Font by Mehr Nastaliq Web

تو فرد ہے ہر بات میں اے ماہ جبیں آج

عبدالغنی

تو فرد ہے ہر بات میں اے ماہ جبیں آج

عبدالغنی

MORE BYعبدالغنی

    تو فرد ہے ہر بات میں اے ماہ جبیں آج

    ثانی ترا دنیا میں نہیں کوئی حسیں آج

    یوں سننے کو سنتے ہیں کہ یوسف بھی حسیں تھے

    پر تجھ سا تو دنیا میں نہیں کوئی حسیں آج

    لو اور سنو جھوٹ کی تہمت ہے مجھی پر

    کیا آپ کے پہلو میں تھے اغیار نہیں آج

    اللہ رے اک بوسے پہ یوں منہ کا بنانا

    یہ تو کہو اترے گا بھی غصہ کہ نہیں آج

    آئے جو ترے جی میں وہی کر دل ناداں

    سمجھاؤں کسی تُو تو سمجھتا ہی نہیں آج

    پتھر پڑیں ان باتوں پہ اے رشک سلیماں

    انگشتری دیکھوں کہیں کھو آئے نگیں آج

    شیریں سے غرض شیریں کلامی ہے زیادہ

    لیلیٰ سے ترا حُسن کہیں ہے نمکیں آج

    صدمہ تمہیں کس بات کا ہے کس پہ فدا ہو

    بولو تو غنیؔ کس لیے بیٹھے ہو حزیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے