عیاں اور نہاں ہر سو جلوے ازل کے
عیاں اور نہاں ہر سو جلوے ازل کے
مگر تیر چلتے ہیں ہر پل اجل کے
یہ چاہت ارادت و قدرت سے صورت
حقیقت کی مورت ہوں چولا بدل کے
منانے کو وہ روٹھ جاتے ہیں اکثر
منا ان کو لیتا ہوں کروٹ بدل کے
وہ آہستہ بولے تو میں چیخ اٹھا
یہ کس نے پکارا ہے لہجہ بدل کے
میرے ضبطِ غم کا فسانہ نہ پوچھو
بہے خون بن آنسو پلکوں سے ڈھل کے
امانت کروں گا نہیں ان کو واپس
وہ آئیں نہ جب تک کے باہر نکل کے
ہوں راہی میرا کام ہے راہ چلنا
ندا آ رہی ہے سنبھل کے سنبھل کے
نقاب ان کا الٹے رضا میری ہوگی
رہے ہوش باقی وہ آئیں سنبھل کے
وہ ذاتِ باقی ہے ہمدمؔ فنا کی
ہوئے ہم فنا نہ گیا دم نکل کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.