ہاتھ اپنا قتل سے میرے بت خونخوار کھینچ
ہاتھ اپنا قتل سے میرے بت خونخوار کھینچ
بے گنہ ہوں مجھ پہ کیا لیتا ہے تو تلوار کھینچ
اس قدر جلدی مگر اے جان جانے کے لیے
ایک دو دم اور بھی تو انتظار یار کھینچ
امتحاں گر عاشق جاں باز کا منظور ہے
اے بت خون ریز زیر خنجر خونخوار کھینچ
مول لوں گا نقد جاں دے کر اسے اے جذب دل
لا تو یوسف کو میرے تو بر سرِ بازار کھیچ
کھینچ کر اک وار میں عاشق کو دو ٹکرے کیا
ہے مسلم اب ترا تیغ نگاہ یار کھینچ
خواب میں بھی ایک دن پہنچا دے کوئے یار میں
جیتے جی جنت میں مجھ کو طالع بیدار کھینچ
سرو اک جلوہ سے تیرے ہوگا بازار قمر
چادر اپنے منھ سے بہر گرمئی بازار کھینچ
پردۂ یادِ خدا میں انسِ بت کیا چاہیے
زاہدا تسبیح سے لے رشتۂ زنار کھینچ
آگ لگ جائے نہ حسرت سے کہیں تاتار میں
دست رنگیں سے نہ شانہ زلف میں اے یار کھینچ
کیچلی سے سانپ کا باہر نکلنا زہرہے
نقری موباف چوٹی سے نہ اے دلدار کھینچ
اس بت خونخوار سے ہر وقت کہتا ہے عزیزؔ
شوق سے دیتا ہوں جاں لے میان سے تلوار کھینچ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.