Font by Mehr Nastaliq Web

دل نعرہ زن جو کوچۂ جاناں میں رہ گیا

احمد امام ضیا

دل نعرہ زن جو کوچۂ جاناں میں رہ گیا

احمد امام ضیا

MORE BYاحمد امام ضیا

    دل نعرہ زن جو کوچۂ جاناں میں رہ گیا

    بلبل چہک کے گویا گلستاں میں رہ گیا

    دیکھا جو تیرے گلشن عارض کو یک نظر

    دل پھنس کے اپنا گیسوئے پیچاں میں رہ گیا

    ہم ہم سبق ہیں قیس کے دیوانِ عشق میں

    کوچہ میں میں رہا وہ بیاباں میں رہ گیا

    مائل ہمارا دل ہوا زہرہ جبیں پہ ہائے

    ہاروت وار چاہ زنخداں میں رہ گیا

    ہمسر نہ ہوسکا کبھی کاکل سے یار کے

    کی کیا بل اس کا سنبل پیچاں میں رہ گیا

    گلگشت نازنینوں کی تاثیر دیکھیے

    شرمندہ ہو کے گل بھی گلستاں میں رہ گیا

    مجھ کو ملی رہائی نہ ظالم سے بعد موت

    مژگان یار اپنے رگ جاں میں رہ گیا

    توصیف کس سے مصحف رو ئےبتاں کی ہو

    والشمس اس کے واسطے قراں میں رہ گیا

    ابروئے بت کو کعبہ کا محراب جان کر

    آکر ضیاؔ بھی کوچہ جاناں میں رہ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے