مل کر صنم سے اپنے ہنگام_دل_کشائی
مل کر صنم سے اپنے ہنگام دل کشائی
ہنس کر کہا یہ ہم نے اے جاں بسنت آئی
سنتے ہی اس پری نے گل گل شگفتہ ہو کر
پوشاک زر فشانی اپنی وہیں رنگائی
جب رنگ کے آئی اس کی پوشاک پر نزاکت
سرسوں کی شاخ پر گل پھر جلد اک منگائی
ایک پنکھڑی اٹھا کر نازک سی انگلیوں میں
رنگت پھر اس کی اپنی پوشاک سے ملائی
جس دم کیا مقابل کسوت سے اپنے اس کو
دیکھا تو اس کی رنگت اس پر ہوئی سواے
پھر تو بصد مسرت اور سو نزاکتوں سے
نازک بدن پر اپنے پوشاک وہ کھپائی
چمپے کا عطر مل کر موتی سے پھر خوشی ہو
سیمیں کلائیوں میں ڈالے کڑے طلائی
بن ٹھن کے اس طرح سے پھر راہ لی چمن کی
دیکھی بہار گلشن بہر طرب فضائی
جس جس روش کے اوپر جاکر ہوا نمایاں
کس کس روش سے اپنی آن و ادا دکھائی
کیا کیا بیاں ہو جیسے چمکی چمن چمن میں
وہ زرد پوشی اس کی وہ طرز دل ربائی
صد برگ نے صفت کی نرگس نے بے تأمل
لکھنے کو وصف اُس کا اپنی قلم اٹھائی
پھر صحن میں چمن کے آیا بہ حسن خوبی
اور طرفہ تر بسنتی اک انجمن بنائی
اس انجمن میں بیٹھا جب ناز و تمکنت سے
گلدستہ اُس کے آگے ہنس ہنس بسنت لائی
کی مطربوں نے خوش خوش آغاز نغمہ سازی
ساقی نے جام زریں بھر بھر کے مے پلائی
دیکھ اس کو اور محفل اس کی نظیرؔ ہر دم
کیا کیا بسنت آکر اس وقت جگمگائی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.