برباد نہ کر بیکس کا چمن بیدرد خزاں سے کون کہے
برباد نہ کر بیکس کا چمن بیدرد خزاں سے کون کہے
تاراج نہ کر میرا خرمن، اس برق تپاں سے کون کہے
مجھ خستہ جگر کی جان نہ لے، یہ کون اجل کو سمجھائے
کچھ دیر ٹھہر جا اے دریا، دریائے رواں سے کون کہے
سینے میں بہت غم ہیں پنہاں اور دل میں ہزاروں ارماں ہیں
اس قہر مجسم کے آگے حال اپنا زباں سے کون کہے
ہر چند ہماری حالت پر رحم آتا ہے ہر اک کو لیکن
کون آپ آفت میں ڈالے، آس آفت جاں سے کون کہے
قاصد کے بیاں کا اے امجدؔ کیوں کر ہو اثر ان کے دل پر
جس درد سے تم خود کہتے ہو اس طرزِ بیاں سے کون کہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.