رنگینیوں کا جلوۂ عریاں بسنت ہے
نظارۂ بہار بداماں بسنت ہے
روشن ہے شاخ شاخ شجر پر چراغ گل
صحن چمن میں جشن چراغاں بسنت ہے
افسردہ دل بھی جلوۂ گل سےہے باغ باغ
دل بستگی کا دہر کی ساماں بسنت ہے
کیف آفریں ہے جنبش موج نسیم صبح
میخانۂ بہار گلستاں بسنت ہے
غرقاب جس کی رو میں ہوئی کشتی خزاں
امواج رنگ و بو کا وہ طوفاں بسنت ہے
نقشہ جما رہی ہے چمن میں بہار کا
فصل خزاں سے دست و گریباں بسنت ہے
سرسوں کے کھیت کیوں نہ بنیں کشت زعفراں
جوش نمو کا حسن نمایاں بسنت ہے
کندن سا رنگ اور بسنتی یہ ساڑھیاں
وجہ فروغ حسن حسنیاں بسنت ہے
برق اور فصل گل میں بھڑکتے ہیں داغ دل
میرے لئے تو باعث حرماں بسنت ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.