ہو رہا ہے نشہ میں وہ یار مست
ہو رہا ہے نشہ میں وہ یار مست
بہکی بہکی کرتا ہے گفتار مست
پاؤں یاں ڈالے ہے پڑتا ہے واں
ہے غضب مستانہ کی رفتار مست
مارتا ہے کیسی بڑ دیکھے کوئی
ہو رہا ہے مستی میں سرشار مست
ایسی ساقی نے پلائی ہے شراب
ہیں تمامی کافر و دیندار مست
ایسی پی ہے بیخود و مدہوش ہے
ہوش میں آتا نہیں زنہار مست
ہے جنونِ شق نظر یار مست
ہوگیا سو جاں سے بلہار مست
دیکھا واعظ جا نہ میخواروں میں تو
پھاڑ ڈالیں گے تیری دستار مست
حال ہے اس میکدے کا مختلف
چار ہیں ہوشیار یاں تو چار مست
فکر دنیا ہے نہ کچھ عقبیٰ کا غم
دونوں عالم سے ہے کیا بیزار مست
میکشی کی کچھ نہیں حاجت یہاں
رکھتا ہے اس کا ہمیں دیدار مست
جام و شیشے کی کہاں ہمدمؔ ہے خیر
بے طرح ہے نشہ میں وہ یار مست
- کتاب : حقیقتِ توحید (Pg. 52)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.