Font by Mehr Nastaliq Web

آشنائی کس سے کیجیے ملتا نہیں

اسراراللہ شاہ غوثی

آشنائی کس سے کیجیے ملتا نہیں

اسراراللہ شاہ غوثی

MORE BYاسراراللہ شاہ غوثی

    آشنائی کس سے کیجیے ملتا نہیں

    سینکڑوں میں ایک بشر بھی با وفا ملتا نہیں

    مرشد کامل کو کر گوشہ نشینوں میں تلاش

    گھر سے باہر طائر قبلہ نما نہیں ملتا

    سرخ گندک لعلِ ابیض سنگِ پارس تک یہاں

    ڈھونڈنے والے مل جاتا ہے کیا ملتا نہیں

    اک سکندر کیا گئے ناکام آئی سینکڑوں

    یہ وہ ہے ظلمات یاں آبِ بقا ملتا نہیں

    چاند سورج ہیں حسیں لیکن کہاں ان میں یہ بات

    یار کے نقشہ سے نقشہ ایک کا ملتا نہیں

    کیا برا اچھا ہر اک سے ہے تیری رسم و راہ

    پر کبھی ہم سے تو اے مردِ خدا ملتا نہیں

    جستجو ناحق ہے زعمِ علم و عقل و ہوش پر

    نہ مٹی اپنی خودی ہمدمؔ خدا ملتا نہیں

    مأخذ :
    • کتاب : حقیقتِ توحید (Pg. 56)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے