Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

تیرے جلوؤں سے ہے وہ کون جو بے ہوش نہیں

امیر بخش صابری

تیرے جلوؤں سے ہے وہ کون جو بے ہوش نہیں

امیر بخش صابری

تیرے جلوؤں سے ہے وہ کون جو بے ہوش نہیں

طور والوں کو بھی آئی ابھی تک ہوش نہیں

منزلِ عشق میں ہر گام پہ لکھا دیکھا

وہ نہیں دید کے قابل جو کفن پوش نہیں

جام پہ جام دیے جا مجھے منصور نہ جان

جو بہک جائے گا پی کر میں وہ مینوش نہیں

عالمِ ہستی میں دیکھا ہے یہ آ کر میں نے

تیرے مستوں کے سوا کوئی بھی ذی ہوش نہیں

میں وہ مجرم ہوں کہ جو رحم کے قابل ہی نہیں

تیرے قربان کوئی تجھ سا خطا پوش نہیں

ماتمِ دردِ محبت میں ہے ڈوبا بیٹھا

بخدا بے وجہ کعبہ بھی سیاہ پوش نہیں

یہ کسی مست نگاہوں کا تصرف ہے امیرؔ

آج محفل جسے دیکھا اسے ہوش نہیں

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے