Font by Mehr Nastaliq Web

پٹنہ کے شاعر اور ادیب

کل: 193

معروف افسانہ نگار اور ناول نویس، ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کے تناظر میں کہانیاں اور ناول لکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں

حضرت شاہ احمدی پھلواروی کے صاحبزادے

پھلواری شریف کے صوفی شاعر

’’تذکرہ شعرائے گیا‘‘ کے مصنف

شاہ اکبر داناپوری کے ناتی اور خانقاہ منعمیہ ابوالعلائیہ، رام ساگر گیا کے پیرزادے جو عہد جوانی میں انتقال کر گئے

خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف کے چشم و چراغ

فارسی اور اردو کے معروف شاعر اور ’’تاریخِ کملا‘‘ کے مصنف

خانقاہ بلخیہ فردوسیہ، فتوحہ کے سجادہ نشیں کے صاحبزادے

پیر مجیب اللہ کے نبیرہ اور شاہ نعمت اللہ قاری کے چوتھے صاحبزادے

خانقاہ جنیدیہ، پھلواری شریف کے سجادہ نشیں

بہار شریف کا ایک نمائندہ شاعر

مارہرہ کے ایک خوش حال صوفی، علم و ادب کی فضاؤں سے معمور اور رشد و ہدایت میں مشہور۔

خانقاہ فیاضیہ، سملی، نورالدین گنج، پٹنہ کے سجادہ نشیں

عظیم آباد کے نوجوان شاعر اور تصوف سے وابستہ

مشہور کتاب کیفیت العارفین اور کنزالانساب کے مصنف اور رام ساگر گیا کے مشہور صوفی

بہار کے نامور محقق، ادیب و شاعر

بہار کے نامور محقق اور ممتاز ادیب و شاعر

نور نوحی کے صاحبزادے

’’حقیقت بھی کہانی بھی‘‘ کے مصنف

خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف کے سجادہ نشیں اور بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ کے پہلے امیر شریعت

اردو ادب کا ایک شاعر

فارسی زبان کے مشہور صوفی شاعر

شاد عظیم آبادی کے ممتاز شاگرد

اردو کے ممتاز انقلابی شاعر اور مجاہدِ آزادی تھے، جنہوں نے شہرۂ آفاق نظم "سرفروشی کی تمنا" تخلیق کر کے تحریکِ آزادی کو ولولۂ تازہ بخشا اور اردو شاعری میں حب الوطنی، حریتِ فکر اور انقلابی جذبے کی روشن مثال قائم کی۔

ادارۂ شرعیہ، پٹنہ کے قاضی شریعت

خانقاہ بلخیہ فردوسیہ، فتوحہ کے سجادہ نشیں

خانقاہ منعمیہ قمریہ، میتن گھاٹ، پٹنہ سیٹی کے معروف سجادہ نشیں

پٹنہ سیٹی کا ایک گم شدہ شاعر

پٹنہ کے نامور رئیس اور عالم باعمل

برصغیر کے ممتاز صوفی شاعر، عالم، طبیب اور ماہرِ منطق تھے جنہوں نے علم، ادب اور تصوف میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔

خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف کے سجادہ نشیں اور بہار کے ممتاز فارسی گو شاعر

خانقاہ عمادیہ قلندریہ، منگل تالاب کے سجادہ نشین

شاد عظیم آبادی کے استادِ محترم

جید عالمِ دین تھے جنہوں نے حدیث و علومِ اسلامیہ کی تحصیل و اشاعت میں اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔

حاجی وارث علی شاہ کے مرید، معروف مصنف اور اکبر الہ آبادی کے قریبی دوست

حسرت موہانی کے صحبت یافتہ شاعر

بہار میں اردو کے صوفی شاعر کی حیثیت سے ممتاز

بولیے