Font by Mehr Nastaliq Web

پھر رنگ مگر لائےگا یہ چرخ بریں آج

عبدالباسط مونگیری

پھر رنگ مگر لائےگا یہ چرخ بریں آج

عبدالباسط مونگیری

MORE BYعبدالباسط مونگیری

    پھر رنگ مگر لائے گا یہ چرخ بریں آج

    پہلو مرے میں دل کو ہے آرام نہیں آج

    اک عمر سے مشتاق ہے فردائے قیامت

    انداز دکھا دیجیے چل کر بھی کہیں آج

    دیکھیں تو کہ ملتی ہے مجھے چرخ دنی سے

    اک قبر کو درکار ہے دو ہاتھ زمیں آج

    کیوں کم ہے ترے کوچہ میں عشاق کا میلہ

    کس گرد مصیبت میں پڑے خاک نشیں آج

    اللہ رے حرارت تپ فرقت کی ہمارے

    شعلہ سا بھڑکتا ہے مرے دل کے قریں آج

    وہ شوخ جو اس حسن سے بیٹھا ہے نہ گھر کر

    سب لوگ پریزاد کا کرتے ہیں یقیں آج

    ہم بھی وہ سلیمان ہیں کہ ڈنکا ہے فلک پر

    تم بھی وہ ہو بلقیس کہ ہو زیر نگیں آج

    کیا کم ہے مجھے ابروئے پر خم کا اشارہ

    قاتل کے اگر ہاتھ میں تلوار نہیں آج

    آباد ہوا میرا وطن اس کے قدم سے

    وارد جو ہوا شہر میں وہ لعبت چیں آج

    شاباش غزل خوب لکھی تم نے یہ باسطؔ

    سن کر کے جسے شاد ہے ارواح حزیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے