Sufinama

اب کیا بتاؤں درد کہاں تھا کہاں نہ تھا

افقر وارثی

اب کیا بتاؤں درد کہاں تھا کہاں نہ تھا

افقر وارثی

MORE BY افقر وارثی

    اب کیا بتاؤں درد کہاں تھا کہاں نہ تھا

    پوچھی وہ بات یار نے جس کا گماں نہ تھا

    اس سے زیادہ حاصل عمر رواں نہ تھا

    تیرا نشاں جو پایا تو اپنا نشاں نہ تھا

    دنیا ہو یا ہجوم قیامت ہو یا کہ حشر

    ترے خراب عشق کا چرچا کہاں نہ تھا

    آتا نظر تھا دور سے نزدیک کارواں

    نزدیک ہم ہوئے تو کہیں کارواں نہ تھا

    آیا نظر نہ پھر بھی جہاں میں کسی کو تو

    ہر چند ترے جلوے سے خالی جہاں نہ تھا

    بے پردہ اس طرح کبھی حاصل تھا لطف دید

    ہستی کا بھی حجاب مرے درمیاں نہ تھا

    ہر ذرۂ جہاں پہ تھا آباد اک جہاں

    ہستی کا کوئی ذرہ بھی تو رائیگاں نہ تھا

    افقرؔ مآل ہستیٔ فانی تھا بس یہی

    کل تک تھا نام آج لحد کا نشاں نہ تھا

    مآخذ:

    • کتاب : تذکرہ شعرائے وارثیہ (Pg. 96)
    • مطبع : فائن بکس پرنٹرس (1993)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY