Font by Mehr Nastaliq Web

چلو چڑھانے چلیں سکھی ری کسی کے روح_رواں کی چادر

امیر بخش صابری

چلو چڑھانے چلیں سکھی ری کسی کے روح_رواں کی چادر

امیر بخش صابری

MORE BYامیر بخش صابری

    چلو چڑھانے چلیں سکھی ری کسی کے روح رواں کی چادر

    ادب سے قدسی کھڑے ہیں جس جا یہ ہے اسی آستاں کی چادر

    جو مانگو حق سے دلا رہی ہے جہاں کی بگڑی بنا رہی ہے

    تمام عالم پہ چھا رہی ہے یہ ان کے فیض رساں کی چادر

    مچی ہے چادر کی دھوم ایسی تمام دنیا پکار اٹھی

    سجی ہے ایسی بنی ہے ایسی عرب کے اس مہرباں کی چادر

    بھرا ہے سوز و گداز اس میں ہے لطف بندہ نواز اس میں

    ہے میری دنیا کا راز اس میں یہ ہے میرے رازداں کی چادر

    شراب وحدت چھلک رہی ہے جو جام خالی ہیں ابھر رہی ہے

    کہ بن پیے مست کر رہی ہے یہ میرے پیر مغاں کی چادر

    بھلا یہ پایہ ہے کس نے پایا کہ جھوم کر عرشیوں نے گایا

    خدا کے لطف و کرم کا سایا ہے صابری آستاں کی چادر

    سب مست مستی میں جھومتے ہیں ارد گرد روضے کے گھومتے ہیں

    لگا کے آنکھوں سے چومتے ہیں مکین کون و مکاں کی چادر

    مرادیں پاتے ہیں پانے والے ادب سے سر کو جھکانے والے

    تو بھی منا لے مانے والے یہ ہے تیرے امتحاں کی چادر

    پکڑ لے دامن مچل جا ایسا تو آرزوؤں کا بھر لے کاسہ

    امیرؔ صابر پیا کا صدقہ ہے رحمت دو جہاں کی چادر

    مأخذ :
    • کتاب : کلام امیر صابری (Pg. 39)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے