے نہیں رکھتے، ان کے ترک فرائض کی یہ تاویل کی جاتی کہ یہ لوگ ایک وقت اور ایک حال میں اسی روح اور جسد کے ساتھ کئی جگہ دکھائی دیتے ہی، اس لئے ایک جگہ تو بہ ظاہر تارکِ فرائض نظر آتے ہیں لیکن اسی وقت دوسری جگہ فرض بجا لاتے ہیں، کچھ ایسے صوفیہ بھی ہوگئے جو اپنے کو مجذوب کہتے اور شرعیت کی کوئی پابندی نہ کرتے، ان کے بارے میں کہا جاتا کہ وہ عالم جنون میں رہتے ہیں اور مجنون پر تکلیفاتِ شرعیہ نہیں۔
علما کی نظروں میں یہ باتیں کھٹکتیں، گو اکابرِ صوفیہ خود اس کی تردید کرتے رہتے کہ وہ معرفت پسندیدہ نہیں جس میں طاعت نہ ہوا، ان کے نزدیک معرفت شوق اور محبت کا نام ہے، شوق اور محبت کی علامت طاعت ہے، شوق اور محبت جس قدر زیادہ ہوتی جائے گی، اسی قدر فرمانِ الٰہی کی تعظیم بڑھتی جائے گی، حضرت شرف الدین یحییٰ منیری نے تو ایسے صوفیہ پر لعنت بھیجی ہے، جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حقیقت کا جب کشف ہوجاتا ہے تو پھر شریعت کی ضرورت باقی نہیں رہتی، انہوں نے تو کتاب، سنت اور اجماعِ امت کی تقلید کو ہر حال میں ضروری قرار دیا ہے اور دوسرے خانوادوں کے بزرگوں کو بھی یہی تعلیم رہی لیکن اکابر صوفیہ کے اس مسلک کے باوجود کچھ ریاکار متصوفین ایسے بھی تھے جو نماز کے پابند نہ ہوتے اور کہتے کہ وہ عالم سکرات میں ہیں، عریاں رہتے اور لوگوں کو یقین دلاتے کہ عالمِ جذب میں ہیں، حسن پرست ہوکر ہوسناک بن جاتے لیکن اعلان کرتے کہ اس طرح ذاتِ لٰہی کی صفتِ جمال کے مشاہدہ میں مشغول ہیں، عشقِ مجازی کی بو الہوسی میں مبتلا رہتے لیکن عشقِ حقیقی کا دم بھرتے، گمراہی اور ضلالت اختیار کئے ہوتے لیکن اناالحق کا نعرہ لگاتے اور دوسروں کو باور کراتے کہ خداوند تعالیٰ کی روح ان میں حلول کرگئی ہے، ٹونے ٹوٹکے اور جادو کرتے لیکن ان کو کشف و کرامات کہتے، ایسے متصوفین نے محض دنیاوی مال و منال اور جاہ وحشمت کی خاطر اپنے کو صوفی ظاہر کر کے تصوف کو بدنام کیا، پاک نہاد صوفیہ بھی ان کو برا سمجھتے لیکن علما کا ایک گروہ ان ہی کے نمونے دیکھ کر تصوف کا ناقد رہا۔
وحدۃ الوجود کا جھگڑا :- ہندوستان میں اسلام کے ابتدائی دور کے صوفیۂ کرام میں زیادہ تر خشیت الٰہی کا غلبہ رہا، حضرت خواجہ معین الدین چشتی کا ارشاد تھا کہ عارف کے لئے تین ارکان ضروری ہیں، ہیبت، تعظیم اور حیا، اپنے گناہوں سے شرمندہ ہونا، ہیبت ہے، طاعت گذاری تعظیم ہے اور خدا کے سوا کسی پر نظر نہ ڈالنا حیا ہے، حضرت خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ خشیتِ الٰہی کی بنا پر کشتۂ خنجر تسلیم ہوئے، ان بزرگوں پر خداوند تعالیٰ کی ہیبت ایسی طاری رہتی کہ وہ برابر عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے، حضرت فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ ریاضت کی وجہ سے اس قدر کمزور ہوگئے تھے کہ دو قدم چلنا ان کے لئے مشکل تھا، ایک بار اٹھ کر تھوڑی دور چلنا چاہتے تھے، عصا کے سہارے اٹھے مگر چند قدم چلے ہوں گے کہ چہرہ کا رنگ متغیر ہوگیا، ہاتھ سے عصا چھوڑ دیا، حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ ساتھ تھے، انہوں نے پریشانی کا سبب پوچھا تو فرمایا عصا پر سہارا کیا تھا، اس لئے عتاب نازل ہوا کہ غیر کا سہارا لیتے ہو، اسی لئے عصا چھوڑ دیا اور محجوب ہوں، وہ فرماتے تھے کہ عبادتِ الٰہی سے عشق کی تکمیل ہوتی ہے، عبادتِ الٰہی سے اسرارِ الٰہی معلوم ضرور ہوتے ہیں لیکن ان کا ظاہر کرنا عشق کے منافی ہے لیکن آگے چل کر صوفیۂ کرام میں عشقِ الٰہی کا غلبہ زیادہ ہوگیا اور حب وہ اسکا اظہار کرنے لگے تو وحدۃ الوجود کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا، خواجگان چشت کے ملفوظات میں عشقِ الٰہی کا ذکر تو جابجا ہے جس میں وحدۃ الوجود کے رموز و نکات تلاش کئے جاسکتے ہیں لیکن میرا خیال یہ ہے کہ وحدۃ الوجود کی باضابطہ علمی بحث سب سے پہلے حضرت شرف الدین یحییٰ منیری کے مکتوبات سے شروع ہوتی ہے، وہ لکھتے ہیں کہ مجادہ اور ریاضت کی کثرت سے سالک ایسا مستغرق ہوجاتا ہے کہ عالم جو آئینہ حیرت سے اس کو نظر نہیں آتا، ساری ہستیاں اس کی نظر میں گم ہوجاتی ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کچھ نہیں دیکھتا، اس پر فنائیت طاری ہوتی ہے، اس کو فنا فی االتوحید یعنی ہمہ اوست کہتے ہیں، فنا فی التوحید کے بعد بھی ایک مرتبہ ہے جس کا نام الفنا عن الفنا ہے، اس مرتبہ میں سالک کو کمالِ استغراق میں اپنی فنائیت کی بھی خبر نہیں ہوتی اور وہ خدا کے جلال اور جمال میں کوئی فرق اور تمیز نہیں کرسکتا کیونکہ یہ تمیز باقی رہ جاتی ہے تو یہ تفرقہ کی دلیل ہے، عین الجمع اور جمع الجمع کا مقام اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب سالک اپنے اور کل کائنات کو خدا کے نور میں غرق کردیتا ہے اور اس کو خبر نہیں ہوتی ہے کہ کون اور کیا غرق ہوا، اس مقامِ تفرید میں پہنچ کر سالک کو وحدۃ الوجود کی حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے اور وہ ایسا محو ہو جاتا ہے کہ اس کو اسم ورسم وجود وعدم، عبادت و اشارت، عرش و فرش اور اثر و خبر سے کوئی واقفیت نہیں ہوتی اور اس مقام کے سوا کہیں اور جلوہ گر نہیں ہوتا، یہاں کے سوا اس کا نشان کہیں اور ظاہر نہیں ہوتا، اس جگہ حضرت شرف الدین یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ نے بطورِ انتباہ لکھا ہے کہ توحیدِ وجودی علم کے وجہ میں ہویا شہود کے ابتدائی درجہ سے انتہائی درجہ ہو، ہر درجہ میں بندہ بندہ ہے اور خدا خدا ہے اس لئے اناالحق سبحانی ما اعظم شانی (میں خدا ہوں میں پاک ہوں اور میری شان اس قدر بڑی ہے) وغیرہ کہنا کلماتِ کفر ہیں۔
وحدۃ الوجود کی زیادہ تفصیلی بحث حضر اشرف جہانگیر سمنانی کے یہاں ملتی ہے، ان کے نزدیک ہمہ اوست ہی حقیقی توحید ہے اور اس کو انہوں نے آیاتِ قرآنی، احادیث نبوی اور دوسرے دلائل سے ثابت کیا ہے، اس مسئلہ پر اس دور میں جتنی بحثیں ہوتی رہیں، ان میں شریعت کا دامن کسی حال میں نہیں چھوڑا گیا مگر آگے چل کر اس کا رنگ کچھ اور ہوگیا،
حضرت عبدالقدوس گنگوہی شرعیت کے بڑے پابند تھے اور اپنے تقویٰ میں ان تمام چیزوں سے پرہیز کرتے جن کی شرعی حیثیت ذرا بھی مشکوک ہوتی، وہ عام قصابوں کا ذبیحہ نہ کھاتے تھے کیونکہ وہ عموماً نمازی نہ ہوتے تھے لیکن جب وہ وحدۃ الوجود کے قائل ہوئے تو ان پر اس کا اتنا غلبہ ہوا کہ وہ اس کو جز و ایمان سمجھنے لگے اور اس کے منکر کو بدعقیدہ سمجھتے لطائف قدوسی میں ہے کہ ایک بار ان کے صاحبزادوں نےان سے عرض کیا کہ وحدۃ الوجود کی کوئی تصریح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں نہیں ملتی اور ہم اس کو اپنے عقیدہ کا ایک جز بنائے ہوئے ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آخرت میں اس پر مواخذہ کیا جائے، حضرت عبدالقدوس گنگوہی نے پہلے ان کو قائل کرنے کی کوشش کی لیکن پھر ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ ان کے لڑکے وحدۃ الوجود کے منکر ہیں تو علمِ معرفت میں بھی ناقص ہیں، اس لئے ان کے ساتھ رہنا پسند نہیں کیا اور گنگوہ چھوڑ دینے کا قصد کر لیا وہ گنگوہ تو نہ چھوڑ سکے لیکن اپنے لڑکوں کے پیچھے نماز پڑھنی چھوڑ دی، ان پر وحدۃ الوجود کا جو غلبہ تھا، اس کا اظہا ان کے حسب ذیل مکتوب سے ہوتا ہے۔
یہ کیسا شور ہے اور کیسا غوغا پھیلا ہوا ہے کہ کوئی مؤمن ہے کوئی کافر ہے کوئی اطاعت کرنے والا ہے، کوئی گناہ گار ہے، کوئی صحیح راست پر ہے، کوئیل غلط راہ پر چل رہا ہے، کوئی مسلم ہے کوئی پارسا ہے، کوئی ملحد ہے، کوئی ترسا ہے، سب ایک ہی لڑی کے موتی ہیں
ان فقروں میں انسانی محبت، اخوت اور وحدت کا بڑا درد بھرا پیام ہے لیکن راہِ سلوک کی منزلوں کو طے کرکے جس مقام پر حضرت عبدالقدوس گنگوہی پہنچ گئے تھے وہاں سے یہ درد بھری آواز نکل کر فضا میں گونجی تو کوئی تعجب کی بات نہیں تھی لیکن بعض دنیا دار اور خام صوفیہ اس مقام پر پہنچے بغیر نظری طور پر وحدۃ الوجود کے قائل رہے اور مذہب و ملت، خیر و شر اور نور و ظلمت کی تفریق مٹانے کی کوشش میں بڑی افراتفری پیدا کردی اور توحید وجودی کی آڑ لے کر شرعی احکام سے مداہنت اور اغماض کرنے لگے اور نظری طور پر یہ دلائل پیش کرتے کہ شریعت حقیقت کا چھلکا ہے اور حقیقت شرعیت کا گودا ہے اور جب حقیقت حاصل ہوجائے تو شرعیت کی ضرورت باقی نہیں رہتی، شرعیت کے نافذ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ معرفت حاصل ہو اور جب معرفت حاصل ہوجائے تو شریعت کی پابندی سے خود بخود آزادی حاصل ہوجاتی ہے، شرعی احکام کی پابندیاں صرف عوام کے لئے ہیں، خواص کو معرفت حاصل ہوجاتی ہے تو پھر اس کے لئے نماز روزے کی ضروت باقی نہیں رہتی کیونکہ نماز کی بنیاد تو اس پر ہے کہ آدمی اور خدا دو جداگانہ چیزیں ہیں اور اس کے ادا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ غیر و غیریت دور ہو اور جب یہ غیرت دور ہوجائے تو پھر نماز کی پابندی بیکار چیز ہے، اسی طرح وہ عذاب و ثواب کے بھی منکر ہوگئے اور کہتے کہ وہ وحدت سے نکل کر کثرت میں آئے اور غیرتِ کثرت سے وحدت میں گم ہو جائیں گے تو عذاب وثواب کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، وہ یہ بھی کہتے کہ جب وہ وحدت میں گم ہوجاتے ہیں تو انالحق کا نعرہ لگاتے ہیں، ایسی حالت میں اگر ان کے مرید ان کا سجدہ کریں تو ناجائز نہیں، اسی افراتفری میں وہ حسین و جمیلِ صورتوں کو پسند کرتے اور کہتے کہ حسن و جمال حضرت واجب الوجود سے مستعار ہے، اسی لئے حسینوں کی صحبت رسائی حق کی راہ ہے، وہ سادہ رخوں کے رنگ میں اللہ ہی کے ایسا رنگ دیکھتے اور حسینوں کے غمزوں اور عشووں کے ذریعہ مجازی عشق سے حقیقی عشق تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
علما ان تمام باتوں کو بدعت اور گمراہی قرار دیتے اور ان پر عقیدہ رکھنے والوں کو بزرگ ماننے کے بجائے خاج از اسلام سمجھتے، وہ صرف لا الٰہ الا اللہ کے ماننے والے کو مسلمان سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے جب تک کہ وہ محمد رسول اللہ کے بھی قائل نہ ہوتے کیونکہ نہ صرف ان کی بلکہ شریعت کے پابند صوفیہ کی بھی دلیل تھی کہ خود خداوند تعالیٰ کے کلام پاک میں فرمایا ہے کہ قل ان کتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ۔ (اے محمد! تم لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم خدا کی محبت کا دعویٰ کرتے ہو تو میری اتباع کرو یعنی میرے فعال، اقوال اور احوال کی پیروی کرو، پس اللہ تم کو دوست رکھے گا) اسی لئے علما توحید اور رسالت دونوں پر یقینِ کامل رکھنے ہی میں عقیدہ اور ایمان کی سلامتی سمجھتے اور کہتے کہ صوری اور معنوی اخلاق کی درستگی اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل متابعت نہ ہو، اسی متابعت کے ذریعہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ کی قربت حاصل ہونا ممکن ہے، وہ انا الحق کے کہنے والوں کو مرد اور بے دین سمجھتے، اسی لئے ان کے خلاف ہنگامہ کرتے اور سلاطین وقت سے مل کر ان کو قتل یا جلاوطن کرادیتے جیسا کہ پہلے ذکر آ چکا ہے۔
حضرت مجدد الف ثانی ایک برگزیدہ عالم بھی تھے اور عارف بااللہ بھی، اس لئے انہوں نے وحدۃ الوجود کے منکر ہونے کے بجائے اس کے فلسفہ میں بڑی وضاحت پیدا کی اور وحدۃ الوجود کا اضالہ وحدت شہود کی بحث سے کردیا، انہوں نے خود راہِ سلوک میں ان تمام منزلوں کو بھی طے کیا تھا، جہاں عام صوفیوں کا طائر خیال بھی نہیں کیا تھا، اسی لئے اپنی مشاہدات اور مکاشفات کی بنا پر یہ بتایا کہ جس مقام پر جاکر صوفیوں کو وحدت وجود محسوس ہوتی ہے، وہ سلوک کی آخری منزل نہیں بلکہ درمیانی منزلوں کی واردات ہیں، جہاں سالک کو محسوس ہوتا ہے کہ وجود ایک ہی ہے اور اس ایک ذات کے سوا کچھ موجود نہیں لیکن آگے بڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ محض وحدت شہود ہے یعنی صرف ایسا نظر آتا ہے، وحدت وجود نہیں یعنی واقع میں ایسا نہیں ہے، اس وحدت شہود کے بعد عبدیت کا مقام آتا ہے، جہاں پہنچ کر خالقِ کائنات کی جدا گانہ حقیقتیں روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہیں، اسی لئے مقام عبدیت اور ایمان بالغیت دونوں حضرت مجدد الف ثانی کے یہاں ایک ہی ہیں، حضرت مجدد الف ثانی نے اپنے خیالات کو پورے دلائل کے ساتھ پیش کیا اور طرح طرح کی نکتہ آفرینیاں کیں مثلا ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں کہ توحید شہودی یہ ہے کہ ایک ذات کے سوا کچھ اور مشہود نہ ہو اور توحید وجودی یہ ہے کہ ایک مجود کو جاننے کے بعد اس کے غیر کو نابود سمجھا جائے اور غیر کو نامعلوم جاننے کے باوجود اس کا محض مظہر اور جلوہ خیال کیا جائے، توحید وجودی علم ایقین کی قسم سے ہے اور توحید شہودی عین الیقین ہے مثلاً کسی کو آفتاب کا علم ہے تو یہ علم آفتاب ستاروں کے وجود کو بے وجود نہیں کرسکتا اور جو عین آفتاب کو دیکھتا ہے، اس کی نگاہ میں عین الیقین میں ستاروں کا وجود نیست و نابود ہے, مقام عین الیقین سے حق الیقین میں پہنچنا کوئی تضاد نہیں اور یہ عین علم شریعت ہے۔
علما وحدۃ الوجود کے ماننے والے کو کافر اور زندیق کہتے، اس طرح صوفیہ اور علما میں مسئلہ وحدۃ الوجود میں جو اختلاف تھا، اس کو حضرت مجدد نے دور کرنے کی بھی کوشش کی اور پنے ایک مکتوب میں فرمایا کہ جو لوگ وحدۃ الوجود کے قائل ہیں اور اشیا کو عین حق جانتے ہیں اور ہمہ اوست کہتے ہیں، ان کی یہ مراد نہیں ہے کہ اشیا حق تعالیٰ کے ساتھ متحد ہیں، اگر وہ یہ سمجھتے ہیں تو یہ کفر، الحاد، زندقہ اور گمرہی ہے کیونکہ واجب ممکن نہیں ہو سکتا اور بے چون وچون نہیں ہوسکتا ہے، ہمہ اوست کے معنی یہ ہیں کہ اشیا نہیں ہیں بلکہ حق تعالیٰ موجود ہے، منصور نے جو اناالحق کہا تو اس سے یہ مراد نہیں کہ میں حق ہوں اور حق کے ساتھ متحدہ ہوگیا ہوں بلکہ اس کے یہ معنیٰ تھے کہ میں ہوں، حق تعالیٰ موجود ہے۔
انہوں نے غلبۂ حال میں اپنے اور خلق کے وجود کو نہ دیکھا، صرف ایک ذات رب کی دیکھی، اگر پنی ذات دیکھتے اور یہ الفاظ کہتے تو کفر تھا، حضرت مجدد اس تشریح کے بعد فرماتے ہیں کہ صوفیہ اشیا کو حق تعالیٰ کے ظہورات جانتے ہیں اور ان کو حق تعالیٰ کے اسما اور صفات سمجھتے ہیں، اشیائے حق تعالیٰ سے وہی نسبت رکھتے ہیں جو آدمی کے ساتھ اس کا سایہ رکھتا ہے، کسی آدمی کے سایہ کو یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ وہ آدمی کے ساتھ متحدہ ہے اور یہ عینیت کی نسبت رکھتا ہے، سایہ آدمی کی اصل کو بدلتا نہیں ہے، وہ محض آدمی کا ظہور ہے، اسی طرح صوفیہ کے نزدیک اشیا حق تعالیٰ کے ظہورات میں نہ کہ عین، اسی لئے ہمہ اوست کے معنیٰ ہمہ اوست ہیں جیسے سایہ آدمی سے ہے نہ کہ عین آدمی ہے اور ہمہ از دست کو علما بھی تسلیم کرتے ہیں، اس صورت میں صوفیہ اور علما میں کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا ہے۔
حضرت مجدد نے اس بحث کا امالہ تو عارفانہ رنگ میں کیا لیکن عالمانہ رنگ میں اس پر زور دیا کہ سالک ہو یا عارف جب تک وہ اپنے عقائد اور اعمال میں کتاب و سنت کا پابند نہیں ہے وہ قابل تقلید نہیں اور جن صوفیہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام اور اسلاف صالحین کے سرچشمہ سے فائدہ نہیں اٹھایا ہے، ان کا تتبع ہرگز نہ کیا جائے، ان کے نزدیک شریعت کی پابندی ہرحال میں ضروری ہے، فرماتے ہیں کہ جوشخص باطن کو درست کرتا ہے اور ظاہر کو یہی چھوڑ دیتا ہے، وہ بھی قابل تقلید نہیں اور جو عارف شرعی احکام کی پابندی کو ضروری نہیں سمجھتے، وہ جاہل ہیں، احوال باطنی احکامِ شرعیہ سے آراستہ ہونا ضروری ہے اگر علوم لدنیہ کی مطابقت صریح علومِ شرعیہ سے نہیں تو ایسے تمام علوم کا حاصل کرنا الحاد اور بے دینی ہے، حضرت مجدد نے ان مباحث کو کچھ ایسے مؤثر انداز میں پیش کیا کہ بعض خام صوفیہ نے وحدۃ الوجود کے سلسلہ میں جو فتنہ انگیزیاں پیدا کر رکھی تھیں، وہ دب کر رہ گئیں۔
البتہ عالمگیری دور میں داراشکوہ نے توحید وجودی کو ایک دوسرے رنگ میں پیش کرنا شروع کیا، اس نے اپنے رسالہ حسنات العارفین میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ توحید و معرفت کے منازل و مدارج میں ایک ایسا مقام بھی آتا ہے، جب کہ ایک سالک شریعت کفر، ایمان، خروشر، عبد اور معبود سے بالکل بے نیاز ہوجاتا ہے اور بے خودی میں اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو بظاہر جذب و ایمان کے منافی ہوتے ہیں لیکن وہ قابلِ مواخذہ نہیں اور وہ یہ بھی لکھتا ہے کہ خود اس کی زبان سے شطحیات صادر ہوتے ہیں اور اسی مقام کے وجود وذوق میں وہ صوم و صلٰوۃ سے مستغنی ہوگیا لیکن راسخ العقیدہ علما نے یہ کہ کر اس کے مخالفت کی کہ کچھ شطحیات ایسی ضرور ہیں جو بعض صوفیائے کرام کی زبانوں سے غیر اختیاری طور پر نکلیں لیکن وہ خود دارا شکوہ کی طرح ان کے جواز کے قائل نہ تھے اور جب داراشکوہ نے مجمع البحرین لکھی تو علما کے حلقہ میں ایک ہلچل پیدا ہوگئی، وہ لکھتا ہے کہ ہندوستان کے موحدوں کے اشغال کی یوں تو بہت سی قسمیں ہیں لیکن بہترین شغل اجپا ہے، جوہر مذہب وملت کے لوگ خواب اور بیداری میں بلا قصد اور بے اختیار ہوکر برابر جاری رکھتے ہیں، قرآن مجید کی یہ آیت اسی کی طرف اشارہ کرتی ہے، ان من شیٔ الا یسبح بحمدہِ ولٰکن لّا تفقھون تسبیحھم۔ (اور کوئی چیز نہیں جو نہ پڑھتی ہو، خوبیاں اس کی لیکن تم نہیں سمجھتے ان کا پڑھنا، 15۔ بنی اسرائیل، رکو ع5) اسی طرح ہندوستان کے موحد سانس کے اندر جانے اور باہر آنے کو دو لفظوں سے تعبیر کرتے ہیں جو سانس باہر آتی ہے، اس کو اور جو سانس اندر جاتی ہے اس کو من، یعنی اومنم کہتے، صوفیہ اس کو ھواللہ کہتے ہیں اور یہ ہر ذی حیات کی سانس کے ساتھ ہے، اسی طرح داراشکوہ یہ بھی لکھتا ہے کہ برہما، بشن اور مہیش ، جبرئیل، میکائیل اور اسرافیل ہیں، برہما جبرئیل کی طرح ایجاد ریشن میکائیل کی طرح بقا اور مہیش، اسرافیل کی طرح فنا کے موکل ہیں اور اللہ تعالیٰ کی صفات ان ہی تینوں کے ذریعہ سے ظاہر ہوتی رہتی ہیں، صوفیہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی دو ہی صفتیں ہیں، جمال اور جلال لیکن ہندو فقرا کے یہاں تین صفتیں (ترگن) ہیں، ست (ایجاد) رج (بقا) تم (فنا) اسی طرح دارا شکوہ نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ روح اور آتما، ابوالاراوح اور پرماتما، ناسوت اور جاگرت، ملکوت اور سپن، جبروت اور سکھوپت، لاہوت اور تریا، اسم اعظم اور بیدمکھ، اللہ اور ادم فرشتہ اور دیوتا، مظہرِ اتم اور اوتار، فردوس اعلیٰ اور بیکنٹھ، قیامت کبریٰ اور مہاپرلی، رستگاری، اور مکت، عالم کبیر اور برہماند، حوران بہشت اور امچھرا طوبی اور کلپ برچھ وغیرہ ایک ہیں، دارا نے یہ دکھاکر یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اسلامی تصوف اور فلسفۂ ویدانت میں لفظی اختلاف کے سوا کوئی اور فرق نہیں، توحید کے شیدائی ان دونوں میں سے جس کی بھی تقلید کریں، حقانیت کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔
اسی حقانیت کی تلاش میں دارا شکوہ نے اپنشد کا مطالعہ شروع کیا، اور اس کا خود بیان ہے کہ اس کو علمِ توحید توریت، انجیل اور زبور کے مطالعہ سے حاصل نہ ہوسکا، کیونکہ ان میں توحید کا بیان مجمل ہے۔ وہ یہ بھی لکھتا ہے کہ اس کی تسلی قرآن پاک سے بھی نہ ہوسکی کیونکہ اس کی اکثر باتیں رمز کی ہیں، آخر اس کو توحید کی تمام باتیں اپنشد میں مل گئیں، جس کے پچاس ابواب کا ترجمہ اس نے فارسی میں کر کے عام کیا، اور وہ اس کا اس قدر قائل ہوگیا کہ وہ اس کو کتابِ قدیم پہلی آسمانی کتاب، بحر توحید کا سرچشمہ، قرآن مجید کی اصل اور کتاب مکنون قراردیتا ہے، اور پھر اس نے یہ بھی ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہمہ اوست یا ہمہ از دست یا ہمہ در دست کا جو خیال صوفیہ میں مقبول ہے، وہ ان ہی اپنشدوں سے ماخوذ معلوم ہوتا ہے، اس نے بھگوت گیتا اور جگ بشست کے فارسی ترجمے ان ہی موحدانہ خیالا سے متاثر ہوکر کیے اور وہ رام چندر جی اور بشسٹ جی کی روحانیت کا بھی قائل ہوگیا۔
دارا اپنی اس وسیع المشربی کی وجہ سے ہندووں میں خصوصاً شاہجہانی دربار کے راجپوت سرداروں میں بہت مقبول ہوکر ان کا ہیرو بن گیا لیکن علما جو کتاب اور سنت کی جامد تقلید کے قائل تھے، ان باتوں کو پسند نہ کرسکے ان کی اور ان کے ساتھ راسخ العقیدہ مسلمانوں کی نظریں اورنگ زیب کی طرف اٹھیں جو حضرت مجدد الف ثانی کی تعلیمات سے متاثر تھا اور شریعت کا پابند ہونے کی امکانی کوشش کرتا رہتا تھا، وہ مسلمانوں کا ہیرو بن گیا اور جب وہ دکن سے جنگ جانشینی کے لیے روانہ ہونے کو تھا تو حضرت شیخ برہان کی خدمت میں برہانپور حاضر ہوا، شیخ برہان بادشاہ اور امرا سے ملنا پسند نہ کرتے تھے، اس لئے اورنگ زیب پہلے بھیس بدل کر ان کی مجلس میں شریک ہوا، ایک نووارد کو دیکھ کر شیخ برہان نے اس سے نام پوچھا، اس نے اپنا نام بتایا تو وہ اس کی طرف مخاطب نہیں ہوئے، نہ اور لوگوں کی طرح اس کو کوئی تبرک دیا لیکن وہ دوسرے دن پھر ان کی خانقاہ میں پہنچا، شیخ برہان نے اپنی آزردگی کا اظہار کرتے ہوئے اس سے کہا کہ یہ مکان تم کو پسند ہے تو لے لو، ہم کہیں اور جگہ چلے جائیں گے مگر تیسرے دن اورنگ زیب پھر ان کے پاس گیا، وہ نماز کے لئے اپنی خانقاہ سے باہرنکل رہے تھے کہ اورنگ زیب مؤدبانہ ان کے سامنے کھڑا ہوگیا اور عرض کی کہ دارا نے شریعت کو نظر انداز کر رکھا ہے اگر مجھ کو حکومت ملی تو دین نبوی کے احکام کے ساتھ رعیت پروری بھی کروں گا، آپ باطنی توجہ فرمائیں، شیخ برہان نے فوراً کہا کہ ہمارے جیسے کم اعتبار فقیروں کی دعا سے کیا ہوتا ہے، تم بادشاہ ہو، نیکی، عدل پروری، رعیت نوازی کی نیت کے ساتھ دعا کرو، ہم بھی دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہیں، اسی وقت اورنگ زیب کے ساتھی شیخ نظام نے اورنگ زیب سے کہا بادشاہی مبارک ہو۔
دارا شکوہ اگر موحد بننے پر اکتفا کرلیتا تو اپنی وسیع المشربی اور رواداری کی وجہ سے کبیر، جے دیو، رانا بخ اور چیتن وغیرہ کی صف میں نمایاں جگہ پالیتا لیکن اپنے کو موحد اور عارف باللہ ظاہر کرنے کے ساتھ وہ عام تیموری شہزادوں کی طرح درباری سیاست کا بھی کھیل کھیلتا رہا، آخر میں آگرہ میں بیٹھ کر حصولِ تخت و تاج کے لئے دھرمادت کی جنگ کرائی اور جب اس میں ناکامی ہوئی تو سموگڑھ کی لڑائی میں فوج کی، رہبری خود کی، ان دونوں لڑائیوں میں راجپوت جس پامردی اور شجاعت سے اس کی خاطر لڑنے وہ ہندوستان کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے لیکن ایک بہت بڑے گروہ کا یہ خیال ہے کہ راجپوتوں کی یہ جانبازی اور جلاوت شاہجہاں کے بڑے لڑکے سے زیادہ مجمع البحرین کے مصنف، اپنشد بھگوگ گیتا اور یوگ بشسٹ کے مترجم اور رام چندر جی ارو بشسٹ کے معتقد کی خاطر تھی لیکن دیر و حرم کی تفریق مٹانے والا درا مغلوب ہوا، اورنگ زیب غالب ہوکر ہندوستان کا شہنشاہ بنا تو درا علما اور فقہار کے فتوے کے مطابق نذر شمشیر کردیا گیا، ایک گروہ کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر دارا تخت پر بیٹھتا تو مسلمانوں کی سلطنت باقی رہتی لیکن جس گروہ نے اورنگ زیب کو اپنا ہیرو بنا لیا ہے، وہ یہ کہتا ہے کہ دارا کی تخت نشینی سے مسلمانوں کی حکومت تو باقی رہتی، لیکن اسلام ختم ہوگیا ہوتا، اور نگزیب کے بعد مسلمانوں کی سلطنت تو ختم ہوگئی لیکن اسلام باقی رہ گیا اور یہ ہندوستان کی تاریخ کا بڑا درد ناک پہلو ہے کہ اورنگ زیب کی مخالفت میں غیر مسلم مؤرخوں نے اپنی تحقیقات کا ایک ڈھیر لگا دیا ہے لیکن جتنا زیادہ اس کو برا دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے، اتنا ہی وہ عام مسلمانوں کی نظروں میں محبوب ہوتا جارہا ہے اور وہ اس کو ایک مذہبی پیشوا سمجھنے لگے ہیں جس کے خلاف کسی قسم کی ناروا بات سننے کے لئے تیار نہیں
شاہ ولی اللہ اور توحیدوجودی :- عالمگیری عہد میں دارا شکوہ اور سرمد کے قتل کے بعد توحیدوجودی کا جھگڑا دب کر رہ گیا، آگے چل کر کچھ ابھرا تو توحید وجود اور توحید شہود پر پھر بحث شروع ہوئی لیکن اس جھگڑے کو شاہ ولی اللہ نے چکایا، وہ عالم بھی تھے اور صوفی بھی، ان کا شرارۂ علم ان کے نورِ باطن سے چمکا تو انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اہلِ وجود اور اہلِ شہود کے درمیان محض نزاع لفظی اور فرق تعبیری ہے، حقیقی اور واقعی نہیں، اس سے یہ فائدہ ہوا کہ وحدۃ الوجود کا مسئلہ علمی زندگی میں غیر مؤثر ہوکر رہ گیا اور وہ شاعروں یا بعض صوفیہ کے یہاں ایک نظری اور روایتی چیز بن کر رہ گیا۔
سماع کا جھگڑا :- وحدۃ الوجود کے مسئلہ کے بعد علما اور صوفیہ میں جو چیز سب سے زیادہ متنازعہ فیہ رہی وہ سماع تھا، چشتیہ سلسلہ کے تمام بزرگوں کے یہاں سماع ان کی عبادت و ریاضت کا ایک جز بن گیا تھا، حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ پر محفل سماع میں غیر معمولی کیفیت طاری رہتی اوربعض اشعار سن کر کئی روز تک بیہوش رہتے، حضرت خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک بار کچھ اشعار سن کر سات روز تک مسلسل بیہوش رہے، نماز کے وقت ہوشیار ہوجاتے لیکن نماز ادا فرما کر پھر بیہوش ہوجاتے، ان کا وصال بھی سماع کی بدولت ہی ہوا، حضرت فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ پر بھی سماع کے وقت عجیب کیفیت طاری رہتی اور وہ بھی کچھ اشعار سن کر ایک بار سات دن اور سات رات تک عالمِ سکر میں رہے، وہ تو بے چین ہوکر رقص بھی کرنے لگے، حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے کہ سماع سے تحریک قلب ہوتی ہے اور اس تحریک سے بڑی بڑی سعادتیں حاصل ہوتی ہیں، عالم ملک سے انوار ارواح پر اور عالم جبروت سے احوالِ قلوب پر اور عالم ملکوت سے آثارِ جوارح پر نازل ہوتے رہتے ہیں، حضرت مخدوم الملک شرف الدین یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں بھی محفلِ سماع ہوتی لیکن ان پر جب کبھی وجد طاری ہوجاتا تو خلوت میں چلے جاتے، دروازہ بند کرلیتے، ہواں کسی کو آنے کی اجازت نہ دیتے، سہروردیہ سلسلہ کے بزرگوں میں حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی بھی سماع سے شغل فرماتے تھے، ان تمام بزرگانِ دین کے سماع کی محفلوں میں بڑی احتیاط برتی جاتی اور ان میں غیر معمولی قسم کے آداب ہوتے مثلاً چشتیہ سلسلہ کے بزرگوں کا یہ مسلک تھا کہ محفلِ سماع میں سنانے والا مرد اور عورت نہ ہو اور جو چیز سنائی جائے وہ فواحش سے پاک ہو جو سنے صرف خدا کے لئے سنے، سماع کے وقت مزامیر نہ ہوں، حضرت شرف الدین یحییٰ فرماتے ہیں کہ مجلسِ سماع میں جو شریک ہوں وہ درویش یا درویش کے دوست ہوں اور اس میں شرکت کے وقت دل تمام چیزوں سے پاک ہو اور دل حق سبحانہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور طرف مائل نہ ہو لیکن ان تمام شرائط کے ساتھ بھی سماع علما کی نظروں میں حرام رہا اور وہ صوفیہ کے اس شغل پر اعتراض کرتے رہے، ایک روز حضرت فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے اس کی حلت و حرکت پر گفتگو ہورہی تھی تو فرمایا کہ سبحان اللہ کوئی جل کر راکھ ہوجائے اور دوسرے ابھی اختلاف ہی میں ہوں لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی فرماتے کہ سماع ان ہی لوگوں کے سامنے جائز ہے جو اس میں ایسے مستغرق ہوں کہ ایک لاکھ تلواریں بھی ان کے سرپر ماری جائیں یا ایک ہزار فرشتے بھی ان کے کان میں کچھ کہیں تو بھی ان کو خبر نہ ہو لیکن علما ان باتوں سے مطمئن نہ ہوتے اور وہ صوفیہ سے سماع کے مسئلہ پر برابر الجھتے رہتے، حضرت حمیدالدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ سماع کے بڑے دلدادہ تھے، ان کی وجہ سے دہلی میں سماع کی محفلیں برابر ہوتی رہتیں، سلطان شمس الدین ایلتتمش کے دربار کے مفتیوں کو یہ بدعت پسند نہ تھی اس لئے انہوں نے ایلتتمش پر زور دے کر خواجہ حمیدالدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ کو ایک محضر میں دربار طلب کیا اور جب بحث شروع ہوئی تو حضرت حمیدالدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ نے بہت ہی مؤثر انداز میں کہا کہ یہ اہل قال کے لئے حرام اور اہلِ حال کے لئے مباح ہے، اس بحث سے ایلتتمش تو مطمئن ہوگیا لیکن دربار کے مفتی قائل نہ ہوسکے، اسی طرح حضرت مخدوم شرف الدین یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ سماع اہلِ حق کے لئے مستحب، اہل زہد کے لئے مباح اور اہل نفس کے لئے مکروہ ہے، سماع اگر طلب منفعت کے لئے ہے تو یہ مذموم ہے اور اگر طلب حقیقت کے لئے ہے تو محمود ہے۔
اس سلسلہ میں علما و صوفیہ کے اختلافات کا دردناک پہلو اس وقت ظاہر ہوا جب کہ حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ کے فیوض سے دہلی کے بدکار اپنی بدکاری سے باز آرہے تھے بے نمازی نماز کے پابند ہورہے تھے، بددیانت بدیانتی اور بدمعاملگی کو چھوڑ رہے تھے سود خوری ذخیرہ اندوزی بند ہوگئی تھی، خواص و عوام کے دلوں میں گناہ کا خوف غالب ہوگیا تھا، حتی کہ شاہی خاندان کے افراد فسق و فجور سے پرہیز کرنے لگے تھے، اس وقت بھی علما کا ایک گروہ حضرت شیخ نظام الدین اؤلیا سے سماع کی حلت و حرمت پر انتا الجھا کہ ان کو سلطان غیاث الدین تغلق کے سامنے ایک محضر میں حاضر ہوکر اپنے مذہبی عقائد کی وضاحت کرنی پڑی خود حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ اس محضر میں دہلی کے فقہا ان کی عداوت اور حسد سے بھرے ہوئے تھے اور جب وہ نفس غنا کے جواز میں حدیثیں پیش کرتے تو علمائے احناف کہتے کہ تم مقلد ہو، تم کو حدیث سے کیا مطلب ہے اگر فقہ حنفی کی روایت ہو تو پیش کرو، یہ سن کر حضرت خواجہ فرماتے کہ وہ شہر کیونکہ آباد رہے گا، جہاں لوگوں کی رائے کو احادیث نبوی پر ترجیح دی جاتی ہو لیکن اس محضر میں حضرت شیخ بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے نواسے مولانا علم الدین حکم بنائے گئے تھے، وہ اپنے زمانے کے جید عالم تھے، انہوں نے حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ کے دلائل کو سن کر سماع کی اباحت میں فیصلہ دیا اور سلطان غیاث الدین تغلق نے اس فیصلہ کو تسلیم کرکے حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ کو بڑے اعزاز و کرام کے ساتھ رخصت کیا لیکن علما پھر بھی مطمئن نہ تھے اور وہ معترض رہے، ایک بار حضرت خواجہ نصیرالدین چراغ دہلوی کو ایک مجلس میں حسبِ ذیل شعر پر وجد آیا۔
جفا بر عاشقاں گفتی نخواہم کرد ہم کردی
قلم بر بے دلاں گفتی نہ خواہم راند ہم راندی
اس زمانہ کے ایک عالم مولانا مغیث تھے جو شاعر بھی تھے، انہوں نے ایک رسالہ میں لکھ کر یہ اعتراض کیا کہ اس شعر میں کوئی بات نہیں ہے اگر جور وجفا کی نسبت خداوند تعالیٰ کی جانب کی جائے تو یہ کفر ہے اور اس قسم کے اعتراضات تھے، یہ رسالہ حضرت چراغ دہلوی کی خدمت میں بھی پیش کیا اور انہوں نے اس کو پڑھا اور واپس کردیا، کچھ دنوں کے بعد ایک مجلس میں ان کو حسبِ ذیل اشعار پر بے قراری ہوئی۔
ما طبلِ مغانہ دوش بے باک زدیم
عالی علمش بر سرِ افلاک زدیم
از بہر یکے مغ بچۂ می خوارہ
صدر بار کلاہ نو بہ برخاک زدیم
اس بے قراری کے عالم میں چھت پر تشریف لے گئے اور مولانا مغیث کو بلایا اور جب وہ سامنے آئے فرمایا، مولانا لکھو کہ اس سے میرا کیا جہل ثابت ہوتا ہے لیکن علما کا اعتراض ایک حد تک صحیح تھا، اکابرِ صوفیہ جس کیفیت کے ساتھ محفلِ سماع میں شریک ہوتے اور عام صوفیہ میں لازمی طور پر نہیں ہوتی اور افراتفری پیدا ہوجاتی، خود حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں بعض خانقاہوں میں محفلِ سماع پورے شرائط کے ساتھ نہ ہوتی، حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات میں ہے کہ ان کے مریدوں میں سے ایک نے گذارش کی کہ آج کل بعض خانقاہوں میں درویش چنگ و رباب و مزامیر کی محفلِ سماع میں رقص کرتے ہیں، یہ سن کر حضرت خواجہ نے فرمایا کہ وہ اچھا نہیں کرتے کیونکہ جو فعل نامشروع ہے وہ ناپسندیدہ ہے، ایک مرید نے عرض کی کہ یہ درویش جب محفل سے باہر آتے ہیں اور ان سے کہا جاتا ہے کہ ایسی محفل میں کیوں شریک ہوئے جہاں مزامیر تھے اور وہاں کیوں رقص کیا تو جواب دیتے ہیں کہ ہم سماع میں اس قدر مستغرق ہوجاتے ہیں کہ ہم کو خبر نہیں ہوتی کہ اس جگہ مزامیر بھی ہیں، حضرت خواجہ نے فرمایا کہ یہ جواب درست نہیں اور یہ تمام باتیں معصیت کی ہیں۔
حضرت نصیرالدین چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ مزامیر کے ساتھ سماع سننا پسند نہیں فرماتے اور فرماتے کہ اول تو سماع ہی میں علما کا اختلاف ہے اگر چہ کچھ شرائط کے ساتھ اس کو مباح کیا گیا ہے لیکن مزامیر تو بالاتفاق حرام ہیں، آگے چل کر سماع کے ساتھ مزامیر لازمی ہوگئے اور اس کی روحانی کیفیات کم ہوتی گئیں، یہ محض سرود و نغمہ کی ایک مجلس بن گئی، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانہ کی ایک مجلس میں سماع کے متعلق ایک مکتوب میں لکھتے ہیں کہ سماع کے وہ شرائط جو مستقیم الاحوال بزرگوں کی کتابوں مثلا عوارف المعارف وغیرہ میں مفصل درج ہیں، ان میں سے اکثر اس وقت کے لوگوں میں مفقود ہیں بلکہ اس قسم کا سماع و رقص اور مجلس و اجتماع جو آج کل کے لوگوں میں مروج ہے کچھ شک نہیں کہ مضر محض اور منافی صرف ہے، سماع سے مدد و عانت کا حاصل ہونا مفقود ہے اور مضرت و منافات موجود پھر ایک دوسرے مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں کہ بہت سے لوگ اپنے اضطراب و بے قراری کی تسکین سماع و نغمہ اور وجد و توجد میں ڈھونڈھتے ہیں اور اپنے مطلوب کو نغمے کے پردہ میں مطالعہ کرتے ہیں، اسی لئے انہوں نے رقص در قاصی کو اپنی عادت بنالیا ہے حالانکہ انہوں نے سنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے حرام میں شفا نہیں رکھی اگر نماز کے کمالات کی حقیقت کچھ بھی ان پر منکشف ہوجاتی تو ہر گز سماع و نغمہ نہ بھرتے اور وجد و تواجد کو یاد نہ کرتے۔
چوں ندید ندحقیقت رہِ افسانہ زدند
علما کی مخالفت کے باوجود بہت کم ایسی خانقاہیں ہوں گی جہاں سماع کی مجلسیں مزامیر کے ساتھ نہ ہوتی ہوں اور ہندوستان کے ماحول میں یہ افادیت سے خالی نہ رہا، ہندوؤں کی ہر مذہبی اور معاشرتی تقریب میں سرود ونغمہ ضرور ہوتا بلکہ ان کے مذہب کا یہ لازمی جزبن گیا تھا، اسی لئے وہ صوفیہ کی مجالس سماع کی طرف خواہ مخواہ مائل ہوئے اور شاید ان ہی کی تسکین کی خاطر ان مجلسوں میں ہندی دوہے بھی گائے جانے لگے جن سے خود صوفیہ کو بڑی دلچسپی پیدا ہوگئی اور انہوں نے بھی دوہے کہنے شروع کئے، حضرت شرف الدین یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت عبدالحق رودولوی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت عبدالقدوس رحمۃ اللہ علیہ کے دوہے مشہور ہیں، یہ دوہے ہندی راگ میں گائے جاتے اور ہندی راگ صوفیہ کو اس قدر پسند آئے کہ انہوں نے خود بھی کچھ راگ اختراع کئے، راگ درپن میں ہے کہ حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ نے دھناسری، ٹوری اور مالسری کو مخلوط کرکے ملتانی دھناسری ایجاد کی جو حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا اپنی محفلوں میں بہت پسند کرتے تھے، قوالی کی ایجاد تو امیر خسرو ہی سے منسوب ہے اور پھر انہوں نے ایرانی اور ہندوستانی نغموں کو ملا کر بہت سے نئے راگ اور راگنیاں ایجاد کیں مثلاًان کے ایجاد کردہ ایمن میں ہنڈول اور نیریز ملے ہوئے، عشاق میں سارنگ، بسنت اور نوا کے راگ ہیں، موافق میں ٹوڑی، مالوی، دوگاہ اور حسینی ملے ہوئے ہیں، فرعنہ میں کنگلی اور گوری کو ملایا ہے وغیرہ وغیرہ۔
قبر پرستی :- مسلمان عوام، علما اور صوفیہ کے اختلاف کو نظر انداز کرکے ان کے فقہی مباحث سے زیادہ دلچسپی نہ لیتے اور وہ عموماً صوفیۂ کرام کی کرامتوں اور روحانی طاقتوں کو دیکھ کر ان کے گرد پروانہ وار جمع رہتے اور ان کی وفات کے بعد بھی ان کو زندہ سمجھتے، اس طرح متوفیٰ بزرگوں کو حکومت برابر جاری رہتی، علما کا ایک گروہ اس قبر پرستی کے خلاف ہمیشہ رہا لیکن عوام اس مخالفت سے کبھی متاثر نہیں ہوئے اور صوفیہ کی قبریں ابھی تک نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہندوؤں کی زیارت گاہ بنی ہوئی ہیں اور ہندو بھی مسلمانوں ہی کی طرح ان سے منتیں اور مرادیں مانگتے ہیں اور نذریں چڑھاتے ہیں، یہ قبرپرستی مذہبی لحاظ سے تو کسی طرح جائز قرار نہیں دی جاسکتی لیکن ہندوستان کا جو مذہبی ماحول تھا اس میں اس بدعت کا ایک روشن پہلو حسبِ ذیل لطیفہ سے ظاہر ہوتا ہے، اکبری عہد میں راجہ مان سنگھ کے دربار میں ایک سید اور ایک برہمن میں مذہبی بحث چھڑ گئی، دونوں اپنے اپنے مذہب کی فضیلت بیان کرتے رہے لیکن کوئی دوسرے کو قائل نہ کرسکا، آخر میں مان سنگھ پر فیصلہ چھوڑ دیا گیا، اس نے کوئی فیصلہ دینے سے یہ کہہ کر گریز کیا کہ اگر میں مذہب اسلام کو ترجیح دوں تو لوگ بادشاہ وقت کی خوشامد پر محمول کریں گے اور اگر اس کے برعکس رائے دوں تو تعصب سمجھا جائے گا لیکن جب اس سے اصرار کیا گیا تو کہا مذہبی حقایق کی بنا پر تو فیصلہ دینا مشکل ہے لیکن یہ دیکھتا ہوں کہ ہندوؤں میں خواہ کیسے ہی گنوان پنڈت یا دھیانی فقیر ہو، مرنے پر جلا دیا گیا، اس کی خاک اڑگئی، رات کو وہاں کوئٰ جاتا ہے تو آسیب کا خطرہ محسوس کرتا ہے لیکن مسلمانوں کے جس شہر یا قصبہ یا گاؤں میں گزرو بزرگ پڑے ہوتے ہیں ان کے مزار پر چراغ جلتے ہیں، پھول مہکتے ہیں، چڑھاوے چڑھتے ہیں اور لوگ ان کی ذات سے فیض پاتے ہیں لیکن آگے چل کر اس قبر پرستی میں شرک کی بو آنے لگی، عوام بزرگوں کی قبروں پر جاکر جانور چڑھا کر ان کی قربانی کرتے، مدار صاحب اور سید سالار کی قبروں کی زیارت کو فریضۂ حج کے برابر سمجھتے اور بعض بزرگوں کی قبروں کو چومتے اور ان کے سامنے سجدہ کرتے، عورتیں پیروں کے نام پر روزے رکھیں اور اپنی حاجب برآری کا ذریعہ سمجھتیں اور رفتہ رفتہ یہ بزرگ واقعی حاجت روا مشکل کشا سمجھے جانے لگے، علما نے ان بدعتوں کی مخالفت پورے طور پر کی اور ان میں مبتلا ہونے والے تمام لوگوں کو بدعتی قرار دیا، حضرت شاہ محمد اسمٰعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ عالم بھی تھے اور صوفی بھی وہ بھی بدعتیوں کی بدعتوں سے برگشتہ خاطر تھے، تقویۃ الایمان میں تحریر فرماتے ہیں۔
قبر کی زیارت کرنی جائز اور مباح ہے اور جس زیارت سے کہ وہ دنیا کی رغبت کم ہو اورنہ آخرت کی یاد آوے وہ زیارت درست نہیں پھر جو کوئی قبر کی زیارت کے واسطے جاوے کہ وہاں نماز پڑھے اور قبر کا طواف کرنے یا اس کا بوسہ دے یا اپنے رخسار اور چھاتی کو قبر پر ملے اور ان مردوں کو پکارے اور ان سے مدد مانگے یا وہاں چادر شامیانہ نقارے، کھانا مٹھائی چڑھاوے یا لڑکیوں لڑکوں اور عورتوں کو لے جاوے یا وہاں روشنی، مجلس اور میلا کرے یا اور کچھ خرفات کرے سو وہ بدعتی ہے یا مشکر یا مکرتکب مکروہ اور فعل حرام کا، سو اس زمانہ میں اکثر لوگ قبروں پر انہیں کاموں کے واسطے جاتے ہیں، دنیا سے بے رغبتی اور آخرت یاد کرنے کوئی نہیں جاتا بلکہ دنیاہی کی رغبت کے سبب سے جاتے ہیں اور جو کوئی منع کرے تو واہی تباہی دلیلیں اس کے مقابلہ میں لاتے ور اس کا سبب یہ ہے کہ بعض دنیا طلب مولوی اور نام کے عاقبت سلب مشائخ قبروں پر جاکر بیٹھنے لگے، عرس کرنے لگے، روشنی، راگ وہاں ہونے لگا، ریوڑی، گٹّا، حلوا، شیرمال چڑھنے لگا، چادریں مفت آنے لگیں اور عورتیں جوان، بڑھیاں جانے لگیں، نوبت، نقارہ بجنے لگے، نذر و نیاز کاروپیہ پیسہ جمع ہونے لگا، مولوی، مجاور، مشائخ پوجے جانے لگے، تب انہوں نےعوام جاہلوں کو خراب کرنے کو دو چار ادھر ادھر کے قصے کہانی ان قبروالوں کی بنا لیں، دو ایک رویتیں جھوٹی سچی نکال لیں، دو تین حدیثیں اپنے مطلب پر لگا لیں، اس طرح انہوں نے اپنی دنیا کو تو تباہ کیا اور دوسروں کی عاقبت کو بھی تباہ کیا بلکہ اپنا روسیاہ کیا پھر اب کے لوگ ان کے کام اور بات کی سند پکڑنے لگے، حالانکہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ اور رسول کے سوا کسی کی سند پکڑنا نہ چاہئے
علما اور صوفیہ کی مصالحت :- علما عام طور سے دنیا دار اور نام نہاد صوفیہ پر اعتراضات کرتے رہے لیکن ان کے اعتراضات تمام صوفیہ پر سمجھے جانے لگے، اس سے عوام کے ذہن میں یہ انتشار پیدا ہو جاتا ہے کہ علما اور صوفیہ دو علٰحدہ چیزیں ہیں لیکن ان کا یہ انتشار اس وقت دور ہوجاتا جب علما اور صوفیہ ایک دوسرے کے سامنے جھکتے رہتے ایسی مثالوں کی کمی نہیں۔
حضرت مخدوم الملک شرف الدین یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ کے خلفا میں مولانا مظفر بلخی بڑے مشہور خلیفہ گزرے ہیں، بلخ کے ایک شاہی خاندان سے تھے، راہِ سلوک میں گامزن ہونے سے پہلے ان کو اپنے علم پر بڑا غرور تھا اور مشائک سے الجھتے رہتے، حضرت مخدوم الملک کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اپنی کچھ علمی مشکلات ان کے سامنے پیش کیں، حضرت مخدوم الملک ان کا جواب دیتے تو مولانا مظفر بلخی کہتے لا نسلم (میں تسلیم نہیں کرتا ہوں) وہ جس قدر الجھے، اسی قدر حضرت مخدوم الملک ان سے اخلاق سے پیش آتے رہے، یہاں تک کہ مولانا مظفر کی ساری مشکلات حل ہوگئیں، ان کو اپنا علم ہیچ معلوم ہونے لگا اور وہ حضرت مخدوم الملک سے متاثر ہوکر ان کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوگئے لیکن حضرت مخدوم الملک نے ان سے فرمایا کہ راہِ طریقت علم کے بغیر طے نہیں ہوتی ہے اور اب تک انہوں نے جو علم حاصل کیا ہے وہ جاہ ومنزلت کے لئے تھے جو ان کے لئے بارآور نہ ہوسکے گا، اب وہ پھر سے خلوص نیت سے اللہ کے واسطے علم پڑھیں، تاکہ راہِ سلوک میں ان کو ترقی حاصل ہو، یہ سن کر وہ علم کی تلاش میں پاپیادہ اٹھ کھڑے ہوئے، راستہ میں ان کے پاؤں میں آبلے پڑ گئے تو ایک درخت کے نیچے گئے، اتفاقاً حضرت مخدوم الملک کے ایک دوسرے مرید دہلی سے علم حاصل کر کے واپس آ رہے تھے، مولانا مظفر کی کیفیت دیکھ کر ان کو اپنا گھوڑا دے دیا اور ان کو اعزازواکرام کے ساتھ دہلی پہنچوا دیا، دوسال تک وہاں علم حاصل کرتے رہے، فیروز شاہ تغلق نے ان کی شہرت سن کر ان کو اپنے ایک کو شک میں درس و تدریس کی خدمت سپرد کی، کچھ دن وہاں رہے ہوں گے کہ ایک دن کچھ مطربوں کی آواز سن کر ایسے بے خود ہوئے کہ کوشک کے اوپر سے نیچے کود گئے اور اسی حال میں حضرت مخدوم الملک کے پاس جانے کے لئے چل کھڑے ہوئے، وہاں پہنچے تو ان کے علم کا پندار ختم ہوچکا تھا لیکن مرشد نے ان کے نفس کو کچلنے کے لئے خانقاہ کے درویشوں کی خدمت کے لئے مار کیا اور مولانا مظفر کو اس خدمت کو انجام دینے میں اور بھی زیادہ خوشی ہوئی، ان کے جسم پر کپڑے پھٹ کر تار تار ہوجاتے تو ان میں گرہیں ڈال لیتے یا سی لیتے خود حضرت مخدوم الملک نے ایک روز دیکھا کہ لان کے کپڑے پھٹ کر پارہ پارہ ہوگئے ہیں اور ان کے چہرہ سے خواری یعنی عاجزی اور مسکینی ظاہر ہوتی ہے پھر بھی خوش ہیں اور زبانِ حال سے یہ کہہ رہے ہیں۔
خوشم بدولت خواری وملک تنہائی
کہ التفات کسے را بروز گارم نیست
مخدوم الملک نے یہ دیکھ کر ان کو اچھے کپڑے اور اچھے کھانے دیئے لیکن وہ کسی اور عالم میں پہنچ چکے تھے۔
جانِ آدم چوں بہ سرِّ فقر سوخت
ہشت جنت را بہ یک گندم فروخت
وہ حضرت مخدوم الملک کے بڑے محبوب خلیفہ ہوئے اور ان کو تن شرف الدین اور جان شرف الدین کہا کرتے تھے۔
اسی طرح حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا کے خلیفہ حضرت برہان الدین غریبؒ جب دولت آباد پہنچے تو وہاں کے ایک عالم مولانا سید زین الدین کو اپنے علم کا بڑا غرور تھا، وہ صوفیہ سے دور بھاگتے اور ان کے متعلق اچھے الفاظ استعمال نہیں کرتے لیکن رفتہ رفتہ وہ حضرت برہان الدین غریب کے قائل ہوتے گئے، ایک روز ان کی قیام گاہ پر پہنچ اور جب سامنا ہوا تو دوڑ کر اپنی پیشانی ان کے قدموں پر جھا دی، حضرت برہان الدین رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا، ہاں مولانا ! یہ رسم شریعت میں جائز نہیں، مولانا نے کہا جب تک میں اس رسم کو شریعت کے خلاف جانتا تھا، نعمتِ باطنی سے محروم تھا، اسی طرح دہلی کے مولانا نصیرالدین قاسم اپنے علم اور تقویٰ میں بہت مشہور تھے، ان کے استاد مولانا معین الدین عمرانی کو ان پر فخر تھا، حضرت خواجہ سید گیسودراز رحمۃ اللہ علیہ کے بچے ان سے درسی کتابیں پڑھا کرتے تھے لیکن وہ پیری مریدی کے قائل نہ تھے لیکن آخر میں یکایک حضرت سید گیسودراز رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کرلی، مولانا معین الدین عمرانی کو اس کی خبر ہوئی تو مولانا نصیرالدین قاسم کو بلا کر کہا کہ تم تو خود عالم تھے پھر سید محمد کے مرید کیوں ہوگئے، مولانا نصیرالدین نے عرض کیا پہلے عالم تھا، اب حضرت مخدوم کے سامنے مسلمان ہوا ہوں۔
حضرت بو علی قلندر پانی پتی پر سکر اور مستی کی کیفیت برابر طاری رہتی، ایک بار ان کی مونچھیں شرعی حدود سے بہت بڑھ گئی تھیں، کسی کو تراسنے کی ہمت نہ ہوتی تھیِ ان کے ہم عصر مولانا ضیاؤالدین سنّامی اپنے وقت کے بڑے متشرع عالم تھے، ان کو شرعیت کی پابندی کرانے کا بڑا جوش رہتا تھا، انہوں نے حضرت بو علی قلندر رحمۃ اللہ علیہ کی ریش مبارک کو پکڑ کر مونچھوں کو شروعی حد کے مطابق تراش دیا، جب وہ تراش کر تشریف لے گئے تو حضرت بو علی قلندر رحمۃ اللہ علیہ اپنی ریش کو پکڑ کر بار بارفرماتے یہ ریش کیسی مبارک ریش ہے کہ شرع محمدی کی راہ میں پکڑی گئی، مولانا ضیاؤالدین سنّامی حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ سے سماع پر برابر احتساب کرتے رہے اور اس سلسلہ میں ان کی شدید مخالفت کی لیکن جب وہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے، مولانا ضیاؤالدین سنّامی نے اپنی دستار حضرت خواجہ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ کے قدموں کے پاس بچھوا دی، حضرت خواجہ نے اس کو اٹھا کر اپنی آنکھوں پر رکھ لیا، جب وہ مولانا ضیاؤالدین رحمۃ اللہ علیہ کے پاس پہنچے تو مولانا آنکھیں چار نہ کرسکے، حضرت خواجہ اٹھ کر باہر چلے آئے لیکن اسی وقت خبر ملی کی مولانا کی روح پرواز کر گئی، وہ رونے لگے اور فرمایا کہ ایک حامی شریعت تھا، وہ بھی نہ رہا آگے چل کر حضرت مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ اور شاہ اسمٰعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے علما نے سو اور دنیادار صوفیہ دونوں پر تنقید کرکے پاک نہاد علما اور صوفیہ کو ایک دوسرے سے قریب تر کیا، یہ تمام بزرگ بڑے پایہ کے عالم بھی تھے اور سلوک کی آتشیں رہیں بھی طے کی تھیں، حضرت مجدد نے علما سو کی جس طرح مذمت کی اس کا ذکر پہلے آچکا ہے، اسی طرح انہوں نے ان صوفیوں پر لعنت بھیجی جو بدعت کا التزام اور سنت سے اجتناب کرتے اور اپنے ایک مکتوب میں فرمایا کہ اہل ہوا اور بدعتیوں کو خوار رکھنا چاہئے، جس نے کسی بدعتی کی تعظیم کی اس اس نے گویا اسلام کے گرانے میں اس کی مدد کی، وہ ایسے پیر کو پیر نہیں سمجھتے جو محض خرقہ پہن کر پیر بن جاتے، ان کے نزدیک پیر کہلانے کا وہی مستحق ہوسکتا ہے جو ریاضتوں اور مجاہدوں سے اپنی نفس امارہ کو ختم کرکے سنت سنیہ علی صاحبہا الصلٰوۃ و السلام کی متابعت کو لازم جانتا ہوں اور اپنے مرید کوحق سبحانہ کی طرف رہنمائی کرتا ہو، وہ اپنے ایک اور مکتوب میں فرماتے ہیں کہ تمام سنتیں حق تعالیٰ کے نزدیک مقبول اور پسندیدہ ہیں اور ان کے اضداد یعنی بدعتیں شیطان کے پسندیدہ ہیں، وہ اپنے ایک مکتوب میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ صوفیہ کا کشف و الہام پر اعتبار کرنا ضروری نہیں، اگر وہ کتاب و سنت کے خلاف ہے تو اس سے پناہ مانگنی چاہئے اور ایسے کشف و الہام کے مقابلہ میں علمائے اہل حق کی تقلید لازمی ہے، صوفیہ کے کشف کو علمائے حق کے قول پر مقدم جاننا سراسر گمراہی ہے، وہ تو علما کی بدعت حسنہ اور سیئہ کی تفریق کو بھی تسلیم نہیں کرتے، وہ بدعت کو بدعت ہی سمجھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ کسی بدعت میں خواہ بدعت حسنہ ہی کیوں نہ ہو ظلمت اور کدورت کے سوا حسن اور نورانیت کا کا مشاہدہ ہوہی نہیں سکتا، اسی طرح شاہ ولی اللہ صاحب نے اپنی تحریروں میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ جن صوفیہ نے کتاب وسنت کو ترک کردیا ہے، وہ ہم میں سے نہیں اور جو علما تصوف کا انکار کرتے ہیں وہ چور اور رہزن ہیں ان سے بچنا چاہئے۔
حضرت اسمٰعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے تقویۃ الایمان میں بتایا کہ بعض لوگ یہود اور نصاریٰ کی طرح درویش ہوجاتے ہیں، ٹاٹ پہنتے ہیں، زنجیریں گلوں، میں ڈالتے ہیں تو ایسی فقیری اور درویشی ان ہی کی ایجاد ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم نہیں دیا اور اسی طرح بعض لوگ فقیر بن کر گدی پر بیٹھ جاتے ہیں، اپنے مکان سے باہر نہیں ہوتے، اپنی طرف سے طرح طرح کے وظیفے ایجاد کرتے ہیں، نماز معکوس پڑھتے ہیں اور اسی قسم کی ہزاروں باتوں کو عبادت جانتے ہیں، تو یہ سب بدعت ہیں، اگلی امتیں ان ہی باتوں کی وجہ سے سختی میں پڑ گئیں اور اللہ تعالیٰ نے ان پر اس اپنی مہر بانی اٹھا لی اور ان کو ان کی سختی اور مشکلوں میں چھوڑ دیا۔
اشاعت اسلام :- ہندوستان کے سلاطین نے اشاعت اسلام کے کوئی خاص دلچسپی نہیں لی، چنانچہ جہاں ان کے دارالسلطنت رہی، وہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہونے کے بجائے کم ہی رہی، انصاف پسند ہندو مورخین بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ جب فتح و کامرانی کا جوش و خروش ختم ہوجاتا اور ملک میں اقتصادی بحالی کا مسئلہ سامنے آتا تو بڑے بڑے پُر جوش اور معتصب سلاطین کو بھی معتدل روش اختیار کرنی پڑتی، اسی لئے انہوں نے کبھی اس کی فکر نہیں کی کہ ہندو زمینداروں اور کاشتکاروں کو مسلمان بنا کر اسلام کے دائرہ کو وسیع کریں، دو آبہ میں مسلمانوں کی حکومت سات سو برس رہی، بہار اور دکن میں بھی وہ آٹھ سو برس تک حکمراں رہے لیکن ان علاقوں میں ان کی آبادی 15 فیصدی سے زیادہ نہ بڑھ سکی۔
برطانوی دورِ حکومت میں انگریز مؤرخین اور ان کے مقلدوں نے ہندو مسلم اختلاف کو ہوا دینے کے لئے اس پر زیادہ زور دیا ہے کہ فیروز شاہ تغلق، سکندر لودی، عالمگیر، حیدر علی اور ٹیپو سلطان نے ہندوؤں کو زبردستی مسلمان بنایا اور اس کے ثبوت تاریخ اور فرامین سے ڈھونڈھ ڈھونڈکر شہادتیں بھی فراہم کی گئیں اگر وہ واقعی ہندوؤں کو زبردستی مسلمان بنانے کی کوشش کرتے تو کم از کم ان کے پایۂ تخت کے ارد گرد ہندوؤں کی زیادآبادی نہ ہوتی لیکن ان کے عہد سے اب تک وہاں ہندو اپنے دیرینہ رسوم و رواج کے ساتھ اکثریت میں ہیں، اس میں شک نہیں کہ ان حکمرانوں کے عہد میں کچھ راجپوت اور دوسری ذات کے ہندو، مسلمان ضرور ہوئے لیکن وہ زیادہ تر جاہ و اقتدار اور دنیاوی مفاد کی خاطر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تھے، خود فیروز شاہ تغلق نے فتوحاتِ فیروز شاہی میں لکھا ہے اس نے غیر مسلموں کو اسلام قبول کرنے کی ترغیب کے لئے یہ منادی کرادی تھی کہ جو شخص اسلام قبول کرے گا وہ جزیہ سے بری سمجھا جائے گا، اس اعلان پر کثرت سے غیر مسلم روزانہ ہر طرف سے آتے تھے اور اسلام قبول کر کے انعام و اکرام سے مالا مال ہو کر واپس جاتے تھے، مغلوں کے زمانے میں اودھ کے بجگوتی راجپوت، بلند شہر کے لال خانی راجپوت، مرزا پور کے گہر وار راجپوت اور اعظم گڈھ کے گوتم راجپوت اپنی خوشی سے اس لئے دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے کہ انہوں نے محسوس کیا کہ اس سے مذہبی برتری کے علاوہ ان کی سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی حالت بھی بلند اور مستحکم ہوجائے گی۔
اشاعت اسلام کے سلسلہ میں علما کی خدمات ضروری ہیں لیکن وہ اس لئے زیادہ نمایاں نہیں ہیں کہ ان کی کوششوں کا ذکر تاریخوں میں محض سرسری طور پر آتا ہے، البتہ اس سلسلہ میں عرب تاجروں اور صوفیوں نے جو کوششیں کیں، اس کی پوری تفصیل ملتی ہے، عرب تاجر جنوبی ہند میں پہنچے تو بڑی خاموشی سے اسلام کا پیام اس علاقہ میں پہنچایا، ملابار، گجرات، کچھ اور جزائر ہند میں اچھوتوں کو بہت ذلیل سمجھا جاتاتھا، ان کے لئے ضروری تھا کہ وہ برہمن سے چوہتر قدم دور رہیں، اس سے زیادہ قریب آنے کی جرأت نہ کریں اور جب راستہ چلیں تو پکارتے جائیں تاکہ لوگ ان سے دور ہٹ جائیں، اگر کوئی اونچی ذات کا ہندو ان سے چھو جاتا تو جب تک وہ غسل نہ کرتا، کھا نہیں سکتا تھا اگر کھا لیتا تو برادری سے خارج سمجھا جاتا اور نیچ ذاتوں کے ہاتھ فروخت کردیا جاتا اور اس کی بقیہ عمر غلامی میں بسر ہوتی یا وہ بھاگ کر دوسری جگہ چلا جاتا تھا، عرب تاجر ایسے لوگوں کو اپنی پناہ میں لے لیتے اور جب وہ مسلمان ہوکر دوسرے مسلمانوں کے برابر حقوق حاصل کرلیتے تو دوسرے ہندو بھی ان کی عزت میں کمی نہیں کرتے تھے، یہ دیکھ کر اچھوتوں کے مظلوم فرقوں کی رغبت اسلام کی طرف بہت بڑھ گئی، اس طرح اسلام اپنی اخوت اور مساوات سے اپنا راستہ خود صاف کرتا گیا اور نیچ ذات والوں کے دلوں پر قبضہ کرتا ہوا رفتہ رفتہ راجاؤں کے قلوب پر قابض ہوگیا، ملابار میں جتنے عرب تاجر آتے تھے، وہاں کے باشندوں کے ساتھ کچھ ایسا برتاؤ رکھتے کہ ہندووں کی حکومت میں بھی ان کو پوری مذہبی آزادی حاصل ہوتی، ہندو راجہ ان کی سرپرستی اس لئے بھی کرتے کہ ان کی تجارت سے ان کے یہاں بازار گرم رہتا اور بہت سی چیزیں آسانی سے میسر آجاتیں اور وہ ان کی تبلیغِ اسلام میں بھی مزاحمت نہ کرتے تھے، چنانچہ ان کے عقائد و عبادات کو دیکھ کر ملا بار کے چیرامن پرومن کا آخری راجہ بطیب خاطر مشرف بہ اسلام ہوگیا، اس کی راجدھانی کو ڈنگیلور تھی، اس نے ایک عرب کو اپنے یہاں بلا کر کنانور کا راجہ بنا دیا تھا، کالی کٹ کا زیمورن بھی عرب تاجروں کی بڑی قدر کرتا تھا، اسی کے زمانہ میں ایک عرب تاجر نے اس کے حدودِ سلطنت میں ایک بازار قائم کیا جو بعد میں کالی کٹ کی ایک خوشحال بندرگاہ بن گئی، یہ تاجر یہاں کا قاضی بھی مقرر ہوا، اس کے جانشین زیمورن کی حمایت میں ناڈ کے راجہ کے خلاف برابر لڑتے رہے، یہاں تک کہ زیمورن کا اقتدار جنوبی ملابار میں بھی ختم ہوگیا، زیمورن مسلمانوں کا بڑا خیال رکھتا تھا اور اسلام کی اشاعت کی حوصلہ افزائی کرتا تھا، اس نے حکم دے رکھا تھا کہ اس کے حدود سلطنت کے ملاحوں کے ہر خاندان سے ایک مرد مسلمان ہوجائے، یہ نو مسلم جہازوں میں بھرتی ہوتے تھے جو زیمورن کی جنگی مہموں میں کام آتے تھے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمان کس عزت اور وقعت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے، کولتری کا راجہ کا ایک وزیر نایر تھا، جو خود مسلمان ہوگیا اور آگے چل کر کنانور کا راجہ ہوا، ہندوستان کے مشرقی ساحل پر بھی عرب تاجر دسویں صدی میں پہنچ چکے تھے، وہ یہاں بلا تکلف شادی بیاہ کرلیتے جس سے ان کی آبادی بڑھتی رہی اور ان کی معاشرات اور عبادعت کو دیکھ کر وہاں کے اصلی باشندے متاثر ہوتے اور اسلام قبول کرتے رہے۔
اشاعتِ اسلام میں صوفیوں کا بھی بڑا حصہ رہا ہے، مدورا اور ترچناپلی میں حضرت ناتھڈولی متوفیٰ 1039 ہجری کی وجہ سے اسلام پھیلا، وہ ایک ترکی شہزادے تھے اور ریاست وامارت چھوڑ کر درویش بن گئے اور ججاز، ایران اور شمالی ہند کی سیاحت کر کے ترچناپلی پہنچے اور اپنے زہد، عبادت، اخلاق سے وہاں کے لوگوں کو ایسا متاثر کیا کہ بہت سے ہندو ان کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے، ان کا مزار ترچناپلی میں ہے، ان کے جانشین سید ابراہیم شہید (المتوفیٰ سن 564 ہجری /1168 عیسوی) تو بارہ برس تک اس علاقے کے حکمراں بھی رہے ان کا مزار اروادی میں ہے، حضرت ناتھڈولی کے ایک دوسرے مرید اور خلیفہ بابا فخرالدین المتوفیٰ سن 564 / 1168 نے پینو کونڈا کے راجہ کو مسلمان کیا، مدورا میں اشاعت اسلام حضرت علی بادشاہ کے ذریعہ ہوئی جو گیا رہویں صدی عیسوی میں بغداد سے بابا ریحاں کی ایک جماعت کے ساتھ بھرروچ آئے اور وہاں کے راجہ کے لڑکے کو مسلمان کیا، نورالدین ستاگر نے گجرات کے کمبپوں کو ریوں اور کھارواؤں میں اشاعت اسلام کی اور سب کو مسلمان بنایا جو اسماعیلی عقائد رکھتے، 1304 عیسوی میں عرب واعظین میں ایک مبلغ پیر مہا بیر کھنڈایت کے نام سے مشہور ہوئے، بیجاپور آکر وہاں کے کاشتکاروں کو مسلمان کیا، چودہویں صدی میں حضرت خواجہ گیسو دراز نے پونہ اور بلگام کے ہندوؤں میں اسلام کی تبلیغ کی، کوکن میں حضرت عبدالقادر جیلانی کی نسل کے ایک بزرگ سیخ بابا عجب نے اسلام پھیلایا اور وہ دہانوں میں مدفون ہیں۔
دہوار کے اضلاع میں حضرت ہاشم پیر گجراتی کے ذریعہ اسلام پھیلا، ستارا کے علاقہ میں ایک نو مسلم پیر شمبوا پاکوشی نے وہاں کے لوگوں کو مسلمان کیا، بارہویں صدی عیسوی میں ایک بزرگ سید احمد سلطان سخی سرور المعروف بہ لکھی داتا (المتوفیٰ سن 577 ہجری /1181 عیسوی) نے شاہ کوٹ متصل ملتان میں آکر قیام کیا اور ہندومسلمان دونوں ان کے معتقد ہوئے، ان کے پیرو سلطانی کہلاتے ہیں اور پنجاب خصوصاً جالندھر میں بہت ہیں، راجستھان میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے ذریعہ بہت سے ہندوں نے اسلام قبول کیا اور صرف دہلی سے اجمیر کے راستے میں انہوں نے سات سو ہندوؤں کو مسلمان کیا، پنجاب کا مغربی حصہ حضرت خواجہ بہاؤالدین زکریا ملتانی اور حضرت فریدالدین گنج شکر (المتوفیٰ 664 ہجری / 1365 عیسوی ) کے فیوض سے سیراب ہوا۔
جواہرِ فریدی میں ہے کہ بابا گنج شکر نے پنجاب کی گیارہ قوموں کو تعلیم و تلقین سے مشرب بہ اسلام کیا، حضرت بو علی قلندر (المتوفیٰ سن 724 ہجری )نے پانی پت میں تین سو راجپوتوں کو مسلمان کیا، کشمیر میں شاہ مرزا بلبل شاہ، سید علی ہمدانی، (المتوفیٰ 1384 عیسوی اور میر شمس الدین عراقی کی وجہ سے اسلام کو فروغ حاصل ہوا، بہار میں فردوسیہ سلسلہ کے بزرگ اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں لگے رہے، پندہویں صدی عیسوی میں جب بنگال کے راجہ کنس کے بیٹے جٹ مل نے اسلام قبول کیا تو اس کے اثر سے کثرت سے ہندو مسلمان ہوئے، وہاں عام طور پر متمول مسلمان قحط کے زمانے میں ہندوؤں کے بچوں کو خرید لیتے اور ان کی تعلیم و تربیت اسلامی طریقہ پر کرتے، جب حضرت شیخ نظام الدین اؤلیا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ شیخ اخی سراج الدین (المتوفیٰ سن 1357 عیسوی) اور ان کے خلفیہ شیخ علاؤالحق (المتوفیٰ سن 1398 عیسوی) نے بنگال میں قیام کیا اور توحید و رسالت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی مساوات بھی پھیلائی تو اس کے اثر سے وہاں کے نیچی ذا ت کے ہندو جوخود ہندوؤں میں ذلیل نظروں سے دیکھے جاتے تھے، بکثرت دائرہ اسلام میں داخل ہوئے، سلہٹ میں حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے پیر بھائی شیخ جلال الدین تبریزی (المتوفیٰ 1225 عیسوی) نے اسلام کی اشاعت کی، ان کا مزار سلہٹ میں ہے۔
اشاعت اسلام کا روشن اور تاریک پہلو:- اشاعت اسلام سے مسلمانوں کی تعداد ضرور بڑھ گئی، گو جس سرعت سے عراق، شام، مصر اور ایران میں اسلام پھیلا، ہندوستان میں نہ پھیل سکا پھر بھی مسلمانوں کی تعداد میں روز افزوں ترقی ہوتی گئی، مبلغوں نے غیر مسلموں کو مسلمان تو ضرور بنا دیا مگر ان کی تعلیم و تربیت کے ذریعہ ان میں اسلامی اعمال و اخلاق اور اسلامی کردار پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی، خود پشتینی مسلمان بھی بڑی حد تک اسلامی تعلیمات سے بیگانہ ہوتے گئے، نو مسلموں سے تو ان کے بہت سے موروثی رسوم و رواج بھی دور نہ ہوسکے، اسی لئے آج بعض اہلِ قلم کو یہ لکھنے کا موقع مل گیا ہے کہ پنجاب کے بہت سے مسلمان مگتی اور لاچی جیسے دیوتاؤں کی پرستش کرتے ہیں، امرتسر کے میراثی درگا بھوانی پر نذریں چڑھاتے ہیں، پنڈی کے مسلمان چیچک کی دیوی کی پوجا کرتے ہیں، یوپی کے مسلمان بھاٹوں کے یہاں برہمن پروہت بنتے ہیں، کچھ کے بعض میمن ہندوؤں کی طرح جسم پر بھبھوت ملتے ہیں، پنجاب کے بعض مسلمان فقرا دھونی بھی رماتے ہیں، یوپی کے چونی ہار کا لکامائی کی پوجا کرتے ہیں اور ہندوؤں کی طرح سرادہ کی رسم ادا کرتے ہیں، مشرقی بنگال کے ترک نو اس لکشمی دیوی کے سامنے جھکتے ہیں اور مغبری بنگال کے مسلمان فقیر لکشمی دیوی کے گیت گاتے ہیں، مدراس کے دود کلا دسہرہ میں ہتھیاروں کی پرستش کرتے ہیں، اگر ایسے مسلمانوں کو ان کے آبائی مذہب واپس لانے کی تھوڑی سی بھی کوشش کی جاتی تو وہ آسانی سے ہندو ہوجاتے اور مسلمان سلاطین جن پر جبر و تشدد سے اسلام پھیلا نے کا الزام لگایا جاتا ہے، کبھی ان کو دوبارہ اسلام قبول کرنے پر مجبور نہ کرتے، اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ ان سلاطین میں وہ مذہبی جوش اور ولولہ نہ تھا جو شروع کے عرب حکمرانوں میں رہا، دوسرے وہ ملک داری اور ملک گیری میں ایشے مشغول رہے کہ ان کو تبلیغِ اسلام کی فرصت ہی نہ ملی، یہ ضرور ہے کہ ملک گیری کے سلسلہ میں انہوں نے شجاعت پامردی اور سپہگری کے جو جوہر دکھائے اپنے نقطۂ نظر سے اسی کو اسلام کی سربلندی تصور کرتے رہے اور اس میں شک نہیں کہ اس سلسلہ میں ان کے کارنامے پر بجا طور سے فخر کیا جاسکتا ہے۔
تسخیرِ ملک و تسخیر قلوب:- ہندوستان میں محمود غزنوی کی متواتر لشکر کشی پر خواہ کتنی ہی تلخ بحث کی جائے لیکن اگر اس کا مطالعہ ایک فوجی سردار کی حیثیت سے کیا جائے تو کسی شخص کو اس کے اعتراف میں تامل نہ ہوگا کہ اس میں وہ تمام اوصاف موجود تھے جو دنیا کے اعلیٰ سے اعلیٰ فوجی قائدوں میں پائے جاتے ہیں، وہ میدانِ جنگ میں اپنی جان پر کھیل کر اس حصہ میں کود پڑتا جہاں گھمسان کی جنگ ہورہی ہوتی، مختلف لڑائیوں میں اس کے جسم پر 72 زخم لگے تھے، وہ پورے تہور کے لڑتا تو بعض اوقات اس کی گرفت میں تلوار اس طرح چپک جاتی کہ بڑی مشکل سے علٰحدہ کی جاتی، اس کی جانبازی اور پامردی کو دیکھ کر اس کے لشکری پوری جانبازی اور سرفروشی سے لڑتے، وہ عراق سے لے کر گنگا کی وادی تک تقریباً 33 سال لڑائیاں لڑتا رہا، کبھی ترکستان کی ساری جنگی قوتیں اس کے خلاف معرکہ آرا ہو جاتیں، کبھی ہندوستان کے تمام بہادر راجپوت سردار اس کے خلاف صف آرا ہوجاتے لیکن وہ کسی موقع پر بھی سراسیمہ نہیں ہوا، ہر لڑائی میں فتح کا سہرا اسی کے سررہا، اس کا طریقۂ جنگ گو پرانا ہی تھا لیکن اپنی جانبازی سے اپنی فوج میں نئی زندگی اور نئی سرگرمیاں پیدا کرتا رہا، اس کے لشکر میں عرب، خلجی، افغان، ترکمان، دیلمی اور ہندو بھی تھے اور ان سب مختلف عناصر کو ملاکر اس نے ایک ناقابلِ شکست فوجی دستہ بنائے رکھا، وہ تھکنا جانتا ہی نہ تھا غور کی دشوار گذار پہاڑیاں، کشمیر کی برفشانی وادیاں اور راجپوتانہ کے ہلاکت خیز ریگستانی علاقے اس کی ہمت کو پست نہ کرسکے، وہ غنیم کے سرپر اس طرح دفعۃً پہنچ جاتا کہ اس کو خبر تک نہ ہونے پاتی، اس لئے وہ ان غیر معمولی اوصاف کی بنا پر ان فوجی رہنماؤں کی صف میں جگہ پانے کے لایق ہے جنہوں نے قوموں کی تاریخ بدل دی ہے۔
شہاب الدین غوری کے فوجی کارنامے محمود غزنوی کے سامنے ماند ضرور پڑجاتے ہیں لیکن اس کو محمود غزنوی پر اس حیثیت سے فوقیت حاصل ہے کہ محمود ہندوستان میں لڑائیاں جیت کر واپس چلا جاتا لیکن شہاب الدین غوری اس سرزمین میں ایک سلطنت قائم کرنے کے لیے لڑتا رہا، محمود غزنوی کبھی کوئی جنگ میں نہیں ہارا اور شہاب الدین غوری کو ہندو راجاؤں نے دو لڑائیوں میں شکست دی لیکن کسی کو اس کے اعلیٰ درجہ کے فوجی قائد ہونے میں شک نہیں ہوا، وہ میدانِ جنگ میں اتر تا تو پہلے صحیح صورتِ حال کا جائزہ لیتا پھر اسی حساب سے اپنی فوج کو صف آرا کرتا اور اس کے ہدایت کے مطابق اس کے صبا رفتار سوار پہلے آگے بڑھتے پھر پیچھے ہٹ جاتے پھر اچانک پلٹ کر غنیم کے بازووں کی صفیں الٹ دیتے، وہ کسی حال میں شکست کو شکست تسلیم نہیں کرتا تھا، جب پرتھوی راج سے پہلی بار ہارا تو اس نے قسم کھا لی کہ بیوی کی خوابگاہ میں اس وقت تک نہیں جائے گا جب تک اس شکست کو فتح و کامرانی میں نہ بدل دے گا۔
قطب الدین ایبک نے بعض اپنے سپاہیانہ اوصاف کی بنا پر گمنامی اور غربت سے نکل کر شہرت و ناموری حاصل کی اور اس کی سپہگری سے متاثر ہوکر شہاب الدین غوری نے اس کو اپنا فرزند بنا لیا، شمس الدین ایلتتمش جب کسی لڑائی میں شریک ہو جاتا تو میدانِ جنگ میں اس سے زیادہ دلیر اور بہادر کوئی اور فوجی نہ ہوتا، شہاب الدین غوری نے جب گکھروں پر فوج کشی کی تو جھیلم کو عبور کرنے میں سب سے پہلے ایلتتمش نے پرگستوان پہنا اور اپنا گھوڑا مردانہ وار دریا میں ڈال دیا اور اس کو عبور کرکے دشمنوں پر ٹوٹ پڑا، اس کی جانبازی دیکھ کر دوسرے لشکر بھی دریا میں کود پڑے، اس کے اسی سپاہیانہ اور مدبرانہ اوصاف کے سبب سے قطب الدین ایبک کی وفات کے بعد ایک نوزائیدہ سلطنت ختم ہونے سے بچ گئی، منگولوں کے طوفان کو دینا کا کوئی ملک روک نہ سکا لیکن غیاث الدین بلبن نے اپنے آہنی عزم سے ان کی غارت گری سے ہندوستان کو بچا لیا، غلام سلاطین کے فوجی سرداروں میں بختیار خلجی نے مٹھی بھر فوج سے بہار اور بنگال کو فتح کیا، بلبن کا چچازاد بھائی شیر خان اپنے اوصاف میں واقعی شیر تھا، وہ جب تک زندہ رہا، تاتار، سنام، لاہور اور دیال پور کی طرف رخ کرنے کی ہمت نہ کرسکے، ملک قمر ادلین قیران تمر اور ملک عزالدین طغرل طفان نے اودھ اور لکھنوتی کو دہلی سے منسلک کیا۔
خلجی سلاطین میں جلال الدین خلجی کہا کرتا کہ کہ اگر میں اپنی تلوار کھینچ لوں تو بیس بائیس افراد کو تنہا دوڑالوں اور اگر سر میدان کھڑا ہوجاؤں تو اگر ایک بڑی جماعت مجھ پر چوالیس بار بھی حملہ کرے تو میرا بال بیکا نہیں کرسکتی، علاؤالدین خلجی صحیح معنوں میں تمام فوجی سرداروں کا سردار تھا، وہ دشمنوں کو مغالطے میں ڈال کر اور تھکا کر پسپا کردیتا تھا، اس کے سرداروں میں ظفر خاں میدانِ جنگ میں اپنے حریفوں سے کشتی لڑکر اپنی بہادری کا جوہر دکھاتا تھا، الغ خاں اور نصرت خاں نے ملتان کے سرد کنی فتوحات کا سہرا رہا۔
غیاث الدین تغلق نے منگولوں سے 29 بار جنگ کی اور ہر بار ان کو شکست دی، سلطان محمد تغلق کے نصف دورِ حکومت تک اس کی فوج جہاں بھی گئی فتح و کامرانی کا پرچم لہراتی آتی، سکندر لودی اپنی فوج پر اس قدر حاوی تھا کہ وہ جب کہیں کوئی لشکر بھیجتا تو صبح و شام وہ فرامین بھیجا کرتا تھا جس میں روزانہ کی ضروری ہدایتیں ہوتی تھیں اور کسی کو اس کی عدول حکمی کی جرأت نہ ہوتی تھی۔
ایک فوجی قائد میں جتنی خوبیاں ہونی چاہئیں، وہ سب بابر میں موجود تھیں، اس نے جتنی لڑائیوں میں فتح حاصل کی، اتنے ہی شکست بھی کھائی لیکن شکست سے اس کی اندرونی صلاحیتیں اور بھی ابر آئیں، وہ اپنے لشکریوں اور ساتھیوں کو محض اپنی باتوں اور تقریروں سے تازہ بنا دیا تھا۔
اکبر کا شمار دنیا کے بہترین سپہ سالاروں میں ہوتا، ہے اس کی تیزگامی، شمشیر زنی، نیزہ بازی اور نشانہ بازی، دشمنوں پر بجلی کی سرعت کے ساتھ یورش، حیرت انگیز حد تک تھی، اس نے اپنی فوج کا جو نظم ونسق قائم کیا تھا وہ اس دور کے لحاظ سے بہترین سمجھا جاتا تھا، اسی لئے اس کو کسی جنگ میں شکست نہیں ہوئی، جہانگیر گو بڑے ناز و نعمت میں پلا تھا لیکن ضرورت کے وقت ایک جری سپاہی بھی بن جاتا تھا، وہ نور جہاں سے کئی دن تک محض اس لئے خفا رہا اور نہیں بولا کہ ایک بار اس کے ایک خیمہ من ایک شیر آگیا تو وہ بھاگ کر دوسرے خیمہ میں چلی گئی تھی، شاہ جہاں کو اپنے جنگی تجربات پر اتنا بھروستہ تھا کہ جب اس نے بلخ اور قندھار کی تسخیر کے لئے اپنے شہزادوں کو بھیجا تو دارالسلطنت میں بیٹھ کر ان کو ہدایتیں بھیجتا تھا، عالمگیر کی فوجی قیادت کے مقابلہ میں بڑے بڑے آزمودہ کار فوجی سردار بے بس ہوکر رہ جاتے اور بلخ کے حکمرانوں کو کہنا پڑا کہ ایسے آدمی سے لڑنا اپنی قسمت سے جنگ کرنا ہے، اسی کے زمانہ میں مغلوں کی سلطنت کے حدود انتہائی درجہ تک پہنچ گئے۔
مغل بادشاہوں کے فوجی سرداروں کے کارنامے بھی فخر کے ساتھ لکھے جانے کے لائق ہیں، اکبری عہد میں بیرم خاں، خان خانان، شہاب الدین بہادر خاں، آتکہ خاں، منعم خاں، مظفر خاں، خان اعظمِ مرزا، کوکہ خاں، لشکر خاں، شہباز خاں، اوہم خاں کوکہ، آصف خاں، فتح اللہ شیرازی، مرزا قوام الدین جعفر ملک، اور جہانگیری عہد میں امیرالامراء شریف خاں، شیخ فرید، خانخانان عبدالرحیم خاں، آصف خاں، قزوینی، آصف خاں ابوالحسن، صادق خاں، ارادت خاں، اسلام خاں چشتی، اعتماد الدولہ ، مرزا غیاث بیگ طہرانی، احمد خاں نیازی، اللہ وردی، شاہجہانی دور میں علامہ شکر اللہ افضل خاں، آصف خاں ابوالحسن، ارادت خاں، صادق خاں، اسلام خاں، میر جملہ، معتمد خاں، صلابت خاں، احسن اللہ خاں، جعفر خاں اور خیل اللہ خاں، عالمگیری عہد میں میر جملہ، محمد امین خاں، افضل خاں، شایستہ خاں، دلیر خاں، ہمت خاں، ذوالفقار خاں، قاسم خاں وغیر نے جو فتوحات حاصل کیے وہ دنیا کی کسی قوم کی تایخ کے لئے شاندار اور زریں کارنامے کہے جاسکتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ ان فاتحوں کو بڑی بڑی لڑئیاں لڑنی پڑیں جن میں بے شمار جانیں تلف ہوئیں، خونریزی کے ساتھ غارتگری بھی ہوئی، جیسا کہ جنگ کے موقع پر آج بھی متمدن ممالک میں ہوتی ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ خونریزی اور غارت گری اسلام کی طرف منسوب کر دی گئی اور ان فاتحوں کی تلوار اسلام کی تلوار سمجھی گئی، اس میں شک نہیں کہ جنگ کے وقت جہاں اور تدبیریں کی جاتی تھیں، وہاں لشکریوں کی مذہبی غیرت اور حمیت بھی ابھاری جاتی، جس سے بڑا فائدہ حاصل ہوتا تھا، اس لئے فاتحین عام لڑائیوں کو بھی جہاد کا رنگ دیدیتے تھے لیکن ان لڑائیوں کو جہاد کا رنگ دینے میں اسلام تعلیمات کو بھی مدِّ نظر رکھنا چاہئے تھا، جس میں اس کی تصریح ہے کہ جنگ کے موقع پر ایسے لوگوں کو چھوڑ دیا جائے جنہوں نے اپنے آپ کو خدا کی عبادت کے لئے وقف کررکھا ہو، عورتیں، بچے اور بوڑھے قتل نہ کئے جائیں، پھل دار درخت نہ کاٹے جائیں، کوئی باد جگہ ویران نہ کی جائے، بکری اور اونٹ کھانے کے سوا بیکار نہ ذبح کئے جائیں، نخلستان نہ جلائے جائیں، مالِ غنیمت میں غبن نہ کیا جائے، لوٹ کا مال مردار کا گوشت سمجھاجائے خانقاہیں اور عبادت گاہیں منہدم نہ کی جائیں اور نہ کوئی اسیا قصر اگرایا جائے جس میں ضرورت کے وقت دشمن قلعہ بند ہوتے ہوں، ناقوس پھونکنے اور گھنٹے بجانے کی ممانعت کسی حال میں نہ ہو۔
اگر یہ تمام باتیں ملحوظ رکھی جاتیں تو واقعی مسلمان فاتحین کی لڑائیوں سے اسلام کو سربلندی حاصل ہوتی لیکن اس کے بجائے مسلمان فاتحین اپنی نسلی اور قبائلی خصوصیات کی بنیاد پر وہ تمام باتیں کرتے رہے جو عام طور سے جنگ کے موقع پر ہوتی ہیں، گو ملک گیری کے بعد ملک داری کے سلسلہ میں انہوں نے مفتوحہ علاقہ میں امن پروری اور عدل پسندی کی بہتر سے بہتر مثالیں پیش کیں جیسا کہ اس سے پہلے ذکر آچکا ہے۔
اس سے کون انکار کرسکتا ہے کہ ان کی حکومت کے زمانے میں ہندوستان کی تہذیبی، تمدنی اور معاشرتی زندگی میں بہت سے جلوے پید اہوئے، درباری اور معاشرتی زندگی میں نئے نئے آداب رائج ہوئے، جن کو خود یہاں کے ہندو راجاؤں نے بھی اختیار کیا، زینت و آرایش میں انتہائی حسن وجمال نظر آنے لگا، علوم وفنون کی سرپرستی میں پوری فیاضی سے کام لیا گیا، لباس میں بڑا تنوع پیدا ہو، کپڑے کی مصنوعات کو انتہائی ترقی ہوئی، زر بفت، مخمل، طاس، مشجر، دیبا، ململ، پشمینے، شال، قالین وغیرہ کی طرح طرح قسمیں بنائی گئیں، مختلف قسم کے زیورات کی صناعی میں بڑی لطافت مشک، عنبر، لاون، کافور، زباد، مید، عود، صندل، سلارس، لوبان، اظفار الطیب،ارگجہ، عبیرمایہ، زعفران وغیرہ سے طرح طرح کی چیزیں تیار کی گئیں، پھولوں کی چمن آرائی خیابان بندی اور طرح ادائی کو ایک مستقل فن بنا دیا گیا، لاہور، دہلی، کشمیر اور آگرہ کے باغات آج بھی ان کے ذوق کی لطافت کی گواہی دے رہے ہیں، پھلوں میں پیوند کاری کر کے بہت سے نئے پھل ہندوستان میں رائج کئے گئے، کھانے کی چیزوں میں چاول، آٹے، اور گوشت کی جتنی متنوع چیزیں بنائی گئیں، پھر طرح طرح کے جو حلوے اور مربے تیار ہوئے، ان سے ہندوستانی کھانوں میں بڑی، رنگارنگی پیدا ہوئی، فنِ تعمیرات میں شلغم نما گنبدوں، کئی کئی پہل کے برجوں، پھر نقاشی، مینا کاری، استرکاری، کاشی کاری، سنگ مرمر پر پچے کاری وغیرہ پر جو جدت پیدا کی گئی، اس کو کسی حال میں بھلا یا نہیں جاسکتا، تاج محل آج بھی اس زمانے کے فنِ تعمیرات کی لطافت، نفاست اور نزاکت کی شہادت دے رہا ہے، موسیقی میں امیر خسرو، حسین شاہ شرقی، نائک، بخشو، تان سین، بااز بہادر، سبحان خاں، محب خاں، بایز خاں، سلطان زین العابدین، سلطان مظفر گجراتی، سلطان ابراہیم عادل شاہ ثانی، سلطان واجد علی شاہ کی ایجادات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، اکبر اور جہانگیر کے عہد میں فن مصوری میں جو نزاکت، رنگ آمیزی، باریکی، مرصدع کاری اور فطرت نگاری پیدا ہوئی، اس سے ایک خاص اسٹائل بنا، جو مغل مصوری کے نام سے اب تک باقی ہے، اور یہ اسٹائل نہ بنا ہوتا تو ہندوستان کی مصوری کے مختلف اسکول وجود میں نہ آتے، کاغذ مسلمانوں کے عہد کی یاد گار ہے، رنگ پور، اچہ، جونپور، احمدآباد، احمدنگر، نعمت آباد، برپانپور، زین آباد، مبارک آباد، مصطفیٰ آباد، دولت آباد، فیروز آباد، لاہور،الہ آباد، آگرہ، فتحپور سیکری، حیدرآباد مراد آباد، اورنگ آباد، ابراہیم آباد، عظیم آباد، بھکر سامانہ اور خدا جانے کتنے اور قصبات اور قریے مسلمانوں کے زمانے میں آبا ہوئے پھر جو پل، نہریں اور سڑکیں تعمیر کی گئیں، ان کی ان گنت تعداد شمار میں نہیں آسکتیں پھر پورے ہندوستان کی پیمایش کرائی گئی، قابل زراعت اور ناقابلِ زراعت زمینوں کی تفریق کی گئی، تقاوی دینے کا قاعدہ جاری کیا گیا، تشخیص و حمع کے متعدد طریقے مقرر ہوئے، زمین کی قسمیں کی گئیں، مثلاً بٹائی، بارانی، چاہی، نہری، وغیرہ، حیوانات کی نسل کی ترقی میں پوری کوشش کی گئی، ان تمام تفصیلات کے لئے علٰحدہ کتابیں بھی مطالعہ کی جاسکتی ہیں اور خود جدوناتھ سرکار نے ہندوستان پر مسلمانوں کے احسانات کا اعتراف کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ
1۔ مسلمانوں نے ہندوستان کے تعلقات بیرونی دنیا سے قائم کرائے جس کی وجہ سے بحری جہازرانی اور بحری تجارت کو از سر نو فروغ ہوا، ہندوستان میں چولاکی حکومت کے خاتمہ کے بعد یہ دونوں چیزیں ختم ہوگئی تھیں۔
2۔ ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں خصوصاً و ندھیا کے شمال میں اندونی طور پر امن و سکون قائم ہوا۔
3۔ ایک ہی قسم کے نظامِ حکومت سے تمام ملک میں یکسانیت پیدا ہوئی۔
4۔ مذہبی عقائد کے اختلاف کے باوجود اونچے طبقہ کے لوگوں کے عادات و اطوار و لباس وغیرہ اور معاشرتی امور میں یکرنگی پیدا ہوئی۔
5۔ ہندی اور اسلامی طرز کا ایک آرٹ پید اہوا جس میں ہندوؤں اور چینیوں کے آرٹ کی بھی آمیزش تھی، اس سے تعمیرات میں ایک نیا اسٹائل پیدا ہوا اور عمدہ قسم کی صنعتوں کو فروغ ہوا، شال کمخواب، قالین اور مرصع کاری اسی زمانہ کی یادگار یں ہیں۔
6۔ ایک مشترکہ زبان پیدا ہوئی جو ہندوستانی یا ریختہ کے نام سے مشہور ہوئی، نثر نویسی میں ایک سرکاری اسٹائل کا رواج ہوا جس کی بنا ان ہندو منشیوں نے ڈالی جو فارسی لکھا کرتے تھے اور اس اسٹائل کو مرہٹوں نے بھی اپنی زبان میں رائج کیا۔
7۔ دہلی کی حکومت کی وجہ سے جن امن اور اقتصادی خوشحالی بڑھی تو ملکی لڑیچر کو بھی ترقی ہوئی۔
8۔ مذہب میں توحید کی تصور کی تجدید ہوئی اور تصوف پھیلا۔
9۔ تاریخی لٹریچر پیدا ہوا۔
10۔ فنون جنگ اور تمند کے عام شعبوں کو فروغ ہوا، جدوناتھ سرکار یہ بھی لکھتے ہیں کہ مسلمانوں ہی کی وجہ سے تعمیرات میں ایک نیا طرز ایجاد ہوا، محلوں اور مقبروں کی تعمیر ان کی خاص چیز ہے پھر ان کی وجہ سے مصوری کا ایک خاص اسکول قائم ہوا اور ان ہی کی وجہ سے ہندوستان میں فنِ باغبانی کا ذوق پیدا ہوا لیکن یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ غیر مسلموں کا ایک گروہ ایسا بھی پیدا ہوگیا ہے جو ان تمام کارناموں کو نظر انداز کرکے مسلمان بادشاہوں نے جنگ کے زمانے میں جو کچھ کیا اسی کو زیادہ اچھالنے کی کوشش کررہا ہے اور اس سلسلہ کی خونریزی اور غارت گری کو اسلام کی طرف منسوب کر کے اسلام کے خلاف نفرت اور اشتعال پیدا کررہا ہے۔
تسخیر قلوب :- مسلمانوں نے جن کے خلاف جنگ کی انہوں نے غصہ اور عداوت میں اگر مسلمانوں کے مذہب کو بھی بدنام کر نے کی کوشش کی تو یہ علما کا فرض تھا کہ جنگ کے بعد اسلام کی سچی تعلیم کے مطابق اس کو دینِ رحمت کی حیثیت پیش کرتے اور یہ بتلاتے کہ ان کی کوئی تعلیم بھی انسانوں کے لئے رحمت سے خالی نہیں اور دنیا کی کوئی مخلوق بھی اس کے فیضانِ رحمت سے محروم نہیں، اس کا خدا رحمٰن و رحیم ہے، ستار و غفار ہے، اس کی تمام صفات میں رحمت، ستاری اور غفاری کا غلبہ ہے، اس کی رحمت و مغرفت کا دروازہ گنہ گاروں کے لئے بھی بند نہیں اور بڑے سے بڑا گناہ اللہ تعالیٰ کی مغرفت بے پایاں کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا، اسلام میں انسان کا رتبہ بہت بلند ہے، وہ اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے، زمین و آسمان، چاند اور سورج، دریا اور سمندر، خشکی اور تری سب اس کے لئے پیدا کی گئی ہے، اسلام رنگ و نسل و نسب اور سارے امتیازات کو ختم کرنے کے لئے آیا ہے اور وہ سارے انسانوں کو ایک سطح پر کھڑا کرنا چاہتا ہے، وہ انسانی مساوات، اخوت غربا و مساکین کی پرورش، خدمتِ خلق، انسان دوستی، عدل پروری، رحم و کرم، لطف و مدارات، نیک کاموں کی تبلیغ و ترغیب اور برائیوں کے انسداد کے لئے ہے، وہ اس حدیثِ قدسی کی عملی تعبیر تشریح ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ عزوجل قیامت کے دن فرمائے گا کہ اسے ابن آدم میں بیمار ہوا تونے میری عیادت نہیں کی، بندہ عرض کرے گا پروردگار! میں تیری عیادت کس طرح کرتا تو تو خود سارے جہان کا پروردگار ہے، خدا فرمائے گا کیا تجھ کو نہیں معلوم میرا فلاں بندہ بیمار پڑا مگر تو اس کی عیادت نہیں کی، اگر تو عیادت کرتا تو مجھ کو اس کے پاس موجود پاتا، اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تونے نہیں کھلایا، بندہ عرض کرے گا، پروردگار، تو تو خود رب العالمین ہے، میں تجھ کو کھانا کس طرح کھلاتا خدا فرمائے گا، میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا مگر تونے نہیں کھلایا اگر تو ا س کو کھلاتا تو اس کھانے کو میرے پا س موجود پاتا، اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا مگر تونے نہیں پلایا، بندہ عرض کرے گا، پروردگار، میں تجھ کو کس طرح پانی پلا تا، تو تو خود رب العالمین ہے، خدا فرمائے گا، فلاں بندے تجھ سے پانی مانگا تو نے نہیں پلایا اگر پلاتا تو اس کو میرے پا س موجود پاتا
اسی طرح علما اس کا ثبوت دیتے کہ اختلافِ مذیب کی بنا پر کسی انسان سے نفرت نہ کی جائے اور ان کو انسانی حقوق سے محروم نہ کیا جائے اور ان سے معاشرتی حقوق ادا کئے جائیں، کیونکہ کلامِ مجید میں دوسروں کے معبودوں کو برا کہنے کی ممانعت ہے اور یہ حکم ہے کہ مسلمانو! جو لوگ خدا کے سوا دوسرے لوگوں (معبودوں) کو پکارتے ہیں، ان کو برا نہ کہو، ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ بھی ناحق اور نادانی سے خدا کو برا کہیں پھر کلامِ مجید میں یہ بھی ہے کہ دین میں جبر وزبردستی نہیں، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیر مسلموں کے مظالم سے تنگ آجاتے اور آپ سے درخواست کی جاتی کہ آپ ان کے لئے بدعا فرمائیں تو آپ فرماتے کہ میں لعنت کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہوں بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
پاک طینت علما نے اسلام کو اس رنگ میں ضرور پیش کیا ہوگا، کیونکہ اگر اسلام اس رنگ میں یہاں کے باشندوں کو نظر نہ آتا تو یہاں وہ سرسبز نہیں ہوسکتا تھا لیکن ایسے علما کی کوششوں کا ذکر تاریخوں میں نہیں کیا گیا ہے اور ستم یہ ہے کہ بعض مؤرخوں نے بعض متشدد علماء کے ایسے اقوال نقل کر دیے ہیں جن کو اسلام سے کوئی تعلق نہیں مثلاً ضیا الدین برنی نے اپنی تاریخ فیروز شاہی میں لکھا ہے کہ علاؤالدین خلجی نے قاضی مغیث الدین سے ہندوؤں کی شرعی حیثیت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ
ہندوؤں کو ذلیل رکھنا دیندارکے لوازم میں سے ہے، کیونکہ یہ حضرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے دشمن ہیں، اسی لئے حضرت مصطفیٰ علیہ السلام نے ہندوؤں کے قتل اور ان سے مالِ غنیمت لینے اور ان کو غلام بنانے کا حکم دیا ہے(ص 290)
یہ تمام تر قاضی مغیث الدین کی من گھڑت حدیث ہے جس کو مولانا ضیاؤالدین برنی نے خواہ مخواہ نقل کر کے نہ صرف اس عہد کی تاریخ بلکہ اسلام کو نقصان پہنچایا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلم رعایا کے ساتھ مسلمان حکمرانوں کے رویے کی جو وضاحت کردی ہے، وہ اس حدیث کی روایت سے ظاہر ہوتی ہے جو قاضی ابو یوسف نے کتاب الخراج میں کی ہے، اس میں ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کو جزیہ کے وصول کرنے پر مقرر کیا تو ان کو بلا کر فرمایا۔
الا من ظلم معاھدا او کلفہ منہ شیئا بغیر طیب نفہ فائما حجیجہ یوالقیامۃ۔
جان لو کہ جو شخص کسی معاہد (یعنی ذمی) پر ظلم کرے گا یا اس سے اس کی طاقت سے زیادہ کام لے گا یا اس کو ذلیل کرے گا یا اس سے کوئی چیز اس کی مرضی کے بغیر لے گا تو میں قیامت کے دن اس کا دشمن ہوں گا۔
صحابہ کرام کا بھی عمل اسی پر رہا، شام کی فتح کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ کو جو فرمان لکھا ہے، اس میں یہ الفاظ تھے کہ مسلمانوں کو ان کے ظلم ونقصان سے روکو اور ان کے مال کھانے سے منع کرو اور ان کو جو حقوق تم نے جن شرائط پر دیے ہیں، ان کو پورا کرو، حضرت عمر کو ایک غیر مسلم ہی نے شہید کیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنی وفات کے وقت نہایت ضروری وصیتیں جو کیں ان میں ایک یہ تھی کہ ذمیوں یعنی غیر مسلموں کے ساتھ جو اقرار ہیں وہ پورے کئے جائیں، ان کی طاقت سے زیادہ کام ان سے نہ لیا جائے اور ان کے دشمنوں کے مقابلہ ان کی طرف سے لڑائی کی جائے، حضرت عمر کی اس وصیت کو امام بخاری نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے، حضرت عمر کے پاس ایک عیسائی غلام استنق نامی تھا جس کو انہوں نے دعوتِ اسلام دی، اس نے انکار کیا تو فرمایا لا اکراہ فی الدین یعنی مذہب میں کوئی زبردستی نہیں اور دوسرے صحابہ بھی ذمیوں یعنی غیر مسلموں پر کسی قسم کی سخت ہوتے دیکھتے تو فوراً مواخدہ کرتے تھے، سعید بن زید نے ایک دفعہ دیکھا کہ ذمیوں کو مال گذاری وصول کرنے کے لئے دھوپ میں کھڑا کیا گیا ہے، اسی وقت وہاں کے حاکم سے جا کر کہا کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص لوگوں کو عذاب دیتا ہے، خدا اس کو عذاب دے گا، ہشام بن حکیم کو بھی اسی قسم کا واقعہ پیش آیا اور انہوں نے اسی وقت حاکم یعنی عیاض بن غنم کے پاس جاکر ملامت کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی قول سند میں پیش کیا، ان تاریخی حقایق کے باوجود مولانا ضیاؤالدین برنی کو قاضی مغیث الدین کے اس بیان کو نقل کرنے میں تامل نہیں ہوا کہ محصل دیوان جب ہندو خراج گذار کے منہ میں تھوکے تو وہ بغیر کسی کراہت کے اپنا منہ کھول دے اور اس حالت میں بھی محصل کی پوری خدمت کرے، مولانا ضیاؤالدین برنی نے یہ بھی لکھا ہے کہ علاؤالدین خلجی کے دورِ حکومت میں ایک مشہور مصری محدث اور عالم مولانا شمس الدین ترک ہندوستان تشریف لائے تو علاؤالدین خلجی کا طرز عمل یہاں کے غیر مسلموں کے ساتھ جو خواری، زاری، لا اعتباری اور بے مقداری کا تھا، اس پر آفریں، بھیجی لیکن موجودہ دور کا کوئی تنگ نظر اور متعصب عالم بھی اس مصری عالم کے آفریں بھیجنے پر خوش نہیں ہوسکتا، معلوم نہیں اس زمانے میں کس پس منظر میں ایسی فضول باتیں کہی گئیں جن کو اسلام سے دور کا بھی علاقہ نہیں ہے، اس سے کوئی فائدہ تو حاصل نہیں ہوا لیکن یہ نقصان ضرور ہوا کہ اس قسم کے اقوال سے شرارت پسندوں کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک حربہ مل گیا۔
لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی دور میں مولانا ضیاؤالدین برنی کے معاصر اور دوست امیر خسرو اپنی شاعری اور تحریروں کے ذریعہ سے ہندوؤں کی تسخیر قلوب کے لئے ہر قسم کی کوشش کر رہے تھے اور ان کی شاید یہ تمنا تھی کہ یہاں کے مختلف باشندوں میں یگانگت اور موانست ہو اور وہ ایک دوسرے کے خدمات کو سمجھ کر باہمی احترام کا جذبہ پیدا کریں، چنانچہ وہ اپنی مثنوی دول رانی خضر خاں میں ایک آتش پرست ہندو کا ذکر قصداً لے آتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ اس سے سوال کیا گیا کہ وہ آگ کی پرستش کیوں کرتا ہے اور اس کے لیے کیوں جان دیتا ہے، اس نے جواب دیا کہ آگ کو دیکھ کرا مید وصل فروزاں رہتی ہے اور آگ میں فنا ہوکر بقا حاصل ہوتی ہے، خسرو نے اس جذبہ کی قدر کی ہے، اسی طرح وہ ہندوؤں کے علوم وفنون کی مدح سرائی کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ دانش معانی ہندوستان میں اندازہ سے باہر ہے، یونان حکمت میں مشہور ہے لیکن ہندوستان اس میں تہی مایہ نہیں، یہاں منطق بھی ہے اور نجوم اور کلام بھی، البتہ ہند و فقہ سے واقف نہیں ہیں لیکن وہ طبیعیات، ریاضیات اور ہیت کے ماہر ہیں، مابعد الطبیعیاتی علوم نہیں جانتے ہیں لیکن مسلمان اور دوسری قومیں بھی ان سے ناواقف ہیں، خسرو ہندووں کے تصورِ وحدانیت کے بھی معترف تھے، وہ کہتے ہیں کہ ہندو ہمارے مذہب کے قائل نہیں، لیکن ان کے بہت سے عقائد ہمارے عقائد سے مشابہ ہیں، وہ خدا وند تعالیٰ کی توحید، اس کے وجود اور قدم کے معترف ہیں، اس کی قدرتِ ایجاد اور اس کے رازق، خالق، فعال، فاعل اور عالم جزو کل ہونے کے قائل ہیں، اس سلسلہ میں امیر خسرو نے ہندوؤں کے مذہب کا بھی اسلام کے علاوہ اور تمام مذہبوں سے مقابلہ کیا ہے اور اس کو ان سے بہتر بتایا ہے اور اس کے وجوہ یہ بیان کئے ہیں کہ ثنوی فرقہ کو دومانتا ہے لیکن ہندو ایک مانتے ہیں، عیسائی حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں لیکن ہندو اس قسم کے عقائد کے قائل نہیں، فرقۂ مجسمہ خدا کو صاحبِ جسم مانتا ہے لیکن ہندو ایسا اعتقاد نہیں رکھتے، ستارہ پرست سات خدا کو مانتے ہیں لیکن ہندو اس قسم کے عقائد کے قائل نہیں، فرقۂ مشبہ، خدا کو ممکنات سے تشبیہ دیتے ہیں، ہندو اس کے خلاف ہیں، پارسی نور وظلمت دو خدا مانتے ہیں لیکن ہندو اس خیال سے بری ہیں وہ پتھر، جانور، آفتاب اور درخت کو ضرور پوجتے ہیں لیکن ان کی پرستش میں اخلاص ہے، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب ایک ہی خالق کی مخلوق ہیں اور اس کی اطاعت کے منکر نہی، وہ اور چیزوں کو پوجا اس لئے کرتے ہیں کہ ان کے آبا و اجداد ان کی پوجا کرتے آئے ہیں۔
امیر خسرو ہندو مرد اور عورت کے جذبات وفاشعاری سے بھی متاثر ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہندو اپنی وفاداری میں تلوار اور آگ سے اپنی جان دے سکتا ہے اور ایک ہندو عورت اپنے شوہر کی خاطر جل کر راکھ ہوجاتی ہے، ہندو مرد اپنے بت اور مالک کے لئے اپنی جان بھینٹ چڑھا دیتا ہے اور وہ تویہ بھی کہ گئے ہیں
اے کہ ز بت طعنہ بہ ہندو بری
ہم ازوے آموز پرستش گری
اور پھر تسخیرِ قلوب کے لئے امیر خسرو نے ہندوستان کی ہر چیز کی تعریف کی ہے، اپنے ہم مذہبوں کو اس سے محبت اور لگاؤں پیدا کرنے کی تلقین کی، ہندوستانی زبان، ہندوستانی کپڑوں، ہندوستانی پھولوں، میووں، پرندوں، جانوروں اور عورتوں کے حسن کے بیان کرنے میں ان کا قلم رقص کرنے لگتا ہے، اسی تسخیرِ قلوب کے لئے انہوں نے ہندی میں اشعار کہہ کر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ہندوستان کے لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ چھا رہیں گے، پنڈت جواہر لال نہرو اپنی ڈسکوری آف انڈیا میں تحریر فرماتے ہیں کہ امیر خسرو نے بہت سے موضوع پر لکھا ہے، خاص طور سے ہندوستان کی ان چیزوں کی مدح کی ہے جن میں ہندوستان کو فوقیت حاصل ہے، یہاں کے مذہب، فلسفہ، منطق، زبان، سنسکرت، گرامر، موسیقی، ریاضی، سائنس اور آم کی تعریف کی ہے لیکن ان کی زیادہ شہرت ان کے مشہور گیتوں کی وجہ سے ہے جو انہوں نے عام فہم ہندی زبان میں لکھے ہیں، پنڈت جی یہ بھی لکھتے ہیں کہ مجھ کو کسی جگہ کی ایسی مثال نہیں ملی کہ چھ سو برس پہلے جو گیت لکھے گئے وہ عوام میں برابر مقبول رہے اور الفاظ کی تبدیلی کے بغیر ویسے ہی گائے جاتے ہیں،
امیر خسرو کی تقلید میں بہت سے مسلمان شعرا نے ہندی اور سنسکرت میں اشعار کہے، ان کے ناموں کی فہرست طویل ہے، کچھ کے نام یہ ہیں، داؤد، قطبن، ملک محمد جائسی، شیخ نبی، قاسم شاہ، نور محمد، تاج، جمال، عبدالرحیم خانجاناں، قادر مبارک، عالم، شیخ شاہ، محمد نظام الدین مدھنایک، سید رحمت اللہ، میر عبدالجلیل بل گرامی، غلام نبی، سید برکت اللہ، محمد عارش، شاہ کاظم وغیرہ۔
