Font by Mehr Nastaliq Web

جمالِ یار کو کہتے ہو تم کہ ہاں دیکھا

اسراراللہ شاہ غوثی

جمالِ یار کو کہتے ہو تم کہ ہاں دیکھا

اسراراللہ شاہ غوثی

MORE BYاسراراللہ شاہ غوثی

    جمالِ یار کو کہتے ہو تم کہ ہاں دیکھا

    کلیم ہوش میں آؤ انہیں کہاں دیکھا

    دکھائی آئینہ نہ ان کو عکس کی تصویر

    تو ہنس کے بولے کہ تو نے مجھے کہاں دیکھا

    کہیں تو دیکھ چکے ہیں یقین ہے دل کو

    مگر یہ یاد نہیں ہے تمہیں کہاں دیکھا

    پلا کے مفت کی صوفی نے کر دیا بے خود

    خرد جل گئے پر کیا کہوں کہاں دیکھا

    کرم سے پیر کے ہر، ہر میں تو نظر آیا

    نئے لباس میں دیکھو مجھے جہاں دیکھا

    دکھائی ترکِ تعلق نے شانِ بے رنگی

    بڑھے مکان سے آگے تو لامکاں دیکھا

    کہے گا وقتِ ملاقات ان سے یوں ہمدمؔ

    جو کچھ سنا تھا وہ آنکھوں سے مہرباں دیکھا

    مأخذ :
    • کتاب : حقیقتِ توحید (Pg. 50)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے