Font by Mehr Nastaliq Web

دور اے چشم فلک اس کو قفس کہتے ہیں

اخضر اکبرآبادی

دور اے چشم فلک اس کو قفس کہتے ہیں

اخضر اکبرآبادی

MORE BYاخضر اکبرآبادی

    دور اے چشم فلک اس کو قفس کہتے ہیں

    یہ بھی کیا میرا نشیمن ہے کہ ویراں ہو جائے

    میری تقدیر کہ ہو دل میں محبت پیدا

    دل کی قسمت کہ نظر آپ کی پیکاں ہو جائے

    نیند کا نام غلط آنکھ جھپکنا کیسا

    چاند میں جب تری تصویر نمایاں ہو جائے

    حشر میں بھی ہیں وہی نقش مرے سجدوں کے

    کہیں تصویر کسی کی نہ نمایاں ہو جائے

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 431)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے