یاں بھی جو بعد_سال کبھی آئے ہے بسنت
یاں بھی جو بعد سال کبھی آئے ہے بسنت
جلوے ہزار رنگ کے دکھلائے ہے بسنت
دیوانہ پن میں کس کو خبر ہے بسنت کی
معلوم ہی ہمیں نہیں کیا گائے ہے بسنت
چہرہ نقیہ کس کا یہ اس کو نظر پڑا
جو اپنے رنگ زرد سے شرمائے ہے بسنت
بے برگ ہیں ہم اتنے کہ ایسی بہار میں
سرسوں کے پھول تک ہمیں ترسائے ہے بسنت
تربت ہرے بھرے کی ہر اک کشتے کی ہے قبر
مینا سی سطح خاک سے لپوائے ہے بسنت
سرسبز کیوں نہ ہووے کہ گیہوں کی بال رکھ
گڑوا ہزار گل کا بنا لائے ہے بسنت
اے مصحفیؔ بہار کا کیا یاں کی اعتبار
بس آنکھ ملتے خاک میں مل جائے ہے بسنت
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.