دور اے چشم فلک اس کو قفس کہتے ہیں
دور اے چشم فلک اس کو قفس کہتے ہیں
یہ بھی کیا میرا نشیمن ہے کہ ویراں ہو جائے
میری تقدیر کہ ہو دل میں محبت پیدا
دل کی قسمت کہ نظر آپ کی پیکاں ہو جائے
نیند کا نام غلط آنکھ جھپکنا کیسا
چاند میں جب تری تصویر نمایاں ہو جائے
حشر میں بھی ہیں وہی نقش مرے سجدوں کے
کہیں تصویر کسی کی نہ نمایاں ہو جائے
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 431)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.