Font by Mehr Nastaliq Web

ہو رہا ہے نشہ میں وہ یار مست

اسراراللہ شاہ غوثی

ہو رہا ہے نشہ میں وہ یار مست

اسراراللہ شاہ غوثی

MORE BYاسراراللہ شاہ غوثی

    ہو رہا ہے نشہ میں وہ یار مست

    بہکی بہکی کرتا ہے گفتار مست

    پاؤں یاں ڈالے ہے پڑتا ہے واں

    ہے غضب مستانہ کی رفتار مست

    مارتا ہے کیسی بڑ دیکھے کوئی

    ہو رہا ہے مستی میں سرشار مست

    ایسی ساقی نے پلائی ہے شراب

    ہیں تمامی کافر و دیندار مست

    ایسی پی ہے بیخود و مدہوش ہے

    ہوش میں آتا نہیں زنہار مست

    ہے جنونِ شق نظر یار مست

    ہوگیا سو جاں سے بلہار مست

    دیکھا واعظ جا نہ میخواروں میں تو

    پھاڑ ڈالیں گے تیری دستار مست

    حال ہے اس میکدے کا مختلف

    چار ہیں ہوشیار یاں تو چار مست

    فکر دنیا ہے نہ کچھ عقبیٰ کا غم

    دونوں عالم سے ہے کیا بیزار مست

    میکشی کی کچھ نہیں حاجت یہاں

    رکھتا ہے اس کا ہمیں دیدار مست

    جام و شیشے کی کہاں ہمدمؔ ہے خیر

    بے طرح ہے نشہ میں وہ یار مست

    مأخذ :
    • کتاب : حقیقتِ توحید (Pg. 52)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے