Sufinama

تجھے آخر کہاں ڈھونڈھے مکین لا مکاں کوئی

افقر وارثی

تجھے آخر کہاں ڈھونڈھے مکین لا مکاں کوئی

افقر وارثی

MORE BY افقر وارثی

    تجھے آخر کہاں ڈھونڈھے مکین لا مکاں کوئی

    نہ چلتا ہے پتا کوئی نہ ملتا ہے نشاں کوئی

    وہیں کا ہو رہا جا کر جو پہنچا بھی وہاں کوئی

    نہ واپس منزل جاناں سے آیا کارواں کوئی

    فضائے گلستاں خاموش ہے چھائی ہے تاریکی

    صدا دیتا ہے رہ رہ کر خراب آشیاں کوئی

    کہیں سر ہے کہیں نقش جبیں سجدے کہیں پر ہیں

    ہوا کس کس طرح مٹ کر خراب آستاں کوئی

    ازل سے لب پہ ہے عہد وفا کا ایک افسانہ

    زمانہ میں سنے کب تک ہماری داستاں کوئی

    ہمیں معلوم ہے اتنی حقیقت اپنی ہستی کی

    کہ یہ بھی راز ہے منجملۂ راز نہاں کوئی

    سناتا ہوں میں روداد محبت اس توقع پر

    ملا لے اپنے افسانے میں میری داستاں کوئی

    چمک اٹھی ہے قسمت ایک ہی سجدہ میں کیا کہنا

    لئے پھرتا ہے پیشانی پہ نقش آستاں کوئی

    بس اتنی شرط ہے جس پر مدار وصل جاناں ہے

    اٹھا دے درمیاں سے پردۂ عمر رواں کوئی

    رہ غربت میں اے افقرؔ وہ ہم گم کردہ منزل ہیں

    نہ گزرا اس طرف سے بھول کر بھی کارواں کوئی

    مآخذ:

    • کتاب : نظرگاہ (Pg. 85)
    • Author : افقرؔ وارثی
    • مطبع : صدیق بک ڈپو، لکھنؤ (1961)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY