Font by Mehr Nastaliq Web

عیاں اور نہاں ہر سو جلوے ازل کے

اسراراللہ غوثی

عیاں اور نہاں ہر سو جلوے ازل کے

اسراراللہ غوثی

MORE BYاسراراللہ غوثی

    عیاں اور نہاں ہر سو جلوے ازل کے

    مگر تیر چلتے ہیں ہر پل اجل کے

    یہ چاہت ارادت و قدرت سے صورت

    حقیقت کی مورت ہوں چولا بدل کے

    منانے کو وہ روٹھ جاتے ہیں اکثر

    منا ان کو لیتا ہوں کروٹ بدل کے

    وہ آہستہ بولے تو میں چیخ اٹھا

    یہ کس نے پکارا ہے لہجہ بدل کے

    میرے ضبطِ غم کا فسانہ نہ پوچھو

    بہے خون بن آنسو پلکوں سے ڈھل کے

    امانت کروں گا نہیں ان کو واپس

    وہ آئیں نہ جب تک کے باہر نکل کے

    ہوں راہی میرا کام ہے راہ چلنا

    ندا آ رہی ہے سنبھل کے سنبھل کے

    نقاب ان کا الٹے رضا میری ہوگی

    رہے ہوش باقی وہ آئیں سنبھل کے

    وہ ذاتِ باقی ہے ہمدمؔ فنا کی

    ہوئے ہم فنا نہ گیا دم نکل کے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے