پھر رنگ مگر لائےگا یہ چرخ بریں آج
پھر رنگ مگر لائے گا یہ چرخ بریں آج
پہلو مرے میں دل کو ہے آرام نہیں آج
اک عمر سے مشتاق ہے فردائے قیامت
انداز دکھا دیجیے چل کر بھی کہیں آج
دیکھیں تو کہ ملتی ہے مجھے چرخ دنی سے
اک قبر کو درکار ہے دو ہاتھ زمیں آج
کیوں کم ہے ترے کوچہ میں عشاق کا میلہ
کس گرد مصیبت میں پڑے خاک نشیں آج
اللہ رے حرارت تپ فرقت کی ہمارے
شعلہ سا بھڑکتا ہے مرے دل کے قریں آج
وہ شوخ جو اس حسن سے بیٹھا ہے نہ گھر کر
سب لوگ پریزاد کا کرتے ہیں یقیں آج
ہم بھی وہ سلیمان ہیں کہ ڈنکا ہے فلک پر
تم بھی وہ ہو بلقیس کہ ہو زیر نگیں آج
کیا کم ہے مجھے ابروئے پر خم کا اشارہ
قاتل کے اگر ہاتھ میں تلوار نہیں آج
آباد ہوا میرا وطن اس کے قدم سے
وارد جو ہوا شہر میں وہ لعبت چیں آج
شاباش غزل خوب لکھی تم نے یہ باسطؔ
سن کر کے جسے شاد ہے ارواح حزیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.