وہ مجنوں ہوں میرا سودا نہیں تدبیر کے قابل
وہ مجنوں ہوں میرا سودا نہیں تدبیر کے قابل
کرے تدبیر جو اس کی وہ ہے زنجیر کے قابل
برنگ شمع اپنا سوزِ دل چہرے سے ظاہر ہے
نہ پائی اس لیے ہم نے زباں تقریر کے قابل
زباں سے کچھ نہ کہہ غافل سمجھ کر بے زبانوں کو
ہوا ہے خوابِ مہمل بھی کہیں تعبیر کے قابل
عبادت کا اگر ہے شوق یہ بھی شرط ہے زاہد
جبیں سجدے کے لائق ہو زباں تکبیر کے قابل
پیر زادوں کا عاشق ہے مجھے کہتا ہے دیوانہ
خفا وعظ نہ ہو میں ہوں کہ تو زنجیر کے قابل
کہیں سر ہے کہیں سینہ کہیں بازو کہیں زانو
ہماری لاش اے قاتل نہیں تشہیر کے قابل
مصور بھی جو ہم کو دیکھتے ہیں دل میں کہتے ہیں
بنائیں حق نے کیسی صورتیں تصویر کے قابل
جو کچھ آنکھوں سے دیکھا ہے وہ جا ہمدمؔ سے کہہ دینا
ہمارا حال اے قاصد نہیں تحریر کے قابل
- کتاب : حقیقتِ توحید (Pg. 54)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.