خود صوفیہ کرام نے ہندی دوہے کہے، پہلے ذکر آیا ہے کہ حضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منیری، حضرت شیخ عبدالحق ردولوی اور حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی کے دوہے مشہور ہیں، قوالی میں بھجن کا رنگ غالباً ہندوؤں ہی کی تسخیر قلوب کے لئے پیدا کیا گیا، صوفیہ کرام نے اپنی لعینت، محبت، شفقت، نرمی، خوش خلقی، وسیع المشربی، وسیع الخیالی اور انسان دوستی سے غیر مسلموں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش برابر کی، حضرت شیخ نظام الدین اؤلیا ہندو جوگیوں سے بلا تکلف ملتے اور ان کی باتیں غور سے سنتے، فوائد الفواد میں ہے کہ ایک بار اجودھن میں حضرت فریدالدین گنج شکر کے پاس ایک جوگی آیا جو حضرت شیخ نظام الدین اؤلیا نے اس سے پوچھا کہ تم کون سی روش پسند کرتے ہو اور کس چیز پر عمل کرتے ہو تو اس نے جواب دیا کہ ہمارے علوم یہ بتاتے ہیں کہ انسانی نفس میں دو عالم ہیں، ایک عالم علوی اور ایک عالم سفلی، سر سے ناف تک تو عالم علوی ہے، اور ناف سے پاؤں تک عالم سفلی ہے، عالم علوی میں سچائی، صفائی، بلند اخلاق اور حسن معاملہ ہوتا ہے اور عالم سفلی میں نگہداشت، پاکی اور پارسائی ہوتی ہے، حضرت شیخ نظام الدین اؤلیا نے جب یہ باتیں سنیں تو فرمایا۔
مرا ایں سخن او خوش آمد
اسی طرح ایک اور جوگی حضرت فریدالدین گنج شکر کی خانقاہ آیا تو اس نے بچوں کی پیدایش کے متعلق گفتگو کی، جس کو حضرت شیخ نظام الدین اؤلیا نے بڑے شوق سے سنا اور کہا کہ میں نے تمہاری گفتگو کو سن کر ذہن نشین کرلیا ہے اور تم بھی میری گفتگو کو غور سے سنو۔
غیر مسلموں کے ساتھ چشتیہ سلسلہ کے بزرگوں کا جو رویہ رہا، اس کی ترجمانی شاہ محمد سلیمان تونسوی (المتوفیٰ 1849 عیسوی) کے ان ملفوظات سے ظاہر ہے جو نافع السالکین میں درج ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہمارے سلسلہ کے طریقہ میں ہے کہ ہندو اور مسلمان سے صلح رکھی جائے اور اس بیت کو شہادت کے طور پر پیش کرتے تھے۔
حافظا گر وصل خواہی صلح کن با خاص و عام
با مسلمان اللہ اللہ، با برہمن رام رام
با مسلماں اللہ اللہ اور بابرہم رام رام سے مراد یہ ہے کہ ایک ساتھ میں نے جام شریعت ہو تو دوسرے ہاتھ سے میں سند ان عشق اور تمام اکابر صوفیہ کا عمل اسی پر رہا اور اسی کے ذریعہ ہندو مسلم ایک دوسرے سے قریب تر ہوسکتے تھے، البتہ کچھ صوفیہ ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے تسخیر قلوب کی خاطر جامِ شریعت تو چھوڑ دیا اور صرف سند ان عشق لے کر آگے بڑھے، کشمیر میں کچھ ایسے صوفی پیدا ہوگئے تھے جوا پنے کو ریشی کہتے، انہوں نے ہندو رشیوں ہی کی طرح یوگ حبس دم اور دھیان، گیان کے طریقوں کو اپنایا، ہندوستان کے مختلف گوشوں میں کچھ ایسے صوفی بھی تھے جو تصوف اور ویدانت کو ایک ہی چیز سمجھتے رہے پھر کبیر، اکبر اور دارا شکوہ صرف سند ان عشق ہی کے معترف تھے، کبیر نے جب یہ تعلیم دی کہ دنیا کا مالک ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے سامنے دیوی دیوتاؤں کی کوئی حقیقت نہیں، وہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے، اس تک پہنچنے کے لئے محض سچے پریم کی ضرورت ہے، کسی کی وساطت اور شفاعت درکار نہیں۔
کہے کبیر اک رام جپورے ہندو ترک نہ کوئی
تو اس میں بڑی ہمہ گیریت تھی لیکن اس پیام میں سند ان عشق کے ساتھ جام شریعت نہیں تھا، اسی لئے علما کے زیر اثر رہنے والے مسلمان عوام کی طرف بہت زیادہ مائل نہیں ہوئے، یہی حال دین الٰہی کا بھی ہوا۔
اکبرکے دینِ الٰہی میں بظا ہر ہر بڑی وسیع المشربی ہے، اس کو ایک گروہ انسانیت کا بہت بڑا منشور سمجھتا ہے، اکبر نے اس کے ذریعہ سے ہندوستان کے غیر مسلماں۔۔۔۔ کے دلوں کو تسخیر کرکے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن جب اس نے اس کو عمل میں لانے کی کوشش کی تو پہلے اس کو امام عادل، مجتہد، صاحب دین حق اور ہندوستان بہتر فرقوں کے اختلاف مٹانے والا نبی امی بننا پڑا اور پھر دینِ الٰہی کی تاسیس و ترویج کے سلسلہ میں اس نے کو کچھ کیا، اس کا ذکر پہلے آچکا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کی اس مذہبی بدعت سے نہ صرف اس زمانہ کے مسلمان برگشتہ خاطر ہوئے بلکہ خود شہزادہ سلیم میں آزردگی پیدا ہوئی، مآثر الامرا، جلد دوم ص617 میں ہے۔
جنت مکانی (یعنی جہانگیر) می نویسند کہ چوں شیخ ابوالفضل بہ پدرمن ذہن نشین کردہ بود کہ جناب ختمی پناہی (صلی اللہ علیہ وسلم) فصاحت تمام داشت، قرآن کلام اوست لہٰذا وقت آمدنش از دکن نرسنگھ دیو گفتم کہ تبقل آرد، بعد ازیں پدرم ازیں اعتقاد برگشت
اس دور کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا حضرت احمد سرہندی کو بھی دکھ تھا کہ اکبر نے کلمہ کی جگہ لا الہٰ الا اللہ اکبر خلیفۃ اللہ پڑھوانا شروع کیا تھا، حج، زکوٰۃ، نماز باجماعت کو بدعقلی کی باتیں قرار دے گئی تھیں، مسلمانوں کے لیے گاؤں کشی کی ممانعت ہوگئی تھی لیکن سور اور کہتے کے ناپاک ہونے کا مسئلہ منسوخ کردیا گیا تھا، مسلمانوں کے لئے قاضیوں کامقرر کرنا بند ہوگیا تھا، حتیٰ کہ مسجد یں ویران ہوگئی تھیں بلکہ بہت سی منہدم کردی گئی تھیں وغیرہ وغیرہ، ان تمام باتوں سے حضرت احمد سرہندی کو انتہائی تکلیف تھی، وہ بڑے دکھ اور درد سے جہانگیر کے دربار کے ممتاز امیر شیخ فرید کو لکھتے ہیں کہ آپ جانتے ہیں کہ گذشتہ زمانہ میں اہلِ اسلام کے سر پر کیا گذرا ہے۔۔۔ مسلمان اسلام کے احکام جاری کرنےسے عاجز تھے اور اگر کرتے تھے تو قتل کئے جاتے تھے۔ (مکتوب نمبر 46 جلد اول)
اسی سلسلہ میں بعض اوقات انہوں نے ہندوؤں اور شیعوں کے متعلق سخت الفاظ استعمال کئے ہیں جن سے ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہو لیکن انہوں نے جو کچھ لکھا ہے، وہ انتہائی آزردگی اور اشتعال کا نتیجہ ہے، وہ ایک دکھے ہوئے دل کی چیخ اور پکار ہے، اکبر کی بدعتوں سے جو نتائج پیدا ہوئے، وہ ان کے لئے ناقابلِ برداشت تھے، ان کے لئے تو بدعت حسنہ بھی کوئی چیز نہیں تھی اور اکبر کی تمام بدعتیں تو ان کے نزدیک تو بدعاتِ سئیہ تھیں، وہ اسلامی عقائد میں کسی قسم کی بیرونی آمیزش پسند نہ کرتے تھے، دوسرے مذاہب سے اسلام کا موازنہ اور مقابلہ کر کے خوامخواہ کا اشتراک پیدا کرنا بھی انکو گوارا نہ تھا، ایسی کوششوں سے ان کی رگِ حمیت پھڑک اٹھی تھی، اسی لئے انہوں نے اسلام کو تمام بدعتوں سے پاک کرنے میں بڑی صعوبتیں اٹھائیں اور جو ہندوارانہ رسم و رواج مسلمانوں میں پیدا ہوگئے تھے، ان کو بدعت سئیہ سمجھ کر دور کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی تو مذمت کی ہے کہ مسلمانوں نے ان کو قبول کرلیا ہے لیکن جہانگیر کے زمانے میں جب ان کو مقبولیت زیادہ بڑھی تو اس وقت بھی کبھی سر زمینِ ہند سے ہندوؤں کی معاشرت سے ان کے رسم و رواج کو بالکل ہی پاک کردینے کی تلقین نہیں کی، کسی مسلمان کا ہندو ہونا تو ان کے لئے بہت بڑا سانحہ ہوتا، لیکن ہندو کا ہندو رہنا ان کو کسی حال میں ناگوار نہ ہوتا، وہ اپنے مکتوب میں ’’لکم دینکم ولی دین‘‘ کی تلقین کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسلمان اپنے دین پر قائم رہیں اور غیر مسلم اپنے طریق (کیش) پر رہیں (مکتوب 46 جدل اول) اور وہ تو اس کے بھی قائل تھے کہ ہندوستان میں بھی پیغمبر مبعوث ہوئے، اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں کہ گذشتہ امتوں کا مطالعہ کرنےسے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی جگہ بہت کم ہے جہاں پیغمبر مبعوث نہ ہوئے ہوں، اہلِ ہند میں بھی پیغمبر ہوئے اور صانع جلّ شانہٗ کی طرف دعوت دی گئی، ہندوستان کے بعض شہروں میں محسوس ہوتا ہے کہ انبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام کے انوار اندھیروں میں مشعلوں کی طرح روشن ہیں اگر کوئی ان شہروں کو متعین کرنا چاہے تو کرسکتا ہے اور ہندوستان میں جن لوگوں نے واجب تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات اور اس کے تنزیہ تقدیس کی نسبت لکھا ہے، سب انوار نبوت سے مقتبس ہیں کیونکہ گذشدتہ امتوں میں ہر ایک کے زمانہ میں ایک نہ ایک پیغمبر ضرور گذرا ہے جس نے واجب تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفاتِ قدیمہ اور اس کے تنزیہ تقدیس کی نسبت خبر کی ہے۔ (مکتوب 259 جل اول)
اگر حضرت احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کے بعض مکتوبات میں لینت اور نرمی کے بجائے ان کے مسلک کی شدت اور سختی کا اظہار ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری اکبر پر آتی ہے جس نے دلوں کی تسخیر دلوں کو دکھا کر کیا اور یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس کے دینِ الٰہی اور دوسرے اقدام سے ہندو تو اس کی طرف ضرور مائل ہوگئے لیکن ہندو مسلمان ایک دوسرے کے قریب تر نہ ہوسکے بلکہ ہندو مسلمان کا جو ایک ملاجلا معاشرہ خود بخود بن رہا تھا اس کو سخت نقصان پہنچا۔
بابر نے پانی پت اور کنواہا میں بڑی خونریزی کرکے ہندوستان میں اپنی حکومت قائم کی پھر بھی اس نے یہاں کے لوگوں کے دلوں کی تسخیر کرنے کی پوری کوشش کی جس میں وہ کامیاب رہا، پنڈت جواہر لال نہرو نے اس کے۔۔۔۔ بارے میں لکھا ہے کہ اس کی ذات میں بڑی دلکشی تھی، وہ نشاۃ ثانیہ کے عہد کا ایک رہنما تھا، بہت ہی بہادر اور دلیر تھا، آرٹ، ادب اور خوش باشی کا دلدادہ تھا، ہمایوں نے بھی اپنی رواداری سے یہاں کے باشندوں کو اپنی طرف مائل رکھا اور شیر شاہ کی رواداری کا راگ تو ہر زمانہ میں الاپا جائے گا، اس نے مذہب اور سیاست میں ایسا خوشگوار امتزاج پیدا کردیا تھا جس سے ہندوستانی قومیت کو ترقی کرنے کے لئے نہایت مناسب فضا مل گئی تھی، انگریز اور ہندو دونوں مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ وہ ہندوستان کا پہلا حکمراں ہے جس نے عوام کی مرضی کے مطابق ایک ہندوستانی سلطنت کی بنیاد ڈالنے کی کوشش کی اور یہ کام اس نے اپنے عہد کے اس سیاسی اصول سے ہٹ کر انجام دیا کہ سیاسی اتحادہ بغیر مذہبی یکسانیت کے قائم نہیں ہوسکتا، وہ تنگ نظری پسند نہ کرتا تھا، اسی لئے اس کو یہ بھی پسند نہ تھا کہ صرف اس کے ہم نسل ہی اپنے کو ارکانِ حکومت سمجھیں بلکہ ملک کے تمام باشندے ملک کے مشترکہ مفاد کو سامنے رکھ کر اس کے خیر خواہ رہیں، اس طرح اس نے ہندوستانی قومیت کے لئے راستے ہموار کئے، موجودہ دور کے مؤرخوں میں شیر شاہ کے مصنف کالکا رنجن قانون گو
’’شیر شاہ پہلا حکمراں ہے جس نے مختلف مذہب کے پیروں کو ملا کر ایک ہندوستانی قوم بنانے کی کوشش کی، یہ امتیاز اکبر کو دیا جاتا ہے اور شیر شاہ کے لیے یہ دعویٰ فضلو سا معلوم ہوتا ہے کیونکہ بظاہر اس نے جزیہ لینا پسند نہیں کیا، گائے کے ذبیحہ کی ممانعت کے لئے کوئی قانون نہیں بنایا، سنسکرت زبان کی کوئی ایسی سرپرستی نہیں کی جس سے ہندو اور مسلمان دونوں میں کلچرل اتحاد اور علمی یگانگت پیدا ہوئی، اس نے ہندو مسلمان میں شادی بیاہ کا رشتہ بھی قائم کرنے کی کوشش نہیں کی اور یہ تمام باتیں اکبر کی جانب منسوب ہیں لیکن شیر شاہ صحیح معنوں میں ایک مدبر تھا، اس نے علاؤالدین کے چراغ کے ذریعہ ایک رات میں کوئی ہوائی قلعہ ستار کرنے کی سعی نہیں کی بلکہ ایک ایسا جاندار اور عادلانہ نظامِ حکومت قائم کیا جس نے ہندووں میں سیاسی اور اقتصادی خوشحالی خود بخود پیدا ہوگئی، اس نے ہندو مسلمانوں کو متحد رہنے پر آمادہ کیا، اس طرح اس نے ہندوستانی قومیت کی بنیاد ڈالی اور اس کے لئے جتنی چیزیں ضروری تھیں، ان سب کو عمل میں لانے کی کوشش کی‘‘
شیر شاہ نے جو فضا پیدا کی تھی، اسی کو اور بھی زیادہ خوشگوار بنانے کی ضرورت تھی، اس نے ہندو مسلمان کے اتحاد و یگانگت کی جو بنیاد ڈالی تھی، اسی کو اور مستحکم بنانا تھا لیکن اکبر نے شیر شاہ سے علٰحدہ ایک شاہ راہ بنانے کی کوشش کی اور اس کے نتیجہ پر بحث کرتے ہوئے کالکا رنجن قانون گو رقمطراز ہیں۔
اگر اکبر غلط قدم نہ اٹھاتا تو ہندوستان کی قومیت سترہویں صدی عیسوی ہی میں پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتی، اکبر نے جزیہ بند کردیا ہوتا یا ذبیحۂ گاؤ رکوا دیا ہوتا، اپنے نظام حکومت میں ہندووں کو ایک حد تک شریک کرلیا ہوتا یا سنسکرت زبان کی سرپرستی میں لگا رہتا تو یہاں تک کوئی مضائقہ نہ تھا لیکن اس کے عجیب وغیر خیالات نے اس کو ایک نئے مذہب کا پیغمبر بنادیا اور ساتھ ہی ساتھ وہ رعایا کا سیاسی حکمراں بھی رہا اور یہی خیالات اس کی اسکیم کی تباہی کے باعث بنے، اس نے کوئی متحدہ قوم نہیں بنائی بلکہ اس کی اسکیم سے ایسے چند مکار مسلمان اور غلامانہ ذہنیت کے ہندو ضرور پیدا ہوئے جو اس کو خوش کرنے کے لئے اللہ اوپ نشد لکھا کرتے تھے
آگے چل کر کالکا رنجن نے ایک غیر جانبدار مؤرخ بن کر اور تمام جذبات سے خالی ہوکر جو کچھ لکھا ہے اس کو مسلمانوں کے ایک بڑے گروہ کے جذبات کی بھی ترجمانی سمجھنا چاہیے، وہ لکھتے ہیں۔
اکبر نے اسلام کے ساتھ نا انصافی کی، اس کو خوا مخواہ رسوا کیا جس کے لئے اس کی تاریخ اس کو معاف نہیں کرسکتی، اس نے جو کچھ کیا ریاست کے مفاد کے لئے نہیں بلکہ ایک وہم کو پورا کرنے کے لئے کیا، اس کی پالیسی کی وجہ سے ہندو اور مسلمان تخت کو اتحاد و اتفاق کا مرکز سمجھنے میں بالکل قاصر رہے، ہندو تو اس کی جانب مائل ہوئے لیکن مسلمانوں کی رغبت جاتی رہی، اکبر کا اسلام سے انحراف اس کی غیر معمولی ذہانت کا اچھا نمونہ تھا، اس کو اپنی نجی زندگی میں سچا مسلمان ہونا چاہئے تھا اگر وہ واقعی ہندو مسلمانوں کے تعلقات کی خوشگواری اور پائداری کا خواہاں تھا تو اسے اپنے ہم مذہبوں کو ہندوؤں کے جذبات کا احترام کرنا سکھانا چاہیے تھا لیکن اس کی تعمیل کسی جابرانہ حکم کے ذریعہ سے نہیں ہوسکتی تھی، اگر وہ خود اسلام کا سچا پیرو بن جاتا تو مسلمان اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے، اس میں مسلمانوں کو نیت کا اخلاص نظر نہیں آیا بلکہ اس کو اسلام کا غدا تصور کرنے لگے، اس کا رد عمل یہ ہوا کہ وہ اسلام کی فلاح اسی میں سمجھنے لگے کہ گائے کا گوشت کھائیں اور ہندوؤں کی ہر چیز سے نفرت کریں، یہیں سے ہندوستانی قومیت کا خاتمہ ہوگیا اگر اکبر کا جانشین دار ہوتا تو خاندان بابری ایک بار پھر در بدر کردیا جاتا، اکبر کے مرنے کے بعد اس کی پالیسی کا رد عمل بالآخر اورنگ زیب کی صورت میں ظاہر ہوا۔
دینِ الٰہی ہندو مسلمانوں میں جگہ نہ پا سکا اور یہ فطری موت مرگیا لیکن جہانگیر اور شاہ جہاں کے روادارانہ مصالحانہ رویہ سے ہندو مسلم کا پھر ایک ملا جلا معاشرہ خود بخود پیدا ہونے لگا تھا، ضرورت تھی کہ اس میں مزید سیاسی، معاشرتی، عمرانی اور اجتماعی رواداری سے اور بھی قوت نمو پیدا کی جاتی لیکن اکبری عہد کے تلخ تجربہ کے بعد دارا شکوہ نے ایک بار پھر ہندو مت اور اسلام کو ملا کر مذہب کا ایک نیا سنگم بنانے کی کوشش کی، جس سے راسخ العقیدہ مسلمان اس سے مشکوک اور بد ظن ہوکر اورنگ زیب کی طرف مائل ہوگئے اب اورنگ زیب مسلمانوں کا ہیرو بن گیا ہے جس کو ہندو مؤرخین کسی حال میں بھی اچھا حکمراں کہنے کو تیار نہیں ہیں اور وہ اس کو ہندووں کا بہت بڑا مخالف ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں، جس سے مسلمان اور مسلمان مورخین دونوں کو انکار ہے اور یہ ہندوستان کی بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ مسلمان جن کو اپنا ہیر سمجھتے ہیں اس کو ہندو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے اور ہندو جس کو اپنا ہیرو تصور کرتے ہیں اس کو مسلمان اچھا تسلیم کرنے کے لئے آمادہ نہیں۔
ہندو مسلمان کو ملے جلے مذہب کے ذریعہ سے ملانے کی ناکام کوشش تو برابر ہوتی رہی لیکن صحیح طور پر ایک دوسرے کو سمجھ کر سمجھانے کی باضابطہ کوشش نہیں ہوئی، البیرونی اور ابوالفضل نے ہندووں کے مذہب کا گہرا مطالعہ ضرور کیا لیکن ان کا رنگ تحقیقی اور علمی ہے اور پھر انہوں نے کچھ ایسی مشکل زبان میں قلمبند کیا ہے کہ عام طور سے لوگ ان کو سمجھ نہ سکے، اس طرح اسلام کی خوبیاں صحیح طور پر ہندووں تک نہیں پہنچیں، اس لئے دونوں ایک دوسرے کے لئے نازیبا اور نامناسب الفاظ استعمال کرتے رہے، ہندوؤں کو کافر سمجھ کر بعض مسلمانوں نے ان کے لئے جو خوشگوار الفاظ استعمال کئے، ان کا ذکر پہلے آچکا ہے، اسی طرح ہندو بھی مسلمانوں کو چنڈال اور ملیچھ جیسے الفاظ سے یاد کرنے میں خوش ہوتے اور ان کے جو جذبات مسلمانوں کے خلاف مرتب ہوتے رہے، ان کی ترجمانی موجودہ دور کے ایک بڑے مؤرخ آر، سی موزمدار کی حسب ذیل تحریر سے ہوگی۔
گیارہویں صدی کے شروع ربع میں ہندوستان کے لئے ایک بڑا المیہ پیش آیا اور یہ المیہ ایسا تھا جس سے مستقبل میں بڑے نتائج پیدا ہوئے، اس سے نہ صرف ہندوستان کی دولت اور انسانی قوت جاتی رہی، بلکہ مسلمانوں کو پنجاب میں مستقل طریقہ سے پاؤں جمانے کا ایک موقع مل گیا، جہاں سے ان کو اندرونِ ملک کے لئے ایک شاہراہ مل گئی۔۔۔ کچھ ہندو راجاؤں نے سملمانوں کو شکست دی اور ان کی جارحانہ معرکہ آرائیوں کو روکا، ان ہی راجاؤں میں سے ایک نے یہ بھی دعوٰ کیا ہے کہ اس نے ملیچھوں (مسلمانو) کو نکال باہر کیا ہے، تاکہ آریہ درت کا نام پورا پورا اس پر صادق ہو اور یہ آریاؤں کا مسکن رہے لیکن اس قسم کے قومی شعور کی مثالیں کم ملتی ہیں، اسی لئے یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ ڈینگ ہانکنے کے بجائے ہندو راجاؤں نے اس کی مل کر کوشش نہیں کہ وہ ترک فاتحوں کو ہندوستگان سے باہر نکال کر اپنے گوشت سے کانٹا بھی نکال پھینکتے، بہت سے مواقع آئے جب کہ یہ کام آسانی سے ہوسکتا تھا۔۔۔ لیکن طاقور ہندوستانی راجاؤں نے ڈیڑھ صدی تک ایسے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اپنے ہمسایہ راجاؤں کو نقصان پہنچا کر اپنی حکومت کے دائرہ کی توسیع کی فکر میں لگے رہے اور انہوں نے اس قومی فریضہ کو انجام دینے کی طرف مل کر پوری توجہ نہیں کی کہ ایک غیر ملکی مذہب کے بیرونی لوگوں کی غلامی سے پنجاب کو آزاد کراتے۔۔۔ (ہسٹری اینڈ کلچر آف انڈین پیوپل جلد پنجم، تمہید از ڈاکٹر آر، سی موجمدار )
اور پھر آر، سی موزمدار یہ بھی لکھ گئے ہیں کہ اسلام کے پیغمبر بہت ہی غیر روا دار تھے، وہ اپنے زمانہ کے کسی مذہب کو روا نہیں رکھتے تھے (ہسٹری آف انڈین پیوپل اینڈ کلچر جلد 3 صفحہ 450)
اور عام ہندو مؤرخین اس کو ثابت کرنے میں پیش پیش ہیں کہ اسلام کی اسپرٹ جنگجویانہ اور جنگ پسندانہ ہے، اسی لئے کے ۔ایم منشی کی نگرانی میں جو ہسٹری اینڈ کلچرآف دی انڈین پیوپل لکھی جارہی ہے، اس میں انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسلمان فاتحین اور سلاطین نے اپنی وحشی فوجوں کے ذریعہ گاؤں جلائے غات گری کی، لوگوں کی دولت لوٹی برہمنوں، بچوں اور عورتوں کو قیدی بنایا، ان کو تسموں اور کچے چمڑے کے کوڑوں سے پٹوایا، قتل عام کرایا اور شامندار مندوں کو منہدم کرکے ان کو جلا دیا، عورتوں کی بے حرمتی کی، بازاروں میں کنیز بنا کر فروخت کیا، وہ اپنے ساتھ ایک سفری قید خانہ لئے پھرتے تھے اور ان قیدیوں کو پھر زبردستی مسلمان بنا لیتے تھے۔
یہ تحریریں 1954 عیسوی اور 1957 عیسوی کی ہیں، جس کے معنی یہ ہیں کہ سن 1947 عیسوی کے پہلے جو انصاف پسند ہندو مؤرخین کی تحقیقات ہیں، ان کو بالکل نظر انداز کردیا گیا ہے اور اب ہندوستان میں مسلمان حکمرانوں کی تاریخ کو ایک نئے انداز اور نئے رنگ میں پیش کئے جانے کی نئی کوشش ہورہی ہے جو کسی حال میں بھی ملکی مفاد کے لیے مناسب نہیں۔
ہندو مسلمانوں میں جو اہم آہنگی نہ ہوسکی، اس کی بڑی وجہ ابوالفضل کے الفاظ میں یہ بیان کی جاسکتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی زبان سے ناواقف اور نا آشنا ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے خیالات سے لاعلم رہے اور اس لا علمی نے دشمنی اور مخالفت کا سنگِ بنیاد رکھا، جامد تقلید کی وجہ سے عقل و دانش کی شمع گل ہوگئی اور تحقیقات کی تمام راہں مسدود ہوگئیں اور مسائل کی تحقیق پر رد وقدح کرنا گناہ اور کفر میں داخل ہوگیا ہے اور مہرومحبت کے ساتھ معتقدات پر تبالۂ خیالات کرنا اور اغیار کے چوں و چرا کو حق شناسی کی ترازو میں تول کر صحیح نتیجہ پر پہنچ کر ہدایت حاصل کرنا بالکل مفقود ہوگیا، اسی لئے ہر شخص صرف اپنی جماعت کو مخلوقِ خدا سمجھنے لگا اور اغیار کو خالقِ مطلق کے دائرۂ بندگی سے خارج کرکے خوں ریزی اور آبرو ریزی، مردم آزادی ہی کو مذہبی فرائض میں داخل کرلیا اور انہیں تباہ کن افعال کو سرخروئی دارین کا وسیلہ سمجھتا رہا، ابوالفضل اپنے عقائد کے لحاظ سے بدنام ہے لیکن اس کے یہ خیالات غورِ طلب ضرور ہیں۔
اور اب بھی ہندووں اور مسلمانوں دونوں میں ایسے لوگوں کی اکثریت ہے جو ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے لیکن وقتاً فوقتاً ایسے اہلِ دل بھی گذرتے رہے ہیں جنہوں نے اپنے اپنے عقائد میں راسخ ہونے کے ساتھ ساتھ ہندو مسلمانوں دونوں کو ایک دوسرے کا احترام کا درس دیا، ان میں سے امیرخسرو کے بعد نمایاں نام مرزا مظہر جان جاناں (المتوفیٰ 1195ھ) کا ہے، پہلے ذکر آیا ہے کہ ان کے نزدیک ہندوؤں کی بت پرستی اسلام سے پہلے کے عربوں کی بت پرستی سے مختلف ہے پھر راسخ العقیدہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے شریعت اسلام ہی کو قابلِ تقلید اور بقیہ تمام شریعتوں کو منسوخ سمجھتے رہے لیکن ہندووں کے اوتاروں کے احترام کرنے کی یہ کہہ کر پوری تلقین کی ہے کہ گذرے ہوئے لوگوں پر بغیر اس کے کہ شرع سے کفر تا بت ہوکر کفر کا حکم لگانا جائز نہیں مقامات مظہری میں ہے کہ ایک روز مرزا صاحب کے سامنے کسی خواب کا ذکر آیا کہ ایک صحرا ہے جس میں آگ جل رہی ہے اور کرشن اس آگ میں ہیں اور رام چندر کنارے پر کھڑے ہیں، مرزا صاحب نے اس خواب کی تعبیر یہ بیان کی کہ صحرا کی آگ عشق و محبت کی حرارت ہے، کرشن کی زندگی عشق و محبت کی زندگی تھی، اس لئے آگ کے اندر دکھائی دیے اور رام کی زندگی تیاگ و ایثار کی زندگی تھی، اس لئے راہ سلوک میں کنارے کھڑے نظر آئے پھر فرمایا کہ قرآن شریف میں ہے کہ واِن من قَریۃٍ اِلّاَ خلا فیھا نذیر، اس سے ظاہر ہے کہ ہندوؤں میں کوئی بشیر و نذیر ضرور آیا ہوگا اور ممکن ہے کہ رام چندر اور کرشن ہی نبی رہے ہوں، رام چندر ابتدائی عہد میں دنیا میں بھیجے گئے جبکہ لوگوں کی عمریں دراز اور طاقت و توانائی زیادہ ہوتی تھی، اس لئے انہوں نے لوگوں کی تربیت سلوک کے طریقہ کے مطابق کی، کرشن اس وقت دنیا میں آئے جب عمرِ کوتاہ اور قوت ضعیف ہوچکی تھی، اس لئے انہوں نے اپنے زمانہ کے لوگوں کی تربیت جذب کے مطابق کی، ان کی موسیقی اور بانسری ان کے جذومستی کا ثبوت ہیں، مرزا صاحب وید کو الہامی کتاب مانتے تھے اسی لئے ہندوؤں کو اہلِ کتاب سمجھتے رہے۔
ہندوؤں میں بھی اہلِ دل ایسے رہے جو اسی قسم کی تعلیم دیتے رہے، مثلاً درگا واس نے اپنی کتاب مخزن الاخلاق میں لکھا ہے کہ انسان کو لازم ہے کہ اپنے دل کو کدورت کے زنگ سے صاف کر کے ہر مذہب اور ملت کے لوگوں کے ساتھ برادرانہ سلوک رکھے، مخالفت کے خار زار سے اپنے آپ کو علٰحدہ کر کے اتفاق کے بوستانِ جنت نشان میں قیام کرے۔
آسایش دو گیتی تفسیر ایں دو حرف است
با دوستاں تلطف با دشمناں مدارا
وہ جب کسی مذہب کی عبادت گاہ میں پہنچے تو اس کی عزت و احترام کرے اور جب کسی مذہب کے بزرگوں کی خدمت میں حاضر ہو تو ان کی پوری تعظیم وتکریم کرے، دینی معاملات میں کسی سے نہ الجھے اور ان بے کار جھگڑوں سے یگانگی کے تعلقات میں بیگانگی پیدا نہ ہونے دے لیکن یہ لکھتے ہوئے دکھ ہوتا ہے کہ ایسی آوازیں ہندوستان کے باشندوں کے کانوں تک تو ضرور پہنچیں لیکن وہ زیادہ اثر انداز نہ ہوسکیں، ورنہ ظاہر ہے کہ کئی ہزار میل سے انگریز جیسی اجنبی قوم ہندوستان میں داخل ہوکر نہ چھا جاتی۔
تنبیہ :- حضرات! یہ مقالہ زیادہ طویل ہوگیا، اس میں اصل موضوع سے ہٹ کر بھی کچھ باتیں قلم سے بے اختیاررانہ طور پر نکل آئی ہیں جس کے لئے معذرت خواہ ہوں لیکن دکھانا یہ مقصود تھا کہ مسلمانوں کی حکومت کے زمانہ میں ان کی سیاسی، مذہبی اور روحانی طاقتوں کی نشو نما سلاطین، علما اور صوفیہ کے ذریعہ سے ضرور ہوئی لیکن پھر ان تینوں گروہوں میں جتنی ہم آہنگی ہونی چاہیے تھی وہ نہ ہوسکی، ضرورت اس کی تھی کہ سلاطین، علما کی مذہبی حمیت اور ایمانی حرارت سے پورا فائدہ اٹھاتے اور علما سلاطین پر تنقید کے ساتھ ساتھ ان کے سیاسی اقتدار کا بہتر سے بہتر مصرف لے کر مسلمانوں کی مذہبی غیرت کا صحیح امالہ کرتے رہتے، اسی طرح اکابر صوفیہ سے وہ تعاون کرتے کیونکہ مسلمانوں میں روحانی قوتیں ان ہی سے پیداہوتی رہیں، ان سے سلاطین اور علما دونوں کو پورا فائدہ اٹھانا چاہیے تھا، اس ہم آہنگی سے عام مسلمانوں کا ایک صالح، پائدار اور جاندار معاشرہ لازمی طورپر تیار ہوجاتا جس سے اچھے سلاطین، اچھے امرا، اچھے علما اور اچھے صوفیہ بھی پیدا ہوتے رہتے جو عام سیاست اور معاشرت کے نگہبان بن کر اس کو زوال سے بچائے رکھتے، یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مغلوں کے آکری دورِ حکومت میں عام مسلمانوں کی مذہبی، اخلاقی اور روحانی زندگی بھی کھوکھلی ہوچکی تھی، ورنہ وہ خود سیاست کو سنبھال کر اس کو ایک غیر قوم کے اسقیلا محفوظ رکھ سکتے تھے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ اپنے پورے دورِ حکومت میں ایک ذہنی بحران میں مبتلا رہے، ان کا دماغ سلاطین کی طرف رہا کیونکہ ان ہی کے ذریعہ ان کو دنیا ملتی تھی لیکن جن کے ذریعہ ان کو دین ملتا، وہ ان سلاطین کی حکومت کو فکری طور پر غیر اسلامی سمجھتے اور پھر جن سے مسلمانوں کی روح کی جلا ہوتی، وہ یعنی صوفیہ ان دونوں سے الگ ہوتے چلے گئے، ان نظری اختلافات سے مسلمان ذہنی کشمکش میں مبتلا رہے، وہ کبھی اپنے جان و مال کے نگہبان، کبھی اپنے ایمان کے پاسبان اور کبھی اپنی روح کے محافظ کو تاکتے اور زبانِ حال سے ان تینوں میں ہمنوائی اور باہمی تعاون کے خواہاں ہوتے لیکن کوئی تھریک اور کوئی قوت ایسی پیدا نہیں ہوئی جو ان میں ٹھوس اور مستحکم بنیاد پر یگانگت پیدا کردیتی۔
اسی لئے مسلمان کبھی بادشاہ کے ساتھ ہوجاتے کبھی علما کے سایۂ عاطفت میں پناہ لیتے اور کبھی صوفیہ کا دامن تھامتے اسی ذہنی بحران کی وجہ سے ان میں اجتماعی مقصدیت اور مرکزیت نہ پیدا ہوسکی، وہ برسرِ اقتدار اسی وقت تک رہے جب تک ان کے حکمرانوں کی قوت برقرار رہی اور جب یہ قوت کمزور ہوگئی تو انہوں نے خود محسوس کیا کہ ان کے قواے عمل شل ہوکر رہ گئے ہیں اور ان میں وہ کردار، بلند اخلاق اور اعلیٰ فکر و عمل نہیں رہے جن کی مدد سے حکمراں کے نا اہل ہونے کے باوجود حکومت کو برقرار رکھ سکیں اور ایک بہت ہی شاندار حکومت ختم ہوکر رہ گئی، اکبر کے زمانہ میں یہی حکومت اپنے زمانہ میں دنیا کی طاقتور ترین حکومت سمجھی جاتی تھی، اورنگ زیب کے ناقد جدوناتھ سرکار کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑا ہے کہ اس کے عہد میں مغلوں کی سلطنت کا رقبہ سب سے زیادہ تھا اور ہندوستان کی پوری تاریخ میں یہاں برطانوی حوکت سے پہلے کبھی اتنی بڑی سلطنت قائم نہ ہوئی تھی، غزنی سے چاٹگام اور کشمیر سے کرناٹک تک کا پورا علاقہ ایک ہی تاج وتخت کے ماتحت تھا اور پھر دوردراز علاقوں میں لداخ اور ملابار میں بھی منبروں پر اسی بادشاہ کے نام کا خطبہ پڑھا جاتا تھا لیکن یہ سلطنت مسلمانوں کے ہاتھ سے جاتی رہی، اس کے زوال کا الزام اورنگ زیب کے بعد کے ناکارہ حکمرانوں پر آتا ہے کہ انہوں نے جانشینی کی خونریز لڑائی لڑ کر حکومت کو نقصان پہنچایا، نفاق پرور، مفاد پرست اور راحت پسند امرا کو دربار میں جمع کر کے اس کو سازشوں اور ریشہ دانیوں کا مرکز بنادیا، طریقۂ جنگ میں جو ترقی ہوتی رہی اس سے وہ بالکل بے خبر رہے اور شمشیر و سنان کو چھوڑ کر طاؤس و رباب میں پڑگئے وغیرہ لیکن اس زوال کی ذمہ داری علما صلحا اور صوفیہ پر بھی عائد ہوتی ہے، وہ اچھی معاشرت بناتے رہتے تو حکومت بھی اچھی رہتی مگر علما اچھی معاشرت بنانے کی جدوجہد کے بجائے زیادہ تر جزوی اختلافات میں مبتلا رہے، حرام و حلال کے مسائل میں وہ ایسے الجھے کہ عام لوگوں کو دین میں صرف خشکی ہی خشکی نظر آتی اور وہ اس کے دائرہ میں آسانیاں کم اور دشواریاں زیادہ پاکر اپنی زندگی کو تنگ محسوس کرنے پر مجبور ہوگئے، علما نے مذہب اور شریعت کی گہرائیوں کو سمجھ کر غور وفکر سے کم کام لیا، انہوں نے معاملات اور اعمالِ حسنہ پر کم اور عقائد و عبادات پر زیادہ زور دیا، ان کی درسگاہوں میں تعلیمی نصاب بھی ضرورت زمانہ کا لحاظ کئے بغیر بالکل جامد رہا، اسی لئے وہ زیادہ وہ ترحواشی اور تعلیقات ہی لکھنے میں مشغول رہے اور صرف، بحو، معانی اور یونانیوں کے علوم میں کچھ ایسے ڈوبے کہ احیائے دین اور تجدید یقین کے لئے جس اجتہاد کی ضرورت تھی، اس کو اجتماعی طور سے عمل میں لانے کی کبھی کوشش نہیں کی، وہ سلاطین کی حکومت سے بدظن ہوکر خلاف راشدہ کے طرز حکومت خواہاں تو ضرورت رہے لیکن اس طرز حکومت کے لئے خلافت راشدہ کی معاشرت بھی پیدا کرنے کی ضرورت تھی، جو علما و صلحا کے ذریعہ ہی بن سکتی تھی لیکن وہ صرف محراب و منبر کی زینت اور درس و تدریس کی مسند پر متمکن رہنے ہی پر اکتفا کرتے رہے اور ان کی نظر سلاطین کی طرف اٹھی رہی کہ وہ اچھی حکومت کے ساتھ اچھی معاشرت بھی بنائیں لیکن سلاطین کے ذریعہ صالح معاشرت کا بننا ممکن نہ تھا، وہ معاشرت میں حسن عجم تو پیدا کرسکتے تھے لیکن سوز درونِ عرب، علما اور صلحا ہی کی وساطت سے پیدا ہوسکتا تھا، مسلمانوں میں خلافت راشدہ کے عہد کا اتباع سنت اور زہد و تقویٰ کے ساتھ اخلاف کی بلندی، کردار کی پاکیزگی، خلق اللہ کی خدمت گزاری، مخالفین کے ساتھ حسنِ سلوک، مصیبت کے وقت صبر و تحمل، معاملات میں دیانت و صفائی کا پیدا کرنا، علما ہی کے بس کا تھا، منبر پر بیٹھ کر وہ ان باتوں کی تلقین تو کرتے رہتے لیکن ان کی دعوت میں عزیمت نہیں تھی، اسی لئے وہ مسلمانوں میں وہ سوز و مستی اور جذب و شوق پیدا نہ کرسکے جن سے وہ صحیح معنوں میں مومن بن کر صاحبِ لالک ہوتے اور حکومت کو برائیوں سے بچا کر اس کے نگہبان و پاسبان بھی بنے رہتے، شروع میں صوفیا کے کرام نے ابھی معاشرت ضرور بنائی لیکن آخر میں وہ بھی غیر موثر ہو گئے تھے۔
قم باذنِ اللہ کہہ سکتے تھے جو رخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن
(اقبال)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.