دل نعرہ زن جو کوچۂ جاناں میں رہ گیا
دل نعرہ زن جو کوچۂ جاناں میں رہ گیا
بلبل چہک کے گویا گلستاں میں رہ گیا
دیکھا جو تیرے گلشن عارض کو یک نظر
دل پھنس کے اپنا گیسوئے پیچاں میں رہ گیا
ہم ہم سبق ہیں قیس کے دیوانِ عشق میں
کوچہ میں میں رہا وہ بیاباں میں رہ گیا
مائل ہمارا دل ہوا زہرہ جبیں پہ ہائے
ہاروت وار چاہ زنخداں میں رہ گیا
ہمسر نہ ہوسکا کبھی کاکل سے یار کے
کی کیا بل اس کا سنبل پیچاں میں رہ گیا
گلگشت نازنینوں کی تاثیر دیکھیے
شرمندہ ہو کے گل بھی گلستاں میں رہ گیا
مجھ کو ملی رہائی نہ ظالم سے بعد موت
مژگان یار اپنے رگ جاں میں رہ گیا
توصیف کس سے مصحف رو ئےبتاں کی ہو
والشمس اس کے واسطے قراں میں رہ گیا
ابروئے بت کو کعبہ کا محراب جان کر
آکر ضیاؔ بھی کوچہ جاناں میں رہ گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.