خرد کے دام میں جو آ گئے ہیں
خرد کے دام میں جو آ گئے ہیں
وہ دانشمند دھوکا کھا گئے ہیں
ابھی تو فصلِ گل کی ابتدا تھی
ابھی سے پھول کیوں مرجھا گئے ہیں
کچھا ایسے آپ نے پھیری ہیں آنکھیں
زمانے کے ستم شرما گئے ہیں
تری آنکھوں کی فرمائش پہ انساں
فریب زندگی بھی کھا گئے ہیں
عدمؔ سے زندگی روٹھی ہوئی تھی
خدا کا شکر ہے آپ آگئے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.