Font by Mehr Nastaliq Web

بجنور کے شاعر اور ادیب

کل: 12

بجنور کے خوش فکر شاعر

نغمۂ کبریٰ، نغمۂ روحی اور گلدستۂ اثاثۂ سرمدی کے مصنف

ترقی پسند فکر کے ممتاز شاعر تھے، سماجی ناانصافی، طبقاتی استحصال اور محنت کش طبقے کے مسائل ان کی شاعری کا مرکزی موضوع رہے، جبکہ سنجیدہ اور طنزیہ دونوں اسالیب میں انہوں نے اپنی منفرد شناخت قائم کی۔

ممتاز شاعر، ادیب، مترجم، نقاد اور روحانی شخصیت تھے۔

اردو کے ممتاز غزل گو اور نعت گو شاعر تھے، اظہار حسین خاں رامپوری سے اصلاحِ سخن حاصل کی اور 1940ء سے شعر گوئی کا آغاز کیا، ان کا پہلا شعری مجموعہ "اوراقِ گل" 1986ء میں شائع ہوا جبکہ ان کی نعتیہ شاعری عشقِ رسول اور حسنِ بیان کے باعث خاص شہرت رکھتی ہے۔

سیتاپور کے کائستھ شاعر تھے، جگر بسوانی کے شاگرد اور شباب کاکوروی سے اصلاح یافتہ، جن کا متنوع شعری سرمایہ نعت، غزل، رباعی، قطعہ اور نظم پر مشتمل تھا۔

اردو کے صاحبِ علم شاعر تھے، نعت گوئی ان کی نمایاں شناخت تھی اور ان کے بیشتر کلام میں عشقِ رسول، تصوف اور روحانی مضامین جلوہ گر ہوتے ہیں۔

بولیے