وہ عیسی دوراں اگر آئے گا نہیں آج
وہ عیسی دوراں اگر آئے گا نہیں آج
قالب میں رہے گی نہ کبھی جان حزیں آج
قالب سے خفا ہو کے چلی جان حزیں آج
چھوڑے ہوئے جاتا ہے مکاں اپنا مکیں آج
افشاں وہ جما کرکے لب بام جو آئیں
ہو جائے خجل دیکھ کے مہ ان کی جبیں آج
خورشید نظر آنے لگے ذرہ کے مانند
آجائے اگر بام پہ وہ ماہ جبیں آج
وہ ناز سے ٹھکراتے ہیں عشاق کی تربت
صحرائے قیامت نہ ہو مدفن کی زمیں آج
در پردہ جو بربادی عشاق ہے منظور
بے پردہ لب بام ہے وہ پردہ نشیں آج
انصاف یہ ہے اے فلک تفرقہ پرداز
ساقی ہو کہیں یار کہیں میں ہوں کہیں آج
خوں بازی عاشق نے نیا رنگ جمایا
رشکِ گل تر ان کی ہے کوچے کی زمیں آج
سنتا ہوں عزیزؔ آئیں گے کل غیر کے وہ ساتھ
یا رب مری جاں تن سے نکل جائے کہیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.