Font by Mehr Nastaliq Web

زمانہ موت کہتا ہے جسے وہ قرضِ ہستی ہے

اخضر اکبرآبادی

زمانہ موت کہتا ہے جسے وہ قرضِ ہستی ہے

اخضر اکبرآبادی

MORE BYاخضر اکبرآبادی

    زمانہ موت کہتا ہے جسے وہ قرضِ ہستی ہے

    صفِ ماتم بچھا کر بیٹھنا دنیا پرستی ہے

    جبیں سائی ترے قدموں پر فرض مے پرستی ہے

    یہ سجدہ کفر ہو ساقی مگر ایمان مستی ہے

    یہ کیسی نیند ہے اٹھ لے خبر زلف پریشاں کی

    مرے چاکِ گریباں پر سحر آوازہ کستی ہے

    کہاں سوتی ہے یا رب جلوہ گاہِ ناز کی بجلی

    قیامت ہو رہی ہے چشم نظارہ ترستی ہے

    نہ دیکھے نبض دنیا قسمتِ بیمار کو دیکھے

    کہ درد اٹھتے ہی دل میں موت چہرے پر برستی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 431)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے