Sufinama

نگاہوں کے مرکز دلوں کے سہارے تجھے کس طرح کوئی اپنا بنا لے

افقر وارثی

نگاہوں کے مرکز دلوں کے سہارے تجھے کس طرح کوئی اپنا بنا لے

افقر وارثی

MORE BY افقر وارثی

    نگاہوں کے مرکز دلوں کے سہارے تجھے کس طرح کوئی اپنا بنا لے

    نظر گاہ عالم ترے رخ کے جلوے میرا ذوق نظارہ تیرے حوالے

    نہ دھوکا دے اے فرصت زندگانی فسانہ مرے غم کا دنیا بنا لے

    اجل سے کہہ دے مرنا ہے برحق ابھی اور کچھ روز کوئی ستا لے

    تمہیں ضد کہ ہم کس لیے پہلے بولیں ہمیں کہ کوئی بات پہلے نکالے

    لے بس آؤ مل جائیں چھوڑیں ضدوں کو نہ تم بات والے نہ ہم بات والے

    نظر آئی دھوکا ہی دھوکا یہ دنیا فریب نظر ہے تماشہ یہاں کا

    سنتے ہیں بہت حق پرستوں کے قصے بہت ہم نے دیکھے ہیں اللہ والے

    ہمیں مل گیا ہے ترا آستانہ کہیں اب نہ آنا کہیں اب نہ جانا

    مقدر سے بگڑا ہو جس کے زمانہ یہاں اپنی بگڑی وہ قسمت بنا لے

    وہ مخمور آنکھیں وہ پر کیف نظریں جسے دیکھ لیں مست اس کو بنا دیں

    نہ مے کی ضرورت نہ شیشے کی حاجت کہاں کی صراحی کہاں کے پیالے

    محبت کا دنیا میں ہے بول بالا محبت نہ ہوتی تو کچھ بھی نہ ہوتا

    محبت کی باتیں ہیں سب سے انوکھی محبت کے قصے ہیں سب سے نرالے

    برہمن کا ہو دھرم یا دین ملا وہی ایک جلوہ وہی ایک سجدہ

    معابد پہ بیکار افقرؔ ہے جھگڑا کہاں کی مساجد کہاں کے شوالے

    مآخذ:

    • کتاب : تذکرہ شعرائے وارثیہ (Pg. 96)
    • مطبع : فائن بکس پرنٹرس (1993)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY