Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے

پیر نصیرالدین نصیرؔ

آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے

پیر نصیرالدین نصیرؔ

آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے

بادۂ ناب کے ساقی مجھے پیمانے دے

کس کو معلوم کہ کل کون رہے گا زندہ

آج رندوں کو ذرا پی کے بہک جانے دے

دیکھ اے دل نہ آنچ آئے وفا پر کوئی

جو بھی آتی ہے مصیبت میرے سر آنے دے

تجھ سے بھی دست و گریباں کبھی ہو گا واعظ

وحشیٔ عشق کو رنگ اور ذرا لانے دے

اے مرے دست جنوں بڑھ کے الٹ دے پردہ

حسن شرمانے پہ مائل ہے تو شرمانے دے

اک دو جام سے کیا پیاس بجھے گی ساقی

مے پلاتا ہے تو ایسے کئی پیمانے دے

عشق ہے عشق نصیرؔ ان سے شکایت کیسی

وہ جو تڑپانے پہ آمادہ ہیں تڑپانے دے

مأخذ :
  • کتاب : کلیات نصیرؔ گیلانی (Pg. 927)

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے