تو فرد ہے ہر بات میں اے ماہ جبیں آج
تو فرد ہے ہر بات میں اے ماہ جبیں آج
ثانی ترا دنیا میں نہیں کوئی حسیں آج
یوں سننے کو سنتے ہیں کہ یوسف بھی حسیں تھے
پر تجھ سا تو دنیا میں نہیں کوئی حسیں آج
لو اور سنو جھوٹ کی تہمت ہے مجھی پر
کیا آپ کے پہلو میں تھے اغیار نہیں آج
اللہ رے اک بوسے پہ یوں منہ کا بنانا
یہ تو کہو اترے گا بھی غصہ کہ نہیں آج
آئے جو ترے جی میں وہی کر دل ناداں
سمجھاؤں کسی تُو تو سمجھتا ہی نہیں آج
پتھر پڑیں ان باتوں پہ اے رشک سلیماں
انگشتری دیکھوں کہیں کھو آئے نگیں آج
شیریں سے غرض شیریں کلامی ہے زیادہ
لیلیٰ سے ترا حُسن کہیں ہے نمکیں آج
صدمہ تمہیں کس بات کا ہے کس پہ فدا ہو
بولو تو غنیؔ کس لیے بیٹھے ہو حزیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.