حیا بولی ابھرا جو جوبن کسی کا
حیا بولی ابھرا جو جوبن کسی کا
مٹا دوں گی میں چلبلا پن کسی کا
بھرا ہے جوانی میں جوبن کسی کا
ترا رے بھرے کیوں نہ تو سن کسی کا
کہا میں نے حاضر ہے دل تو وہ بولے
کہ احسان لیں میرے دشمن کسی کا
خراماں ہوئے وہ تو بولی نزاکت
کہ مجھ سے نہ سنبھلے گا دامن کسی کا
رقیبوں سے وہ خوش رقیب ان سے راضی
برا کہہ کے میں کیوں ہوں دشمن کسی کا
چمکتی نہیں ابر سے برقِ باراں
لٹکتا ہے پردے سے دامن کسی کا
ادھر بھی کرم اے نسیم بہاری
ترستا ہے پھولوں کو مدفن کسی کا
وہ کیا جانے ہوتی ہے کیسی جوانی
ابھی کھیلتا ہے لڑکپن کسی کا
کچھ اس درد سے عشق میں کوئی رویا
اثر چیخ اٹھا سن کے شیون کسی کا
جوانی کی آمد ہے ہوتا ہے رخصت
وہ نازوں کا پالا لڑکپن کسی کا
شباب آچکا اب کسے دیکھتا ہے
امیرؔ اٹھ کے ہر بار جوبن کسی کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.