Font by Mehr Nastaliq Web

وہ عیسی دوراں اگر آئے گا نہیں آج

عبدالعزیز

وہ عیسی دوراں اگر آئے گا نہیں آج

عبدالعزیز

MORE BYعبدالعزیز

    وہ عیسی دوراں اگر آئے گا نہیں آج

    قالب میں رہے گی نہ کبھی جان حزیں آج

    قالب سے خفا ہو کے چلی جان حزیں آج

    چھوڑے ہوئے جاتا ہے مکاں اپنا مکیں آج

    افشاں وہ جما کرکے لب بام جو آئیں

    ہو جائے خجل دیکھ کے مہ ان کی جبیں آج

    خورشید نظر آنے لگے ذرہ کے مانند

    آجائے اگر بام پہ وہ ماہ جبیں آج

    وہ ناز سے ٹھکراتے ہیں عشاق کی تربت

    صحرائے قیامت نہ ہو مدفن کی زمیں آج

    در پردہ جو بربادی عشاق ہے منظور

    بے پردہ لب بام ہے وہ پردہ نشیں آج

    انصاف یہ ہے اے فلک تفرقہ پرداز

    ساقی ہو کہیں یار کہیں میں ہوں کہیں آج

    خوں بازی عاشق نے نیا رنگ جمایا

    رشکِ گل تر ان کی ہے کوچے کی زمیں آج

    سنتا ہوں عزیزؔ آئیں گے کل غیر کے وہ ساتھ

    یا رب مری جاں تن سے نکل جائے کہیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے