Font by Mehr Nastaliq Web

وہ مجنوں ہوں میرا سودا نہیں تدبیر کے قابل

اسراراللہ شاہ غوثی

وہ مجنوں ہوں میرا سودا نہیں تدبیر کے قابل

اسراراللہ شاہ غوثی

MORE BYاسراراللہ شاہ غوثی

    وہ مجنوں ہوں میرا سودا نہیں تدبیر کے قابل

    کرے تدبیر جو اس کی وہ ہے زنجیر کے قابل

    برنگ شمع اپنا سوزِ دل چہرے سے ظاہر ہے

    نہ پائی اس لیے ہم نے زباں تقریر کے قابل

    زباں سے کچھ نہ کہہ غافل سمجھ کر بے زبانوں کو

    ہوا ہے خوابِ مہمل بھی کہیں تعبیر کے قابل

    عبادت کا اگر ہے شوق یہ بھی شرط ہے زاہد

    جبیں سجدے کے لائق ہو زباں تکبیر کے قابل

    پیر زادوں کا عاشق ہے مجھے کہتا ہے دیوانہ

    خفا وعظ نہ ہو میں ہوں کہ تو زنجیر کے قابل

    کہیں سر ہے کہیں سینہ کہیں بازو کہیں زانو

    ہماری لاش اے قاتل نہیں تشہیر کے قابل

    مصور بھی جو ہم کو دیکھتے ہیں دل میں کہتے ہیں

    بنائیں حق نے کیسی صورتیں تصویر کے قابل

    جو کچھ آنکھوں سے دیکھا ہے وہ جا ہمدمؔ سے کہہ دینا

    ہمارا حال اے قاصد نہیں تحریر کے قابل

    مأخذ :
    • کتاب : حقیقتِ توحید (Pg. 54)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے