Font by Mehr Nastaliq Web

ہاتھ اپنا قتل سے میرے بت خونخوار کھینچ

عبدالعزیز

ہاتھ اپنا قتل سے میرے بت خونخوار کھینچ

عبدالعزیز

MORE BYعبدالعزیز

    ہاتھ اپنا قتل سے میرے بت خونخوار کھینچ

    بے گنہ ہوں مجھ پہ کیا لیتا ہے تو تلوار کھینچ

    اس قدر جلدی مگر اے جان جانے کے لیے

    ایک دو دم اور بھی تو انتظار یار کھینچ

    امتحاں گر عاشق جاں باز کا منظور ہے

    اے بت خون ریز زیر خنجر خونخوار کھینچ

    مول لوں گا نقد جاں دے کر اسے اے جذب دل

    لا تو یوسف کو میرے تو بر سرِ بازار کھیچ

    کھینچ کر اک وار میں عاشق کو دو ٹکرے کیا

    ہے مسلم اب ترا تیغ نگاہ یار کھینچ

    خواب میں بھی ایک دن پہنچا دے کوئے یار میں

    جیتے جی جنت میں مجھ کو طالع بیدار کھینچ

    سرو اک جلوہ سے تیرے ہوگا بازار قمر

    چادر اپنے منھ سے بہر گرمئی بازار کھینچ

    پردۂ یادِ خدا میں انسِ بت کیا چاہیے

    زاہدا تسبیح سے لے رشتۂ زنار کھینچ

    آگ لگ جائے نہ حسرت سے کہیں تاتار میں

    دست رنگیں سے نہ شانہ زلف میں اے یار کھینچ

    کیچلی سے سانپ کا باہر نکلنا زہرہے

    نقری موباف چوٹی سے نہ اے دلدار کھینچ

    اس بت خونخوار سے ہر وقت کہتا ہے عزیزؔ

    شوق سے دیتا ہوں جاں لے میان سے تلوار کھینچ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے