Font by Mehr Nastaliq Web

ہلاکِ آرزو محروم دیدِ فصل گلشن تھا

عابد اکبرآبادی

ہلاکِ آرزو محروم دیدِ فصل گلشن تھا

عابد اکبرآبادی

MORE BYعابد اکبرآبادی

    ہلاکِ آرزو محروم دیدِ فصل گلشن تھا

    مرا مدفن نہ تھا دنیا کے ارمانوں کا مدفن تھا

    میرے افسانۂ الفت کا ہے آغاز اس دن سے

    نگاہِ دہر میں جب نامکمل حسنِ گلشن تھا

    یہاں پر موت آئی تو وہاں پر فصل گل آئی

    مرا انجام افسانہ بھی کیا آغاز گلشن تھا

    نہ پوچھو بزم جاناں کی تجلیات کا عالم

    کہ ہر منظر جہاں جلوہ طرازِ برق ایمن تھا

    قفس میں آکے ایک کونہ تو جن کو مل گیا اے شمسؔ

    چمن میں جب میں رہتا تھا تو محتاج نشیمن تھا

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 497)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے