زمانہ موت کہتا ہے جسے وہ قرضِ ہستی ہے
زمانہ موت کہتا ہے جسے وہ قرضِ ہستی ہے
صفِ ماتم بچھا کر بیٹھنا دنیا پرستی ہے
جبیں سائی ترے قدموں پر فرض مے پرستی ہے
یہ سجدہ کفر ہو ساقی مگر ایمان مستی ہے
یہ کیسی نیند ہے اٹھ لے خبر زلف پریشاں کی
مرے چاکِ گریباں پر سحر آوازہ کستی ہے
کہاں سوتی ہے یا رب جلوہ گاہِ ناز کی بجلی
قیامت ہو رہی ہے چشم نظارہ ترستی ہے
نہ دیکھے نبض دنیا قسمتِ بیمار کو دیکھے
کہ درد اٹھتے ہی دل میں موت چہرے پر برستی ہے
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 431)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.