جمالِ یار کو کہتے ہو تم کہ ہاں دیکھا
جمالِ یار کو کہتے ہو تم کہ ہاں دیکھا
کلیم ہوش میں آؤ انہیں کہاں دیکھا
دکھائی آئینہ نہ ان کو عکس کی تصویر
تو ہنس کے بولے کہ تو نے مجھے کہاں دیکھا
کہیں تو دیکھ چکے ہیں یقین ہے دل کو
مگر یہ یاد نہیں ہے تمہیں کہاں دیکھا
پلا کے مفت کی صوفی نے کر دیا بے خود
خرد جل گئے پر کیا کہوں کہاں دیکھا
کرم سے پیر کے ہر، ہر میں تو نظر آیا
نئے لباس میں دیکھو مجھے جہاں دیکھا
دکھائی ترکِ تعلق نے شانِ بے رنگی
بڑھے مکان سے آگے تو لامکاں دیکھا
کہے گا وقتِ ملاقات ان سے یوں ہمدمؔ
جو کچھ سنا تھا وہ آنکھوں سے مہرباں دیکھا
- کتاب : حقیقتِ توحید (Pg. 50)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.