Sufinama

ایسی نہیں ہوتی کسی رنجور کی صورت

آسی غازیپوری

ایسی نہیں ہوتی کسی رنجور کی صورت

آسی غازیپوری

MORE BYآسی غازیپوری

    ایسی نہیں ہوتی کسی رنجور کی صورت

    فرقت میں جو ہے عاشق مہجور کی صورت

    ٹانکے میرے پھر ٹوٹ گئے زخم جگر کے

    پھر بہنے لگے آنکھ سے ناسور کی صورت

    اللہ رے تاریکی خورشید جدائی

    ہے صبح میں اپنی شب دیجور کی صورت

    ہم اوروں سے مل جائیں گے ہم سے نہ ملے وہ

    کس بت میں نہیں اس بت مغرور کی صورت

    کیا پریوں کے جھرمٹ میں بھلا بیٹھیے جا کر

    آنکھوں میں پھرا کرتی ہے اس حور کی صورت

    جو آنکھ ہے مستی میں وہ ایک ساغر مے ہے

    دیکھے تو کوئی ساقیٔ مخمور کی صورت

    ماتھا ہے قمر عارض پر نور ہے والشمس

    پائی ہے میرے یار نے کیا نور کی صورت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY