رنگ دو رنگ دو چندریا ہماری
رنگ دو رنگ دو چندریا ہماری
دیکھو حالت سانوریا ہماری
سب عمر اپنی ہم نے تو یوں ہی تباہ کی
اب سر پہ لے کے جاتے ہیں گٹھریا گناہ کی
ہائے بیتی عمریا ہماری
محتاج ہیں غریب ہیں بیکس ہیں اے حضور
کب تک رہیں ہم آپ کے قدموں سے دور دور
کبھی لیجو کھبریا ہماری
جس ڈھنگ سے ہو یار سے ملنا ہی خوب ہے
اس غم کدے میں رہنے سے چلنا ہے خوب ہے
چھانڈو چھانڈو ڈگریا ہماری
امید دل زار کی بر آئے خدایا
تنہائی میں وہ بت کہیں مل جائے خدایا
آؤ آؤ نگریا ہماری
اے حلمؔ مجھ کو لوگ سمجھتے ہیں اور کچھ
صورت میں اور کچھ ہوں پہ معنی میں اور کچھ
کون جانے کھدریا ہماری
- کتاب : پیت کی ریت (Pg. 81)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.