آشنائی کس سے کیجیے ملتا نہیں
آشنائی کس سے کیجیے ملتا نہیں
سینکڑوں میں ایک بشر بھی با وفا ملتا نہیں
مرشد کامل کو کر گوشہ نشینوں میں تلاش
گھر سے باہر طائر قبلہ نما نہیں ملتا
سرخ گندک لعلِ ابیض سنگِ پارس تک یہاں
ڈھونڈنے والے مل جاتا ہے کیا ملتا نہیں
اک سکندر کیا گئے ناکام آئی سینکڑوں
یہ وہ ہے ظلمات یاں آبِ بقا ملتا نہیں
چاند سورج ہیں حسیں لیکن کہاں ان میں یہ بات
یار کے نقشہ سے نقشہ ایک کا ملتا نہیں
کیا برا اچھا ہر اک سے ہے تیری رسم و راہ
پر کبھی ہم سے تو اے مردِ خدا ملتا نہیں
جستجو ناحق ہے زعمِ علم و عقل و ہوش پر
نہ مٹی اپنی خودی ہمدمؔ خدا ملتا نہیں
- کتاب : حقیقتِ توحید (Pg. 56)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.