Font by Mehr Nastaliq Web

یاں بھی جو بعد_سال کبھی آئے ہے بسنت

غلام ہمدانی مصحفی

یاں بھی جو بعد_سال کبھی آئے ہے بسنت

غلام ہمدانی مصحفی

MORE BYغلام ہمدانی مصحفی

    یاں بھی جو بعد سال کبھی آئے ہے بسنت

    جلوے ہزار رنگ کے دکھلائے ہے بسنت

    دیوانہ پن میں کس کو خبر ہے بسنت کی

    معلوم ہی ہمیں نہیں کیا گائے ہے بسنت

    چہرہ نقیہ کس کا یہ اس کو نظر پڑا

    جو اپنے رنگ زرد سے شرمائے ہے بسنت

    بے برگ ہیں ہم اتنے کہ ایسی بہار میں

    سرسوں کے پھول تک ہمیں ترسائے ہے بسنت

    تربت ہرے بھرے کی ہر اک کشتے کی ہے قبر

    مینا سی سطح خاک سے لپوائے ہے بسنت

    سرسبز کیوں نہ ہووے کہ گیہوں کی بال رکھ

    گڑوا ہزار گل کا بنا لائے ہے بسنت

    اے مصحفیؔ بہار کا کیا یاں کی اعتبار

    بس آنکھ ملتے خاک میں مل جائے ہے بسنت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے