یا تو اے دل ان ستم گاروں کا تو آزار کھینچ
یا تو اے دل ان ستم گاروں کا تو آزار کھینچ
یا محبت سے انہوں کی ہاتھ تو اک بار کھینچ
میرے یوسف کا زلیخا بھی تماشا دیکھ لے
جذب دل اس کو کسی دن برسرِ بازار کھینچ
منتظر شوق شہادت کا کھڑا ہوں دیر سے
سوچنا بے کار ہے قاتل کہیں تلوار کھینچ
سرد ہوتا ہے کلیجہ اس میسحا کا میرے
اس قدر آہیں نہ ہر دم اے دل بیمار کھینچ
دل جگر دونوں نہ جل جائیں کہیں یہ خوف ہے
دیکھ او باسطؔ نہ اتنی آہ آتش بار کھینچ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.