Sufinama

مثنوی عالم پناہ

عاجز

مثنوی عالم پناہ

عاجز

MORE BYعاجز

    کہوں گا میں قصہ سنو سب ایتا

    کہوں گا مفصل کہانی جتا

    اتھا بادشاہ ایک جانی ککر

    اسی ٹھار رہنے یمن کا نگر

    اتھا بادشاہ و بڑا نامدار

    جلو میں چلے اس کو کئی تاجدار

    اتھی فوز حشمت سو کئی لکھ ہزار

    خزانیاں کو اس کے نہیں کچھ شمار

    نہ اس کا ملک کوئی غنیم لے سکے

    نہ دولت کا اس کی گنت لے سکے

    وزیراں اتھے شاہ کے نامدار

    و ہر ایک ملک کے دسے تاجدار

    وزیراں میں یک تھا و نامی ککر

    کہے شاہ اس کو ایمانی ککر

    و سارے وزیراں میں نامی وزیر

    کے فرمان میں اس کے تھے کئی لکھ امیر

    امیراں وزیراں ہزاراں ہزار

    بیٹھے رو بہ رو سب قطاراں قطار

    سو وہ بادشاہ شاہ علی جناب

    سخاوت عبادت میں رہتا و آپ

    سخاوت سوں فرصت نہ تھی ات رتی

    کرے دان گھوڑے و کئی لکھ ہتی

    کتا ملک اور مال تصرف کرے

    کرم کی نظر و جہاں پر دھرے

    سپاہی کوں پالے اپس جان سوں

    کے غرباں کوں پالے بڑے مان سوں

    برے کام پر شاہ جاتا نہ تھا

    کسی کے جگر کو ستاتا نہ تھا

    سخاوت میں ایسا اتھا نامدار

    کے حاتم سے تھا و سرس تاجدار

    عدالت میں نوشیرواں کام کا

    و ہر وقت میں نیک کے کام کا

    سپاہی گری میں دلاور و شاہ

    کے رستم رہے رو بہ رو گمراہ

    کہاں لگ ثنا شاہ کی میں کہوں

    ہر ایک صفت میں اس کے کم ہو رہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY