Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

دولت دنیا کی کیا پروا مجھے

اسیر لکھنوی

دولت دنیا کی کیا پروا مجھے

اسیر لکھنوی

دولت دنیا کی کیا پروا مجھے

حق نے بخشا گنج استغنا مجھے

تم کرو مجھ پر جفائیں میں وفا

وہ تمہیں زیبا ہے یہ زیبا مجھے

بک رہا ہے تو میں بیٹھا ہوں خموش

تجھ کو اے ناصح ہے یا سودا مجھے

تخت و تاج و مال و دولت کیا کروں

یا الٰہی صبر دے تھوڑا مجھے

کب شب غم میں ہے امید سحر

کیا ہو اے ناصح غم فردا مجھے

اقربا ہیں ساتھ تربت میں نہ دوست

چل دیے سب چھوڑ کر تنہا مجھے

ماہ رخساروں کا عاشق جان کر

داغ دیتا ہے فلک کیا کیا مجھے

گر پڑا چاہ زنخداں میں اسیرؔ

شوق نے ایسا کیا اندھا مجھے

مأخذ :

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے