Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

مقتل میں تیغ ان کی جس آن نکلتی ہے

امیر بخش صابری

مقتل میں تیغ ان کی جس آن نکلتی ہے

امیر بخش صابری

مقتل میں تیغ ان کی جس آن نکلتی ہے

وہ عاشقوں کی کرنے پہچان نکلتی ہے

ان عشق کے بدوں کی جب جان نکلتی ہے

بس تیرے تصور میں اے جان نکلتی ہے

فرقت میں میرے دل سے جو آہ نکلتی ہے

وہ لے کے تیرے جاناں پیکاں نکلتی ہے

نہ چھیڑ مجھے زاہد میں پھونک کے رکھ دوں گا

ہر آہ میری بن کر طوفان نکلتی ہے

اس مصحفِ عارض میں وہ شانِ قرآن نکلتی ہے

ہر شان میں وہ شانِ قرآن نکلتی ہے

گیسو ہیں بکھرے ایسے ان کے رخِ انور پر

بادِ صبا بھی ہو کر حیران نکلتی ہے

جانِ امیرؔ دیکھو اب عالمِ نزع میں

سرکار پہ ہونے کو قربان نکلتی ہے

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے