Font by Mehr Nastaliq Web

رنگینیوں کا جلوۂ عریاں بسنت ہے

برق دہلوی

رنگینیوں کا جلوۂ عریاں بسنت ہے

برق دہلوی

MORE BYبرق دہلوی

    رنگینیوں کا جلوۂ عریاں بسنت ہے

    نظارۂ بہار بداماں بسنت ہے

    روشن ہے شاخ شاخ شجر پر چراغ گل

    صحن چمن میں جشن چراغاں بسنت ہے

    افسردہ دل بھی جلوۂ گل سےہے باغ باغ

    دل بستگی کا دہر کی ساماں بسنت ہے

    کیف آفریں ہے جنبش موج نسیم صبح

    میخانۂ بہار گلستاں بسنت ہے

    غرقاب جس کی رو میں ہوئی کشتی خزاں

    امواج رنگ و بو کا وہ طوفاں بسنت ہے

    نقشہ جما رہی ہے چمن میں بہار کا

    فصل خزاں سے دست و گریباں بسنت ہے

    سرسوں کے کھیت کیوں نہ بنیں کشت زعفراں

    جوش نمو کا حسن نمایاں بسنت ہے

    کندن سا رنگ اور بسنتی یہ ساڑھیاں

    وجہ فروغ حسن حسنیاں بسنت ہے

    برق اور فصل گل میں بھڑکتے ہیں داغ دل

    میرے لئے تو باعث حرماں بسنت ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے