میں اور تم سے عرِ تمنا مجال کیا
میں اور تم سے عرِ تمنا مجال کیا
پیغامبر کی بات پر اتنا ملا کیا
دل کی گرہ کھلے بھی تو کس طرح کھلے
میرا خیال کیا ہے تمہارا خیال کیا
مجھ کو مٹا کے بھی وہی طرزِ خرام ہے
تم اب کرو گے خاک میری پائمال کیا
برہم مزاج یار مقلد ہے بر خلاف
بے صرفہ کوششوں کا میری مآل کیا
دولت ہے جس کا نام وہ ہے چلتی پھرتی چھاؤں
آئی تو کیا خوشی جو گئی تو ملال کیا
ہر اوج کو جہاں میں پستی ہے یک دن
لازم ہے جب زوال تو فخرِ کمال کیا
دینے کو تُو جو آئے تو دنیا ہے بحساب
میں کیا ہوں تیرے سامنے میرا سوال کیا
مرمر کے ہجرِ یار میں کاٹی ہے زندگی
کیا جانے وصل نام ہے کس کا وصال کیا
اللہ رے دردِ عشق کہ اب مجھ سے ہر کوئی
کہتا ہے چار دن میں ہوا تیرا حال کیا
ناصح نہ کر شرابِ محبت کی روک تھام
بے خود ہوں امتیازِ حرام و حلال کیا
ہمدمؔ کا حال پوچھیے سلطانِ ہند سے
جب مٹ گئی خودی تو جلال و جمال کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.