کوئی سمجھے تو سمجھے کیا دلِ بے آسرا کیا ہے
کوئی سمجھے تو سمجھے کیا دلِ بے آسرا کیا ہے
ہمیں خود بھی نہیں معلوم آخر ماجرا کیا ہے
ہمیں یہ وہم تھا لفظوں سے تسکیں مل ہی جائے گی
مگر جو درد دل میں ہے وہی اصلِ صدا کیا ہے
کسی نے پوچھ ہی ڈالا سخن آخر ہے کس شے کا
ہمیں کہنا پڑا دل کے عذابوں کے سوا کیا ہے
یہ دنیا ایک لمحہ ہے گزر جانا مقدر ہے
عدم سے آئے تھے ہم بھی عدم ہی راستا کیا ہے
کوئی سمجھے تو سمجھے ورنہ یہ اشعار سب بے سود
دلِ مجبور نے پوچھا تو ہم نے کہہ دیا کیا ہے
یہی کہتے رہے ہم بھی سخن کے نام پر نوشاؔ
کہ اس دل کے سوا آخر یہاں اپنا رہا کیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.