Font by Mehr Nastaliq Web

میں اور تم سے عرِ تمنا مجال کیا

اسراراللہ غوثی

میں اور تم سے عرِ تمنا مجال کیا

اسراراللہ غوثی

MORE BYاسراراللہ غوثی

    میں اور تم سے عرِ تمنا مجال کیا

    پیغامبر کی بات پر اتنا ملا کیا

    دل کی گرہ کھلے بھی تو کس طرح کھلے

    میرا خیال کیا ہے تمہارا خیال کیا

    مجھ کو مٹا کے بھی وہی طرزِ خرام ہے

    تم اب کرو گے خاک میری پائمال کیا

    برہم مزاج یار مقلد ہے بر خلاف

    بے صرفہ کوششوں کا میری مآل کیا

    دولت ہے جس کا نام وہ ہے چلتی پھرتی چھاؤں

    آئی تو کیا خوشی جو گئی تو ملال کیا

    ہر اوج کو جہاں میں پستی ہے یک دن

    لازم ہے جب زوال تو فخرِ کمال کیا

    دینے کو تُو جو آئے تو دنیا ہے بحساب

    میں کیا ہوں تیرے سامنے میرا سوال کیا

    مرمر کے ہجرِ یار میں کاٹی ہے زندگی

    کیا جانے وصل نام ہے کس کا وصال کیا

    اللہ رے دردِ عشق کہ اب مجھ سے ہر کوئی

    کہتا ہے چار دن میں ہوا تیرا حال کیا

    ناصح نہ کر شرابِ محبت کی روک تھام

    بے خود ہوں امتیازِ حرام و حلال کیا

    ہمدمؔ کا حال پوچھیے سلطانِ ہند سے

    جب مٹ گئی خودی تو جلال و جمال کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے