Font by Mehr Nastaliq Web

حیا بولی ابھرا جو جوبن کسی کا

امیر مینائی

حیا بولی ابھرا جو جوبن کسی کا

امیر مینائی

MORE BYامیر مینائی

    حیا بولی ابھرا جو جوبن کسی کا

    مٹا دوں گی میں چلبلا پن کسی کا

    بھرا ہے جوانی میں جوبن کسی کا

    ترا رے بھرے کیوں نہ تو سن کسی کا

    کہا میں نے حاضر ہے دل تو وہ بولے

    کہ احسان لیں میرے دشمن کسی کا

    خراماں ہوئے وہ تو بولی نزاکت

    کہ مجھ سے نہ سنبھلے گا دامن کسی کا

    رقیبوں سے وہ خوش رقیب ان سے راضی

    برا کہہ کے میں کیوں ہوں دشمن کسی کا

    چمکتی نہیں ابر سے برقِ باراں

    لٹکتا ہے پردے سے دامن کسی کا

    ادھر بھی کرم اے نسیم بہاری

    ترستا ہے پھولوں کو مدفن کسی کا

    وہ کیا جانے ہوتی ہے کیسی جوانی

    ابھی کھیلتا ہے لڑکپن کسی کا

    کچھ اس درد سے عشق میں کوئی رویا

    اثر چیخ اٹھا سن کے شیون کسی کا

    جوانی کی آمد ہے ہوتا ہے رخصت

    وہ نازوں کا پالا لڑکپن کسی کا

    شباب آچکا اب کسے دیکھتا ہے

    امیرؔ اٹھ کے ہر بار جوبن کسی کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے